• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان میں اقلیتوں کے عالمی دن کی حقیقت۔۔یاسر حمید

پاکستان میں اقلیتوں کے عالمی دن کی حقیقت۔۔یاسر حمید

پاکستان بننے سے پہلے اقلیتوں نے قیام پاکستان کی حمایت اس لیے کی تھی کیونکہ یہ ان کا وطن ہے اور یہ بھی دیگر مسلم شہریوں کی طرح مساوی حقوق کی بات کرتے تھے مسیحی قوم کا تعلق قائداعظم کے ساتھ ہمیشہ سے ہی بہتر تھا کیونکہ وہ ایک سیکولر سوچ رکھتے تھے اور پاکستان کو ایک سیکولر اور تمام مذاہب کو آزاد دیکھنا چاہتے تھے۔

پہلی بار 1931ء میں دوسری گول میز کانفرنس کے دوران اقلیتوں کے مسئلے کا حل تلاش کرنے کے لیے سکھوں کے علاوہ ہندوستان کی مسیحی کمیونٹی نے سر آغا خان کی قیادت میں ایک معاہدہ کیا تھا جو تاریخ پاک و ہند میں ’’اقلیتوں کا معاہدہ‘‘ کہلاتا ہے۔اس معاہدے میں  مسیحیوں کی طرف سے یورپی مسیحی سر ہنری گڈنی اور سر ہربرٹ کار نے دستخط کیے تھے ۔

tripako tours pakistan

اس معاہدے کو تحریک آزادی کے دوران اقلیتوں کی مشترکہ عملی جدوجہد بھی قرار دیا جاتا ہے۔22دسمبر1939 میں جب اونچی ذات کے ہندو پالیسیوں کے احتجاج میں قائداعظم کی کال پر کانگریسی وزارتوں میں مسلمان نمائندوں کے مستعفیٰ  ہونے پر ’’یوم نجات‘‘ منایا گیا تو کانگریس یہ دیکھ کر حیران ہوگئی کہ ’’یوم نجات‘‘ میں صرف مسلمان ہی نہیں بلکہ پارسی ، ہندو, مسیحیوں اور لاکھوں کی تعداد میں شیڈول کاسٹ بھی شریک ہوئی ۔ 23مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے مسلم لیگ سالانہ اجلاس لاہور میں تاریخ ساز قرارداد پاکستان پیش کی تو اس اجلاس میں الفریڈ پرشاد, آر اے گومز اور ایس ایس البرٹ بھی شامل تھے ۔

ان کے علاوہ دیگر کئی اقلیتی رہنما بطور مبصر مدعو تھے۔پِسی ہوئی اقلیتوں نے ہر قدم پر قائد اعظم کا ساتھ اس لیے دیا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ پاکستان میں ہی ان کے حقوق کا تحفظ ممکن ہوسکے گا
جب کہ پنجاب اسمبلی کے اسپیکر دیوان بہادر ایس پی سنگھا کا تعلق مسیحی برادری سے تھا جنہوں نے پنجاب اسمبلی میں پاکستان کی قرارداد کے حق میں اپنا اضافی ووٹ ڈال کر قیام پاکستان کو ممکن بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

پاکستان کا قیام دو قومی نظریے کے تحت تھا جس میں غیر مسلموں کے حقوق کا تحفظ اسلام کا اہم نقطہ رہا تھا مگر افسوس کہ  مذہبی پرپیگنڈے میں آ کر اقلیتوں کے کردار اور ان کو دی جانے والی سہولیات وقت کے ساتھ ساتھ کم کر دی گئیں۔

پاکستان میں گزشتہ 30 سال سے مذہبی انتہا پسندی , جنونیت اور اقلیتوں سے نفرت میں اضافہ ہوا ہے۔ اقلیتیں, جن کی تعداد بڑھنی چاہیے تھی اس میں کسی حد تک کمی دیکھی گئی اس کی بڑی وجہ پاکستان میں جبری مذہب تبدیلی اور توہین رسالت کے پے درد پے جھوٹے الزامات تھے جس سے اقلتیوں میں عدم اعتماد پیدا ہوا۔

پاکستان میں 1971 میں مشرقی پاکستان (بنگلہ دیش ) کی علیحدگی کے بعد اقلیتوں کی آبادی تین فیصد رہ گئی ہے 1981 کی مردم شماری کے مطابق بھی اقلیت تین فیصد ہی رہی۔
جبکہ 1998 کی مرد شماری میں اقلیتی آبادی تین فیصد سے بڑھ کر 3.72 فیصد ہوئی جو کہ 2017 میں پھر سے پھر سے 3.53 فیصد پر واپس آ گئی۔ ان پندرہ سالوں میں اقلیتوں کی مجموعی تعداد میں 0.19 فیصد کمی دیکھی گئی جن میں بڑی تعداد مسیحی اور قادیانیوں کی ہے۔ اقلیتی آبادی میں کمی کیوں آئی ہے اس کی وجہ سرکاری طور پر نہیں بتائی گئی اور نہ ہی میڈیا نے اس پر کوئی تحقیقاتی خبریں دی ہیں۔

پاکستان میں سب سے بڑی اقلیتی آبادی ہندوؤں کی ہے جن کی تعداد لگ بھگ 80 لاکھ کے قریب ہے۔
پاکستان میں اقلیتوں کو سب سے زیادہ توہین مذہب کے قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے پچھلے 33 سال میں 1855 کے قریب لوگوں پر توہین مذہب کے الزامات لگائے گئے ہیں اور جن کو رپورٹ بھی کیا گیا ہے ان میں وہ سب واقعات شامل نہیں ہیں جن کو اقلیتوں نے مار دینے کے خوف سے رپورٹ نہیں کروایا۔ توہین مذہب کے الزام کے بعد پاکستان میں اس کا ردعمل گرجا گھروں اور مندروں کی توڑ پھوڑ اور آگ لگانے میں نکلتا رہا ہے بلکہ کئی بار تو اقلیتی بستیوں کو بھی آگ لگا دی گئی۔

دوسری جانب اقلیتوں کا دوسرا بڑا مسئلہ جبری مذہب تبدیلی ہے جس کا شکار سب سے زیادہ کم عمر لڑکیاں ہوتی ہیں جن کو اچھے خواب دکھا کر مذہب کی تبدیلی کے لیے ذہن سازی کی جاتی ہے
انسانی حقوق کمیشن کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں جبری مذہب تبدیلی کے سالانہ ایک ہزار لڑکیوں کے کیس سامنے آتے ہیں جن کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے۔ اور ان میں اکثریت ہندو مذہب سے تعلق رکھتی ہیں۔ گزشتہ ایک دہائی میں 55 مسیحی لڑکیوں کا مذہب تبدیل کیا گیا جن کا تعلق پنجاب سے تھا۔

ریاست پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق کے لیے بنائے گئے قوانین میں ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہا ہے جس کی بڑی وجہ یہاں مذہبی جماعتوں کا اقلیتوں کے حق میں پیش کئے گئے بِل اور رپورٹس سے متفق نا ہونا ہے۔
پاکستان کی سندھ اسمبلی نے 2016 میں مینارٹیز بل کثریت رائے سے منظور کر لیا جس میں 18 سے کم عمر بچوں کا مذہب تبدیل کرنا جرم ہو گا۔
2020 میں وفاقی کابینہ نے سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود 6 سال بعد قومی اقلیتی کمیشن قائم کیا اقلیتی کمیشن بنانے کا بنیادی مقصد اقلیتوں کو مذہبی آزادی فراہم کرنا اور ایسے اقدامات کرنا ہے جس سے وہ قومی دھارے کا مکمل طور پر حصہ بن سکیں اور اس میں ان کی مکمل شمولیت ہو۔

مگر اسے باوجود سندھ میں آئے روز کم عمر بچیوں کی جبری مذہب تبدیلی کے واقعات حال ہی میں بھونگ شریف میں مندر پر حملے کا واقعہ  ابھی تک اس بات کی گواہی دے رہا ہے کہ ریاست پاکستان اور اکثریت ابھی تک اقلیتوں کو مکمل طور پر برابر کے شہری ماننے کو تیار نہیں ہے۔

حتی کہ پاکستان کا میڈیا بھی اقلیتوں پر بات کرنے میں کتراتا ہے۔ اقلیتوں کے مسائل پر پاکستانی میڈیا کبھی رپورٹنگ نہیں کرتا حتیٰ  کہ حکومت کے اعوانوں میں اقلیتوں کے حقوق پر بات کرنے میں جھجھک محسوس کی جاتی ہے۔ کہیں بھی یہ پالیسی نہیں ہے کہ اقلیتوں کو رپورٹ نہیں کریں گے۔

جب اقلیتوں پر رپورٹنگ ہی نہیں ہو گی اور سب توہین مذہب کے الزامات کی خبریں ہی دی جائیں گی تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے مسیحی اور ہندو کمیونٹی کا توہین مذہب کے علاوہ کوئی کام ہی نہیں ہے۔

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغ عامہ کے سابق سربراہ ڈاکٹر توصیف احمد کا انٹرنیشنل میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہنا تھا کہ “سندھ اور پنجاب میں ہندو اور مسیحی کمیونٹی کا جو جبری مذہب تبدیلی کا مسئلہ ہے اس کو اردو میڈیا اور بالخصوص ٹی وی چینل زیر بحث ہی نہیں لاتے، دوسرا مسئلہ امتیازی سلوک کا ہے جو آئینی، قانونی اور روایتی ہے اس پر بھی بحث نہیں ہوتی کیونکہ آئین میں سب شہری یکساں حقوق نہیں رکھتے اور اگر کوئی یہ مطالبہ کرتا ہے تو اسے ہائی لائیٹ نہیں کیا جاتا ہے۔ ”

میرے نزدیک ترجیحات کا مسئلہ ہے قوانین بن گئے کمیشن بنا دئیے گئے بِل پاس ہو گئے مگر اقلیتوں کے واقعات میں کمی نہ  آئی ۔اس کی بڑی وجہ نظریاتی ہے کہ گیٹ کیپر سے لیکر سب ایڈیٹر اور رپورٹر تک لوگ جو نصاب پڑھ کر آئے ہیں وہ جنرل ضیاالحق کے دور میں تشکیل دیا گیا ہے جس میں مذہبی جنونیت اور دیگر مذاہب سے حقارت پر مبنی ہے ان سب کے نظریات میں تبدیلی کی ضرورت ہے۔

پاکستان میں اقلیتوں کے حقوق پر بات کرنا اور ان کے حق میں بولنا اس حد تک ڈر و خوف کی علامت بن چکا ہے کہ پاکستان بھی اقلیتوں کے حقوق کے لیے نئے کمیشن قوانین بنانے میں ریاست پاکستان بھی ناکام رہتی ہے۔ اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ پاکستان میں 11 اگست قائداعظم محمد علی جناح کی تقریر کو آئین اور نصاب کا حصہ نہیں بنوا سکے بانی پاکستان کی 11 اگست کی تقریر یہ بتاتی ہے کہ جب نئی ریاست کی تشکیل ہورہی تھی تو ریاست کے بانی کے ذہن میں اس کا نقشہ کیا ہے۔ وہ اسے کیسی ریاست بنانا چاہتے ہیں
“آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے۔ آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے اور ریاست پاکستان میں اپنی کسی بھی عبادت گاہ میں جانے کے لیے۔ آپ کا تعلق کسی بھی مذہب ذات یا نسل سے ہو۔ ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں۔”

مگر پارلیمنٹ میں اس تقریر کو نصاب اور آئین کا حصہ بتانے کی ہمیشہ سے مخالفت کی گئی۔

پاکستان میں اقلیت سب سے مظلوم طبقہ ہے اور اس طبقے کی ترقی و بہتری کے لیے ریاست پاکستان کو سخت اقدامات کرنے ہوں گے۔ جس سے سب سے بڑھ کر پاکستان میں نفرت انگیز پڑھایا جانے  والا نصاب تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ اور اقلیتوں کے حقوق کے لیے بنائے جانے والے آئین میں ترمیم کی ضرورت ہے، حقیقت یہی ہے اقلیتوں کے  عالمی دن پر  سکولوں کالجوں اور سرکاری اداروں میں اقلیتوں کی آزادی کی بات کر کے ہم ان سے بہت بڑا مذاق کرتے ہیں۔

Advertisements
merkit.pk

آج ملک میں تمام سرکاری ادارے بشمول آرمی فورسسز, پولیس, ریلوے اور سب سے زیادہ میڈیکل میں مسیحیوں کی کثیر تعداد کام کر کے ملک کا حصہ بن رہی ہے۔ مگر یہ سب خود کو محفوظ نہیں سمجھتے۔
اقلیتوں کے مسائل کا حل صرف اقلیتوں کے مسائل پر بات کر کے ہی نکلے گا۔ حکومت پاکستان کو چاہیے کہ پاکستان میں مسیحیوں کے سماجی مسائل کے حل کے لیے ان سے تجاویز لے کر آئین کا حصہ بنانا چاہیے تاکہ پاکستانی مسیحی باحفاظت اور ملک کی دوڑ میں برابر کے شریک ہوں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply