دوسری عالمی جنگ کے دوران بھی پیرس کے کیفے سرگوشیوں میں ہونے والی گفتگو،گلاسوں کی کھنک اور قہقوں کی گونج سے آباد تھے ۔فروری 1943 کی وہ دوپہر، نرم دھوپ کی کثافت لیے بدن میں عجب سی ہلچل برپا کر← مزید پڑھیے
“عدیل نے میرا نمبر کہاں سے لیا ہوگا”؟ میں پیکو والی دکان کا تھڑا چڑھتے ہوئے بھی یہی سوچ رہی تھی۔ دکاندار سے دوپٹہ پکڑ کر دیکھا، ٹُک وہیں کا وہیں تھا۔ لگتا ہے میری طرح سب کی مت مری← مزید پڑھیے
باقی نہ رہا عشق ترے حُسنِ بیاں میں زیبا تو بہت، درد نہیں تیرے فغاں میں لڑتا ہے کبھی مصلحتوں سے بھی کوئی جنگ آہن ہی نہیں کچھ بھی ترے تیر، سناں میں دنیا ہے بہت خوب، یہاں دین سے← مزید پڑھیے
وہ وفا کی شمع بجھی نہیں، پہ جو شوق تھا وہ تو مر گیا وہ نہ کٹتا تھا جو ترے فراق میں، وقت وہ بھی گزر گیا تو مِلا نہیں جو کسی بھی خواب میں، تج دیا ترے خواب کو← مزید پڑھیے
سولہویں صدی عیسوی میں یورپ میں ہرسُو نشاة ثانیہ کی ہوائیں چلنا شروع ہوچکی ہیں۔خوابیدہ طاقتیں بیدار ہو نے سے سرزمین یورپ پر صدیوں سے چھائی ہوئی دبیز تاریکی چھٹنے لگی ہے ۔اٹلی سے اٹھنے والی بیداری کی پُر زورلہر← مزید پڑھیے
اُس صبح فضا میں بہت خنکی تھی۔کبھی کبھی سردیوں کی صبحوں میں بھی ایک اداسی سی گُھلی نظر آتی ہے۔وہ صبح بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ہواؤں میں سراٹے مارتے تیز بلّھوں کی آمیزش تھی۔میں عقبی جانب کے ٹیرس پر آئی۔دھوپ← مزید پڑھیے
تمہیں پتہ ہے اس کرّہ زمین پر انسان نامی نوع میں سب سے رذیل اور گھٹیا اور موذی ترین انسان کون ہیں؟ قاتل، ریپیسٹ چور، ڈاکو، حتیٰ کہ جانوروں اور بچوں پر تشدد اور ذلالت کرنے والے بھی نہیں! سب← مزید پڑھیے
مصنف: طیب صالح مترجم: ارجمند آرا آدمی کو زندہ رہنے کے لیے ہوا پانی اور خوراک کے علاوہ شناخت کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ سننے میں بظاہر بہت سادہ سے سوال “آپ کون ہیں” کا جواب دینا بہت مشکل ہو← مزید پڑھیے
صحرا کے مسافر کبھی، لوٹا نہیں کرتے مر جاتے ہیں پر تشنگی ، بیچا نہیں کرتے ٹھن جائے کڑی دھوپ سے تو، آبلہ پا لوگ یوں سایہء دیوار میں، بیٹھا نہیں کرتے موجوں میں گِھرا ہو جو سفینہ تو سفر← مزید پڑھیے
یہ 1997 کی ایک سہ پہر کا ذکرہے ۔ قیامِ پاکستان کی گولڈن جوبلی منائی جا رہی تھی۔ مجھے ریڈیو ڈوئچے ویلے ( دی وائس آف جرمنی) کی اردو سروس کے لئے لاہور میں چند خصوصی انٹرویو زریکارڈ کرنا تھے۔← مزید پڑھیے
ایسویرا سے واپس آ کر ہمارا رات کا کھانا ریاد میں تھا۔ جو کہ ایک اچھی خاصی بار بی کیو دعوت تھی۔ کیونکہ یہ مراکش میں ہماری آخری رات تھی۔ اگلے روز یعنی پانچویں دن ہم اپنا سامان پیک کرکے← مزید پڑھیے
گلشنِ بے خار سے صبا چلی، خوشبو میں ڈھلی، درِ خنجر تک آئی۔ نامہء شاگردِ صرصر یعنی غضنفر دستِ خنجر پر دھر کر بولی،شاگرد خاص نے تمہارے واسطے کیسے کیسے گل بوٹے ٹانکے ہیں۔ پڑھو اور دیکھو رقعہ آئینہ شفاف← مزید پڑھیے
خودداری ، دیانت، بصیرت اور علمیت سب کے لحاظ سے مولانا وحیدالدین خان موجودہ علمی تاریخ میں وحید و فقید تھے۔ پیرو مرشد شازار جیلانی جب بھی مقامی قبائلی تاریخ پر گفتگو کرتے ہیں تو کہتے ہیں یوسفزئی قبیلہ پشتونوں← مزید پڑھیے
اس وقت میں کہاں کھڑی ہوں؟تھین آن من سکوائر میں۔اس کی وسعتیں باپ رے باپ۔ایک سمت سے دیکھنا شروع کرو تو دوسری طرف جاتے جاتے شام پڑ جائے۔بیچاری آنکھیں کیا کریں۔آج کل تو ان غریبڑیوں کی شامت آئی پڑی ہے۔← مزید پڑھیے
کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کا انجام ہوتا ہے تو وہ وہیں ختم ہوجاتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں کہ جو انجام کے بعد بھی چلتی رہتی ہیں، کرداروں کی زندگی کے خاتمے تک۔ یہ بعد والی← مزید پڑھیے
‘‘خیر سے اپنی آسیہ بھی شا دی کی عمر کو پہنچ رہی ہے، ہمیں اس کے جہیز کی تیاری ابھی سے شروع کرلینی چاہیے تاکہ جیسے ہی کو ئی مناسب رشتہ ملے اس کے ہا تھ پیلے کر دیں ’’← مزید پڑھیے
یہ تصور آباد ہے۔ یہاں راستے اور رہرو دونوں منزل کی تلاش میں رہتے ہیں ۔تنگ اور لمبی لمبی گلیوں میں دونوں اطراف کچے پکے گھروندے ہیں ۔ حبس زدہ گرما گرم مکانوں میں چولہے ٹھنڈے ہی رہتے ہیں۔ یہاں← مزید پڑھیے
فرخ یار میرا بیٹا میرا بھائی”اگر وہ شاعر نہ بھی ہوتا تو میرے لئےآُس کا یہ حوالہ ہی کافی تھا کیونکہ میں ہمیشہ اس کو ان ناموں سے پکارتی ہوں لیکن ان سب رشتوں سے بڑا رشتہ وہ ہے جو← مزید پڑھیے
اس نے ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔ ایک بار پھر میرے سر پر زور سے تکیہ دے مارا ہے۔ اور کیا آپ یقین کریں گے کہ میری موت اسی تکئے کی چوٹ سے واقع ہورہی ہے؟ افف۔۔۔! ابھی، کچھ ہی دیر پہلے،← مزید پڑھیے
میں میٹریس پر بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا ، میری بائیں جانب ترتیب کے ساتھ کچھ کتابیں پڑی ہوئیں تھیں، میرے سامنے والی کھڑکی سے رات ڈھلتی نظر آرہی تھی ، ابھی کچھ ساعت پہلے کھڑکی سے روشنی اندر آرہی← مزید پڑھیے