برانڈی پلیز/شہزاد علی

تمہیں پتہ ہے اس کرّہ زمین پر انسان نامی نوع میں سب سے رذیل اور گھٹیا اور موذی ترین انسان کون ہیں؟ قاتل، ریپیسٹ چور، ڈاکو، حتیٰ کہ جانوروں اور بچوں پر تشدد اور ذلالت کرنے والے بھی نہیں! سب سے بدبودار، قابل اُبکائی اور نفرین ازل لوگ وہ ہیں جو نظریے  کو اپنے فائدے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔۔۔۔

جو صاف ستھرے کپڑے ، جوتے اور خوشبویات اور انٹرنیٹ اور گاڑی افورڈ کر سکتے ہیں ،جو اپنے بچوں کو اچھے سکولوں میں تعلیم دلاتے ہیں، ملازموں سے خوش اخلاقی سے اس لئے پیش آتے ہیں کہ ملازم انہیں ایک اچھا آقا سمجھیں، وہ کبھی بھی ملازم کو ایک نیا skill سکھا کر اسکی حیثیت نہیں بدلنا چاہتے ، وہ بھوکوں کو کھانا کھلاتے ہیں کیونکہ یہ آسان ہے، انکا مذہب یا کوئی بھی نظریہ سستی اور کھوکھلی اخلاقیات کا code of conduct دیتا ہے ، یہ وہ لوگ ہیں جو حسد کرتے ہیں لیکن حسد کو مختلف توجیہات کے ساتھ اپنے لئے کلیئر کرواتے ہیں، انہیں نیند کے لئے کسی دوا کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ انکا نظریہ انہیں مطمئن رکھتا ہے، یہ اچھا ادب پسند کرتے ہیں اور اسکی ترویج کرتے ہیں، اگر ثروت دار ہیں تو انکے ہاں سماجی بحث کی محافل بھی ہوتی ہیں، یہ کسی کو judge نہ کرنے کے چُورن کو بار بار کھاتے اور بیچتے ہیں۔”

“ ابو ، واقعی، مطلب چونکہ آپ بہت ہی ناپ تول کر کہتے ہیں تو کیا یہ واقعی آپ ۔۔ مطلب آپ کو یقین ہے کہ آپ یہ سچ کہہ رہے ہیں۔۔ آں۔۔سچ شاید درست اصطلاح نہیں یہاں! کیا یہ جو کہہ رہے ہیں یہ آپکی مطلب مسّلم رائے ہے؟”

“میں یہ باقاعدہ ہوش و حواس میں کہہ رہا ہوں اور دل پر کوئی بوجھ نہیں! لیکن تم جانتی ہو سونے کیلئے مجھے قرص خواب آور چاہیے ، ہر رات کی طرح، ان لوگوں کی تعداد میں اب اتنا اضافہ ہو گیا ہے کہ انکے بدبودار نظریے ،انرجی ،منفی انرجی بن کر ہر طرف چنگھاڑ رہے ہیں، ذرا بٹیا ایک پیگ برانڈی بنا دو۔”

“ وہسکی لے لیں، حماد نے بھجوائی ہے، کب سے سوٹ کیس میں بند ہے یاد ہی نہیں رہا”

“ کسٹم نے روکا نہیں؟”
حماد کے کوئی دوست تھے ، سامان وہی نکلوا کر لائے تھے جب میں اور بچے باہر آپکو ڈھونڈھ رہے تھے”

“ دیکھو واقعی بوڑھا ہو گیا، تمہارے آنے کا Am اور pm خلط ملط کردیا۔”

“ وہ تو آپ جوانی میں بھی کرتے تھے، آپ بلکہ مزید جوان ہو گئے ہیں، آپکا وہ آرٹیکل، وہ قرہ العین حیدر اور عبداللہ حسین کے تقابل والا۔۔ وہ وہاں یونیورسٹی میں بڑا پڑھا گیا، آپ کے جملوں کی شگفتگی ایسی تھی جیسا کوئی جوان extremely objective but humbly excited ہے۔۔ کاش آپ فارن سروس کی بجائے رائٹر ہی ہوتے فل ٹائم۔”

“ وہ آرٹیکل آگ کا دریا اور اداس نسلیں کا تقابل تھا، عینی اور عبداللہ کا نہیں ، عینی پھر بھی ناراض رہیں۔”
“ ہاں مجھے بھی کہا تھا فون پر کہ اِبّن بھیا نابینا گورکن ہو گئے ہیں ، غلط قبریں اکھاڑ رہے ہیں۔”

“ یہ عینی جب سے اس پیر فرتوت کے چکر میں پڑی ہے، سٹھیا رہی ہے۔”
“ ہیں بھی تو سرسٹھ برس کی، ہی ہی ہی ہی”

“ اچھا تو اب جب تمہیں تمہارے سوال کا جواب مل گیا، تو میری برانڈی یا وہسکی جو بھی ہے دو اور جا کر آرام کرو۔”

Advertisements
julia rana solicitors

“ یہ دیکھیں آپکے جواب نے سوال ہی بھلا دیا تھا۔۔ کیا پوچھا تھا میں نے”
“ تم نے پہلے بتایا تھا کہ حماد بیس سال کی دہریت کے بعد اب بہت مذہبی یا ریکشنری احمدی ہوتا جارہا ہے، بتدریج نمازیں اور اجتماع وغیرہ اور پھر پوچھا تھا کہ آپکی خدا پرست لوگوں کے بارے میں کیا رائے ہے “
“ لیکن آپ نے اس کا تو جواب دیا ہی نہیں”
“ برانڈی پلیز!”

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply