شاہکار ہسپانوی ناول ’’ ڈان کیخوتے‘‘کس دور میں تخلیق ہوا؟/انیس رئیس

سولہویں صدی عیسوی میں یورپ میں ہرسُو نشاة ثانیہ کی ہوائیں چلنا شروع ہوچکی ہیں۔خوابیدہ طاقتیں بیدار ہو نے سے سرزمین یورپ پر صدیوں سے چھائی ہوئی دبیز تاریکی چھٹنے لگی ہے ۔اٹلی سے اٹھنے والی بیداری کی پُر زورلہر خوشبو کے تیزجھونکوں کی طرح گردو نواح کو معطر کر ررہی ہے ۔دولتِ  عثمانیہ کے ہاتھوں قسطنطنیہ کی فتح سے یونانی علوم ومعارف یورپ بھر میں پھیلنا شروع ہوچکے ہیں اور چھاپہ خانہ کی ایجاد کی بدولت ہر طرف علم وفنون کی کرنیں پھیلنے لگی ہیں۔ اسی طرح سقوط غرناطہ کے بعد اہل یورپ مسلمانوں کی بچی کھچی علمی میراث اور اندلس کے آثار باقیہ پر تہذیب و تمدن کی ایک نئی عمارت تعمیر کر رہے ہیں۔

مسلمانوں کا اندلس تو اب قصہء پارینہ بن چکا ہے لیکن شاہ فرڈنینڈ اورملکہ ازابیلا کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ وہ ایک ہسپانوی مہم جُو کرسٹوفر کولمبس کو بحر اوقیانوس کے پانیوں پر حاکم مقرر کرکے اشبیلیہ کی بندرگارہ کو آباد کر تے ہوئےنئی زمینوں کی دریافت کو نکل چکے ہیں۔

نشاة ثانیہ کی خوشگوار ہواؤں نے یورپ میں علم و ادب ، سائنس اور فلسفہ کے میدان میں ایک انقلاب نو برپا کررکھا ہے ۔ چرچ کی طاقت روبہ زوال ہے مگر علوم وفنون کا وہ دور دورہ ہےکہ قرونِ وُسطیٰ کی طویل خانہ جنگیوں، علمی انحطاط اور شہرو دیہات کی ویرانیوں کے بعد یہ خطہء ارضی محض ایک صدی کے عرصہ میں مونا لیز ا جیسی شہرہء آفاق مصوری کے خالق Leonardo da Vinci ویٹی کن کے مشہور گرجا گھر کی چھت پر مصوری سے شہرت دوام حاصل کرنے والے Michelangelo، مشہور زمانہ سائنسدان اور ماہر فلکیات Copernicus انقلاب انگیز سائنسی نظریات کے حامل Galileo Galileiاورجدید سیاسی فلسفہ کے استاد Niccolo Machiavelliجیسے نابغہ رُوزگار وجود پیدا کئے ہیں ۔ اطالوی ماہرین علوم و فنون کا چرچا ابھی مانند نہیں پڑا کہ سر زمین انگلستان میں ولیم شیکسپئر اور ہسپانیہ میں سروینٹیز ٹیز جیسے شعراء اور ادیبوں کا ستارہ طلوع ہوتا ہے۔

مشہور ِ زمانہ ہسپانوی شاعر اور ناول نگار مگوئل ڈی سروینٹیز ٹیزکا جنم اُس عہد میں ہوا جسے اسپین کا عہدزریں یا Siglo de Oroکہاجاتا ہے ۔یہ دور سقوطِ غرناطہ کے کم و بیش سو برس بعد شروع ہوتا ہے اور ایک صدی تک جاری رہتا ہے ۔کولمبس کے نئی دنیادریافت کرنے کے بعد اسی عہد میں دنیا کے طول وعرض میں ہسپانوی نوآبادیاں جنم لے چکی ہیں اور اسپین ایک بڑی عالمی طاقت بن کر دنیا کے نقشے پرابھرآیاہے ۔

مگوئل ڈی سروانٹیز اس عہد زریں کے شہرہ آفاق مشاہیر میں سے ایک ہیں ، جنہوں نے کئی ڈرامے اور ناول لکھے لیکن ان کی ایک ادبی تخلیق ’’ ڈان کیخوتے‘‘ایسی مقبولِ عام ہوئی کہ چار صدیاں گزرنے کے بعد بھی اسے تاریخ انسانی کی بہترین ادبی تخلیقات میں شمار کیا جاتا ہے ۔ بلکہDon Quixote de la Manchaکو مغربی ادب کے امام کی حیثیت حاصل ہے ۔

سروینٹیز 1547ء میں پیدا ہوئے اور ان کا بچپن اور جوانی رُوزگار کی تلاش میں قریہ بہ قریہ گھومتے پھرتے گزری۔انہوں نے فوج میں بھی کام کیا جس سےان کا بایاں ہاتھ زخمی ہو کر زندگی بھر کے لئے بیکار ہوگیا ۔ 1575ء میں اسپین لوٹتے ہوئے ان کی کشتی پر عثمانی ترکوں نے حملہ کیا اور سروینٹیز کو غلام بنا لیا ۔ پانچ سالہ غلامی اور اسیری اس وقت ختم ہوئی جب ان کے خاندان نے بمشکل تاوان کی رقم اداکی۔اس کے بعد بیان کیا جاتا ہے کہ انہیں اسپین میں بھی قید و بند سے گزرنا پڑا اورحُسن اتفاق کہیں یا سوئے اتفاق سروینٹیز La Manchaکی جیل میں ہی قید تھے کہ انہوں نے ایک ناول لکھنا شروع کیا جس کا پہلا حصہ 1605ء میں منظر عام پر آیا جب کہ ’’ڈان کیخوتے‘‘ کا دوسرا حصہ 1615ء میں تصنیف ہوا ۔جب ’’ ڈان کیخوتے‘‘ تخلیق ہوچکا تواس کے کچھ عرصہ بعدہی 23اپریل1616ء کو سروینٹیز اس جہان سے رخصت ہوگئے ۔ محض اتفاق کہیے کہ اسی روز ولیم شیکسپئر کی زندگی کا سورج بھی انگلستان میں غروب ہوگیا ۔ گویا ایک ہی دن اس عہد کے دو عظیم ادیب اپنا ادبی ورثہ اس دنیا میں چھوڑ کر خود ہمیشہ کے لئے ابدی نیند سو گئے ۔

عہد زریں کے اسپین کوجو مقام اور اہمیت دنیا میں حاصل ہوئی اور ہسپانوی زبان نے جو عروج ان سالوں میں دیکھا اس کی مثال تاریخ ِ انسانی کے کسی اور دور میں تلاش کرنا مشکل ہے ۔یورپ قرونِ وسطیٰ کی تاریکی سے باہر نکل آیا تھا اور اسپین میں مسلمانوں کے زوال کے بعد مذہبی اور قومی حمیت اپنے زوروں پر تھی ۔سوبرس گزرنے کے بعد بھی سقوطِ غرناطہ ایک رِستے ہوئے زخم کی مانند مسلمانوں کے لئے سوہان روح بنا ہوا تھا لیکن دوسری طرف عثمانیوں کے ہاتھوں فتح قسطنطنیہ کے بعد اہل یورپ بھی اسی قسم کے صدمہ کی کیفیت میں سے گزر رہے تھے ۔

جس دور میں یہ ناول تخلیق ہوا اس وقت ہسپانوی باشندے ایک گُومگُو قسم کی صورتحال سے دوچار تھے ۔ اہل علم و دانش یہ سوچ رہے تھے کہ جس نظام کو وہ اپنا نجات دھندہ سمجھ رہے تھے وہ تو محض ایک کھوکھلا ڈھانچہ ثابت ہورہا ہے اور یہ صبح ویسی تو نہ تھی جس صبح کا خواب اہل اسپین دیکھ رہے تھے ۔ عہدزریں کہلائے جانے کے باوجود اس دور میں سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے پنجے گاڑنا شروع کر دئے تھے ،غریب کا استحصال اور مزدور کی کسمپرسی کے نتیجہ میں اقتصادی ترقی کے باوجود ایک طبقاتی کشمکش اور تاجرانہ چالوں کا چلن عام تھا ۔ امراء کی عیاشیاں اور جشن و طرب کی محفلیں حساس دلوں کو متاثر کر رہی تھیں ۔گویا شیکسپئر کا انگلستان اور سروینٹیز کا اسپین ایک زبردست سماجی اور معاشی تبدیلی کے دور سے گزر رہے تھے۔بظاہر تو یہ ایک فاتحانہ دور تھا لیکن دراصل یہ نہایت تکلیف دہ اور تباہ کن تبدیلی تھی جس نے لوگوں کے مزاجوں پر گہرے اثرات چھوڑے تھے ۔

سروینٹیز بذات خود ایک عام انسان کی طرح زندگی بھر شہر شہر گھومتے ہوئے اس جستجو میں مگن رہے کہ کوئی مناسب ذریعہ معاش تلاش کرسکیں ۔انہوں نے فوج اور ٹیکس کے محکمہ سمیت مختلف ملازمتیں کیں لیکن افتاد طبع ہر جگہ آڑے آئی۔مگر اس دربدری کی زندگی نے انہیں یہ موقع ضرور فراہم کیا کہ وہ اہل اسپین خصوصاً کاروباری طبقے اور اشرافیہ کے مزاج کا بغور مطالعہ کرسکیں ۔

’’ ڈان کیخوتے‘‘ گوکہ ایک افسانوی کردار ہے لیکن دراصل یہ سروینٹیز کے وہ مشاہدات اور آپ بیتیاں ہیں جو برسہا برس اسپین کے طول وعرض کی خاک چھاننے کے بعد تخلیق ہوئیں ۔ سروینٹیز کا فرضی کردار ’’ ڈان کیخوتے دی لا مانچا‘‘بظاہر تو ایک شیخ چلی جیسا کردار معلوم ہوتا ہے لیکن ’’ڈان کیخوتے‘‘ کے دماغ میں بسی ہوئی ایک فرضی دنیا محض شیخ چلی کے خواب نہیں بلکہ ایک با مقصد اور ہر لمحہ جستجو میں مگن وجود کی باتیں ہیں جو اپنی منزل کو پالینے کے لئے ہمہ وقت بے چین ہے ۔ جو سرسری نظر میں تو محض کھیل تماشہ کا رسیا معلوم ہوتا ہے لیکن درحقیقت وہ معاشرتی عیوب کو بے نقاب کرتے ہوئے طنز ومزاح کی چاشنی کے ساتھ ان رازوں سے پردہ اٹھا رہا ہے جو معاشرہ میں ہر سُو بکھرے پڑے ہیں۔ڈان کیخوتے میں بادہ خانوں میں عام عوام کے معمولات کو بے حد مزاحیہ اور غیر شائستہ انداز میں بیان کرکے ناول کوایک دلچسپ زندگی اور رنگ سے نوازنے کے ساتھ ساتھ اس تاریخی دور کی صحیح عکاسی بھی کی گئی ہے۔

امریکہ کی دریافت اور دنیا کے طول وعرض میں ہسپانوی نو آبادیوں کے قیام کے بعد نئی دنیا کی کانوں سے معدنیات کی لوٹ مار اور سونے چاندی کی ریل پیل نے اہل اسپین کی قسمت نہ بدلی بلکہ ایک خوبصورت زرعی ملک جو قدرتی عطاؤں سے مالا مال تھا وہاں مہنگائی اور بد امنی نے ڈیرے ڈالنے شروع کردئے تھے۔ اس سب کی عکاسی ’’ڈان کیخوتے‘‘ میں بڑی خوبصورتی اور لطافت سے کی گئی ہے۔

’’ڈان کیخوتے‘‘ جدید ادب کا پہلا ناول ہونے کے ساتھ ساتھ مغربی ادب کی خشت اوّل ہے جس میں نہایت دلنشیں انداز میں ہیروانہ کردار کو پیش کیا گیا ہے ۔ بظاہر تو ’’ڈان کیخوتے‘‘ ایک ایسے ہیرو کی صورت پیش کیا گیا ہے جسے قدم قدم پر شکست وندامت کا سامناہے ، جس کے ساتھ انتہائی اہانت آمیز واقعات پیش آتے ہیں مگر یہ ہیرو اپنا اندازِ دلبری برقرار رکھتے ہوئے ہر چیلنج کو عبور کرنے کی کوشش کرتا اور ہر حماقت کے بعد بھی بہادرانہ شان سے آگے بڑھتا ہے اور دل و دماغ میں چھائے ہوئے نائٹ بننے کے مقصد کی خاطر ہر خطرہ مول لیتا اورہر روک عبور کرنے میں کوشاں نظر آتا ہے ۔

بظاہر اس افسانہ میں ایک المیہ بیان کیا گیا ہے اور سورما بننے کا خبط ہمہ وقت ’’ڈان کیخوتے‘‘ کے سر پر سوار ہے جو اس سے کئی حماقتیں سرزد کرواتا ہے لیکن پس تحریر وہ ایک نہایت خوش گفتار، عاجزی پسند ، شعر وسخن کا ذوق رکھنے والا ہمدرد و مہربان دوست نظر آتا ہےجو گرتے سنبھلتے اپنا وقار برقرار رکھتا اور زیادہ در تر وقت غور و فکر میں بسر کرنا پسند کرتا ہے ۔

Advertisements
julia rana solicitors london

’’ڈان کیخوتے ‘‘ کو جدید دنیا کا سب سے پہلا ناول اور ایک بہترین ادبی تخلیق قرار دیا جاتا ۔ اس افسانے نے ہسپانوی زبان کو ایک جدید زبان میں تبدیل کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔’’ڈان کیخوتے‘‘ تاریخ کا سب سے زیادہ فروخت والا ناول قرار دیا جاتا ہے ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق اس کی پچاس کروڑ سے زائد کاپیاں اب تک فروخت ہوچکی ہیں ۔اس افسانے نے گزشتہ چار سو برس میں فن ، موسیقی اور ادب پر نہایت گہرے نقوش چھوڑے ہیں ۔ اس کردار کے مقبولِ عام ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ’’ڈان کیخوتے‘‘ سے ماخوذ کیا گیا لفظ quixotic(کیوزوٹک) ایک ایسے شخص کے لئے استعمال ہوتا ہے جو اپنے مقصد کو پالینے کی لگن میں دیوانہ وار حد تک جذباتی اور پرجوش ہو۔

  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”شاہکار ہسپانوی ناول ’’ ڈان کیخوتے‘‘کس دور میں تخلیق ہوا؟/انیس رئیس

  1. ماشاء اللہ والحمد للہ ۔انیس بھائی نے بڑے اچھے اندازمیں سہولویں اور سترہویں صدی کے شہرہء آفاق کرداروں کا ذکرکیا۔اللہ تعالیٰ انھیں مزید

    توفیق عطا فرمائے۔ سپینش زبان میں ٹ اور ڈال کی جگہ ت اور دال کی آواز نکالی جاتی ہے۔اس لیے اس کردار کو دون کی خوتے اور مصنف کو میگیل دے سربانتے پڑھا اورلکھا جا سکتا ہے۔
    اے ۔ایس ۔ نعمان

Leave a Reply