شی آن میں اسلامی تاریخ کے ڈانڈے تھانگ Tang سلطنت کے زمانے سے ہی جڑتے ہیں۔پہلی تعمیر تھانگ Tangدور میں ہوئی ۔تھوڑے بہت اضافے آنے والے دورمیں بھی ہوئے ۔ہاں البتہ منگ سلطنت کے زمانے میں اس کی وسعت اور← مزید پڑھیے
شہر کی اک خوبصورت نرتکی نے خوبرو آنند کو باہوں میں بھر کر یہ کہا، “تم سَنگھ سے باہر چلے آؤ یہ میری دولت و ثروت ،یہ جاہ و حشم،یہ اونچا محل اور سب بڑھ کر مَیں، تمہارے منتظر ہیں!← مزید پڑھیے
قرنوں سے بڑے زود گذر ثانیے، رُک جا خود تک مجھے جانے میں ابھی وقت لگے گا تھم سی گئی تھیں نبضیں زمان و مکان کی اِک حادثہ ایسا بھی مرے ساتھ ہوا تھا نروان کا حصول ہو شاید تری← مزید پڑھیے
” پاپڑ کرارے” ” لے لو پاپڑ کرارے ” رگوں میں خون منجمد کرنے والی سردی اور دھند میں وہ پاپڑوں والا ٹوکرا کندھے پر رکھ کر ہر گلی ہر چوک چوراہے پر آوازیں لگا رہا تھا۔ تن پر ایک← مزید پڑھیے
یہ آج کے تھیڑ لکھنے والے اور افسانہ نگاروں کے ہاں ان کرداروں پر نئی کہانیاں لکھنے کا دم کیوں نہیں ہے اور مجھے تو منٹو جیسا کوئی مرد نہیں ملا جو ” زنانیوں پر اس طرح سے جم کر← مزید پڑھیے
تو اب شی آن کی طرف رواں دواں تھے۔جی ہاں۔چینی قوم اور اس کی تہذیب کی جنم بھومی کی جانب۔ مگرمیرے لیئے کشش کا سبب نہ تو اس کی چھ ہزار سال پُرانی تاریخ تھی۔ اور نہ ہی اس کا← مزید پڑھیے
میری عادت رہی ہے کہ میں جب خالی پیٹ ہوتا ہوں تو ادب کی بھاری کتابیں کھول کر بیٹھ جاتا ہوں۔ میری آنکھوں کے سامنے الفاظ ناچنے لگتے ہیں۔ کیونکہ بھوک مجھ پر حاوی ہوتی ہے۔ مگر کچھ جملے ایسے← مزید پڑھیے
زندگی کی لذتوں سے آشنا ایک خوبرو نوجوان نے نیم بیہوشی کے عالم میں سوچا وہ ایک روشن اور زندگی سے بھر پور صبح تھی۔ اور اب۔ ۔ برقعے کے اندر اپنی ہی قے کی بُو سے مجھے سانس لینے← مزید پڑھیے
اس وقت اس اجنبی سرزمین پر چمکتا سورج تیز ہواؤں سے جس جس انداز میں دھینگا مشتی میں جُتا ہوا تھا۔ اس نے مجھے ہَوا اور سورج کی لڑائی والی کہانی یاد دلائی تھی کہ میں بار بار اپنے کوٹ← مزید پڑھیے
مترجم: اجمل کمال تنہائی کی کئی شکلیں ہوتی ہیں، گہری، دھندلی، اور کاٹ دار۔ آدمی کا تنہائی سے کسی بھی جگہ سامنا ہو سکتا ہے۔ اپنے آبائی گاؤں سے ہجرت کرتے ہوئے، کسی معمولی سے جرم میں جیل جاتے ہوئے← مزید پڑھیے
1-پتھر میں شرر اذن ِ بغاوت مانگے ہر ذرہ آگ کی قرابت مانگے وہ مجھ سے ہے مگر مٹاتا ہے مجھے سایہ مرا سورج کی رفاقت مانگے 2- لمحات کی تقدیر اس میں ہوتی ہے آئندہ کی تصویر اس میں← مزید پڑھیے
سفرناموں کی دنیا کے شہنشاہ مستنصر کے لہجے میں کچھ تھا۔ جب انہوں نے شی آنxianکا ذکر کیا ۔دراصل قصہ کچھ یوں تھا۔فخر زمان کے بیٹے کی دعوت ولیمہ تھی ۔ مستنصر وہاں مدعو تھے اور ہم بھی تھے۔جہاں مستنصر← مزید پڑھیے
بڑی بی، کیوں آنکھیں چرائے پھر رہی ہو ؟ ہماری اور دیکھتیں بھی نہیں ؟ گھر لا کر کونے میں ڈال رکھا ہے،کیا ڈر ہے تمہیں ؟ پنڈورا باکس کھل جائے گا اور وہ یادیں بھی نکل آئیں گی جو← مزید پڑھیے
قوموں کے عروج و زوال کی تاریخ میں شاید ہی کسی اور قوم کی بدبختی کا دورانیہ اتنا طویل رہا ہوگا جنتا کشمیریوں کا ہے یہ بد بختی ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی۔ گو کہ اس قوم← مزید پڑھیے
دوپہر کا وقت کا تھا، ہم یونیورسٹی لان میں کچھ کلاس میٹ لڑکے اور لڑکیاں جمع تھے۔ اس نے نیٹ کی ایک لمبی قمیض پہنی ہوئی تھی جو اس کی ننگی رانوں کو بمشکل چھپا رہی تھی۔ اس کا نام← مزید پڑھیے
ادب کی کسی صنف کے نمایاں تخلیق کاروں کی تخلیقات سے انتخاب جمع کر کے شائع کرنا کوئی آسان کام نہیں، بالخصوص اس وقت جب آپ اپنے انتخاب کے ٹائٹل پر یہ دعویٰ کر رہے ہوں کہ یہ محض انتخاب← مزید پڑھیے
میری اور بہار کی آمد چین میں کم و بیش بس ساتھ ساتھ ہی ہوئی تھی۔اِس جیالی قوم کی بہار اور اس سے جڑا جشن بہار ہم پاکستانیوں کی عیدالفطر کی طرح قمری شمسی کیلنڈر سے جڑا ہوتا ہے۔اپریل کا← مزید پڑھیے
مصنفہ : ڈاکٹر لبنیٰ مرزا زندگی فطرت کا سب سے قیمتی عطیہ ہے اور صحت مند زندگی قدرت کا ایک ایک عظیم تحفہ۔ مگر جیسے جیسےسائنس اور ٹیکنالوجی ترقی کر رہی ہے، زندگی کی سہولتوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔اور← مزید پڑھیے
پہاڑی زبان میں لکھے گئے ایک سفر نامے کا تذکرہ ہمارے پڑوس میں دوبوڑھے میاں بیوی رہتے تھے۔بوڑھی نیک پرہیز گار جبکہ بوڑھا ایک لبرل آدمی تھا۔ان کے درمیان اکثر نوک جھونک لگی رہتی تھی۔ بوڑھی اس کی بے دینی← مزید پڑھیے
ماں۔۔۔ بہت زور کی بھوک لگی ہے ۔ خدا کے لیے کچھ تو دو کھانے کو ۔۔بھوکی بچیاں یک زبان ہو کر ماں سے کھانے کو مانگتی ہیں۔ تو وہ تڑپ کر انہیں سینے سے لگاتی ہے اور روہانسی ہو← مزید پڑھیے