سستا آٹا اور مہنگی لاش/محمد وقاص رشید

ماں۔۔۔ بہت زور کی بھوک لگی ہے ۔ خدا کے لیے کچھ تو دو کھانے کو  ۔۔بھوکی بچیاں یک زبان ہو کر ماں سے کھانے کو مانگتی ہیں۔ تو وہ تڑپ کر انہیں سینے سے لگاتی ہے اور روہانسی ہو کر کہتی ہے ۔۔بس آج تمہارے باپ کو کام مل جائے گا انشاللہ اور رات کو روٹی ملے گی۔

آنگن میں بیٹھا خاکزاد یہ ساری گفتگو سُن رہا ہوتا ہے جو ٹھنڈے چولہے کے پاس بیٹھی ماں اور بیٹیوں کے درمیان ہو رہی ہوتی ہے۔ وہ ایک نظر آسمان کی طرف اٹھاتا ہے اور پھر اپنے اوزار لے کر گھر سے باہر آ جاتا ہے۔ چھوٹی بچی بھاگتے ہوئے باہر آتی ہے اور پیچھے سے آواز دیتی ہے ۔ ابّا آج آٹا ضرور لانا ۔۔۔وہ پیچھے مڑ کر کہتا ہے۔ میری بچی۔۔۔بے فکر رہو ۔۔ آج تم لوگ روٹی ضرور کھاؤ گے  ،اللہ رازق مالک ہے ۔ دعا کرنا کام مل جائے۔ بچی فوراً دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتی ہے ۔ اے خدا بابا کو کام بھی مل جائے آٹا بھی۔

بچیاں 6 تھیں۔ غالباً بیٹے کی خواہش میں آتی گئیں۔ عجیب بات ہے بیٹیاں رب کی رحمت کہلاتی ہیں لیکن بیٹے کا نعم البدل نہیں ہو سکتیں۔
یہ بھی عجیب بات ہے کہ ” ہر بچہ اپنا رزق ساتھ لاتا ہے ” کہہ کر دنیا میں لایا گیا بچہ یا بھوکا رہتا ہے یا واقعی اپنا رزق ساتھ لاتا ہے ۔۔۔شام کو۔۔۔ لیکن یہاں اب کچھ بھی عجیب نہیں۔
خاکزاد کو کام مل جاتا ہے۔ وہ سارا دن بھوکے پیٹ اس سرشاری سے اور زیادہ مستعدی سے کام کرتا ہے کہ آج اسکی بیٹیاں روٹی ضرور کھائیں گی۔

شام میں مزدوری ملتی ہے تو وہ سستے آٹے کے ٹرک کی طرف لپکتا ہے کہ زرعی ملک میں اگر صرف آٹا ہی خرید لیا تو سالن کے لیے دال اور گھی کیسے لے گا اور بچیوں کو آج پھر پانی میں نمک مرچ گھول کر نوالے حلق سے گزارنے ہونگے۔

آٹےکی لائن میں لگے اسے بہت دیر ہو جاتی ہے ۔ آٹے کے تھیلے ختم ہوئے جاتے ہیں۔ اسکا دل بیٹھا جاتا ہے۔ آنکھوں میں آنسو تیرنے لگتے ہیں۔ اتنے میں وہاں بھگدڑ مچ جاتی ہے ۔ اسکی آنکھوں کے سامنے گھر کے دروازے پر ہاتھ دعا میں باندھے کھڑی چھوٹی بیٹی ہوتی ہے۔ کیا میری بچیاں آج پھر بھوکی۔ ۔

ایک ہول سا اسکے دل میں اٹھتا ہے اور جست لگا کر ٹرک کے ساتھ لٹک جاتا ہے۔ بڑی لجاجت اور منت سماجت سے ایک تھیلا اسکے ہاتھ آ جاتا ہے۔ وہ خوشی سے پھولے نہیں سماتا ۔ اسے روٹی کھاتی بچیاں دکھائی دینے لگتی ہیں۔ تھیلا کندھے پر رکھتا ہے۔ بھوکے  کندھے پہلے ہی کراماً کاتبین کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوتے ہیں۔ تھیلا جھولتا ہے وہ اسے سنبھالنے کی کوشش کرتا ہے اور آدم کی سنت پوری کرتے ہوئے اپنی جنت اور اپنے رازق و رزاق سستے آٹے کے ٹرک سے زمین پر آ گرتا ہے۔

زمین پر بھگدڑ میں وہ پیروں کے نیچے آجاتا ہے۔ آٹے کے تھیلے میں سے آٹا اور اسکے بدن میں سے لہو دونوں نکل کر زمین پر پھیل جاتے ہیں۔ اور اس سر زمین پر پھیلے ہوئے بھی تو یہی ہیں۔

گھر کے آنگن میں ایک چارپائی رکھی ہوتی ہے۔ چھوٹی بیٹی جس نے صبح دروازے میں کھڑے ہو کر دعا کی تھی اسے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ میری بہنیں اور ماں رو کیوں رہے ہیں حالانکہ بابا نے تو آج کئی دنوں بعد اپنا وعدہ پورا کیا اور ہمارے گھر میں آٹا آیا ہے اور ہم نے روٹی کھائی ہے۔ وہ سوچتی ہے کہ ابھی بابا اس چارپائی سے سو کر اٹھیں گے تو   انہیں بتاؤں گی کہ بابا آپ صحیح کہتے تھے خدا رازق مالک ہے دیکھو صبح میں نے دعا کی تھی اس نے قبول کر لی ۔ آپکو کام بھی مل گیا اور سستا آٹا بھی۔

Advertisements
julia rana solicitors

وہ یہ بات بتانے اندر اپنی بڑی بہن کے پاس جاتی ہے۔ جو روتے ہوئے اپنا سکول کا بستہ نکالتی ہے اور اس میں سے اپنے باپ کی لاش کے پاس رکھی انگیٹھی میں مطالعہ پاکستان کی کتاب کا وہ صفحہ پھاڑ کر پھینک دیتی ہے جس پر لکھا ہوتا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور یہ اپنی ساری آبادی کی غذائی ضروریات پوری کرنے کے لیے گندم پیدا کرنے میں خود کفیل ہے۔

  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply