کتاب : پلیٹو سے ما بعد جدیدیت مغربی ادب زیر نظر کتاب ایک ایسے مصنف کی کتاب ہے جس نے ایک نہایت دلچسپ محرک کے تحت کتاب لکھی یہ تحریک شاید ادب کی دنیا میں انقلاب برپا کرنے کا اعلان← مزید پڑھیے
ادبی تنظیم دھنک کے منتظم ثاقب تبسم ثاقبکا شمار جدید شعرا میں ہوتا ہے۔ ان کی شاعری میں کافی موضوعات کا ذخیرہ ملتا ہے۔ ان کے ہاں بنیادی نکتہ عشق ہے جس کے اردگرد باقی معاشرتی موضوعات گردش کرتے ہوئے← مزید پڑھیے
ایک محاورہ ہے “کسی کتاب کو اس کے سر ورق سے نہ پرکھیں”، مگر اس کتاب کو سر ورق سے پرکھنے کی مکمل سہولت دی گئی ہے۔ ظہرا منظور الٰہی نے اس مختصر کتاب میں چند سلگتی زندگیوں اور بے← مزید پڑھیے
فیض کے آخری زمانے کی ایک نظم ہے جس کا عنوان ہے ” اب تم ہی کہو کیا کرنا ہے” ۔ اس میں وہ ہماری اجتماعی زندگی کی آرزووں اورآشاوں کی عدم تکمیل اور قوم کے سینے کے گھاو نہ← مزید پڑھیے
عزیزان گرامی! آ پ نے مجھے جس طور الوداع کیا ہے،میرے لیے جن جذبات کا اظہار کیا ہے،وہ میرے لیے ایک واقعہ ہے۔ سدا یاد رہنے والا اور میری روح کو سرشار رکھنے والا واقعہ۔ آپ سب کا شکریہ۔ یہ← مزید پڑھیے
ہمارے عہد کی ادبی تنقید کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس پر جدیدیت کے سائے ابھی تک منڈلا رہے ہیں۔ ایسا اس لیے ہے کہ ہم کہیں نہ کہیں اس حقیقت کا شعور پیدا کرنے سے قاصر← مزید پڑھیے
یہ نکہت و نور میں ڈوبی ہوئی ایک دل آویز سحر تھی۔ صبح صادق کا اجالا ابھی پھیلا ہی تھا۔ جب میں چھت پر چڑھ گئی تھی اور اس وقت کائناتی حسن کے عشق میں پورم پور غرق تھی۔ ہمارے← مزید پڑھیے
(میرا جی کی نظم میں اساطیر، جنس ، مقامی جدیدیت کا مطالعہ) باریک بینی، یکسوئی اور مرکوز دھیان رکھتے ہوئے 150 پیج پڑھنے کے بعد میں نے بلآخر کلیات میراں جی کے لیئے آن لائن آرڈر بک کروا ہی دیا۔← مزید پڑھیے
طارق فتح 20 نومبر 1949 کو کراچی، سندھ، پاکستان میں ایک پنجابی خاندان میں پیدا ہوئے۔ان کے والدین تقسیم ہند کے بعد ممبئی سے کراچی منتقل ہوئے۔ جن کے نام کسی کو نہیں معلوم۔ وہ اس بارے میں کبھی کوئی← مزید پڑھیے
تاریخ کا فانوس بھی کیا بازی گر ہوتا ہے، انسان اس سے پھوٹنے والی روشنی کو تو یادوں میں محفوظ رکھتا ہے مگر اس کے تاریک گوشوں کو بھلانے کی بے سود کوشش میں عمر گزار دیتا ہے کیا کسی← مزید پڑھیے
ادب اور سیاست دونوں انسانی سماجی زندگی کے اہم حصے ہیں ان دونوں کی بنیادیں انسانی معاشرتی زندگی میں پیوست ہیں ۔ لفظ “سیاست کے لغوی معنی ملک کی حفاظت و نگرانی ،حکومت و سلطنت،انتظام ملک،بندوبست اور نظم و نسق← مزید پڑھیے
قصے اور کہانیاں اردو شاعری میں سب سے پہلی صاحب دیوان خاتون شاعرہ کا اعزاز جس عورت نے حاصل کیا وہ اپنے دور کی حسین و جمیل طوائف چندا بائی ماہ لقا تھی جس کا تعلق حیدر آباد دکن سے← مزید پڑھیے
(وہ ایک ایسے میوزیم میں ملتے ہیں جہاں مورتیاں اور پینٹنگز ہندو دھرم کی پریم کتھائیں بیان کرتی ہیں۔ شکنتلا کے ملاپ کی مورتی، اروشی کی جدائی کی پینٹنگ، پریتم ملن کے بعد شکنلتلا کی واپسی کی پینٹنگ۔۔ کہانی آگے← مزید پڑھیے
‘‘یہ نلت ہے۔’’ ویگن ہمیں ابھی اس آہنی سٹینڈ کے قریب اُتار کر آگے بڑھ گئی ہے۔ جس پر خوبصورت انداز میں لفظ ‘‘نلت’’ لکھا ہوا ہے۔ ہمارے قدموں کے نیچے شاہراہ ریشم ہے اور داہنے ہاتھ وہ ہرا بھرا← مزید پڑھیے
یہ فرانسیسی ادیب سٹینڈال کا ناول ہے جو 1830 ء میں لکھا گیا ۔ سٹینڈال کو سمجھنے کیلئے ان کے فلسفیانہ مضامین کو پڑھنا ضروری ہے، محبت پر اپنے ایک مضمون میں انہوں نے آبگینے کا نظریہ پیش کیا، انگریزی← مزید پڑھیے
فیلقوس پر حملہ کروانے کا شک کئی افراد کے سر جاتا تھا۔ سب سے پہلا شک تو المپیاس پر کیا جاتا ہے کیوں کہ اس جیسی مکار عورت کو اس نے محل سے بے عزتی کے ساتھ نکال باہر کیا← مزید پڑھیے
(والد گرامی جناب یزدانی جالندھری کی مہکتی یادوں کی منظرمنظرجھلکیاں) قسط نمبر 22 والد صاحب کی برسی پر ’’بیادِ یزدانی جالندھری‘‘ تقریب بھرپور انداز میں جاری ہے۔خطبہ صدارت میں ندیم صاحب جناب یزدانی کے شعری محاسن بیان کرنے کے ساتھ← مزید پڑھیے
چنڑے پشتو زبان میں مدرسہ کے اس طالب علم کو کہا جاتاہے جو گاؤں دیہات میں پڑھتے ہوئے گھروں سے کھانا جمع کرکے مدرسہ لاتا ہے۔ چنڑے کے قسط وار سلسلہ میں اسی طالب علم کے شب وروز کی کتھا← مزید پڑھیے
گزشتہ ایک ماہ سے وہ بھیانک قسم کے خواب دیکھ رہے تھے۔ وہ دیکھتےکہ وہ آگ کے شعلوں میں گھرے ہیں۔ان شعلوں سے عجب ہیولے بنتے ہیں اور اس کی جانب بڑھتے ہیں۔ کسی وقت وہ دیکھتے کہ ان کے← مزید پڑھیے
محی الدین نواب کا لکھا ہوا ناول ’’ہند سے یونان تک‘‘ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ناول میں انھوں نے تاریخی حقائق پیش کرنے کی پھرپور کوشش کی ہے۔ ناول میں بنیادی طور پر سکندر اعظم کا← مزید پڑھیے