ایک آدمی انیس سو نوے کی ایک صبح دریا پہ گیا تھا اور ابھی تک واپس نہیں لوٹا، سوچیے کہ پچھلے ہفتے تک آپ کیا کیا سوچتے تھے، آپ ایک ایسے شخص کو جانتے تھے جسے لگتا تھا کہ زمین← مزید پڑھیے
محرم کا مہینہ ہے نوحے سنے جا رہے ہیں، سنائے جا رہے ہیں۔مجھے بھی ایک نوحہ پڑھنا ہے۔ اردو ہے جس کا نام ہم جانتے ہیں داغ سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے! میں کہ اک گناہ گار← مزید پڑھیے
مرثیہ عربی لفظ “رثا”سے بناہے،جس کے معنی مُردے کو رونے اور اس کی خوبیاں بیان کرنے کے ہیں، مرثیہ کی صنف عربی سے فارسی اور فارسی سے اردو میں آئی، لیکن اردو اور فارسی میں مرثیہ کی صنف زیادہ تر← مزید پڑھیے
میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا جب سے ہوش سنبھالا بی اماں کو اپنے گھر میں دیکھا، کہاں سے آئی کون ہیں، کچھ پتہ نہیں ۔بس اتنا پتہ تھا یہ ہماری اماں ہیں، بی اماں صرف میری اماں نہیں← مزید پڑھیے
تب پہلی بار دس برس کے بچے یعنی مجھے یہ غیر مرئی طور پر محسوس ہوا کہ یہ سفر ہجرتوں کے ایک لمبے سلسلے کی ابتدا ہے۔ میں کوٹ سارنگ آتا جاتا رہوں گا، لیکن اب میں پردیسی ہو چکا← مزید پڑھیے
میں رونا چاہتی ہوں۔۔۔کیونکہ میں ایک ماں ہوں۔ لیکن؟۔۔۔ جی ہاں۔۔میں جانتی ہوں آپ کیا کہنا چاہتے ہیں۔۔۔ ماں بننا تو عورت ذات کی معراج ہے،ماں کے قدموں تلے تو جنت ہے۔۔۔ بجا فرمایا آپ نے۔۔۔لیکن۔۔ میں رونا چاہتی ہوں← مزید پڑھیے
اُس نے آنکھ کھولی تو دیوار پہ ٹنگی گھڑی پہ دس بج کر گیارہ منٹ ہوئے تھے۔۔ ـ تکیے کے ساتھ پڑا موبائل اٹھایا تو گیارہ بجنے میں دس منٹ باقی تھے ـ اور دو دوستوں کے دو پیغامات موصول← مزید پڑھیے
یہ تحریر “ہمایوں احتشام”کی تحریر کے جواب میں لکھی گئی ہے!https://www.mukaalma.com/976 اگرچہ مجھے ہمیشہ تم سے شکوہ رہا کہ تم محبت کے اظہار میں بہت ہی کنجوس واقع ہوئے تھے،تم نے کبھی میری گھنی ناگن سی زلفوں کی تعریف کی← مزید پڑھیے
تم ہمیشہ سے مجھ سے شکوہ کناں رہیں کہ میں نے کبھی تم سے محبت و الفت کے چار لفظ بھی نہیں بولے، میں نے تمہاری ناگن سی گھنی زلفوں کو لاڈ میں آکر کبھی نہیں سنوارا، تمہاری غزال سی← مزید پڑھیے
دشوار گزار پہاڑی سلسلوں کے بیچوں بیچ انہوں نے اپنا خفیہ ٹھکانہ، اپنی پناہ گاہ بنا رکھی تھی۔ وہ اپنے ہر اس شکار کو یہیں لے کر آتے جسے اغوا کرنے کے بعد انہیں ایک موٹی رقم مل سکتی← مزید پڑھیے
اُس دن کچھ بھی اچھا نہیں تھا، میرے جوتے خستہ حال تھے اور اُن کے تسمے مجھ سے باندھے نہیں جا رہے تھے ، میں اسکول جانا نہیں چاہتا تھا، امی جان نے غصے سے میری طرف دیکھا، میرے تسمے← مزید پڑھیے
یاد نمبر 48 موم بتی کی مدہم پھڑپھڑاتی پیلی روشنی میں سامنے والی دیوار پر ہم دونوں کے سائے ایک دوجے میں مدغم تھے! ہم مگر الگ تھے!کمرے کی دہلیز اور سیڑھیوں کی کگار پر وہ گھٹنوں میں سر← مزید پڑھیے
1939ء گاؤں کے باہر مائی مولے والی بنھ (پانی کے باندھ کا پنجابی لفظ)۔ ایک جھیل ہے جس میں آبی پرندے تیرتے ہیں۔ میں کنارے کے ایک پتھر پر پانی میں پاؤں لٹکائے بیٹھا ہوں۔ مرغابیاں بولتی ہیں، تو میں← مزید پڑھیے
جب سے دنیا بنی ہے، بیویاں بیمار ہوتی آئی ہیں ۔چنانچہ میرے حصّہ میں جو بیوی آئی وہ بھی بیمار تھی۔ ہے ! بیویاں اپنی بیماری کی سب سے بڑی وجہ اپنے شوہر کو بتاتی ہیں، ورنہ مائیکے میں وہ← مزید پڑھیے
کَٹا بھینس کالاڈلا بچہ ہوتا ہے اور بَچھہ گائے کا چہیتا۔جب تک کوئی بھینس کَٹا نہیں دے گی تو وہ دُودھ نہیں دے گی،بالکل ایسی ہی ضد گائے کی ہے۔دونوں کا دُودھ کَٹے او ر بَچھے سے لگا بندھا ہے۔حالانکہ← مزید پڑھیے
اگر ہم دو کلو میٹر پیدل چل کر “کیفے ہوٹل” جاتے ہیں تو اس کی دو ہی وجوہات ہیں۔ پہلی یہ کہ اس ہوٹل کا مینجر ہمیں پسند کرتا ہے۔ دوسری یہ کہ ہم اس کے ایک بیرے کو پسند← مزید پڑھیے
پیارے بابا جان اور اماں السلام علیکم۔ امید ہے آپ اور اماں خیریت سے ہوں گے۔ اس بار بہت دیر سے خط لکھ رہا ہوں۔ لیکن بابا جان ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا۔۔۔ باعث تاخیر جان کر← مزید پڑھیے
جب ہم بچے تھے سمجھتے تھے کہ ادب اس کو کہتے ہیں جو بچے بڑوں کا کرتے ہیں ۔ پھر تھوڑا بڑے ہوئے تو اندازہ ہوا کہ وہ تو اصل میں بےادبی ہے۔ ادب تو”کسی عام سی بات کو سلیقہ← مزید پڑھیے
غالب 1797 کو آگرہ میں پیدا ہوئے ۔وہ عظیم شاعر،ادیب و مفکر تھے۔غالب کی عظمت کا راز ان کی شاعری کے حسن و بیاں میں نہیں بلکہ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی← مزید پڑھیے
چچا ۔۔۔۔نکڑ پہ کھڑے چچا ۔۔۔چچا گھڑی والا۔۔۔۔۔چچا کا نام خدا جانے کیا تھا لوگوں میں وہ چچا گھڑی والا کے نام سے مشہور تھے کیونکہ وہ گھڑیوں کی مرمت کا کام کرتے تھے اور ان ہی دنوں بختو بھی← مزید پڑھیے