مرزا اسد اللہ خاں غالب۔۔۔ محمد فیاض حسرت

غالب 1797 کو آگرہ میں پیدا ہوئے ۔وہ عظیم شاعر،ادیب و مفکر تھے۔غالب کی عظمت کا راز ان کی شاعری کے حسن و بیاں میں نہیں بلکہ ان کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ زندگی کے حقائق اور انسانی نفسیات کو گہرائی میں جا کر سمجھتے اور بڑی سادگی اور عام لفظوں میں اسے بیان کر دیتے۔یہ صلاحیت ہے غالب کی جو کہ کم شاعروں کے پاس تھی۔چونکہ غالب نے اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کی سلطنت کو اجڑتے ہوئے اور انگریز سلطنت کو قائم ہوتے ہوئے دیکھا ،یہی وہ پس منظر ہے جس نے ان کی نظر میں گہرائی اور فکر میں وسعت پیدا کی۔غالب نے اپنا حوش و ہواس سنبھالا نہیں تھا کہ ماں باپ دنیا چھوڑ چکے تھے ۔پھر چچا نے انہیں سایہ عاطفت میں لیا یہ بھی قریباً ۶ سال بعد اللہ کے ہاں حاضر ہو گئے۔اتنا سب کچھ ایک انسان کے بس میں نہیں ہوتا ۔پر غالب نے نا صرف اسے برداشت کیا بلکہ پھر اسی درد کو شاعری کے ذریعے بیان بھی کیا۔ غالب کی اولاد بھی نا تھی ۔پے در پے سات بچہ ہوئے جو قریباً قریباً ۳ سال میں سب فوت ہو گئے۔ایسا شخص جس نے زندگی میں سب کچھ کھویا ہی کھویا پھر بھی اس کے کمالات جو آج تک زندہ ہیں۔
کہتے ہیں غالب مر گیا،پر یاد آتا ہے
وہ ہر اک بات پہ کہنا،یوں ہوتا تو کیا ہوتا
آخر میں ان کی بیوی کے بھانجے کا بیٹا حسین علی خاں جو یتیم ہو گیا تھا غالب نے اسے اپنی کفالت میں لیا۔ وہ اسے اپنی حقیقی اولاد سے بھی بڑھ کر پیار کرتے تھے ،کچھ پل بھی آنکھ سے اوجھل نہیں ہونے دیتے تھے۔ اب وہی غالب کی زندگی تھی،غالب کچھ کام سے دہلی چلے گئے، وہاں جا کر ہر روز خط لکھا کرتے تھے جو کہ ان کا روز کا معمول تھا۔ اب غالب کو نہیں پتا تھا کہ حسیں علی خاں بھی ہمیشہ کے لیے ان سے اور زندگی سے جان چھڑا کے چلے گئے ہیں،جب گھر واپسی ہوئی تو سب معلوم ہوا۔غالب نے ان کے مرنے پہ  مرثیہ کہا۔ جس کے کچھ اشعار یوں ہیں۔

لازم تھا کہ دیکھو مرا رستہ کوئی دِن اور

tripako tours pakistan

تنہا گئے کیوں؟ اب رہو تنہا کوئی دن اور
آئے ہو کل اور آج ہی کہتے ہو کہ ’جاؤں؟        ‘

مانا کہ ہمیشہ نہیں اچھا کوئی دن اور
جاتے ہوئے کہتے ہو ’قیامت کو ملیں گے           ‘

کیا خوب! قیامت کا ہے گویا کوئی دن اور
ہاں اے فلکِ پیر! جواں تھا ابھی عارف

کیا تیرا بگڑ تا جو نہ مرتا کوئی دن اور
تم ماہِ شبِ چار دہم تھے مرے گھر کے

پھر کیوں نہ رہا گھر کا وہ نقشا کوئی دن اور
تم کون سے ایسے تھے کھرے داد و ستد کے

کرتا ملکُ الموت تقاضا کوئی دن اور
مجھ سے تمہیں نفرت سہی، نیر سے لڑائی

بچوں کا بھی دیکھا نہ تماشا کوئی دن اور
ناداں ہو جو کہتے ہو کہ ’’کیوں جیتے ہیں غالب‘‘
قسمت میں ہے مرنے کی تمنا کوئی دن اور
۔غالب کو اردو اور فارسی زبان میں دسترس حاصل تھی۔اردو شاعری میں غالب کی حیثیت ایک درخشاں ستارے کی سی ہے ،انہوں نے زندگی کو  گہرائی میں جا کر سمجھنے کی کوشش کی اور ان کے تخیل کی بلندی اور شوخی فکر کا راز اس میں ہے کہ وہ انسانی زندگی کے نشیب و فراز کو شدت سے محسوس کرتے تھے۔غالب کی شاعری کا اثر حواس پر شدت سے ہوتا ہے وہ ان میں غیر شعوری طور پر ایک ارتعاش کی سی کیفیت پیدا کرتی ہے اور اس ارتعاش کی وجہ سے اس کے پڑھنے اور سننے والے کے ذہن پر اس قسم کی تصویریں ابھرتی ہیں۔ان کے موضوع میں جو وسعتیں اور گہرائیاں ہیں ان کا عکس ان کے اظہار و ابلاغ میں بھی نظر آتا ہے،انگنت عناصر کے امتزاج سے اس کی تشکیل ہوتی ہے۔
عبد الرحمان نے لکھا کہ ہندوستان میں دو ہی الہامی کتابیں ہیں۔ ایک وید مقدس اور دوسری دیوان غالب۔
غالب نہایت ہی خوش مزاج اور پر مزاح طبیعت کے مالک تھے۔ بڑے سے بڑا دکھ درد وہ ایسے سہہ لیتے تھے کہ ان کے چہرے سے خوشی کی آثار ٹپکتے ہوتے تھے۔ غالب کی حاضر دماغی تو دیکھیے۔ غالب کے دور میں ایک شاعر تھے ایک دن وہ ان کی گلی سے گزرے تو غالب نے طنزیہ طور پہ کہا۔۔۔
’’ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا‘‘
اب شاعر نے جا کر وقت کے بادشاہ سے شکایت کی، بادشاہ نے محفل رکھی اور غالب کو بھی مدعو کیا، اس شاعر نے بادشاہ سے کہا۔۔ عالی جا یہ طزیہ شعر غالب نے کہا تھا۔ اب غالب کے لیے بہت مشکل کام تھا کہ اس کو کیسے بیان کرے ۔۔یہاں غالب کی حاضر دماغی کہ کہا جناب وہ تو میری غزل کا مقطع تھا، بادشاہ نے کہا ذرا ارشاد فرمائیں۔۔۔
’’ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتر
وگرنہ شہر میں غالب کی آبرو کیا ہے‘‘
وہیں بیٹھے بیٹھے پوری غزل سنائی۔۔ اس وقت بادشاہ نے کہا کہ ایسا حاضر دماغ انساں نا میں نے کبھی دیکھا اور نا اس سے پہلے کبھی سنا۔
اقبال جیسی عظیم شخصیت غالب کا کچھ یوں تعارف کرواتی ہے۔ اقبال کے چند اشعار
فکرِانساں پر تری ہستی سے یہ روشن ہوا

ہے پر مرغ تخیل کی رسائی تا کجا
تھا سراپا روح تو بزم سخن پیکر ترا

زیب محفل بھی رہا محفل سے پنہاں بھی رہا
دید تیری آنکھ کو اس حسن کی منظور ہے

بن کے سوز زندگی ہر شے میں جو مستور ہے
محفل ہستی تری بربط سے ہے سرمایہ دار

جس طرح ندی کے نغموں سے سکوت کوہسار
تیرے فردوس تخیل سے ہے قدرت کی بہار

تیری کشت فکر سے اگتے ہیں عالم سبزہ وار
زندگی مضمر ہے تیری شوخی تحریر میں

تاب گویائی سے جنبش ہے لب تصویر میں
آہ تو اجڑی ہوئی دلی میں آرامیدہ ہے

گلشن ویمر میں تیرا ہم نوا خوابیدہ ہے
لطف گویائی میں تیری ہم سری ممکن نہیں

ہو تخیل کا نہ جب تک فکر کامل ہم نشیں
ہائے اب کیا ہو گئی ہندوستاں کی سر زمیں

آہ اے نظارہ آموز نگاہ نکتہ بیں
ذرے ذرے میں ترے خوابیدہ ہیں شمس و قمر

Advertisements
merkit.pk

یوں تو پوشیدہ ہیں تیری خاک میں لاکھوں گہر
دفن تجھ میں کوئی فخر روزگار ایسا بھی ہے
تجھ میں پنہاں کوئی موتی آبدار ایسا بھی ہے

  • merkit.pk
  • merkit.pk

محمد فیاض حسرت
تحریر اور شاعری کے فن سے کچھ واقفیت۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply