بی اماں ۔یاسر قریشی

میں گھر میں سب سے چھوٹا تھا جب سے ہوش سنبھالا بی اماں کو اپنے گھر میں دیکھا، کہاں سے آئی کون ہیں، کچھ پتہ نہیں ۔بس اتنا پتہ تھا یہ ہماری اماں ہیں، بی اماں صرف میری اماں نہیں تھی بلکہ پور ے گھر، پورے گاؤں والوں کی بی اماں تھی،ستر بہتر سال کے لگ بھگ ان کی عمر تھی ،مناسب جسم نہ کمزور نہ بھاری، سر کے بال دودھ جیسے سفید۔ رنگ گورا آنکھوں پر موٹا چشمہ پہنے ہوئے ہوتیں، وہ ہمارے گھر کے نیچے والے پورشن میں رہتی تھیں، جو کمرے ان کے تصرف میں تھے،وہ ہمیشہ صاف ستھرے رہتے،اور فضامیں عجیب سی پاکیزگی محسوس ہوتی۔ بی اماں کی اس کے علاوہ اضافی خوبی یہ تھی کہ مجھے کبھی یاد نہیں پڑتا گھر میں بھی میں نے بی اماں کا سر کھلا ہوا چہرہ بغیر پردے کے دیکھا ہو ۔بلکہ میں ضد کر کے دوپٹے یا چادر کو ہٹوا کر بی اماں کا چہرہ دیکھتا تھا۔ وہ والد صاحب سے بے پناہ محبت رکھتی تھیں ۔والد صاحب کو اگر سر میں درد بھی ہوجاتا تو بی اماں کی جان پر بن جاتی تھی صرف والد صاحب ہی نہیں بلکہ پورے گاؤں میں کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ پیش آتا تو بی اماں کی جان پر بن جاتی اور جب تک وہ معاملہ ٹھیک نہیں ہوجاتا تھا پیچھے نہیں ہٹتی تھیں۔ اب ایسی بے لوث محبتیں بانٹنے والی بی اماں کے ساتھ والد صاحب بھی ماں جیسی محبت رکھتے تھے۔

میں چھوٹا تھا تو ہم بچے بی اماں کو خوب تنگ کرتے تھے بدلے میں وہ ہمیں کبھی بھی ڈانٹتی نہیں تھیں بلکہ ٹافی یا کوئی میٹھی چیز کھلاتی تھیں ۔ہر وقت قرآن مجید کی تلاوت کرتی، نماز پڑھتی ،چلتے پھرتے ایک لمبی تسبیح ہاتھ میں تھامے رہتی، اور منہ ہی منہ میں کچھ پڑھتی رہتی، فضول گفتگو کے سخت خلاف تھیں ۔گھر کے جس حصے میں ہوتیں بخدا نور برستا نظر آتا ۔گھر میں برکت بھی صاف نظر آتی ہر مہینے کی گیارہ کو گیارہویں شریف کے چندے کا اہتمام کرتیں، کیا مجال گاؤں کے کسی بھی شخص کو چندے کے بارے کہہ دیں تو وہ انکار کردے ایسی گستاخی کی جرات شاید کسی میں نہیں تھی ۔چندہ اکٹھا کرتی اور پیسے والد صاحب کو دے دیتی، اتنے پیسے فلاں مسجد میں تیل کے لیے دے دینا اتنے فلاں مسجد کے ڈبے میں ڈال دینا، والد صاحب بخوشی اس کام کو سر انجام دیتے، بی اماں خوشی سے نہال ہوجاتی ں۔

بچپن سے جوانی کی طرف بڑھتے بی اماں کی ایک اور پختہ عادت دیکھنے میں آئی کہ وہ محرم کی نویں اور دسویں کو اپنے کمرے میں چھپ چھپ کر خوب روتی تھیں، میں بچہ تھا کچھ بھی نہ سمجھ سکتا تھا ،خیر وقت تیزی سے گزرتا چلا گیا۔۔۔۔ اور ایک دن اچانک بیٹھے بٹھائے والد صاحب کو فالج کا اٹیک ہوا علاج معالجہ ہوا اور کچھ دن بیمار رہنے کے بعد والد صاحب اللہ کو پیارے ہوگئے۔بی اماں کی تو جیسے دنیا ہی ویران ہوگئی ،ایسا لگتا تھا غم سے بی اماں کا دل ہی پھٹ جائے گا ،والد صاحب کے مرنے کے دو ماہ بعد ہی ایک دن بی اماں نے نہ جانے کیسے اور کہاں سے اپنے دو بھتیجوں کو بلایا۔ کچھ کپڑے اور سامان اٹھایا ،پورے گھر والوں، گاؤں والوں نے منتیں کیں مگر بی اماں اپنے بھتیجوں کے ساتھ ہ روانہ ہو گئیں ،اور اپنے ساتھ رحمتیں برکیتں بھی لے گئیں۔

یہ کہانی آج سےتیس چالیس سال پہلے والے ہمارے معاشرے کا زبردست آئینہ تھا۔ ہر فرد کے دل میں دوسروں کا درد کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا،گھر کے مرد گھر کے ہر فرد کے ساتھ محبت اور حسن سلوک سے پیش آنے والے ،گھر کی عورتیں مکمل با پردہ شرعی حدود و قیود کا خیال رکھنے والی، صدقہ خیرات کرنے والی، دوسروں کا درد اٹھانے والی، گھر کا ہر فرد کربلا کے شہدا کا سوگ مناتا تھا۔۔ مگر کیسے؟
بی اماں کی طرح گھر کے پچھلے کمروں میں چھپ چھپ کر روتا تھا، نمود و نمائش نہیں تھی، شہدائے کربلا کا غم کسی ایک مسلک کسی طبقے کا غم نہیں تھا ہر فرد کا غم تھا ،پھر اچانک ایک حادثہ ہوا۔۔
درمیان میں تیس چالیس سال آجاتے ہیں، والد صاب کا اچانک انتقال ہوجاتا ہے، بی اماں والے مثالی کریکٹر اٹھ کر کسی اور سمت چلے جاتے ہیں، رب کی طرف سے حاصل ہونے والی نعمتیں رحمتیں برکتیں سب کچھ چھن جاتا ہے اور ہم مکمل تہی دست رہ جاتے ہیں۔۔
دوستو ۔ جب تک ہم بی اماں والے اوصاف اور کریکٹر پیدا نہیں کرتے ہم یونہی بے برکتی، ڈپریشن ،تنہائی اور خوف کا شکار بنتے چلے جائیں گے اور یونہی اندھیرے میں ٹامک ٹوائیاں مارتے رہیں گے ۔

Avatar
یاسر قریشی
لکھنے لکھانے کا شوق والد سے ورثے میں منتقل ہوا۔ اپنے احساسات و جذبات کو قلم کی نوک سے لفظوں میں ڈھالنے کی کوشش کرتا ہوں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *