مرثیے کا سفر اور میر انیس۔اسماء مغل

مرثیہ عربی لفظ “رثا”سے بناہے،جس کے معنی مُردے کو رونے اور اس کی خوبیاں بیان کرنے کے ہیں، مرثیہ کی صنف عربی سے فارسی اور فارسی سے اردو میں آئی، لیکن اردو اور فارسی میں مرثیہ کی صنف زیادہ تر اہلِ بیت یا واقعہ کربلا کے لیے مخصوص ہے، لیکن اس کے علاوہ بھی بہت سی شخصیتوں کے مرثیے لکھے گئے ہیں۔

اردو مرثیہ کی ابتداء!
اردو میں مرثیہ دکن کے صوفیاء کرام کی سرپرستی میں پروان چڑھا۔ اشرف بیابانی کی نوسربار(1503)کو مرثیہ کا نقطہ آغاز سمجھا جاتا ہے۔ شمالی ہند میں مرثیے کا آغاز روشن علی کے “عاشور نامے”سے ہوتا ہے۔ اس کے بعد فیصل علی کی “کربل کتھا”جو نثری صورت میں ہے۔شمالی ہند کے مرثیہ نگاروں نے “مسکین،محب اور قائم ” نے مرثیے لکھے،محمد رفیع سودا نے اردو مرثیہ کو مسدس کی ہیت عطا کی۔ اٹھارویں صدی میں لکھے جانے والے مرثیے ارتقائی مراحل کی نشاندہی کرتے ہیں۔انیسویں صدی مرثیے کی ترقی کی نوید سناتی ہے۔ واقعہ کربلا 61ہجری میں ہوا، جس میں حضرت امام حسین کی شہادت ہوئی، عربی میں بھی رثائی نظمیں لکھی گئیں،عربی سے مرثیے کا فارسی تک کا سفر زیادہ وسعت نہیں رکھتا۔ (ویکیپیڈیا)

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

مغلوں کی آمد سے پہلے تک کے مرثیہ نگاروں کے یہاں نصیر الدین ہاشمی کے مطابق مندرجہ ذیل خصوصیات پائی جاتی ہیں، کہ ان کا اصل مقصد حضرت امام حسین اور اہلِ بیت رسالت کا غم و الم تازہ کرنا اور ان کی یادمیں آنسو بہانا تھا۔مغلوں کے بعد والے مرثیہ نگاروں میں ہاشم علی برہان پوری، اور درگاہ قلہ خان کو ڈاکٹر مسیح الزماں نے خصوصیت سے قابل ِ ذکر سمجھا ہے۔ میر تقی میر نے اپنے مرثیوں میں اپنے عہد کے رسوم اور معاشرت کے عناصر بھی داخل کیے ہیں، اس عہد کے مرثیہ نگاروں نے جہاں ہیت کے تجربے کیے وہیں اس پر بھی زور دیا کہ مرثیے کو ادبی حیثیت حاصل ہو۔ انہیں منبر پر پڑھنے کارواج کچھ عرصہ بعد ہوا۔ اب عموماًایسے واقعات اور پہلو بیان کیے جاتے ہیں جن سے متاثر ہو کر سامعین گریہ و زاری کریں۔

اردو کے مرثیہ نگاروں میں مرزا ظہور علی،راجہ کلیان سنگھ، راجہ شتاب رائے،لکھنوء کے مرثیہ نگاروں میں مرازا پناہ بیگ،افسردہ حیدرآبادی مشہور ہیں۔اس کے علاوہ لکھنوء کے مرثیہ گوئی کے پہلے دور میں “افسردہ گدا”احسان کے ساتھ حیدرآبادی کا نام بھی شامل ہے۔اردو زبان میں بے شمار ہستیوں کے لکھے مرثیے شامل ہیں۔ لیکن میر انیس نے مرثیہ کو کمال بلندی پر پہنچا یا۔ میر انیس 1803میں فیض آباد میں پیدا ہوئے، پہلے پہل غزلیں لکھیں، اس کے بعد سینکڑو ں مرثیے لکھے، پہلا مرثیہ لکھنو میں علامہ تفضل حسین کے چچا زاد بھائی کے اما م باڑے میں پڑھا۔

میر انیس کی فصاحت و بلاغت نے مرثیے کی زمین کو آسمان کردیا،ان کی منظر نگاری اور زبان اپنی مثال آپ ہیں، ان کی جذبات نگاری پڑھنے والوں کو خون کے آنسو رُلا جاتی ہے،استعارے،تشبیہہ،مکالمہ،حالات،ماحول سب کچھ موجود ہےء،منظر نگاری کی مثال دیکھیے۔۔
گھوڑے کو اپنے کرتے تھے سیراب سب سوار
آتے تھے اونٹ گھاٹ پہ باندھے ہوئے قطار
پیتے تھے آبِ نہر پرند آکے بے شمار
سقے زمیں پہ کرتے تھے چھڑکا ؤ بار بار!

پانی کا بام و در کو پلانا ثواب تھا،
اک ابنِ فاطمہ کے لیے قحطِ آب تھا!

ہاں نمازیوں یہ دن ہے جلال و قتال کا
یاں خوں بہے گا آج محمد ﷺ کی آل کا
چہرہ خوشی سے سرخ ہے زہرا کے لعل کا
گزری شبِ فراق،دن آیا وصال کا

یہ وہ ہیں غم کریں گے،مَلک جن کے واسطے
راتیں تڑپ کے کاٹی ہیں اس دن کے واسطے!

سب کے رُخوں کا نور سپہر ِ بریں پہ تھا
اٹھارہ آفتابوں کا غنچہ زمیں پہ تھا!

رام بابو سکسینہ کہتے ہیں کہ”میر انیس کی شاعری جذباتِ حقیقی کا آئینہ ہے اور جس نیچرل شاعری کاآغاز حالی اور آزادکے زمانے سے ہوا،اس کی داغ بیل انیس نے ڈالی، انیس نے مرثیہ کو ایک کامل حربہ کی صورت میں چھوڑا جس کا استعمال حالی نے نہائیت کامیابی سے کیا”۔
انیس کی شاعری میں فطرت کا ہر عکس نظر آتا ہے،
تعریف میں چشمے کو سمندر سے ملا دوں،
قطرے کو جو دوں آب تو گوہر سے ملا دوں،
ذرے کی چمک مہر و منور سے ملا دوں،
کانٹوں کی نزاکت مَیں گُلِ تَر سے ملادوں،
گلدستہء معنی کو نئے ڈھنگ سے باندھوں،
اک پھول کا مضمون ہو تو سَو ڈھنگ سے باندھوں!

میر انیس کی مرثیہ نگاری میں چہرہ، سراپا، رخصت،آمد رجز، جنگ،شہادت، بین،جذبات نگاری،منظر نگاری، تصادم،کشمکش، غرض ہر رنگ نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔
خیمے سے برآمد ہوئے زینت کے جو دلبر،
دیکھاکہ حسین ابنِ علی روتے ہیں در پر،
یہ وہ ہیں جو آغوش میں زینب کی پلے ہیں،
بچے بھی تیری راہ میں مرنے کو چلے ہیں!

لو مومنو، سن لو شہِ ذی جاہ کی تقریر
حضرت یہ رجز پڑھتے تھے تولے ہوئے شمشیر
دیکھو نہ مٹاؤ مجھے،اے فرقہ بے پیر،
میں یوسفِ کنعانِ رسالت کی ہوں تصویر
واللہ تعلی نہیں یہ کلمہ حق ہے،
عالم میں مرقع ہیں حسین ایک ورق ہیں!

جذبات نگاری شاعری کی جان ہے، یہ صرف قدرتِ کلام ہی پر منحصر نہیں بلکہ جذبات نگاری کے لیے، قادر الکلامی کے ساتھ فطرتِ انسانی کا بھی بہ نظر غائر مطالعہ ضروری ہے۔ ایک موقع پر عمرو بن سعد نے جب اپنے غلا م سے حضرت امام حسینؓ کے سامنے منوا کر پانی پیا تو اس موقع کو انیس نے کیسے قلمبند کیا،ملاحظہ کیجئے۔۔
ظالم نے ڈگڈگا کے پیا سامنے جو آب۔۔

وہ لمحہ جب سب نماز کے بعد لڑائی کے لیے اٹھے۔۔
تیار جان دینے پہ چھوٹے بڑے ہوئے
تلواریں ٹیک ٹیک کے سب اٹھ کھڑے ہوئے!

آگے تھے سب کے حضرتِ عباس ذی چشم،
بڑھ بڑھ کے روکتے تھے دلیروں کو دم بہ دم،
تیغیں جو تولتے تھے ادھر بانیء ستم،
کہتے تھے سر نہ ہوگا،بڑھایا اگر قدم!

مولانا شبلی میر انیس کے بارے میں فرماتے ہیں،
“ان کاکلام فصیح و بلیغ ہے، زبان روزمرہ کو بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے، انتخاب،الفاظ مضمون اور موضوع کے لحاظ سے ہوتا ہے،جزئیات نگاری میں استادانہ مہارت،جذبات کے بیان کا خاص سلیقہ،منظر نگاری اور مظاہر قدرت کے بیان میں زور تشبیہات اور استعارات میں جدت اور ندرت ہے”۔

Advertisements
julia rana solicitors

انیس کے مرثیے رزمیہ شاعری کے شاہکار ہیں، اگرچہ ان کی شاعری میں مبالغہ و تصنع ہے لیکن اعتدال ہے۔اور ان کی شعری خوبیوں نے ان سب پر پردہ ڈال دیا ہے، بقول بابو رام سکسینہ۔۔
“اردو ادب میں انیس ایک خاص مرتبہ رکھتے ہیں، بحیثیت شاعر کے ان کی جگہ صفِ اولیں میں ہے،اور بعض لوگ ایسے ہیں جو ان کو زبان اردو کے تمام شعرا سے عامل سمجھتے ہیں،اور ان کو ہندوستان کا شیکسپیئر اور خدائے سخن اور نظم اردو کا ہومر اور واجل اور بالمیلک خیال کرتے ہیں۔ “

  • julia rana solicitors london
  • julia rana solicitors
  • merkit.pk
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply