جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/11

مارخو روں کی سچی کہانی:
ہَوا تیز چل رہی تھی اَور دریا کی موجیں بھی تیز و تند تھیں۔ابراہیم شاہ اور مَیں مسجد کے برآمدے میں ٹانگیں لٹکائے بیٹھے تھے۔ہمارے قدموں تلے آگ جلا دی گئی تھی۔یہ اِس وقت کام کرنے والوں کی ضرورت تھی۔وہ پلاسٹک کے پائپ اِس پر گرم کر کے جوڑنا چاہتے تھے۔دریا پار سنتھے کی جھاڑیاں تھیں اَور چیدہ چیدہ درخت تھے۔
سرکش موجوں کاشور تھا۔مَیں میزبانوں سے مارخوروں کے متعلق جاننا چاہتا تھا۔اظہرالدین کے پاس دو سچی کہانیاں تھیں۔مارخوروں کے بچوں کی کہانیاں۔اظہرالدین بولا۔یہاں سے دُور ”خُشی“نام کا ایک گاؤں ہے۔شہزاد سکندر اس گاوں کا رہنے والا نوجوان ہے۔گیارہ سال پہلے اس نے مارخور کاایک بچہ پکڑا۔کم سے کم تین سال یہ بچہ اس کے گھر میں رہا۔پھرایک دن کسی نے اسے مار دیا۔یہ ایک کہانی تھی۔
لوگ کہتے ہیں کہ میرے دادا برہان الدین کے پاس چار ماخور تھے۔وہ انھوں نے انہی علاقوں سے کسی طرح پکڑے تھے۔وہ بکریوں سے ان کا ملاپ کرانا چاہتے تھے۔آخر وہ کامیاب ہوئے۔ایک مخلوط نسل حاصل ہوئی۔مگروہ آگے نہ چل سکی۔یہ دوسری مختصر سچی کہانی تھی۔

یہ بھی پڑھیں :جہاں کیلاشا بستے ہیں ۔۔جاوید خان/10
مٹسو بِشی نے ہارن بجایا،وقاص جمیل نے آواز لگائی آو جی۔ مارخور آنے والے ہیں۔ابراہیم شاہ صاحب اَو را ظہرالدین لوگوں کو سلام کیا اَور گاڑی میں بیٹھ گیا۔وقاص جمیل کو غصہ تھاکہ میری گاڑی کا دروازہ آہستہ بند نہیں کیا گیا۔پہلی دفعہ اس فاضلانہ منھ سے نامناسب الفاظ سنے۔اس وقت یہ مجھے چبھے  بھی اَور پھر بات آئی گئی ہو گئی۔تھوڑا ہی آگے چلے تو کئی موٹر سائیکل اَور گاڑیاں سڑک کنارے کھڑی تھیں۔لوگ درختوں کے پیچھے بیٹھے تھے۔ہم نے گاڑی ایک طرف لگائی اَور نیچے اُتر آئے۔

مارخوروں کی دھیمی چال:
سب کی نظریں دریا پار کھڑے پہاڑ پر لگی ہوئی تھیں۔اچانک ہم سے کسی کی نظر ان پرپڑی۔مادہ مارخوروں کاایک ریوڑ آہستہ آہتہ نیچے دریا کی طرف سرک رہا تھا۔یہ سنتھے اَور دوسرے درختوں کی ڈالیوں سے پتے اُچک کر کھا رہے تھے۔ دو مادہ مارخوروں کے ساتھ دو،دو بچے بھی چل رہے تھے۔ڈھلوان پر ان کے چلنے سے پتھر لڑھک رہے تھے۔کھڑی ڈھلوانوں پر چلنا انہی کاکام ہے۔پہاڑ کی نوک سے دریا تک کھڑی ڈھلوان ہے اَور اس ڈھلوان پر ان کے چلنے سے راستے بنے ہوئے ہیں۔
ریوڑ کے ممبران بکھرے ہوئے تھے۔آہستہ آہستہ پتے کھاتے کھاتے،یہ ریوڑ دریا کے قریب آرہا تھا۔یوں لگ رہا تھا کہ ان میں سے کسی کو بھی پانی پینے کی جلدی نہیں ہے۔پیاس اَور شدید پیاس جو دن بھر ان کو بے حال کرتی ہو گی۔اس کا نام  و نشان تک نہیں تھا۔ان میں کوئی بے تابی نہیں تھی۔کسی کو بھی نیچے بہتے دریا کو دیکھ کر بے چینی نہیں ہو رہی تھی۔ جیسے وہ سب بس ذرا چہل قدمی کو نکلے ہوں۔یہ ان کی تفریح بھی ہو سکتی ہے۔ ہر ایک قد م سنبھل کر اٹھ رہا تھا۔ایک اجنبیت سی ہم سے انھیں تھی۔ایک لاپروائی،ایک بے نیازی سی۔ جیسے ہم دریا کے کنارے بیٹھے ہوئے لوگوں کو دریا پار ڈھلا ن پر بکھرے ریوڑ سے اشتیاق و شوق کا کوئی تعلق نہ ہو۔جیسے ہم سب لوگ پتھر ہوں۔وہ ہمارے نظارے سے بے پرواہ دھیمی چال چل رہے تھے۔وہ ایک دم نیچے نہیں آ رہے تھے۔بلکہ دریا کی متوازی سمت بڑھ رہے تھے۔اس اَنداز سے کہ،انتہائی غیر محسوس اَنداز میں یہ چال انھیں دریا کے قریب لارہی تھی۔آخر ایک درمیانی بکری جتنی مادہ مارخور،دریا پر پہنچی اَور دریا کے لب سے،اَپنے لب جوڑ دیے۔
اس کی باقی کی سہیلیاں اُوپر پتے کھارہی تھیں۔جہاں مادہ مارخور پانی پی رہی تھی۔وہی دریا کے ساتھ پانی کی ایک کوہل گزر رہی تھی۔کچھ آگے انسانی آبادی شروع ہو جاتی ہے۔مارخور نے پانی پیا اَور ُاوپر کو چڑھنے لگی۔اَیسی ہی لاپروائی سے،جیسے وہ آئی تھی۔پیاس بجھانے کے بعد چڑھائی چڑھتے ہوئے کوئی اَور شغل نہیں تھا۔
چھوٹے بچے سنگلاخ چٹانوں پر چھلانگیں مار رہے تھے۔ایک دو ماہ کے یہ میمنے ڈھلوانوں پر اُچھل اُچھل کر چل رہے تھے۔ سنتھے کی ایک جھاڑی کی،ایک ڈالی پر ایک مارخور چڑھی،یہ ایک لمبی آگے کو نکلی ہوئی شاخ تھی۔مادہ بڑی بے باکی سے اس کمزور سی شاخ پر چڑھ کر آگے بڑھی اَور بالکل آخری کونے سے پتے کھانے لگی۔پھر مڑی،بغیر غیرمتوازن ہوئے اَور بغیر خوف کے چل کر نیچے اتر گئی۔ڈالی بس جھولتی رہ گئی۔
ریوڑ جنوبی سمت دریا کنارے آگے بڑھ رہاتھا،دراصل یہ اِسی خاص اَنداز سے نیچے آرہا تھا۔ہم اس کی دھیمی چال کے ساتھ ساتھ جنوبی کنارے کی طرف کھسک رہے تھے۔ایک دوسری مارخور ٹھٹکی،اُتری اَور پانی پینے لگی۔اِس کے ہٹتے ہی بچوں والی مارخورنائیں اُتریں اَور پانی پینے لگیں۔ایک اَورنے اسی دم،اُوپر سے چھلانگ لگائی اَورپانی پیا۔پانی کی پختہ کوہل ساتھ بہہ رہی ہے۔مگر اِن میں سے کسی نے بھی صاف پانی پینا گوارا نہ کیا۔بلکہ کوہل پر کھڑے ہو کر دریا سے پانی پیتی رہیں۔بھلا ایک بڑے دریا کے سامنے ایک کوہل کی کیا حیثیت۔میمنوں والی ایک مارخور اَور اس کی چند ساتھی ممبران اَبھی اُوپر تھیں۔آگے بڑھنے اَو رنیچے آنے کاعمل سست روی سے جاری تھا۔میری گنتی بارہ تھی جب کہ منصور اسماعیل کے مطابق یہ ریوڑ تیرہ مادہ مارخوروں اور ان کے چھ میمنوں پر مشتمل تھا۔شفقت ایک درخت پر پتوں میں چھپ کر نظارہ کررہے تھے۔وقاص جمیل سانس روکے میرے پاس کھڑے تھے۔
ایک مارخور بچے نے ایک سنگلاخ چٹان کے نوکیلے چھجے پر ایسے چھلانگیں لگائیں۔جیسے وہ ربر کے گدے پر اچھل رہا ہو۔اسی چٹان کے بیچ،ایک چھوٹے سے جھولتے درخت کے تنے پر،ایک مارخونی نے اپنی ٹانگیں رکھیں،کھڑے ہو کر اس کے پتے چنے،منہ میں بھر کر نیچے اتر گئی۔
ریوڑ آگے بڑھ چکا تھا۔وہاں،جہاں آبادی نزدیک ہے۔ یہیں پر دریا ہلکا سا موڑ مڑتا ہے۔کچھ لوگ سڑک پر آچکے تھے۔ہم بھی آگے بڑھے۔یہاں گھنے درخت ہیں مارخور نیاں ان کے پتے کھارہی تھیں۔
ہم بھی چلتے چلتے سڑک پر آگئے۔یہاں سے برابر نظارہ موجود تھا۔ایک کتبہ انہی کے متعلق تھا۔ایک بڑے کشمیری مارخور کی تصویر لگی تھی۔جو شاید اس پارک میں ہوتا ہو۔سفید جلی حروف میں لکھا تھا۔
”پاکستان کے بلند و بالا پہاڑوں میں موجود،ہمارے قومی جانور مارخورسے لے کر غذائی جا ل گھاس کے چھوٹے بیج تک،تمام حیوانا ت اور نباتات کاانحصار ایک دوسرے پر ہے۔ان کا تحفظ ہم سب کی ذمہ داری ہے“
گلگت بلتستان اَور کشمیر میں پائے جانے والے مارخور کے سینگ آری نما پیچھے کو مڑے ہوتے ہیں۔اِس ریوڑ میں کوئی بھی نر مارخور نہیں تھا۔شاہد وہ کسی دوسری آ ب گاہ سے پانی پیتے ہوں گے۔

کنکو رونی سے دومیل کا نظارہ:
مارخوروں کودیکھنے کے بعد واپس مڑے،ذرا آگے آئے جہاں دریا ئے برون اوردریا ے چترال کا اتصال ہوتا ہے۔آبی ملن کایہ منظر یہاں ایک چھوٹی سی چوٹی سے دیکھنے کو ملتا ہے۔برون یہاں تک آتے آتے سیاہ مٹیالہ ہوجاتا ہے۔جب کہ چترال گدلا مٹیالہ۔اتصال سے پہلے ایک مضبوط چٹان ان کے درمیان حائل ہے۔اس کے بعد یوں لگتا ہے،جیسے دو آبی پہلوان اپنی زور آزمائی دکھانا چاہتے ہوں۔دونوں کی اس زور آزمائی میں چترال کچھ سو میٹر چلنے کے بعد میدان مار لیتاہے۔
اس کا گدلا اور مٹیالا پانی برون کے سیاہی مائل مٹیالے پانی کو بچھاڑتے بچھاڑتے گم ہی کر دیتا ہے۔کچھ قدم چلنے کے بعد برون کی زور آوری ختم ہو جاتی ہے۔اس کی جگہ چترال کی گدلی مٹیالی جارحیت قائم ہو جاتی ہے۔سیاہی مائل مٹیالا پانی تہہ آب چلا جاتا ہے۔مٹیالا او ر بہت ہی گدلا یہ آبی جارح شور کرتا ہے او ر چنگھا ڑتا بھی ہے۔چترا ل کا ہوائی اڈہ یہاں سے نمایاں نظر آتا ہے۔یہ دریا سے لگ کر بنا یا گیاہے۔اُڑن کھٹولے سےّاحوں کو لے کر اس پر بے خوف اُترتے ہیں۔
سخت ہَوا چل رہی تھی۔مغربی سمت فلک بوس پہاڑ دُھند میں ڈوبے ہوئے تھے۔سورج کچھ دیر ان پر دُھندلاتا رہا پھر اوجھل ہو گیا۔دوست آوازیں دیتے رہنے کے بعد چلے گئے تو مَیں بھی پانی کی چنگھاڑوں اور غصیلی ہَوا کو یہیں چھوڑ کر آگے بڑھ گیا۔میرے قدموں تلے کی چوٹی دو حصوں میں منقسم تھی۔اس کی ایک نوک پر چھوٹی سی کوٹھڑ ی بنی ہوئی ہے۔اس میں صرف آگ جلانے کے آثار تھے۔میرے ساتھی کہیں نطر نہیں آرہے تھے۔سینگورکنکورونی نامی اس چوٹی کو چھوڑنا پڑا۔دوستوں کاغصیلا انتظار،سخت ہَوااَور نیچے پہلوانی کرتا پانی،ماحول کہہ رہا تھابَس اب چلے جاؤ اور مَیں کنکورونی سے چلا آیا۔

شاہی قلعہ:
چترال کاشاہی قلعہ شہر کے ایک کونے پر،دریا کنا رے واقع ہے۔ہم قلعے کے احاطے میں داخل ہوئے توسورج ڈھل رہا تھا۔لمبی او ر اونچی دیواریں،جنھیں مٹی کا لیپ دیا گیا تھا۔ان میں لکڑی اور پتھر استعمال ہواہے۔قریب سے دیکھنے پر مٹی کے پیچھے لکڑیاں نظر آتی ہیں۔باہر چناروں کے درخت ہیں اور بے اعتنائی کا شکار باغ بھی۔قلعہ اپنی عمررسیدگی پر نازاں ہے اور خاموشی سے نئے مکینوں کو سنبھالے ہوئے ہے۔پلنتھ کے پتھر نمایاں ہو چکے ہیں۔کہیں کہیں دیواروں سے بھی مٹی اکھڑی ہوئی ہے۔سُنا ہے اس کے اندر آج بھی رونقیں ہوتی ہیں،میلے لگتے ہیں اور محفلیں جمتی ہیں۔مگر اس وقت اس کے درو دیوار خاموش تھے۔ہمیں اندر جانے نہیں دیا گیا۔کیوں کہ وقت ختم ہو چکا تھا۔ہم تاخیر سے آئے تھے۔منصو ر اسماعیل نے لاکھ سر مارا لیکن دربان سے سوائے جھاڑ پینے کے کچھ ہاتھ نہ آیا۔ہم اس کی بغل کے چمنستان میں گھومتے رہے۔اس کے قدموں میں دریا ے چترال کو بہتا دیکھتے رہے۔قلعوں کی تعمیر میں ایسی قدرتی آبی ڈھالوں کو خاص طور پر پیش نظر رکھا جاتا تھا۔دریا ے چترال اس قلعے کی ایک سمت سے حفاظت کرتا تھا اور آج بھی یہ ذمہ داری انجام دے رہا ہے۔کچھ دیر بعد ہم اس قدیمی یاد گار کے احاطے سے باہر آگئے۔

شاہی مسجد:
قلعے کے ساتھ ہی چترال کی شاہی مسجد ہے۔یہاں شاہی دور کی تین یادگاریں ہیں۔شاہی قلعہ،شاہی مسجد او رشاہی بازار۔مغرب کی اَذان ہونے کو تھی۔ہم نماز مغرب کے لیے شاہی مسجد کی طرف آگئے۔وضو خانہ مسجد کے پیچھے بنا ہے۔یہاں بھی پانی بے حساب بہہ رہا تھا۔اسے سنبھالنے والا کوئی نہیں تھا۔
مسجد میں داخل ہوتے ہی دائیں طرف مقبروں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔یہ مقبرے شہنشاہوں کے ہیں۔جو کبھی ریاست چترال کے والی رہ چکے ہیں۔انگریزی حرف ایل کی شکل میں قطار اندر قطار بنے ہوئے ہیں۔انہی مقبروں کے درمیان دفتر بھی ہے جہاں ضلع بھر کے لوگوں کے شر یعنی مسائل حل کیے جاتے ہیں۔پہلا مقبرہ سّید عبدالرزاق بادشاہ کاہے۔دوسرے کمرے میں دفتر ہے،تیسری آرام گاہ اعلیٰ حضرت ہزہائی نَس سرمحمد شجاع الملک کی ہے۔ پھر چوتھے مقبرے کے بعد، پانچواں مقبرہ ہز ہائی نَس محمد مطفرالملک کاہے۔ان مقبروں پر مرحومین کی تاریخ پیدائش،وفات اور تاریخ تخت نشینی لکھی ہے۔ان سب پر گہر ا سبز رنگ کیا گیا ہے۔انہی مقبروں کے ساتھ برآمدے میں ایک انجان ہستی کا مقبرہ ہے۔1924؁ء میں یہ مسجد والی چترال،سر محمد شجاع الملک نے بنوائی تھی او ریہ قبر اس وقت بھی نامعلوم تھی۔اس پر تعویز تو بنا ہے مگر یہاں کون آرام کر رہا ہے۔؟مکاں ہے مکین کی خبر نہیں۔
مسجد چھے کنال چھے مرلہ رقبے پر بنی ہوئی ہے۔اس کے سامنے کا صحن دو حصوں میں تقسیم ہے اور نر م گھاس سے بھرا ہے۔چیڑ کے درخت بھی اس کے کناروں پر ہیں۔ سفید موتیے جیسا پھول دار پودا مسجدکے مرکزی دروازے سے لگا،کھڑ اہے۔
اس مسجد کے مرکزی حصے پر تین گنبد ہیں۔ پھر ایک آخری کونے پر اَوردوسرا اسی کے برابر دوسرے آخری کونے پر۔ اس طرح کل پانچ گنبدہیں۔ درمیان کا حصہ وسیع اور کشادہ ہے۔یہی پر گرمیوں میں نماز ہوتی ہے۔دالان کے دونوں طرف راہ داریاں ہیں۔بائیں طرف والی راہ داری کے پیچھے مقبرے ہیں۔
کہا جاتا ہے کہ مغل کاریگروں نے اسے بنایا تھا۔اس کی بنوائی میں چونا،انڈے اور بکری کے بالوں کا آمیزہ استعمال کیاگیا۔سریے یا لوہے کا ایک ٹکڑا بھی اس میں نہیں لگا ہوا۔مسجد قدیم مسلم ثقافت،خاص کر مغلیہ فن تعمیر کی تمام جھلکیاں لیے ہوئے ہے۔مغلیہ عہد تعمیر،وسط ایشیا اور اندلس میں مسلم تہذیب خاص کر خانقاہی مساجد کا انداز تعمیر مثالی ہے۔ان تعمیرات میں کشادگی اور جلال کے ساتھ ساتھ حسن جمال نمایاں ہے۔روشنی،ہواداری،کشادگی اورحسن نظر کا خاص خیال ان عمارات میں رکھا گیا ہے۔اگر اقبال کو اندلس کی مسجد قرطبہ میں ایک خاص قسم کا جلال نطر آیا تھا تو غلط نہیں تھا۔یہ سب تعمیرات مسلم فن تعمیر کا عمدہ نمونہ ہیں۔فنون لطیفہ کی تمام حسیات اسلامی دائرہ حدود میں آکر نیا رنگ اختیار کر گئی ہیں۔
انسان ایک خوب صورت خالق بھی ہے۔سیارہ زمین پر یہ واحد مخلوق ہے جو صحیح معنوں میں تخلیقی جوہر سے مالا مال ہے۔یہ جہاں بھی بسا اس نے اپنے پسندیدہ خالق کی یاد گار کو خاص توجہ سے نوازا ہے۔معبود ایک عظیم سہارا رہا ہے۔اس عظیم سہارے کے ساتھ تخیل نے طرح طرح کی گلکاریاں دکھائیں۔آریائی معبود،یونان و مصر میں دیوتا گری اور فن آزری اسی توجہ وتخیل کی دین ہیں۔
نماز پڑھ کر فارغ ہوگئے تھے۔دریا،پرانا قلعہ،ساتھ شاہی بازار،شاہی عبادت گاہ میں اترتی شا م اور خاموش مقبرے،وقت میرے تخیل کو دھکے دے رہا تھا۔زمانے کی بھیڑ میں پرانے آثار،سامنے اس عہد کے لوگ۔مکان موجود ہیں مکیں بدل گئے۔ شاہی بازار موجود ہے مگرنہ شاہی اصطبل ہے،نہ شاہی سواریاں ہیں اور نہ ہی شاہی لو گ۔
اندھیرا گہرا ہو گیا۔ہم مسجد سے باہر آئے اور شہر کی طرف چل دیے۔منصور اسماعیل،چترالی ٹوپیوں کے شوقین ہیں۔وہ ٹوپیوں کی تلاش میں نکل گئے۔بازار میں گہماگہمی تھی۔ یہاں پانی نالیوں میں لبالب بہے جارہا تھا۔وقاص جمیل بولے یہ تازہ پانی ہے۔یہاں بہت ہے اور اسی طرح ضائع ہوتا رہے گا۔
خریداری اور شہر گردی ہو چکی تھی۔بھوک ستا نے لگی تھی۔ہم شنواری ہوٹل میں آبیٹھے۔مَیں دہی کی تلاش میں ہوٹل سے نیچے اتر آیا۔تھوڑا آگے چوک میں نیلم بیکر تھی۔اسے آزاد کشمیر کے ضلع باغ کے لوگ چلاتے ہیں۔اسی بیکر ی کے ساتھ دودھ فروش کی دکان ہے۔گوالا اَور معاون کھانا کھارہے تھے۔مجھے بھی دعوت دی۔
آؤ!  ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ۔
نہیں بہت شکریہ۔بس دہی دے دیں۔ایک پاؤ۔
اچھا ہم کھاناختم کر لیں۔۔
پلاسٹک کے چھوٹے بیگ میں گوالے نے جو چیز ڈالی وہ لسی تھی یا اس کی کوئی قریبی تعلق دار۔؟اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔گوالے سے پوچھا۔
یہ دہی ایسا کیوں ہے۔؟
جواب دیا”یہاں کی گائیں پانی زیادہ پیتی ہیں۔“
ہوٹل میں روشنی تیز تھی ا ور خوب رونق بھی۔سیاح کھانا کھا رہے تھے۔ایک نشت میرے دوست پہلے ہی سنبھال چکے تھے۔ڈیڑ ھ کلو مٹن کڑاہی بننے میں ابھی دیر تھی۔جب تک ہم سلاد کی پلیٹیں خالی کر چکے تھے۔ڈیڑ ھ کلو کڑاہی کھا کر اسے با آسانی ہضم کرنا،دوستوں کے لیے قطعاً کوئی مسئلہ نہ تھا۔یہ سب خدا وند تعالیٰ کے نیک بندے،خوش خلق،خوش گو،خوش سیرت اور بقول ان کے خوش صورت ہیں۔
باباہوٹل میں رہائش تھی۔یہ سب بابا ہوٹل کی دوسری منزل کے کمرہ نمبر 105اَ ور 106 کو چل دیے۔بندہ گہنگار 4× 2 کی ایک بالکونی میں جابیٹھا۔یہاں گاؤ تکیے لگے تھے۔ایسی نشت گاہیں یہاں کے ہوٹلوں کی خاص نشانی ہیں۔
خوش قسمتی سے یہ نشت ایک تین دری کھڑکی کے ساتھ تھی۔جس کے دو پٹ کھلے ہوئے تھے۔باہر کسی دکان کی جست کی چھت نظر آرہی تھی۔جو اس بالکونی سے جڑی ہوئی تھی۔باقی دور تک اندھیرا تھا۔ٹھنڈی ہواان دریچوں سے پنکھا جھل رہی تھی۔مَیں نے کچھ دیر یہی بیٹھنے کا ارادہ کیا۔دوست چائے پی کر جاچکے تھے۔ میرا قہوہ تھوڑی تاخیر سے آیا۔بھرئی ہوئی قہوہ دانی اور ساتھ ایک پیالے میں شکر۔
سبز قہوہ دانی سے،سبز قہوہ پیالی میں انڈیلا،دریچوں سے آتی ہوا اسے ٹھنڈا کر نے لگی اور مَیں گھونٹ گھونٹ پینے لگا۔ہوٹل رات 9:30بجے پر سیاحوں سے بھرا ہواتھا۔ایک نشست سے صاف اجلے کپڑوں میں ملبوس،داڑھی مونچھ صاف،شفاف شیشوں کا چشمہ لگائے صاحب، بار بار میری طرف دیکھ رہے تھے۔آخر ویٹر نے بتا یا وہ میری نشست پر بیٹھ کر کھانا،کھانا چاہتے ہیں۔انھیں بلایا،سامنے بِٹھا یا،شکرکا ایک چمچ منہ  میں ڈالا۔ہَوا مزید پنکھا جھلنا چاہتی تھی۔مگر مَیں چلا آیا۔

جاری ہے

مکالمہ ڈونر کلب،آئیے مل کر سماج بدلیں

Avatar
محمد جاوید خان
میراتعلق خانیوال سے ہے روزنامہ نیا دور سنگ میل سمیت کچھ akhbara

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *