فرض کفایہ۔۔۔۔۔عارف مصطفٰی

میں جو الجھتا پھرتا دکھتا ہوں
مخالف لہروں سے لڑتا رہتا ہوں
سماعتوں پہ بوجھ بنتا ہوں
ذلتیں بھگتتا ہوں بدنام ہوتا ہوں
تم کیا سمجھتے ہو
مجھے خبر نہیں کیا
نامقبول ہونا
بہت سی بارگاہوں کا مردود ہونا
کتنا خسارے کا سودا ہے
اس میں نقصان فقط اپنا ہی ہوتا ہے
ایسا دریدہ دہن کب کسی کا محبوب ہوتا ہے
لیکن کروں بھی تو کیا
سارا فساد میری تنقیدی سوچ کا ہے
حقائق کی جانچ اور اصلیت کی کھوج کا ہے

بہت ہی لاعلاج سا ہے میرا مرض
ہرسانس کو میں سمجھتا ہوں قرض

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

میرا وجدان نقابوں کے پیچھے
مکروہ چہروں کو دیکھ لیتا ہے
اور اسی لیئے پھر یہ ہوکے رہتا ہے
کہ میری بصارت جب بھی
نا مطلوب منظر دکھاتی ہے
بونوں کو دیو بنتا دکھاتی ہے
شیطانوں کو سادھو سا دکھاتی ہے
میری بصیرت اسی وقت حرکت میں آتی ہے
کیونکہ قسم کھا رکھی ہےمیں نے
کسی باطل سے نہ دبنے کی
ظلم کے سامنے نہ جھکنے کی
سر اٹھا کے چلنے کی
سنو میں تم سےدور سہی
الگ پھر بھی نہیں
سوچتے تم بھی یہی ہو
پر مانو گے نہیں

میں دراصل تم ہو اور تم دراصل میں ہوں
مجھے اندر ہی پاؤگے گر ڈھونڈو کہاں ہوں
تمہارے ضمیر کی آواز ہوں میں
ہرایک من میں بجتا ساز ہوں میں

بس کچھ فرق ہے تو یہ کہ
تم خود سے چھپتےہو
بڑی کوشش سے بچتے ہو
اپنے اندر اٹھتے شوریدہ سرسوالوں سے
انکے ابلتے کھولتے پگھلتے جوابوں سے

Advertisements
julia rana solicitors london

مجھے لیکن ایسا کرنا نہیں آتا
گواہی کے وقت
خاموش ہونا چپ رہنا نہیں آتا
لیکن یاد رکھو ۔
میرا بولنا
جذبوں کو رویوں کو
معیار کی میزان پہ تولنا
تم سب کی جانب سے اک فرض کفایہ ہے
لاریب ۔ زندگی حرف حق ہے باقی مول مایا ہے

  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • julia rana solicitors
  • julia rana solicitors london
  • merkit.pk

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply