زیب نامہ۔محمد شاہزیب صدیقی

زمین اور چاند کی یہ تصویر voyager-1 نے آج سے 40 سال پہلے 18 ستمبر 1977 کو ناسا کو بھیجی، اس وقت وائیجر ون کو خلاء میں بھیجے صرف 13 دن ہوئے تھے، اس نے 13 دنوں میں 1 کروڑ 17 لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرلیا تھا جبکہ اب 40 سال گزر جانے کے بعد یہ خلائی گاڑی پلوٹو کو کراس کرتے ہوئے ہمارے نظام شمسی کے کناروں کو چھو رہی ہے، اب تک یہ 21 ارب کلومیٹر کا سفر طے کرچکی ہے اور انسانی تاریخ میں سب سے دور بھیجی جانے والی انسانی مشین بن چکی ہے،.

اس گاڑی میں پاکستان کی 1977 کی تصویر سمیت دنیا کے چند ممالک کی تصاویر بھی موجود ہیں اس کے علاوہ اس وقت کے گانوں اور دیگر آوازوں کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے تا کہ کبھی کسی خلائی مخلوق کے ہاتھ اگر یہ گاڑی لگے تو وہ یہ سمجھ پائے کہ یہ خلائی گاڑی آئی کہاں سے ہے اور ہماری زمین کیسی ہے، مزے کی بات کہ اب بھی یہ مشین انسانوں سے مکمل رابطے میں ہے، اس کی رفتار 17.25 کلومیٹر فی سیکنڈ ہے! (یعنی 62,140 کلومیٹر فی گھنٹہ) اس سے ملنے والی معلومات میں سب سے اہم معلومات اس  سے متعلق ہیں کہ ہمارے نظام شمسی کا کنارہ کیسا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق اتنی تیز رفتاری کے باوجود اس کے راستے میں اگلے 40,000 سال تک کوئی رکاوٹ (کوئی سیارہ یا ستارہ) نہیں آئے گا جبکہ اسے ہماری کہکشاں ملکی وے سے نکلنے کے لیے بھی لاکھوں سال کا عرصہ درکار ہے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”زیب نامہ۔محمد شاہزیب صدیقی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *