مائے نی میں کِنوں آکھاں، قسط 5۔راجہ محمد احسان

چچا ۔۔۔۔نکڑ پہ کھڑے چچا ۔۔۔چچا گھڑی والا۔۔۔۔۔چچا کا نام خدا جانے کیا تھا لوگوں میں وہ چچا گھڑی والا کے نام سے مشہور تھے کیونکہ وہ گھڑیوں کی مرمت کا کام کرتے تھے اور ان ہی دنوں بختو بھی ان سے گھڑیاں مرمت کرنے کا کام   سیکھ رہا تھا لیکن میں یہ سب نہیں جانتا تھا یہ معلومات مجھے بعد میں ملیں ۔۔۔چچا گھڑی والا جنھیں میں ایک شفیق، ہمدرد و مہربان بزرگ کی طرح دیکھتا اور سمجھتا تھا اصل میں بنی سدوم کی باقیات میں سے تھا۔

اللہ نے آدم عليہ السّلام کو پیدا فرمایا تو ان کے لیے خوراک پانی کا بھی بندوبست فرمایالیکن وہ افسردہ رہتے کیونکہ اللہ نے انسان کےاندر ایک اور ضرورت کا احساس بھی رکھا تھا اور وہ تھا انسان کی جنسی ضرورت کا احساس ۔۔۔۔جب انسان کو جنسی خواہش ہوتی ہے تو پھر اسے کوئی بھی چیز تسکین نہیں دیتی نہ مرغ مسلم نہ کوئی مشروب۔ اس وقت اس کی پہلی و آخری ضرورت جنسی خواہش کی تکمیل ہوتی ہے ۔۔۔اللہ نے اماں حوا سلام اللہ علیہا کی پیدائش فرما کر جہاں آدم علیہ السلام کی جنسی ضروریات کی تکمیل کے اسباب مہیا کیے وہیں ترویجِ نسل کا بھی بندوبست فرمایا تب سے یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا حتیٰ کہ بنی سدوم کا زمانہ آ گیا ۔۔۔۔بنی سدوم میں جب کسی کو وزیرِ اعظم منتخب کرنا ہوتا تو ایک جگہ کوئی کپڑا یا رومال رکھ دیا جاتا اور گھڑ سواروں کو وہاں سے وہ کپڑا اٹھانے کے لیے کہا جاتا جو سب سے تیزرفتار سوار وہ کپڑا اٹھا لیتا اسے وزیرِاعظم کا منصب دے دیا جاتا۔

یونہی ایک دفعہ وزیرِ اعظم کے چناؤ کا وقت آیا تو دو سوار اکٹھے کپڑا اٹھانے میں کامیاب ہو گئے ۔اب وزیرِاعظم کسے بنایا جاتا یہ مسئلہ  بنی سدوم کے بادشاہ یا سردار کے سامنے پیش ہوا تو اس نے دونوں جوانوں کو طلب کر لیا ۔ان میں سے ایک جوان جس کا نام شاذو تھا، بہت حسین و خوب رُو تھا،بادشاہ نے اسے اس کی خوبصورتی کی بنیاد پر وزیرِاعظم بنا دیا ۔بنی سدوم اس وقت بہت ترقی یافتہ تھے اور نہانے کے لیے انہوں نے حوض تعمیر کر رکھے تھے ۔حوضوں کے درمیان باریک کپڑے لٹک رہے ہوتے ۔

ایک دن ایک حوض میں بادشاہ نہا رہا تھا تو دوسرے حوض میں شاذو غسل کرنے پہنچ گیا ۔جوں ہی شاذو نے کپڑے اتارے پردہ ہوا سے تھوڑا سرک گیا اور بادشاہ کی نظر شاذو کے ننگے بدن پر جا پڑی ۔بادشاہ کو شاذو کے بدن میں بے پناہ غیر فطری جنسی کشش محسوس ہوئی اور اس کی جنسی خواہشات کا رخ صنفِ مخالف سے مڑ کر اپنے ہم جنسوں کی طرف ہو گیا ۔رات دن بادشاہ کو شاذو سے جنسی ضرورت پوری کرنے کے خیال تنگ کرنے لگے،بادشاہ کی شاذو پر نوازشات   دن بہ دن بڑھنے لگیں۔اور ایک دن اس نے علیحدگی میں شاذو سے اس خواہش کا اظہار کر دیا ۔۔۔شاذو کا چہرہ غیرت سے سرخ ہو گیا اور اس نے صاف انکار کر دیا ۔۔۔۔لیکن بادشاہ اپنے ارادے سے باز نہ آیا اور اب اس نے شاذو کو دھمکانہ شروع کر دیا کہ اگر اس کی خواہش پوری نہ کی تو وزارت اور زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھو گے ۔آخر وزارت کی خواہش جیت گئی  اور شاذو کی غیرت ہار گئی  ۔

پہلے تو بادشاہ صرف اس خبیث فعل میں ملوث ہوا پھر اس نے اپنے دوستوں کو بھی مدعو کیا اور مزید حسین مردوں کی تلاش بھی شروع ہو گئی ۔اپنے علاقے کے ہر حسین لڑکے کے ساتھ بدفعلی کےبعد انہوں نے اپنے شہر کے دروازوں پر کارندے تعینات کر دیے جو آنے جانے والے ہر  حسین لڑکے کی انھیں خبر دیتے اور یوں یہ بیماری باہر سے آنے والے لوگوں تک بھی پھیل گئی  حتیٰ کہ ابرھیم علیہ السلام کے بھتیجے لوط علیہ السلام کو ان کی ہدایت کے لیے بھیجا گیا ۔۔۔۔جس لذتِ گناہ کا مزا یہ لوگ چکھ چکے تھے اس سے انھیں کوئی بھی نصیحت کسی بھی عذاب کی خبر نہ روک سکی اور آخر اللہ کا حکم آ پہنچا اور فرشتے حسین لڑکوں کی صورت میں اس بستی میں داخل ہوئے اس قبیح فعل کے عادیوں کو خبر ہو گئی اور وہ رالیں ٹپکاتے لوط علیہ السلام کے گھر آگئے اور ان لڑکوں کی حوالگی کا مطالبہ کرنے لگے ،اس جلیل القدر پیغمبر نے انھیں باز رکھنے کی خاطر ان پر اپنی بیٹیوں سے نکاح تک کی پیشکش کی مگر وہ حد سے گزرے ہوئے نہ مانے ۔پھر وہ ہوا جو ہمیشہ سے ظالموں کے ساتھ ہوتا آیا ۔۔ان کی بستی کو الٹ دیا گیا ۔

قتل سے لے کر ناپ تول میں کمی تک شیطان نے بنی آدم کو جس بھی گناہ کی راہ سجھائی باوجود سخت عذابوں کے وہ گناہ کسی نہ کسی صورت اگلی نسلوں کو منتقل ہوتے رہے ۔وہ لوگ تو مٹ گئے جنہوں نے بنی آدم کو ہم جنس پرستی سے متعارف کروایا لیکن ان کا یہ فعل اور یہ گناہ کہیں بچ رہا اور انفرادی طور پر آگے نسلوں میں منتقل ہوتا رہا ۔اس قبیل کے لوگوں کاطریقہء واردات اس وقت سے اب تک وہی ہے پہلے انعام و اکرام اور پھر بلیک میلنگ اور دھمکیاں ،ماضی قریب میں جاوید اقبال اور واقعہ قصور اس کی مثال ہیں ۔

چچا گھڑی والا نے بھی اپنے پیش روؤں اور اس گناہ کے اجداد کے ہتھکنڈے مجھ پر آزمانے شروع کر رکھے تھے۔چچا گھڑی والے کی عنایات دن بدن بڑھتی چلی گئیں کبھی دو روپے کبھی پانچ روپے تو کبھی دس روپے مجھے تھما دیتا اور میں خوب جی بھر کر ویڈیو گیم کھیلتا ۔آپ کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ اس وقت جنسی علوم سے میں بالکل نا آشنا اور بے بہرہ تھا ۔

چچا گھڑی والا مجھے دانہ  ڈال رہا تھا اور میں دانہ چُگ رہا تھا اور ایک دن اس نے گلی میں ایک تھڑے پر اپنے پاس بٹھا لیا۔وہ بہت پیار بھری اور دلجوئی کی باتیں کرتا رہا،اچانک  جب گلی میں کوئی نہیں تھا اس نے اپنی قمیض اٹھا ئی اور مجھے کہا کہ ذرا ادھر دیکھو۔۔۔مجھے اس کی یہ حرکت بہت بری اور قابلِ نفرت لگی اور مجھے شدید غصہ آیا اور بے اختیار میرے منہ سے اس کے لیے گالی نکلی۔میں نے اس سے کہا کہ”  ۔۔۔تجھے شرم نہیں آتی ” اور یہ کہہ کر میں وہاں سے بھاگ گیا ۔یہ میری زندگی میں کسی کو دی جانے والی پہلی گالی تھی۔

دوسرے دن چچا گھڑی والا پھر مجھے ملا اور اب کے اس نے مجھ سے اپنے دیے ہوئے پیسوں کا مطالبہ شروع کر دیا ۔ یہ بنی سدوم کا دوسرا ور سب سے خطرناک وار تھا کیونکہ میں اسے پیسے کہاں سے لوٹاتا،لیکن اللہ نے اس وقت بھی غیبی طور پر میری مدد کی اور میں نے اسے صاف طور پر کہہ دیا کہ میں نے نہ تو تم سے پیسے مانگے اور نہ ادھار لیے ،تم نے خود مجھے دیے تھے لہذا اب میرے پاس تمھیں دینے کے لیے  نہ  تو کچھ ہے اور نہ ہی کچھ دوں گا ۔پھر اس نے ماں کو بتانے کی دھمکی دی ۔۔میں اس دھمکی میں بھی نہیں آیا اور کہا کہ جا جسے بتانا ہے جا کر بتا دے اور آئندہ مجھے بلانا نہیں ۔اللہ ہی جانے اس وقت مجھ میں ایسا عزم و حوصلہ کیسے آ گیا تھا۔

چچا گھڑی والا منحوس تو ہمارے گھر نہیں آیا لیکن ایک دن ماں مجھ سے پوچھنے لگی ،فیصل گھڑی والا کو جانتے ہو۔۔مجھے اس وقت اس کا یہ مخصوص نام  گھڑی والا معلوم نہیں تھا لہذا میں نے صاف طور پر انکار کر دیا کہ کون گھڑی ولا ،ماں  نے  پھر  پوچھا  کہ گھڑی والے کو نہیں جانتے،میں نے کہا نہیں کون ہے یہ گھڑی ولا اور ماں مسکرانے لگی،میں نہیں جانتا کہ ماں نے اس کے متعلق کیوں پوچھا ۔۔۔۔اب کبھی کبھی میرے ذہن میں آتا ہے کہ چونکہ بختو انہی دنوں گھڑی والا سے کام سیکھ رہا تھا تو کہیں ا ن کی کوئی ملی بھگت تو نہیں تھی ۔خیر جو بھی تھا اس شخص سے مجھے اللہ نے بچا لیا ۔اللہ ہی کا فضل شاملِ حال ہو تو یوسف علیہ السلام کے لیے بند دروازے کھلتے ہیں، شیر خوار بچہ اپنی کنواری ماں کی پاکدامنی کی گواہی دیتا ہے، سمندروں میں راستے بنتے ہیں، مچھلی کے پیٹ میں انسانی زندگی کے اسباب بنتے ہیں، آگ اپنی تپش اور جلن بھول جاتی ہے اور جو اس کے  فضل سے محروم ہوئے وہی مایوس و ابلیس ہوئے ۔

چاچا سدومی سے تو جان و عزت بچ گئی  اب پیسوں کا مسئلہ تھا، سٹریٹ فائٹر کا جو چسکا مجھے پڑ چکا تھا وہ پیسوں کا متقاضی تھا جس کا حل مجھے ماں کے رکھے پیسوں میں ہی نظر آتا تھا اور یوں ماں کے پیسوں سے میری چوریاں بڑھنے لگیں ۔میں اس وقت کٹی پتنگ کی مانند تھا جسے لوٹنے کی خواہش میں ہر کوئی اس کے پیچھے بھاگتا پھرتا ہے یا پھر خرگوش کے بچے کی طرح جو اپنی بِل سے دور نکل گیا ہو اور شکاری پرندے و درندے چار پیرے اور دوپیرے سے کچا چبا جانے کے لیے تیار بیٹھے ہوئے ہوں ،ایک شکاری بچےباز، چچا گھڑی والا سے تو میں بچ نکلا لیکن ایک اور لومڑی بھی میری تاک میں تھی اور وہ تھی بختو کی بہن شمو ۔۔۔۔

شمو بختو سے صرف ایک دو سال ہی چھوٹی تھی اور سنِ بلوغت عبور کیے اسے آٹھ دس برس گزر چکے تھےاس کا رجحان و میلان چوزہ بازی کی طرف تھا ۔ اس کی بھرپور پیاسی جوانی کو میں شربتِ انار  تھا،  یا سردائی دِ کھتاجسے وہ مفت میں پی سکتی تھی، جب بھی ہمارے گھر آتی مجھے بہت لاڈ پیار کرتی بار بار بات بے بات مجھے بوسے دیتی ۔میں تو ویسے ہی پیار کا بھوکا تھا مجھے اس کا یہ لاڈ کرنا بہت اچھا لگتا اور مجھے دلی طور پر سکون ملتا ۔پھر ایک دن وہ آئی سارا دن میرے ساتھ اٹکھیلیاں کرتی رہی اور رات ہمارے گھر ہی ٹھہر گئی ۔۔۔میں پہلے ہی بتا چکا ہوں کہ ہم لوگ نیچے سوتے تھے اس دن بھی کمرے میں ایک طرف میری ماں اور خالہ لیٹ گئیں اور شمو نے مجھے اپنے پاس بلا لیا کہ ادھر میرے پاس لیٹو ۔رات کو جب ماں اور خالہ سو چکے تو اکیلے چوزےپر جھپٹنے کو لومڑی تیار تھی، شمو میرے قریب کھسک آئی اور اس نے مجھے پکڑ کر اپنے سینے سے لگا لیا ،میں پہلے ماں کے ساتھ سوتا آیا تھا لیکن مرچوں والے واقعے کے بعد ماں نے مجھے سات لٹانا چھوڑ دیا تھا۔اب ڈھائی تین برس کے بعد کسی عورت نے مجھے سینے سے لگایا تو مجھے اس میں ماں جیسی مامتا نظر آئی ۔اس کے سینے کی گرمی مجھے بہت سکون دے رہی تھی اور میرے ذہنی زخموں پر مرہم کا کام دے رہی تھی ۔۔آہستہ آہستہ اس کی گرفت سخت ہوتی گئی ۔

اگرچہ مجھے اس کے پیار میں سکون مل رہا تھا اور میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کیا کر رہی لیکن میرے اندر ایک کھٹکا ایک ڈر سا تھا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے ایک انجانے سے خوف نے مجھے بے چین رکھا اور ساری رات مجھے نیند نہ آئی ۔صبح ماں اور خالہ کے جاگنے سے پہلے اس نے مجھے خود سے الگ کر دیا۔۔صبح میں رات ہوئے واقع کے بارے میں پوری جُزیات کے ساتھ سوچتا رہا ۔شمو کا گلے لگانا مجھے ماں کے گلے لگانے سے بہت مختلف لگا۔کچھ تھا جو بہت الگ تھا جس میں ماں کی مامتا کا دور دور تک نشان نہ تھا  لیکن جو کچھ بھی تھا مجھے اس کا گلے لگانا بہت اچھا لگ رہا تھا ایک الگ سے لطف و لذت سے میرے اندر کا مرد آشنا ہو رہا تھا میری نظر بھی شمو کی جانب بچوں والی نہیں رہی تھی لیکن وہ نظر ایک بالغ مرد والی بھی نہیں تھی ۔

میرا ذہن عجیب سی کشمکش سے دوچار ہو رہا تھا ، صنفِ نازک سے تعلقات کی کتاب کے الف بے سے بھی میں واقف نہ تھا ۔مجھے شمو کے جسم کے نشیب و فراز اچھے لگنے لگے اور میری نظر اس کے جسم کے اتار چڑھاؤ کی پیمائشیں کرنے لگی ۔ خواہش  انگڑائی لینے لگی، لیکن میں  اپنی ان خواہشات وخیالات کو اور اپنے اندر آنے والے اس بدلاؤ کو کوئی معنی نہیں پہنا سکا ۔

شمو بار بار کسی نہ کسی بہانے رات ٹھہرنے کی کوشیش کرتی لیکن وہ اپنی اس کوشیش میں چار پانچ بار ہی کامیاب ہوئی ۔شمو کو   چھونے کی میری خواہش اندر کسمساتی رہتی لیکن اندر ایک ڈر تھا کہ کہیں یہ کوئی غلط حرکت تو نہیں جس پر مجھے  مار پڑے ،اس وجہ سے میں نے کبھی بھی اپنی اس خواہش کو عملی جامہ نہیں پہنایا ۔۔۔مجھے اگرچہ اس جذبے کا احساس نہیں تھا جس کے تحت وہ مجھے گلے لگاتی لیکن میرے اندر کے مرد کو شاید یہ ادراک تھا اسی لیے شمو کا سب کے سامنے چھونا مجھے اچھا نہیں لگتا تھا اور میں پوری کوشیش کرتا کہ اس سے  کترا کر نکل جاؤں اور اگر وہ میرے قریب آ جا ئے تو میں ہچکچاتے شرماتے سمٹتا رہتا ۔۔۔شمو اکثر اس بات سے جھنجھلا جاتی اور چڑچڑی ہو کر مجھے ڈانٹ  دیتی۔اس کی ان حرکات کی  وجہ سے میرے اندر عجیب سی نفسیاتی تبدیلی آئی اور میں ہر عورت ہر لڑکی سے گھبرانے ہچکچانے لگا ۔ جب بھی کوئی صنفِ نازک میرے پاس سے گزرتی میں اپنے وجود کے اندر سمٹنے لگتا اور سالوں میں اس نفسیاتی بیماری سے چھٹکارا نہ پا سکا۔

پھر شمو کی شادی ہو گئی اور ایک بار پھر اللہ کے فضل نے خرگوش بچے کو لومڑی کے پنجوں سےبھی چھڑا لیا اور  میں گناہوں کی دلدل میں گرنے سے بچ رہا ۔اللہ سب کے بچوں کو ایسی چوزہ باز فطرت   عورتوں سے محفوظ رکھے جو کلیوں سے پھول بننے سے پہلے ہی خوشبو نکال لیتی ہیں۔ میرے ایک دوست کےماموں کا پولٹری فارم تھا عموماََ پولٹری فارم میں برائلر اور شیور چوزے چھے ہفتے میں ڈیڑھ کلو تک وزن پا کراتنےپھول چکے ہوتے ہیں کہ انھیں منڈی میں فروخت کر کے فارم کی صفائی اور دوائیوں کا چھڑکاؤ کر کے نئے چوزے ڈال دیے جاتے ہیں ۔چھ ہفتے سے زائد رکھنے میں فارم مالک کا نقصان ہی ہوتا ہے کیونکہ اس کے بعد وہ خوراک کے اخراجات کی نسبت کم وزن بڑھاتے ہیں۔ ایک دفعہ انہوں نے چوزے ڈالے تو ان میں ایک چوزہ ایسا تھا جو بالکل بھی وزن نہیں کر رہا تھا جب بقیہ چوزے ڈیڑھ کلو کے ہوگئے تو یہ چوزہ صرف پاؤ بھر وزن ہی کر سکا میرے ماموں کے دوست نے بقیہ چوزے تو منڈی میں بیچ دیے لیکن وہ چوزہ اپنے بھانجے کو دے دیا اچانک سے وہ چوزہ فارمی زندگی سے نکل کر فطری ماحول میں آ گیا اور فطری طریقے سے اس کی نشوو نما ہونے لگی۔ یوں یہ چوزہ چھری سے بچ نکلا جب اس کے ساتھی چوزوں کی باقیات گٹروں نالوں دریاؤں سے بہتی ہوئی سمندروں میں مچھلیوں کے فضلے میں تبدیل ہو چکی تھیں وہ چوزہ پانچ کلو کی مرغی بن کر انڈے بچے دی رہی تھی۔شاید میری زندگی بھی اسی چوزے کی مانند ہے جب میرے ہم عمر دنیا کی  لذتوں  سے لطف اندوز ہو رہے تھے رشتوں کی محبتو ں اور شفقتوں کے سائے میں پل رہے تھے میں طوفانوں اور آندھیوں کے تھپیڑے کھاتا اپنے ہم عمروں کی خوش بختی سے بے خبر وقت کی بے رحم موجوں پہ کسی تنکے کی مانند بہہ رہا تھا جسے نہ تو موجوں کے رخ کا پتہ ہوتا ہے نہ ہی منزلوں کی خبر ۔

ماں کچھ پیسے جمع کر کے ٹی وی لے آئی ۔کسی کو ٹی وی چلانا نہیں آتا تھا ۔میں نے ٹی وی کے ڈبے سے اس کا مینوئل یا گائیڈ نکالی اور پڑھنی شروع کر دی ۔ اگرچہ گائیڈ انگریزی میں تھی لیکن جو کچھ مجھے تھوڑی بہت سمجھ آئی اسے آزماتے ہوئے میں نے    چینل ٹیون کر لیے اس وقت ٹی وی پر صرف پی ٹی وی یا انڈیا کا چینل دور درشن آ جایا کرتا تھا ۔ اس  کا   یہ فائدہ ہوا کہ مجھے ٹی وی کی ٹیوننگ و غیرہ کرنا اچھے سے آ گیا۔ایک دن محلے کے لوگوں کا پروگرام فلم دیکھنے کو بن گیا انہوں نے ماں کو کہا اور گلی میں ایک سائیڈ پر سرِ شام ٹیبل پہ ٹی وی رکھ کر کرسیاں وغیرہ لگا دی گئیں، وی سی آر اور فلم محلے والے پیسے جمع کر کے کرائے پر  لے آئے تھے۔سبھی محلے والے بچے بوڑھے مردو  زن وہاں براجمان ہو گئے۔ مجھے ماں کی طرف سے گھر میں رہ کر پڑھائی کرنے کا حکم صادر ہوا۔ میرا بھی بہت دل للچا رہا تھا کہ میں بھی فلم دیکھوں لیکن ماں کے حکم کے آگے سرِ تسلیم خم تھا اور حکم عدولی کے بعد آنے والے عذاب و عتاب کا ڈر بھی ۔

جب کسی بھی ترکیب و تدبیر سے وہ لوگ وی سی آر ٹیون کرنے میں کامیاب نہ ہوئے تو ماں نے ایک بچے کو کہا کہ جاؤ فیصل کو بلا کر لاؤ ۔ بچہ ہمارے گھر میں داخل ہوا تو میں کتاب کھولے   فلم کے خیالوں میں کھویا ہوا تھا۔بچے نے گھر میں داخل ہوتے مجھے پکارا کہ ماں تمھیں بلا رہی ہے کہ آ کر ٹی وی ٹیون کر دو ۔ میری خوشی کی انتہا نہ رہی، میں  مسرت سے سرشار ہو رہا تھا کہ “ماں مجھے بلا رہی ہے” ،سب کے سامنے مجھے ماں بلا رہی ہے ،ماں نے مجھے کسی قابل جانا ہے ۔ میں فوراً اُٹھ کھڑا ہوا اور ایک عجیب سی مستی اور بے خودی کے عالم میں ماں کے حکم کی تعمیل میں چل پڑا ، میرے اندر جذبہء تفاخر ٹھاٹھیں مار رہا تھا جیسے پورے چاند کی رات سمندر ٹھاٹیں مارتا ہوا کناروں سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے میں بھی اپنی ذات سے باہر نکل رہا تھا۔ میرے وہاں پہنچتے ہی شاید ماں نے میرے اندر اس بدلاؤ کو فوراً محسوس کر لیا اور اس سے پہلے کہ میری غلط فہمیاں اپنے عروج کو پہنچتیں ماں کو اسکا تدارک کرنا ہی بھلا لگا اور جھٹ سے کہا ” زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں فوراً ٹیوننگ کرو اور یہاں سے دفع دور ہو جاؤ اور سیدھے گھر کا رستہ لو ۔ زیادہ چالاکیاں دکھانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ۔

میرے اندر بہت جذبات اور احساسات کسی آئینے کی طرح ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو گئےاور خود فریبی و خود نمائی کے تین سو پینسٹھ بت یکبارگی منہ کے بل گر کر پارہ پارہ ہو گئے ۔کعبہء دل ایک بار پھر اصنام سے خالی ہو گیا ۔ سنا ہے دل کو کعبے سے بہت نسبت ہے جیسے زمین پر کعبہ خدا کا گھر ہے ویسے ہی انسانی وجود میں دل خدا کا گھر ہے جیسے خدا کو کعبے میں پتھر کے بت برداشت نہیں ویسے ہی دل میں بھی اللہ کو انا، تکبر، خود نمائی، بغض، حسد، لالچ اور بخل جیسے بت برداشت نہیں ، بت چاہے کعبے میں ہوں چاہے دل میں ان کے مقدر میں گر کر ٹوٹنا لکھ دیا گیا ہے اور جتنی جلدی یہ ٹوٹ جائیں اتنی ہی جلدی انسان اور رب کا تعلق استوار ہو جاتا ہے ۔اللہ مجھ پر اتنا مہربان تھا کہ ادھر دل میں بت کھڑے ہوئے ادھر ان کے توڑنے کی سبیل کر دی ۔ لیکن مجھے ان بتوں کے ٹوٹنے کا اس وقت بہت رنج و ملال ہوا ۔سالہا سال بعد میرا چہرہ جو کِھلنے کی کوشش کر رہا تھا ایک دم مرجھا گیا، مُردنی چھا گئی۔

وقت اپنی رفتار کے ساتھ سرکتا رہا اور میرے  قد کاٹھ میں اضافہ ہو رہا تھا۔میری زیست کے روز وشب ویسے ہی کٹ رہے تھے جیسا کہ بختو کے  آنے  کے بعد سے کٹتے آئے تھےلیکن ایک تبدیلی آ گئی تھی۔ سٹریٹ فائٹر گیم کھیل کھیل کر میرے اندر لڑنے کا جذبہ پیدا ہو گیا تھا۔ مار کھانے کا تو میں خو گر ہو چکا تھا لیکن اب مارنے کو جی کر رہا تھا اس کی ابتدا میں نے خالہ بشیراں کے بیٹے اسلم سے کی۔۔۔ ایک دن گلی سے گزرتے ہوئے اسلم نے آواز لگائی ” ابے او بھگوڑے ” اور میں نے جاتےہی اس کو پیٹ میں لات دے ماری وہ جھک گیا اوپر سے میں نے گھونسوں کی بارش کر دی اور اسے سنبھلنے کا موقع تک نہ دیا اس کا دوسرا بھائی بھاگتا ہوا آیا میں نے اسے بھی وار کرنے کا موقع نہیں دیا اور اس کی بھی ٹھیک ٹھاک چھترول کر دی پھر اس کے بقیہ دو بھائی بھی آ گئے اور میں اُن چاروں کے درمیان فٹبال بن کر رہ گیا۔مجھے تو مار کھانے کی اتنی پریکٹس ہو چکی تھی۔ اب جسمانی دردوں سےمجھےبالکل بھی ڈر نہیں لگتا تھا ۔مار کھانے کے دوران جب بھی میرا داؤ چلتا میں ان چاروں میں سے کسی کو لات اور کسی کو مُکا جڑ ہی دیتا۔ آخر وہی مجھے مارتے مارتے تھک گئے اور گالیاں بکتے بکتے وہاں سے دفعان ہو گئے ۔

اس لڑائی میں مجھے پہلی بار پتہ چلا کہ میرے ہاتھ بھی کسی کی ٹھکائی کر سکتے ہیں۔ کوئی بھی لوہے کا نہیں بنا ہوا۔ ہر انسان گوشت کا بنا ہوا ہے اور اسے بھی اتنا ہی درد ہوتا ہے ۔ اور مار تو ہر کوئی لیتا ہے بندے کی بہادری کا اس وقت پتہ چلتا ہے جب مار پڑتی ہے۔ اب لڑنا جھگڑنا میرا معمول بن گیا تھا ۔ گھر میں تو بھیگی بلی ہی بنا رہتا لیکن باہر اگر کوئی الٹی سیدھی بات کرتا تو اس سے لڑ پڑتا ۔ اس وقت ہمارے محلے کے پاس پٹھانوں کا محلہ تھا اور اردو سپیکنگ لڑکوں پر پٹھانوں کا بڑا رعب تھا اور ان کے محلے میں مہاجروں کے لڑکوں میں سے کوئی نہیں جاتا تھا لیکن میں وہاں بھی لڑ بھڑ آتا ۔سلسلہ یہ تھا کہ میں اکیلا ہی تھا جہاں بھی لڑائی ہوئی سارے لڑکے مل کر مجھ پر پل پڑتے حتیٰ کہ ایک ایک وقت میں بارہ بارہ لڑکوں سے پٹتا۔ میں آٹھویں کلاس میں تھا چھوٹی خالہ ایف اے کر کے ایک اسکول میں پڑھانے لگ گئی تھی اور ماں کو بھی ایک دواؤں والی فیکٹری میں پیکنگ کی جاب مل چکی تھی ۔ میں ویڈیو گیم کھیل کھیل کر مارشل آرٹ سے بہت متاثر تھا اور مارشل آرٹ سیکھنے کا مجھ پر بھوت سا سوار ہو چکا تھا ۔ماں سے ضد کی تو اس نے تائی کراٹے سنٹر میں داخلہ لے دیا جو وانڈو سٹائل میں مارشل آرٹس سکھاتا تھا۔

میں مارشل آرٹس بہت دلچسپی اور گرمجوشی سے سیکھ رہا تھا ۔ادھر ویڈیو گیم کا چسکا بھی چل رہا تھا ۔ ایک دن میں نے خالہ کے پیسوں میں سے ایک روپیہ نکالا اور سکول کو چل دیا لیکن راستے میں ایک ویڈیو سینٹر کھلا دیکھا تو وہاں گھس گیا ۔ اب میں ویڈیو گیم میں کافی مہارت حاصل کر چکا تھا اور ایک ٹوکن میں کافی دیر کھیل لیتا تھا اس دن جب میرے ٹوکن ختم ہوئے تو آدھے سے زیادہ سکول ٹائم گزر چکا تھا ۔ اس وقت سکول جاتا تو مار پڑتی اور ماسٹر سے گالیاں سننی پڑتیں لہٰذا میں نے باقی کا دن بھی وہیں ویڈیو سینٹر میں دوسرے بچوں کی گیم دیکھنے میں گزارا اور چھٹی کے ٹائم گھر آ گیا۔ یہ میرا  یوں سکول نہ جانے کا پہلا “تجربہ “تھا ۔

دوسرے دن جب سکول جانے لگا تو مجھے رہ رہ کر یہ خیال ستانے لگا کہ کل کی چھٹی کے متعلق ماسٹر جی سے کیا کہوں گا ۔ مجھے کوئی بہانہ سجھائی نہ دیا اور آخر کار عافیت اسی میں جانی کہ آج پھر سے  چھٹی کی    جائے لہذا میں نے وہ دن بھی ویڈیو گیم کھیلتے  گزار دیا اور چھٹی ٹائم گھر چلا گیا اور پھر تیسرے دن وہی رام کہانی میرے دماغ میں گھومنا شروع ہو گئی اور یوں میں سکول سے بھاگنے کا عادی ہو گیا۔ بختو کا ایک بھائی جو میرا کلاس فیلو تھا وہ بھی سکول سےبھاگتا  تھا اور اس کام میں وہ میرا ہمنوا ہو گیا ہم دونوں کراچی شہر میں کبھی کبھی پارکوں میں تو کبھی بازاروں میں کبھی سڑکوں پہ اور کبھی بسوں پہ اِدھر اُدھر گھومتے وقت گزارتے بھلا ہو بھٹو کا جس نے سٹوڈنٹس کے لیے بالکل واجبی سے کرائے  مقرر کر کےیہ سہولت مہیا کی تھی، بقیہ مفت کے سفر کی سہولت سٹوڈنٹس نے ٹرانسپورٹر ز کی مار کٹائی کر کے خود ہی حاصل کر لی   تھی ۔لہذا یوں گھومنا پھرنا ہماری جیب کو بالکل بھی گراں نہ گزرتا اور جب کبھی گھر سے دی ہوئی اٹھنی کے علاوہ پیسے ہاتھ لگ جاتے تو سارا دن ویڈیو گیم کھیلتے گزر جاتا ۔

جاری ہے۔۔۔

راجہ محمد احسان
راجہ محمد احسان
ہم ساده لوح زنده دل جذباتی سے انسان ہیں پیار کرتے ہیں آدمیت اور خدا کی خدائی سے،چھیڑتے ہیں نہ چھوڑتے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *