افسانہ    ( صفحہ نمبر 11 )

کہانی کا دُکھ(2،آخری حصّہ)-ناصر خان ناصر

کہانی لکھنے والی نے کئ بار ان لفظوں کو پکارنا چاہا جو امید دلاسے اور تسلی کے قبیلے سے تعلق رکھتے تهے اور اب اپنے معنی بدل کر یاس، نا امیدی اور حسرت کے چوغے پہن رہے تھے۔ ان لفظوں←  مزید پڑھیے

کہانی کا دُکھ(1)-ناصر خان ناصر

ایک کہانی وہ تھی جسے وہ لکھتی تھی اور ایک کہانی وہ تھی جس کا لکھا وہ بھوگتی تھی، دونوں کہانیاں بالکل مختلف تھیں مگر گڈ مڈ ہو ہو جاتی تھیں۔ پھر جو وہ لکھنا چاہتی تھی، اس سے لکھا←  مزید پڑھیے

جنم، بیماری، بڑھاپا اور موت کا چکر/سیّد محمّد زاہد

اے کرشا گوتمی! تُو پھر آگئی۔ وہ دن جب سدھارتھ کی بیوی یشودھرا کی امیدوں کے باغ میں پھل آیا اس دن تو خیر مقدمی گیت گا رہی تھی۔ خوشی کا گیت۔۔ ” سب خوش ہیں، باپ خوش، ماں خوش←  مزید پڑھیے

روٹی کا تصادم/خنساء سعید

” پاپڑ کرارے” ” لے لو پاپڑ کرارے ” رگوں میں خون منجمد کرنے والی سردی اور دھند میں وہ پاپڑوں والا ٹوکرا کندھے پر رکھ کر ہر گلی ہر چوک چوراہے پر آوازیں لگا رہا تھا۔ تن پر ایک←  مزید پڑھیے

اٹھاؤ گلاس ، مارو جَھک/عامر حسینی

یہ آج کے تھیڑ لکھنے والے اور افسانہ نگاروں کے ہاں ان کرداروں پر نئی کہانیاں لکھنے کا دم کیوں نہیں ہے اور مجھے تو منٹو جیسا کوئی مرد نہیں ملا جو ” زنانیوں پر اس طرح سے جم کر←  مزید پڑھیے

شعور/عارف خٹک

میری عادت رہی ہے کہ میں جب خالی پیٹ ہوتا ہوں تو ادب کی بھاری کتابیں کھول کر بیٹھ جاتا ہوں۔ میری  آنکھوں کے سامنے الفاظ ناچنے لگتے ہیں۔ کیونکہ بھوک مجھ پر حاوی ہوتی ہے۔ مگر کچھ جملے ایسے←  مزید پڑھیے

دوپہر کی دھوپ میں/عارف خٹک

دوپہر کا وقت کا تھا، ہم یونیورسٹی لان میں کچھ کلاس میٹ لڑکے اور لڑکیاں جمع تھے۔ اس نے نیٹ کی ایک لمبی قمیض پہنی ہوئی تھی جو اس کی  ننگی رانوں کو بمشکل چھپا رہی تھی۔ اس کا نام←  مزید پڑھیے

سستا آٹا اور مہنگی لاش/محمد وقاص رشید

ماں۔۔۔ بہت زور کی بھوک لگی ہے ۔ خدا کے لیے کچھ تو دو کھانے کو  ۔۔بھوکی بچیاں یک زبان ہو کر ماں سے کھانے کو مانگتی ہیں۔ تو وہ تڑپ کر انہیں سینے سے لگاتی ہے اور روہانسی ہو←  مزید پڑھیے

رفو/ربیعہ سلیم مرزا

“عدیل نے میرا نمبر کہاں سے لیا ہوگا”؟ میں پیکو والی دکان کا تھڑا چڑھتے ہوئے بھی یہی سوچ رہی تھی۔ دکاندار سے دوپٹہ پکڑ کر دیکھا، ٹُک وہیں کا وہیں تھا۔ لگتا ہے میری طرح سب کی مت مری←  مزید پڑھیے

برانڈی پلیز/شہزاد علی

تمہیں پتہ ہے اس کرّہ زمین پر انسان نامی نوع میں سب سے رذیل اور گھٹیا اور موذی ترین انسان کون ہیں؟ قاتل، ریپیسٹ چور، ڈاکو، حتیٰ کہ جانوروں اور بچوں پر تشدد اور ذلالت کرنے والے بھی نہیں! سب←  مزید پڑھیے

تعلق کا نشان/ساجد محمود

کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جن کا انجام ہوتا ہے تو وہ وہیں ختم ہوجاتی ہیں اور کچھ ایسی ہوتی ہیں کہ جو انجام کے بعد بھی چلتی رہتی ہیں، کرداروں کی زندگی کے خاتمے تک۔ یہ بعد والی←  مزید پڑھیے

حساب/سیّد محسن علی

‘‘خیر سے اپنی آسیہ بھی شا دی کی عمر کو پہنچ رہی ہے، ہمیں اس کے جہیز کی تیاری ابھی سے شروع کرلینی چاہیے تاکہ جیسے ہی کو ئی مناسب رشتہ ملے اس کے ہا تھ پیلے کر دیں ’’←  مزید پڑھیے

تعبیرِ خواب/محمد وقاص رشید

یہ تصور آباد ہے۔ یہاں راستے اور رہرو دونوں منزل کی تلاش میں رہتے ہیں ۔تنگ اور لمبی لمبی گلیوں میں دونوں اطراف کچے پکے گھروندے ہیں ۔ حبس زدہ گرما گرم مکانوں میں چولہے ٹھنڈے ہی رہتے ہیں۔ یہاں←  مزید پڑھیے

میری مہرو/Sierra tango

اس نے ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔ ایک بار پھر میرے سر پر زور سے تکیہ دے مارا ہے۔ اور کیا آپ یقین کریں گے کہ میری موت اسی تکئے کی چوٹ سے واقع ہورہی ہے؟ افف۔۔۔! ابھی، کچھ ہی دیر پہلے،←  مزید پڑھیے

سب مر گئے/شہزاد فیصل

میں میٹریس پر بیٹھا کتاب پڑھ رہا تھا ، میری بائیں جانب ترتیب کے ساتھ کچھ کتابیں پڑی ہوئیں تھیں، میرے سامنے والی کھڑکی سے رات ڈھلتی نظر آرہی تھی ، ابھی کچھ ساعت پہلے کھڑکی سے روشنی اندر آرہی←  مزید پڑھیے

سفر ابھی باقی ہے/مومل قریشی

مری کی اس دھندلی شام میں سڑک کے کنارے بیٹھا سگار کی چسکیاں بھرتے نا جانے کونسے خیالوں میں ڈوبا ہوا تھا ۔ وہ زندگی کی تلخیوں کو بہت پریکٹیکلی ڈیل کرنے والا، ایسے ہی کبھی کبھار گھنٹوں اپنے ساتھ←  مزید پڑھیے

وہ جو کنویں میں کود گئی /سعید چیمہ

دن اب ڈھلنے لگا  تھا۔ سورج اور دُھند میں مقابلہ ہنوز جاری تھا مگر ابھی تک دھند نے سورج کو مفتوح بنا رکھا تھا۔ دھند کے اثر نے سورج کو سفید کر دیا تھا جس کی وجہ سے سردی اس←  مزید پڑھیے

ایک اخبار والا/مطیع اللہ

کیلنڈر کا آخری ڈبہ جس پر بڑے بڑے الفاظ میں 31 دسمبر لکھا نظر آرہا تھا اب یہ کیلنڈر ایک خزاں رسیدہ  درخت کی مانند تھا ۔اس کی شاخوں کا ہر پتہ  گر کر زمیں بوس ہورہا تھا اور جیسا←  مزید پڑھیے

ایلدار اوغلو/امجد فاروق

ابھی اس اجنبی سر زمین پر آئے چند دن ہی ہوئے تھے۔ بڑی مشکل سے بھاگ دوڑ کر کے سر چھپانے کی جگہ میسر آئی اور ڈھنگ سے سانس لینے کا موقع بھی نہیں ملا تھا کہ کلاسیں شروع ہو←  مزید پڑھیے

یا خدا/محمد سعید اختر

حکومت بدلی تو اسے بھی کئی دوسرے ملازمین کی طرح نوکری سے نکال دیا گیا۔ دو چار مہینے تو سرکاری دفاتر میں دھکے اور احتجاج میں ہی گزر گئے، ہوش تب اُڑے جب محلے کے دکاندار، اور بچوں کے سکول←  مزید پڑھیے