مُلا صدرا اپنی ’اسفار‘کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ یہ مجھ پر الہام ہوئی ہے (فالھمنی)، اور جب یہ وحدت الوجود اور اصالتِ وجود کی بات کرتے ہیں تو وہاں بھی کہتے ہیں کہ یہ الہام ہوا ہے۔ ہیراکلتس سے لئے گئے حرکتِ جوہری کے تصور کو بھی اپنا مکاشفہ قرار دیتے ہیں← مزید پڑھیے
یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی؟۔۔نادیہ عنبر لودھی/پاکستان میں کئی اقسام کی کتابیں چھپتی ہیں۔ جن میں سے کچھ تو اس لئے مجبوراً پڑھی جاتی ہیں کہ یہ نصابی کتب ہیں لہذا ان کو پڑھنا مجبوری ہے۔ یہ خریدی جاتی ہیں کیونکہ خریدنا لازمی ہے← مزید پڑھیے
مصوّرِ وقت۔۔مظہر حسین سیّد/کسی کتاب کی اشاعت میرے نزدیک ایک انسان کے جنم لینے کے مترادف ہے ۔ جس طرح ایک بچے کا جنم اپنے اندر لامتناہی امکانات لیے ہوئے ہوتا ہے اور یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ بچہ آگے چل کر کیا بنے گا← مزید پڑھیے
ڈاکٹرسہیل ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کی کسی تحریر ’ کتاب یا تخلیق پر اپنی رائے کا اظہار کرنا اسی طرح مہماتی کرشمہ ہے جس طرح ان کی تحریریں، کتب، اور دیگر تخلیقات بذات خود تخلیقی مہماتی کرشمے ہیں۔← مزید پڑھیے
آج کا کالم کچھ کتابوں سے سجاؤں گا’ایسی کتابیں جو رواں ماہ ڈاک سے موصو ل ہوئیں ۔آج صرف تین کتابوں کا ذکر کروں گا’ایک سنجیدہ شعری مجموعہ اور دو مزاح نامے۔
← مزید پڑھیے
50 کتابوں کا ایک مصنف مجھے کل کہنے لگا کہ اُس نے تین ناشر بدلے مگر ایسے لگا نام مختلف تھے ڈی این اے ایک ہی تھا ۔ سب کتابوں کے مسودے قبضے میں آنے سے پہلے “جیسے تھے” کتابیں← مزید پڑھیے
چند دِن اُدھر کا ذکر ہے، ہم نے لاہور کے سماگ سے اپنی بیگم کے سہاگ کو مردانہ وارکھینچ دھروکرلا جامشورو کی ریتلی ہوا میں پٹخا ہی تھا ، سانسیں ابھی تک بے قابو اور سماعتیں ہنوز بے ترتیب ہی← مزید پڑھیے
ایک استاد صاحب کا سنہری فرمان ہے کہ ٹھوس/ کاغذی کتاب گویا کہ ایک جسم رکھتی ہے جبکہ برقی کتاب اپنی ماہیت میں بے جسم ہے، اسی بنا پر مطالعہ ہمیشہ کاغذی کتاب کا کرنا چاہیے کہ جسم کی حرارت← مزید پڑھیے
" عورت ہو ں نا۔۔۔" چند ما ہ قبل یہ کتا ب ملی ، لکھا تھا ‘‘ پیاری رابعہ کے لئے،، ۔ دیکھ کر ایک لمحہ کو خاموشی میرے اندر طو اف کر نے لگی ۔ خو د کلامی سی ہو ئی‘‘ عارفہ سے مجھے کم از کم یہ امید نہیں تھی۔ جس عارفہ کو میں جا نتی تھی ، وہ تو ایسی نہیں تھی۔ ← مزید پڑھیے
جو ہم سوچتے ہیں،یا لکھتے ہیں، وہ انہی خیالوں کی کاپی پیسٹنگ ہے جو اس سے پہلے سوچے جاچکے ہیں ۔ المیے اور خوشیاں ہر خطے کے سماجی رحجان کی وجہ سے مختلف تو ہو سکتے ہیں،مگر لکھنے والوں کے← مزید پڑھیے
وہ جو امن سے نوازا گیا/ تحفظ عطا کیا گیا (المُسْتَأْمِن) “مُسْتَأْمِن” وہ کہلاتا ہے جو سلامتی (امن) کا متلاشی ہے۔ یہ ایسا شخص ہے جوکسی دوسرے وطن یا دیارمیں سلامتی کے ساتھ داخل ہوتا ہے یعنی وہ جو دیار← مزید پڑھیے
پروفیسر راشد شاز کا شمار ان روایت شکن مصنفین میں ہوتا ہے جو مشہور و مقبول ہیں اور متنازع و مطعون بھی۔ انہیں عام ڈگر پر چلنا قطعاً پسند نہیں۔ اپنی خود نوشت لایموت لکھتے ہوئے بھی شاز صاحب نے← مزید پڑھیے
" دنیا مری ہتھیلی پر" کا تہہ ِ دل سے خیر مقدم کرتا ہوں ۔اور ظہور چوہان کا ہدیۂ تشکر کہ اُنہوں نے پہلے کی طرح اب بھی یاد رکھا اور اپنی نئی تخلیق سے نوازا← مزید پڑھیے
حسیات کا تنوع 'سکوت' میں واضح نظر آتا ہے۔ زندگی کے بیشتر پہلوؤں کو 'سکوت' میں مجتمع کردیا گیا ہے۔ نام نہاد ترقی کی اندھی دوڑ میں، پوری دنیا فطرت کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اس نام نہاد ترقی کا خمیازہ جنگلات کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔← مزید پڑھیے
دو کوزہ گر۔۔آغر ؔندیم سحر/ شمس العلما مولانا شبلی نعمانی فروری1883 سے اواخر1998 تک علی گڑھ کالج سے وابستہ رہے۔وہ اس تاریخی دانش گاہ میں عربی کے استاد اور طلبا کی ادبی تربیت کے لیے بنائی گئی مجلس ”لجنۃ الادب“کے نگران تھے← مزید پڑھیے
(کاکولیات/سلیم مرزا)میری فرینڈ لسٹ میں فوجی بھائی اتنے ہی ہیں جتنی میری زندگی میں خوشحالی۔مجھے اگر پتہ چل جائے کہ سرکار افسر ہیں تو میں ان کے سامنے جانے کی بجائے گھوڑے کے پیچھے چھپنے کو ترجیح دیتا ہوں کہ← مزید پڑھیے
پاکستان میں اردو اخبارات کے صف اول کے کالم نگاروں میں زاہدہ حنا کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ آپ باقاعدگی سے گزشتہ 33 برسوں سے ہفتہ وار کالم لکھ رہی ہیں اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے۔← مزید پڑھیے
کوئی پچیس سال پہلے کی بات ہے کہ میٹرک پاس کرنے کی خوشی ایک طرف، میتھ سے جان چھوٹنے کی خوشی کا اپنا ہی مزہ تھا۔ دل میں ٹھان لی تھی کہ زندگی میں اس ناہنجار سبجیکٹ کو پلٹ کر← مزید پڑھیے
جب سے علامہ صاحب جدا ہوئے ہیں، میں روز یہ سوچتا ہوں کہ ان سے جڑی یادوں کو تحریر کی شکل میں محفوظ کرلوں مگر جب بھی ان پر کچھ لکھنے کی کوشش کی تو گویا جیسے لفظوں نے ہڑتال← مزید پڑھیے
زبانیں عام طور پر ارتقا کے طویل اور بتدریج مرحلہ وار اقدامات کے بعد کہیں جا کر اہم تبدیلیوں سے ہمکنار ہوتی ہیں۔ ان میں شعوری طور پر فیصلہ کُن تغیر کے امکانات کم ہی ہوتے ہیں۔ یا شاید میں← مزید پڑھیے