مکالمہ، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 267 )

غیر مقبول مگر درست فیصلوں کی ضرورت ہے۔۔محمد زبیر خان موہل

یاد رکھیں کچھ فیصلے غلط ہوتے ہیں مگر مقبولِ عام ہوتے ہیں۔ نا سمجھ ان فیصلوں کی بہت پذیرائی کرتے ہیں اور وقت گزرنے پر ان فیصلوں کے نتائج قوموں کو بھگتنا پڑتے ہیں جبکہ کچھ فیصلے غیر مقبول ہوتے←  مزید پڑھیے

زاہدہ حنا!رقصِ بسمل کے آئینے میں۔۔دیپک بُدکی

”عورت ہونا، کہانیاں لکھنا، اختلاف کرنا , یہ ہمارے معاشرے کی تین خرابیاں ہیں۔ اور میں ان کا مجموعہ ہوں۔“ (زاہدہ حنا) افسانہ نگار، ناول نگار، مضمون نگار اور کالم نگار زاہدہ حنا کی نگارشات عصری حسیت کی آئینہ دار←  مزید پڑھیے

کشمیر کا مستقبل اور آزاد کشمیر۔۔نذر حافی

کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ صرف کشمیری ہی کریں گے۔ یہ فیصلہ کرنا کشمیریوں کا انسانی اور فطری حق ہے۔ جب تک کشمیریوں کو یہ حق نہیں ملتا، اس وقت تک اس منطقے میں تعمیری، اقتصادی اور ترقیاتی منصوبوں کی←  مزید پڑھیے

ایک کٹر مذہبی مشرقی باپ کی کہانی۔۔عبدالستار

ہمارے سماج میں رنگ برنگے پرندوں کو پنجروں میں ڈال کر ان کی رنگ برنگ خوبصورتیوں کو انجوائے کیا جاتا ہے کیونکہ ہمیں ہر قسم کی آزادی سے ڈر اور خوف محسوس ہوتا ہے ۔یہاں پر بچپن سے ہی انسانی←  مزید پڑھیے

مثبت سوچ کی طاقت۔۔وہاراامباکر

“حقیقت اور اپنے یقین میں مفاہمت کروانی ہو تو مجھے تبدیلی اپنے یقین میں کرنی پڑتی ہے۔ اس کا برعکس طریقہ ٹھیک کام نہیں کرتا۔” ۔علی زیر یدکوسکی مثبت سوچ کی طاقت کی تحریک سے سیلف ہیلپ کے کئی گرو←  مزید پڑھیے

گول روٹی، مشترکہ خاندانی نظام، ہندو کلچر یا اسلام۔۔منصور ندیم

مہذب دنیا کی تمام تہذیبوں، ملکوں اور خطوں میں انسان خاندانی نظام کے تحت زندگی گزار رہے ہیں۔ خطہ ہندوستان بھی زمانۂ قدیم سے مقامی مذاہب اور اپنے مقامی مروجہ اخلاقی روایات  کے مطابق خاندانی نظام کی مخصوص تشکیل کر←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

عرض نازِ شوخی ِِدنداں برائے خندہ ہے دعوی ٗ جمعیت ِ احباب جائے خندہ ہے ستیہ پال آ نند یہ اضافت کی توالی؟ اور مطلع میں؟ حضور گویا اس خامی کی غایت پیشگی مطلوب ہو کیا کہیں گے،بندہ پر ور،←  مزید پڑھیے

سرگودھا اور کوٹ مومن کے پلُوتے ۔۔آصف محمود

یہ کیا کہانی ہے کہ بالوں میں سفیدی اترتی ہے تو اپنی زمین اورا س سے جڑی ہر چیز اچھی لگنے لگتی ہے۔ اپنا گائوں ، اپنی ثقافت ، اپنے لوگ ، اپنی تہذیب ، یہ سب میٹھا میٹھا درد←  مزید پڑھیے

اب صنم بھی ایمان خراب کرنے لگے۔۔ذیشان نور خلجی

یہی کوئی بائیس پچیس کے سن میں ہوگا۔ اصل نام تو جانے کیا تھا، یار لوگ اسے بھولا کہتے تھے لیکن باتیں وہ بڑی سیانی کیا کرتا تھا۔ بھولا چونکہ پیدائشی مسلمان تھا اور رہتا بھی دار الاسلام میں تھا←  مزید پڑھیے

مفت توانائی۔۔وہارا امباکر

مفت توانائی ایک دعویٰ ہے کہ توانائی کی کنزریویشن کے قوانین توڑے جا سکتے ہیں اور کوئی ایسا طریقہ نکالا جا سکتا ہے جس سے توانائی مفت ملتی رہے۔ اس دعوے کے ساتھ ایک بنیادی مسئلہ ہے اور وہ یہ←  مزید پڑھیے

یہ طوفان بلا خیز۔۔سلمیٰ اعوان

سوشل میڈیا کے جتنے بھی پلیٹ فارمز ہیں مجھے نہیں پتہ کہ ان کے لیے کوئی ضابطہِ اخلاق بھی وضع ہے یا نہیں۔ ہاں البتہ سائیبر کرائمز کے لیے ضرور کچھ سزائیں ہیں۔یہاں سوال اٹھتا ہے کہ دورِ جدید کی←  مزید پڑھیے

قصہ ملوک سپل کی بے گُناہی کا۔۔عزیز خان ایڈووکیٹ

یہ 1997کی بات ہے میں بطور ایس ایچ او تھا کوٹسمابہ تعینات تھا، میں نے اپنی رہائش رحیم یار خان میں رکھی ہوئی تھی، کوٹسمابہ رحیم یار خان سے بائیس کلومیٹر دور تھا، غلام قاسم مرحوم بطور گن مین میرے←  مزید پڑھیے

مندر یا مسجد: بات ہے اصول کی۔۔حسان عالمگیر عباسی

میں سمجھتا ہوں دین جذبات کی قدر کرتے ہوئے  ‘اصول’ کو فوقیت  دیتا ہے۔ معاشرتی برائیوں اور مذہبی روایت پرستی نے ہمیں اس قابل ہی نہیں چھوڑا کہ ہمیں دین ،دماغ اور لاجکس کی ضرورت محسوس ہو۔ دین لاجیکل ہے←  مزید پڑھیے

روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

نہ جانوں کیوں کہ مٹے داغ طعن ِ بد عہدی تجھے کہ آئینہ بھی ورطہ ٗ ملامت ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ستیہ پال آنند حضور، مجھ کو تو جو کچھ سمجھ میں آیا ہے اگر کہیں تو میں منجملہ اس کو پیش←  مزید پڑھیے

مجھے دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے۔۔نازیہ علی

کورونا وائرس کی عالمی وبا نے جس طرح پوری دنیا کی معیشت کو نقصان پہنچایا بالکل اسی طرح تعلیم کے نظام کو بے حد متاثر کیا ہے، کہیں آن لائن کلاسز کے نام پر خانہ پوری کی جانے لگی تو←  مزید پڑھیے

جے آئی ٹی۔۔جاوید چوہدری

علامہ اقبال 1931ءمیں دوسری گول میز کانفرنس کے لیے لندن تشریف لے گئے‘ کانفرنس کے دوران اٹلی کے آمربنیٹو میسولینی نے انہیں روم آنے کی دعوت دی اور علامہ صاحب نومبر کے تیسرے ہفتے روم پہنچ گئے‘ 27 نومبر 1931ءکو←  مزید پڑھیے

ہندی فلم: کھل نائیک۔۔ذوالفقار علی زلفی

راج کپور کے بعد ہندی سینما کے دوسرے سب سے بڑے شومین کا خطاب ہدایت کار سبھاش گئی کو دیا جاتا ہے ـ تاہم یہ دونوں فن کار نظریاتی لحاظ سے یکسر مختلف بلکہ متضاد ہیں ـ راج کپور کی←  مزید پڑھیے

معاف کیجیے! لڑکی کی عمر زیادہ ہے۔۔چوہدری عامر عباس ایڈووکیٹ

کچھ عرصہ پہلے مزنگ روڈ پر واقع اپنے دفتر میٹنگ کیلئے آئے ایک کلائنٹ کو رخصت کرنے کے بعد میں خود بھی گھر جانے کی تیاری کر رہا تھا کہ میرے کلرک نے کمرے میں آ کہا “صاحب جی ایک←  مزید پڑھیے

انسانم آرزوست مصنف ڈاکٹر محمد امین/مرتب سخاوت حسین(مجلس 5)

ابوالحسن نے سر اٹھایا اور پوچھا۔رات بہت ہو گئی۔مسافر ابھی تک نہیں لوٹا۔اتنے میں مسافر کانپتا، ڈرا سہما ہوا مجلس میں داخل ہوا۔ اور یوں گویا ہوا۔آج میں ایک ایسی بستی سے گزرا۔جہاں بڑی بڑی مشینیں پڑی تھیں۔جن پر بڑے←  مزید پڑھیے

اب پاکستان میں مزاحمت نگار کیوں پیدا نہیں ہوتے؟۔۔ادریس آزاد

کَل، زندہ لوگ کے اجلاس میں یہ موضوع زیربحث تھا کہ ’’آج کل مزاحمتی ادب کیوں نہیں لکھا جارہا؟‘‘مجھےایک خیال آیا کہ ’’مزاحمتی ادب دورِ مزاحمت میں ہی لکھاجائےگانا؟‘‘ ہم لوگ نہ تنگ ہیں اور نہ ہی ابھی آمادۂ جنگ←  مزید پڑھیے