روبرو مرزا غالب اور ستیہ پال آنند

عرض نازِ شوخی ِِدنداں برائے خندہ ہے
دعوی ٗ جمعیت ِ احباب جائے خندہ ہے

ستیہ پال آ نند
یہ اضافت کی توالی؟ اور مطلع میں؟ حضور
گویا اس خامی کی غایت پیشگی مطلوب ہو
کیا کہیں گے،بندہ پر ور، آپ اس تکرار پر؟

مرزا غالب
کُل ملا کر تین ہی تعداد ہے ان کی یہاں
ان سے کیا دامن کشی کرنا ضروری تھا مرا؟
اور پھر جب یہ ارادہ پیشگی غایت سے تھا؟

ستیہ پال آ نند
پھر ذر ا فرمائیں تو یہ پیشگی غایت کی بات

مرزا غالب
باید و شاید تھا یہ، مقصود، طے کردہ خیال
تین باتیں تھیں ضروری من وعن اس ضمن میں
تھا ہدف دانتوں کی شوخی کی نمائش، تو، مگر
خندہ زن ہونا ، یہی اک بے بہا تدبیر تھی
اس کی بندش ایک مصرعے میں تبھی ممکن تھی،جب
ایک پیوستہ و سالم ماحصل مصرعے میں ہو

ستیہ پال آ نند
گویا یہ بے جا تردد سوچی سمجھی بات تھی؟
واہ ! عالی جاہ! یہ اقبال ِِ جر م ِِ آگہی

مرزا غالب
ہو چکی، بیکار لے دے اس فرو تر بات پر
کیا کوئی سنجیدہ نکتہ بھی ہے مقصود ِ نظر؟

ستیہ پال آ نند
جی ہاں ، کچھ افعال جو زیر ِ توجہ ہیں، جناب
ان میں اک اس مصرع ثانی کے بارے میں بھی ہے
ـ’’دعوی ٗ جمعیت ِ احباب جائے خندہ ہے‘‘
کیا نہیں یہ غیرمتعلق سا متغائر خیال؟
(دیکھنے میں تو یہی لگتا ہے مجھ کو، اے حضور)

مرزاا غالب
کیسے متغائر ہے ، یعنی لا تعلق یہ خیال؟

ستیہ پال آ نند
دوستوں میں اتفاق ِ رائے ہے منشا اگر
یااگر دانتوں کی بُنت و بست ہے تمثال یاں
یک دگر صورت نہیں ہےایک مفروضہ، جناب!
اور پھر ان کا تعلق خندہ ء  معشوق سے ؟
چوں ، چناں، کیوں اور کیسے؟کون بتلائے گا ؟کیا؟

مرزاا غالب
غو ر سے دیکھو اگر تم دانت اپنے، ستیہ پال
کیسے یکساں ، غیر متغیر، برابر ہیں سبھی
دعوی ٛ ٗ جمعیت ِ احباب کی تصویر ہیں
کچھ برس کے بعدلیکن ان کو دیکھو گے اگر
غیر یکساں، کھردرے، بے قاعدہ ہو جائیں گے
ہے یہی طور و طریق ِ ِ قربت ِ احباب بھی
’’جائے خندہ‘‘ ہے ز بس ان کی جمعیت بھی، میاں ِ

ستیہ پال آنند
ستیہ پال آنند
شاعر، مصنف اور دھرتی کا سچا بیٹا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *