اللہ کسی کو اولادوں کی قطار میں بیچ کی اولاد نہ بنائے، انہیں نہ تو بڑی اولا جیسا مان سمان ملتا ہے اور نہ ہی چھوٹوں جیسا لاڈ دلار ، بس ذمہ داریوں کی جکڑ بندیاں ہی نصیب ہوتی ہیں۔← مزید پڑھیے
خونی لہریں،محبت اور طالبان۔۔سیّد محمد زاہد/رات کی دیوی زلفیں کھولے بے حس پتھروں اور تاحدِنظر بکھرے سنگریزوں کو گود میں سمیٹے سو رہی تھی۔ دور کی پہاڑی چوٹیاں دھندلی دھندلی دکھائی دیتی تھیں۔ دیوی پُرسکون تھی۔ دیوی کا سکون مطلق ہر چیز سے چھو کر پوری کائنات پر سکتہ طاری کیے ہوئے تھا۔← مزید پڑھیے
قرب کا عذاب جینے نہیں دیتا اور ہجر کا کیف مرنے نہیں دیتا۔ بے ثبات ہونے میں ایک عجیب سی کیفیت ہے کہ وعدہء تحلیلِ حیات، امکانِ وفا کو زندہ رکھتا ہے۔ خدا کو محبوب کہتے ہوۓ ڈر لگتا ہے← مزید پڑھیے
سچی محبتوں کی تاریخ گواہ ہے کہ اہل محبت نے ہمیشہ جسم سے نہیں روح اور سوچ سے محبت کی،جسم انکی طلب کبھی تھا ہی نہیں۔۔بلکہ انھوں نے تو کبھی نظروں اور لفظوں سے بھی جسم کی حرمت کو داغدار← مزید پڑھیے
ہم دونوں کی نظر ملی تو میرا دل زور سے دھڑکا۔ ایسا پہلی مرتبہ نہیں ہوا تھا۔ جب بھی اس سے نظریں چار ہوتیں، مجھے یوں لگتا کہ دل حلق کے راستے باہر آ جائے گا۔ وہ کلاس کی سب← مزید پڑھیے
” ہاں اچھا سوری تم کہو ” خالہ نے خاموش ہوتے ہوئے کہا تو عبیر نے اپنی کہانی پھر شروع کی۔۔۔۔ اس کے بعد جیسے یہ سلسلہ چل پڑا۔ صدف نے کچھ سکیچ بکس خریدیں ۔ اور تصاویر بنانا شروع← مزید پڑھیے
محبت کی کتاب میں سبھی باب تیرے نام کے تھے محبت کے عہد میں سبھی خواب تیرے نام کے تھے ہر اک حرف تیری آہٹ کا ترجماں شاید مضمون گویا تیری زلف پریشاں شاید الفاظ تیرے خیالوں میں گرداں شاید← مزید پڑھیے
خیال میں صورت ِیار بھی نہیں اور دل کو تیرا انتظار بھی نہیں اک میری نگاہ ہے نگاہِ اداس اک جلوؤں کا تیرے شمار بھی نہیں وہ چاہ ہی نہیں اور ہو بھی تو اب ترے چاہنے پہ مجھے اعتبار← مزید پڑھیے
یہ جو محبت ہے! بس ،دو تین سو برس پہلے کی بات ہے! محبت پر بات شروع ہوئی ہے تو جھیل میں پہلا پتھر پھینکتے ہیں۔ محبت کی باقی اقسام پر بھی بات ہوگی مگر پہلے “رومانوی محبت” سے نبٹتے← مزید پڑھیے
سوکھے گلاب ۔۔۔ آنکھیں نم کرنے کو کافی ہوتے ۔۔۔۔ سپائن انجری کی وجہ سے وہیل چیئر پر ہوں تو کہیں آ جا نہیں سکتا تو بیگم کسی دن پارک واک کے لئے گئیں تو واپسی پر میرے لئے گلاب← مزید پڑھیے
عمرِ رفتہ کے اوراق پلٹنے کی زندگی نے کبھی مہلت ہی نہیں دی، خود سے ہمکلام ہونے کی کبھی فرصت ملی بھی تو ہمسفروں سے بچھڑ جانے کا خوف،راستہ بھٹکنے کا اندیشہ،بغیر زادِ راہ کے اَن دیکھی منزلوں کے سفر← مزید پڑھیے
انابیہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنا تفصیلی جائزہ لے رہی تھی۔ کانوں میں پرل کے ٹاپس پہنے، کلائی میں نازک سا سلور بریسلٹ ، سلک کا ہلکے پنک کلر کا ڈوپٹہ اوڑھا جو کہ پھسل کر دوبارہ اس کے← مزید پڑھیے
ایک ڈر پوک دبّو اور سہمے سہمے چہرے والی بیوی کی خواہش کبھی کبھار اُس کے سینے میں اُس وقت مچلتی تھی جب طاہرہ زندہ تھی اور کلب میں برج کھیلتے۔پینے پلانے یا اپنی کسی گرل فرینڈکے ساتھ کسی ہوٹل← مزید پڑھیے
یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کی ہر انسان کو جستجو رہتی ہے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کیلئے ہمیں اپنے آپ سے کچھ سوالات کرنے ہوں گے۔ ہمیں اپنی ذات کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ ہمیں خود سے پوچھنا← مزید پڑھیے
رحمان کے دونوں بچے چھٹیاں گذارنے گھر آرہے تھے۔رات کو کھانا کھاتے ہوئے اُس نے کہا۔ ”بی ہومز کی پرنسپل کا خط آج آفس آیا تھا۔بچے درگا پُوجا کی چھٹیاں گذارنے کل دو بجے آرہے ہیں۔لیکن ایک مسئلہ درمیان میں← مزید پڑھیے
کچھ روز سے خاموشی شام و سحر کا احاطہ کیے ہوئے ہے،اور اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگا لو کہ تم سے بھی کچھ کہنے کو لفظ میسر نہ آئے۔تم روبرو رہے،اور میں تمہیں دیکھتی رہی۔اس خاموشی← مزید پڑھیے
ماں کوئی گھنٹہ بھر سے وقفے وقفے سے اُسے آوازیں دئیے جا رہی تھی۔ ”اُٹھ نا پُتر۔ تیرے انتظار میں کب سے بیٹھی ہوں تو ناشتہ کرے تو کسی اور کام میں لگوں۔ ابھی مجھے ہانڈی لینے بازار بھی جانا← مزید پڑھیے
محبت پر بہت کچھ لکھا گیا ‘ شاعری کی گئی لیکن سب نے اس کو اپنے لفظوں میں بیان کیا اپنی سوچ کے مطابق ‘ یا اپنے تجربے کی بنیاد پر لیکن آج تک اس کی کوئی مفصل تعریف بیان← مزید پڑھیے
کہنے لگی کورونا سے پہلے بھی میری محبت ہجر کے رنگوں سے رنگی ہوئی تھی۔۔۔ ہجر کے بھی رنگ ہوتے ہیں بھلا۔۔۔۔میں اس کے ماتھے کو چومتی ہوئی لٹ کو دیکھتے ہوئے بولا ہوتے ہیں۔وہ اپنا ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے← مزید پڑھیے