Rauf Ul Hassan کی تحاریر
Rauf Ul Hassan
Rauf Ul Hassan
I do not consider myself a writer. Instead, I am a player. As one of my friend s said: "You play with words. " He was right. I play, and play it beautifully.

اللہ رحم کرے۔۔رؤف الحسن

ایسا نہیں ہے کہ میری موٹر سائیکل بہت زیادہ پرانی ہے، لیکن کچھ زیادہ نئی بھی نہیں ہے۔ مجھے یہ موٹر سائیکل میرے والد صاحب نے عنایت کی، اور انہیں ان کے والد یعنی میرے دادا مرحوم نے۔ دادا جان←  مزید پڑھیے

قصوروار کون؟۔۔رؤف الحسن

لاہور موٹروے واقعے نے دل کو ہلا کے رکھ دیا ہے۔ یہ واقعہ محض ایک زیادتی کا واقعہ نہیں بلکہ معاشرے میں پلنے والی اس بدبودار سوچ کی عکاسی ہے جس میں  ہم صرف ایک موقع کی تلاش میں رہتے←  مزید پڑھیے

لاہور سے آگے۔۔رؤف الحسن

شام کے سات بج چکے تھے. سفر شروع ہو چکا تھا. مسافر اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہو چکے تھے. کوئی زیر لب سفر کی دعا پڑھ رہا تھا تو کوئی اپنے موبائل میں مصروف تھا. اگلی نشستوں پر بیٹھی←  مزید پڑھیے

اَن کہی(نظم)۔۔رؤف الحسن

ایک کھڑکی ادھ کھلی سی اور سرد ہوا چلی سی اک خط ادھ لکھا سا اور سگریٹ ادھ جلی سی چاند مدھم مدھم سا جیسے پھول کی کلی سی دل تھا ڈوبتا سا اور آنکھ میں نمی سی کسی غم←  مزید پڑھیے

دائروں کا سفر۔۔رؤف الحسن

ہم سب کہانیاں ہیں۔ کائنات میں پھیلی ہوئی لاتعداد کہانیاں۔ ان کہانیوں کے خالق نے اس بات کا خصوصی اہتمام کیا کہ کوئی کہانی دوسری کہانی سے مماثلت نہ رکھے۔ اسی لیے ہر کہانی کا آغاز جدا ہے, کردار الگ←  مزید پڑھیے

انتہائے عقل۔۔رؤف الحسن

ایک عرصے سے کچھ سوال ذہن میں تھے: (ا) انسانی عقل کی معراج کیا ہے؟ (ب) نظریہ سازی کے عمل میں عقل اور جذبات کا کیا مقام ہے؟ خود سے کیے گئے ان سوالات کے جواب میں ،مَیں نے جو←  مزید پڑھیے

حقیقت۔۔رؤف الحسن

یونیورسٹی میں اکتوبر کے دوسرے ہفتے کی ایک خاموش شام اتر رہی تھی۔ سڑک کنارے بکھرے خشک پتے خزاں کی نوید سنا رہے تھے۔ اور ہم دونوں قدم سے قدم ملائے, خاموشی سے چلتے جا رہے تھے۔ یہ یونیورسٹی میں←  مزید پڑھیے

جشن آزادی۔۔رؤف الحسن

آزادی کا اعلان ہو چکا تھا۔ ہندوستان سے مہاجرین قافلوں کی صورت میں مملکت خدادا پاکستان کو آباد کرنے پہنچ رہے تھے۔ فسادات کی آگ میں کسی قافلے کا خیر و عافیت کے ساتھ پہنچنا کسی معجزے سے کم نہ←  مزید پڑھیے