لاک ڈاؤن کے دنوں کی محبت ۔۔ڈاکٹر حبیب الرحمن

کہنے لگی کورونا سے پہلے بھی میری محبت ہجر کے رنگوں سے رنگی ہوئی تھی۔۔۔
ہجر کے بھی رنگ ہوتے ہیں بھلا۔۔۔۔میں اس کے ماتھے کو چومتی ہوئی لٹ کو دیکھتے ہوئے بولا
ہوتے ہیں۔وہ اپنا ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے رکھتے ہوئے بولی۔۔جب و صل خواب بن جائے تو ہجر میں رنگ بھر جایا کرتے ہیں۔۔۔
ویڈیو کال سے اسے دیکھ کر اسے چھونے کی آرزو لئیے میری انگلیاں سلگنے لگی تھیں اور شائد اسے بھی میرے اس کرب کا احساس تھا اسی لیئے اس نے ماتھے پر آئی لٹ کو انگلیوں سے پیچھے دھکیلتے ہوئے مجھے دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولی
لیجئے ہم نے آپ کا کام کر دیا۔۔۔
ہمارا کام تو کب کا ہو چکا۔۔۔ میں مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔لاک ڈاؤن شروع ہوئے ابھی کچھ ہی دن ہوئے تھے اور ہر سو خوف کی فضا قائم تھی۔سڑکیں سنسان تھیں اور سارے دفتر بند کر دئیے گئے تھے۔میں جو اپنے مسکن پر کم کم ہی موجود ہوا کرتا تھا اپنے کمرے میں بندھ کر رہ گیا تھا۔وہ جس کے ہجر نے مجھے کہیں کا نہیں رہنے دیا تھا ویڈیو کال کے توسط سے ایک بار پھر میرے سامنے تھی۔
یوں تو اس کو دیکھ کر ہمیشہ سے ہی میری زبان گنگ ہو جاتی لیکن وصل کے لمحوں کی طرح میرے ہاتھ پر دھرے اس کے ہاتھ سے میری انگلیاں اب بات نہیں کر سکتی تھیں اس لئیے اس کو چھونے کی شدید خواہش میں سلگتی انگلیوں کو سہلاتے ہوئے میں اسے دیکھ رہاتھا ا ور گفتگو کا تسلسل جاری رکھنے کے لئیے مجھے کچھ نہ کچھ بولنا بھی پڑ رہا تھا ۔
بہار کتنے جوبن پر ہے وہ مارچ کے آخری دنوں کا ذکر کرتے ہوئے بولی
لارنس گارڈن میں کھلنے والے پھول خموش رستوں کو دیکھ کر کڑھتے ضرور ہوں گے۔جنگل میں کوکتی بانسری اور کھلے ہوئے پھول کسی کی سماعت اور بینائی سے ہی امر ہوا کرتے ہیں۔۔اس نے میری طرف دیکھا اور دھیرے دھیرے اپنی بات جاری رکھی۔۔چاہنے اور چاہے جانے والوں کے بغیر لارنس گارڈن کے کھلتے پھولوں اور کوکتی کوئلوں پر جانے اس سال کیا بیتی ہو گی۔۔

تم اداس رہنے کے بہانے ڈھونڈتی ہو۔میں اس کے کانوں کی بالی کو دیکھتے ہوئے بولا
شملہ پہاڑی پر لگے برگد کے درخت کے نیچے پتہ نہیں لاک ڈاؤن کے دنوں میں کوئی بیٹھتا بھی ہو گا یا نہیں۔۔ میری بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اس نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔وہ برگد تو ہمیشہ سے جھلستی محبتوں پر سایہ فگن رہا ہے۔۔

ہم دونوں کتنی ہی دیر ان راہداریوں کی تنہائی کے کے دکھ میں لپٹے اپنے ہجر کا ماتم کرتے رہے اور گزرے دنوں کو یاد کرتے رہے۔۔۔
رات بھیگ رہی تھی ۔۔۔۔اسے چائے کی طلب ہونے لگی اس نے کیمرہ لیمپ تلے دھری اپنی تصویر کی جانب کیا اور منظر سے غائب ہو گئی۔۔۔۔میرے لیئے وہ خود بھی اب اس تصویر کی مانند ہی تھی جسے میں صرف دیکھ سکتا تھا۔۔
میرے سر کے عین اوپر جلتا ہوا بلب کمرے کو کسی حد تک روشن کیے ہوئے تھا۔ کمرے میں ایک میٹرس کے علاوہ کوئی ایسی چیز نہ تھی جسے فرنیچر کہا جا سکے میٹرس ڈھیر ساری کتابوں سے اٹا ہوا تھا اور میٹرس کے کونے پر میں تکیے کا سہارا لے کر میں اس کی واپسی کا منتظر تھا۔میرے پاس پڑے چائے کے کپ میں جانے کب کی پڑی چائے بساند چھوڑنے لگی تھی۔کتنے ہی دنوں بعد میں نے آج بالوں کو سیدھا کیا تھا اور پرانے ٹریک سوٹ کے پاجامے کے اوپر دفتر کی شرٹ پہنی تھی۔میں نے سگریٹ سلگایااور اس کی واپسی کی راہ دیکھنے لگا۔
اس کے نیم خوابیدہ کمرے میں لیمپ روشن تھا۔ اس کی تصویر کے پس منظر میں دیوار پر لگی ڈوبتے ہوئے سورج کی پینٹنگ ماحول کو مزید سوگوار بنا رہی تھی۔۔۔تھوڑی ہی دیر بعد وہ چائے کے دو کپ تھامے ہوئے واپس پلٹ آئی۔۔۔
ایک تمہارا ، ایک میرا۔۔۔وہ مسکر اکر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی۔
میرے پاس ایک مسکان سے زیادہ کچھ بھی کہنے کو نہ تھا۔۔۔
کورونا کب ختم ہو گا۔۔۔۔۔وہ چائے پہلی چسکی لیتے ہوئے بولی
پتہ نہیں۔۔۔۔ میں سگریٹ کا آخری کش لیتے ہوئے بولا
کورونا نے ایک بار پھر تمھیں میرے قریب کر دیا ہے ۔۔ اس کی آنکھوں سے اداسی چھلکنے لگی
میں تو اب بھی دور ہوں بہت دور۔۔۔سات سمندر پار۔۔۔۔۔
فاصلے دوری کو کہاں ماپ سکتے ہیں وہ مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔۔پہلے تم وہیں ہو کہ بہت دور تھے اور اب وہاں ہونے کے باوجود بہت قریب۔۔۔
میں تو یہیں تھا۔۔۔میں نے کچھ کہنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا
پہلے تمھیں وقت نے باندھا ہوا تھا۔اس نے اپنی بات جاری رکھی۔۔۔۔میں جتنا تمھیں کھوجتی تھی تم اتنا ہی وقت کے پیچھے چھپتے تھے اور اب لاک ڈاؤن نے وقت کو تم سے چھین لیا ہے۔میری محبت اور تمھہارے درمیان اب وقت نہیں رہا صرف ہم رہ گئے ہیں۔۔صرف میں اور تم۔۔۔۔

پتہ نہیں میں بڑھی ہوئی شیو میں کھجلی کرتے ہوئے اسے دیکھنے لگا ۔۔زندگی کے جھمیلوں میں اسے میں کبھی بتا ہی نہیں سکا تھا کہ میں وقت کے پیچھے نہیں چھپا تھا وقت مجھے رگیدتا ہوا جانے کہاں سے کہاں لیے چلا گیا۔۔
تمہاری چائے پی لوں وہ اپنا کپ ختم کرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔تم یوں بھی ٹھنڈی چائے ہی پیتے ہو۔۔۔۔
میں ایک بار پھر صرف مسکرا کر رہ گیا۔۔

میرا جی چاہتا ہے کہ میرا محبوب بہت بولتا ہو اتنا بولنے والا کہ  اس کے لفظ میرا سانس بند کرنے لگیں ۔۔۔وہ ایک بار پھر اپنی ازلی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے بولی
تمھیں تو میری تعریف کرنی بھی نہیں آتی میں تمھاری ٹٹولتی ہوئی آنکھوں سے لفظ کشید کرتی ہوں اور ان کے سرور سے اپنی محبت میں رنگ بھرتی ہوں۔تم ملتے تھے تو تمھاری انگلیاں جو گیت گایا کرتی تھیں میرا بدن اور روح اب بھی ان گیتوں کی لَے پر رقص کرتا ہے۔
تمہارے کمرے کی کھڑکی شاید کھلی ہوئی ہے۔ میں اس کے پس منظر میں ہلکورے لیتے ہوئے پردے کو دیکھ کر بولا
شاید۔۔۔میرا بند کمرے میں سانس گھٹتا ہے
کسی دن روشنی کے وقت بات ہوئی تو تمھیں کھڑکی کے پار کا منظر دکھاؤں گی۔۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے بولی۔۔کھڑکی کے باہر چھوٹا سا ٹیرس ہے جہاں کچھ پودے لگے ہوئے ہیں یہاں ابھی بہار کے رنگ نہیں آئے لیکن کل ہی ایک چھوٹا سا پھول کھلا ہے
سنو۔۔۔وہ دھیرے سے بولی۔۔یہاں پھولوں میں خوشبو کیوں نہیں ہوتی۔۔۔
مجھے کیا پتہ۔۔میں نے تمھارے بعد کسی پھول کو کبھی دیکھا نہ سونگھا
رہنے دو وہ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔مجھے مردوں کی فطرت کا پتہ ہے۔۔

ٹیرس کے پار بڑی شاہراہ ہے جہاں عام دنوں میں ہر وقت ٹریفک جام رہتا تھا اب سناٹا رہتا ہے۔۔۔۔۔وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے بولی۔۔۔۔ سامنے ایک برف پوش پہاڑ ہے جسے دیکھ کر اب بھی خنکی کی ایک لہر بدن میں دوڑنے لگتی ہے۔۔تم نہیں تھے تو میں پہروں کھڑکی میں کھڑے ہو کر سڑک سے گزرنے والی ٹریفک کو دیکھتی اور پہاڑوں کے پار بسے ہوئے لوگوں کے سپنے دیکھتی
تم نے کمرے کی کھڑکی کھولی۔۔وہ اپنی بات کرتے کرتے رکی اور مجھ سے پوچھنے لگی
نہیں۔۔۔کمرے کی کھڑکی اس دن سے بند ہی ہے جب آندھی میں تم نے دوڑتے ہوئے کھڑکی کو بند کیا تھا اور جب تم ادھ کھلے پردے سے طوفانی بارش کو ہوتے ہوئے دیر تک دیکھتی رہی تھیں میں نے تو ادھ کھلے پردے کو بھی نہیں چھیڑا مجھے لگتا ہے جیسے تمھارا لمس اب بھی پردے پر موجود ہے اور کھڑکی کے پار طوفان اور بارش کے بعد کے منظر بدلتے جا رہے ہیں لیکن تم وہیں ہو۔۔
میں تو کہیں بھی نہیں۔۔۔وہ اداسی سے بولی

اس رات میری فلائٹ تھی۔۔۔میں تمھیں شاید آخری بار ملنے آئی تھی۔۔۔۔وہ کچھ کہتے کہتے کچھ دیر کے لئیے خاموش ہو گئی۔۔۔ لیکن تب بھی تمھارے پاس کچھ بھی کہنے کو نہ تھا۔۔ اس نے ایک بار اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔تم نے ایک بار بھی مجھے نہیں کہا کہ رک جاؤ۔۔۔۔۔
تم نے کون سا رک جانا تھا۔۔۔۔میں بجھے ہوئے سگریٹ کو ہاتھوں میں مسلتے ہوئے بولا
تم روکتے تو شاید رک ہی جاتی۔۔۔۔وہ آنکھوں کے پپوٹوں کے کونے سے آنسو ٹشو سے پونچھتے ہوئے بولی۔۔۔میں تو وہاں بھی تمھارے سائے کے پیچھے بھاگتی رہی اور یہاں  بھی پہاڑوں کے عقب میں تمھارے عکس کو ڈھونڈتی رہتی ہوں
لاک ڈاؤن میں ساری دنیا بند ہو گئی لیکن وقت بھی بند ہو گیا اور بند ہوتے وقت نے تمھیں پھر میرے قریب کر دیا ہے۔۔اس نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا۔۔۔۔میں شائد تمھاری فراغت کی کوئی مصروفیت ہوں لیکن تم میرے لئیے دنیا کی سب سے اہم کام ہو
پتہ نہیں میں مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔۔

سنو۔۔۔وہ اداسی سے بولی۔۔تم نے کبھی کھڑکی کے پاس کھڑے ہو کر بدلتے منظروں میں مجھے ڈھونڈا ہے۔۔۔تمھیں کبھی ڈوبتے سورج کے ساتھ یا کھڑکی سے جھانکتے چودھویں کے چاند کے ساتھ میری یاد آئی
بہت۔۔۔بہت یاد آئی۔۔۔میری آواز رندھ گئی
پھر۔۔وہ میری آنکھوں میں جھانکتے ہوئے بولی۔۔۔تم نے مجھے پکارا کیوں نہیں
فائدہ۔۔۔۔میں مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بولا
ہر چیز کا فائدہ نقصان نہیں ہوتا وہ زہر خند لہجے میں بولی۔۔تم آخری بار ملتے ہوئے مجھے ایک بار بھی کہتے تو میں نے رک جانا تھا۔۔۔۔تم ایک بار کہو تو سہی کہ تم میرے بغیر نا مکمل ہو تم ایک بار کہو تو سہی کہ تمھیں میری ضرورت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس سے کیا ہو گا۔۔۔۔میں بمشکل بولا
اس نے کوئی جواب نہ دیا۔۔۔ وہ کیمرے کے مزید قریب ہو گئی اس کے ہونٹ پھڑ پھڑا رہے تھے اور آنسو اس کی آنکھوں سے گالوں تک کا سفر کرتے ہوئے واضح نظر آرہے تھے۔۔۔
میں نے کا ل منقطع (disconnect)کر دی اور میں تمھارے بغیر نا مکمل ہوں۔۔۔۔ میں تمھارے بغیر ادھورا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔میں تمھارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا کہتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *