ایک پرانا خط کھولا انجانے میں ۔۔اسماء مغل

کچھ روز سے خاموشی شام و سحر کا احاطہ کیے ہوئے ہے،اور اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگا لو کہ تم سے بھی کچھ کہنے کو لفظ میسر نہ آئے۔تم روبرو رہے،اور میں تمہیں دیکھتی رہی۔اس خاموشی کی وجہ روز بروز بڑھتی حساسیت ہے شاید،ویسے تو ایک چند روز پرانی خبر نے دلگرفتہ کیے رکھا۔۔اعصاب شل ہیں،ذہن و دل پر عجیب سا غبار،یا بوجھ کہہ لو،چھایا ہوا ہے۔۔جو نہ اُترے ہے،نہ کسی سے بانٹا ہی جائے ہے۔۔پانچ ماہ کے پھول کو کسی درندے نے مسل کر موت کے منہ میں دھکیل دیا،یہ انڈیا کا واقعی سہی،لیکن انسانیت کا تعلق سرحدوں سے نہیں ہے،سو دل پارہ پارہ ہوگیا۔۔۔۔میں کسی کو دل کے رونے کا سبب بھی نہ بتا پائی،اور دلچسپی بھی کِسے تھی بھلا جاننے میں۔۔
دراصل لوگوں کے پاس وقت ہی کہاں ہے،کہ وہ آپ کے دُکھڑے سنیں۔۔اور پھر ضرورت بھی کیا ہے کسی کے آگے رونے کی۔۔۔لیکن تمہاری میری بات تو الگ ہے۔۔اصل میں تم ہی الگ ہو۔۔
جانے یقین کرو گے یا نہیں۔۔لیکن یہ حقیقت ہے کہ تمہارا چہرہ ہر پل میری نگاہوں کے سامنے رہتا ہے،ایک مُہر ہے،جو ذہن پر ثبت ہوچکی ہے۔۔

پرسوں رات بہت شدت سے دل چاہا کہ تم سامنے ہوتے،اور کسی ایسی جگہ پر جہاں تمہارے علاؤہ مجھے کوئی نہ جانتا ہو،سب اجنبی۔۔مجھے اجنبی لوگوں کے ساتھ رہنے یا وقت گزارنے میں کوئی اُلجھن نہیں ہوتی،ہاں جان پہچان کے لوگوں میں جلد بیزار ہوجاتی ہوں۔۔
ایک اور بات سنو،(تمہارے لیے شاید عجیب ہو،مجھے اب کچھ بھی عجیب یا انوکھا نہیں لگتا)
اب جب تمہیں دیکھتی ہوں تو میرا دل چاہتا ہے میری انگلیوں میں سگریٹ دبی ہو۔۔
بہت ساری خواہشات میں ،ایک اور خواہش کا اضافہ ہوگیا ہے۔۔

اور تمہیں  میری وہ نظم یاد ہے۔۔

“میں سگریٹ پینا چاہتی ہوں
اکیلے سُلگ سُلگ کر تھک گئی ہوگی،
اُسے دوسراہٹ کا احساس دینا چاہتی ہوں،
لیکن اس سے ذرا پہلے،ختم ہونے سے چند ہی لمحے پیشتر،
وہ لُطف کشید کرنا ہے جو میری خاموشی اور تمہاری آواز کے بیچ حائل ہے!

کسی نے  میری فیس بک وال پر یہ  نظم پڑھ کر ایک ہی فقرے میں معاشرے کا المیہ لکھ ڈالا”کہ،سگریٹ پینے سے مرد کے پھیپھڑے خراب ہوجاتے ہیں اور عورت کا کردار”۔۔۔۔کیا تم بھی یہی سمجھتے ہو؟۔۔

میں نے اب تک زندگی میں جو کام کیے۔۔جن میں سے کچھ ایسے بھی ہیں کہ کسی اچھے مسلمان کو پتہ چلیں تو اُس کی کتاب میں میرے لیے جہنم لازمی ہے۔۔خیر ۔۔۔مجھے پچھتاوا نہیں۔(ہمارے ہاں اچھا مسلمان کسے سمجھا جاتا ہے،یہ تو تمہیں معلوم ہی ہے،پانچ وقت کا نمازی،دبا دبا کر کیے سجدوں سے بنے محراب کے نشان پر متکبر ہوا،اور ہر معاملے میں اسلام کو بلاوجہ بے دردی سے گھسیٹ لانے والا،سچا اور اچھا مسلمان سمجھا جاتا ہے،میں بالکل یہ مانتی ہوں،اسلام کوڈ آف لائف ہے،لیکن اس سچے مذہب کے ساتھ جتنی ناانصافی اس کے پیروکاروں نے کی ہے،شاید ہی کسی اور مذہب کا ماننے والا کوئی کرسکا ہوگا،)کسی  لکھاری  کا قول ہے،مجھے خدا سے نہیں،اُس کے پیروکاروں سے خوف آتا ہے۔

ہمارے گھر میں کسی کے مرنے کی خبر آئے تو امّاں کہتی ہیں،ہماری بھی جانے کب باری آجائے،یہاں ہم ایک مٹی کا ذرّہ لباس پر نہیں پڑنے دیتے،اور وہاں کیڑے مکوڑے ہمیں کھائیں گے۔۔۔
تو میں ہر بار اُن کی بات کے جواب میں بہت وثوق سے کہتی ہوں،کہ نہیں۔۔۔مجھے کوئی کیڑا مکوڑا نہیں کھائے گا،میں ایسے ہی ،جتنا خوبصورت اللہ نے مجھے بنایا ہے،اِس سے بھی زیادہ خوبصورت ہوں گی،جب اُس سے سامنا ہوگا۔۔۔۔وہ تو کریم ہے۔۔۔۔میرا ایک یونی فیلو کہا کرتا تھا,ویسے تو اللہ کے بے شمار نام ہیں،لیکن میں اُسے بس چند ہی ناموں سے جانتا ہوں ،رحمٰن،رحیم،کریم،غفار،
اُس کے لہجے میں جو یقین ہوتا تھا نا،وہ مجھے اندر سے ہلا دیتا تھا،کہتا تھا،جو مرضی کرو۔۔بس ایک بار اُس کے آگے جُھک جانا۔
میں بہرحال یہ نہیں کہتی کہ جو مرضی کرو۔۔۔اور بعد میں معافی مانگ لو،اگرچہ مجھے اس بات کا بھی پورا یقین ہے،کہ وہ ذات اتنی ہی کریم ہے۔

بہت بچپن سے جب شاید مرنے کا مطلب بھی معلوم نہ تھا(ویسے معلوم تو آج بھی نہیں ہے،تم  پر مرنے کے علاوہ)تو میں سوچا کرتی تھی،کہ میں اپنا کفن پہلے ہی خود ہی خرید کر رکھوں گی،تاکہ بعد میں کسی کو پریشانی نہ ہو  ۔

ذہن کا کچھ نہیں جاتا،خیالوں کی باگ کس سمت موڑ دے ،اُس کی مرضی۔۔۔۔ایسے ہی جیسے آپ کی مرضی ہوتی ہے،اور میں اُسی سمت چل پڑتی ہوں!

مجھے دن بھر کام کے علاؤہ کوئی اور خاص مصروفیت نہیں ہوتی،سوائے تمہیں سوچنے کے۔۔باقی معاملات میں عجیب غائب دماغی غالب ہے ان دِنوں،
اس بات سے اندازہ لگاؤ۔۔کہ کل رات جب پڑھنے کے لیے کتاب اٹھائی،تو دل چاہا پہلے تمہیں دیکھ لوں۔۔
بس پھر کیا تھا،وقت کو پنکھ لگے۔۔۔کتاب سینے پر اوندھی پڑی رہ گئی۔۔۔اور تمہاری ہر تصویر کو یوں بغور دیکھا ،جیسے پہلی بار دیکھا ہو۔۔
عجب دیوانگی طاری ہے!
تمہیں معلوم ہے یہ سب کیوں ہے؟

ایک مہربانی کرو۔۔۔مجھے بھی بتا دو!

ہجر سے فرصت نہیں،وصل کی مہلت نہیں۔۔۔
زندگی تمہارے گِردا گِرد سُرخ چُنری اوڑھے، گلے میں کنٹھ مالا پہنے، دُھونی رما کر بیٹھ گئی ہے۔۔اور ہاں ۔۔پُشت پر رکھی مُٹھی میں سندور سے بھری چاندی کی نفیس ڈبیا بند ہے۔۔
اصل میں یہ سندور نہیں،کچھ خوابوں کی باقیات ہیں۔۔۔جن کا مانگ میں سجنا،مُجھ سی داسی کے نصیب میں نہیں۔۔۔ہاں، تم سا تانترک گر چاہے تو۔۔۔۔

عاشقی صبر طلب،اور تمنا بے تاب
دل کا کیا رنگ کروں،خونِ جگر ہونے تک(جالب)

ایک بات کہوں۔۔۔۔مجھے بھولنا مت،اور گر کبھی بھول بھی جاؤ تو ایک بات یاد رکھنا،کہ اسما آئی تھی  تمہارے در پر  کاسہ ء سوال دراز کیے۔

اور تم  نے بے نیازی دکھائی تھی!

اور کبھی میری قسمت یاوری کرے،اور تمہارے قدم میری جانب بڑھیں تو پھر آتے ہوئے میرے بالوں میں سجانے کے لیے سرخُ گلاب کی ایک بند کلی لیتے آنا!

اسما مغل
اسما مغل
خیالوں کے سمندر سے چُن کر نکالے گئے یہ کچھ الفاظ ہی میرا تعارف ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *