• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ہری ونش رائے بچن : جدید ہندی شاعری کا ایک بڑا نام اور ” مدھو شالہ” کے خالق۔۔۔۔۔۔۔ احمد سہیل

ہری ونش رائے بچن : جدید ہندی شاعری کا ایک بڑا نام اور ” مدھو شالہ” کے خالق۔۔۔۔۔۔۔ احمد سہیل

ہندی کے ممتاز شاعر اور بالی وڈ کے اداکار امیتابھ بچن کے والد  ہیں’ ہری ونش رائے بچن (۱۹۰۷-۲۰۰۳) کو ہندی زبان کا اہم شاعر تسلیم کیا جاتا ہے۔اترپردیش میں الہ آباد کے محلے” چک” کے ایک مکان میں پیدا ہوئے اب یہ مکان موجود نہیں ہے اب اس علاقے سے ” زیرو روڈ” گذر رہی ہے۔ {کچھ کا کہنا ہے وہ پرتاب گڑھ میں پیدا ہوئے؟؟} 1926 میں ان کا خاندان محلہ چک سے ” مٹھی گنج” منتقل ہوگیا۔ ان کے والد پائنز پریس میں ملازم تھے۔ ۔ اعلیٰ تعلیم الہ آباد یونیورسٹی اور بنارس ہندو یونیورسٹی سے حاصل کی۔ بچّن جی1940  میں کیمبرج یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کرنے والے پہلے ہندوستانی تھے۔ انھوں  نے آئرلینڈ کے قوم پرست شاعر ایٹس {W.B.Yeats} کی شاعری اور فکری جہات پر اپنا مقالہ لکھا تھا۔ ایک دفعہ مشہور فلسطینی / امریکی نقاد اور مزاحمت کار ایڈورڈ سعید بتارہے تھا کہ انھوں نے مسٹر بچن کا یہ مقالہ پڑھا ہے۔ جس سے میں نے اپنی ڈاکٹریٹ کی سند کے لیے مواد حاصل کیا۔ بلکہ میری بعد کے بہت سے مقالوں میں بھی یہ دیتا دکھائی دیتا ہے ۔ ایڈورڈ سعید بچن جی کے اس مقالے سے خاصے متاثر تھے۔

تشنہ بریلوی مرحوم نے لکھا ہے “ایک دن جوش صاحب اپنے آفس میں دوستوں کے درمیان بیٹھے تھے کہ رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری ہری ونش رائے بچّن کو لے کر وارد ہوئے ۔ دروازے پر رک کر فراق صاحب نے ہر چہرے کا جائزہ لیا اور پھر بولے ۔
’’دیکھ ہری ونش غور سے دیکھ۔ یہاں گیارہ لوگ کمرے میں ہیں جو سب اردو کے مشہور شاعر اورادیب ہیں ۔ ان میں دس لوگ ہندو یا سکھ ہیں اور صرف ایک مسلمان۔‘‘
’’اور وہ بھی کیا مسلمان ‘‘ کنور مہندر سنگھ بیدی سحر نے فقرا جڑا ۔اس وقت جوش صاحب کی محفل میں یہ حضرات موجود تھے ۔ مہندر سنگھ بیدی ۔ جگن ناتھ آزاد ‘پنڈت ہری چند اختر،گوپال متل ، فکر تونسوی ، عرش ملسیانی ،گلزار دہلوی، نریش کمار شاد ‘ پرکاش پنڈت اور راجندر ناتھ شیدا۔
ہری ونش رائے نے مسکرا کر کہا ’’ میں بھی تو اردو کا دشمن نہیں ہوں ۔ میری تعلیم اردو سے شروع ہوئی تھی میں نے تو عمر خیام کی رباعیات کا انووادن بھی کیا ہے ۔۔۔دیو ناگری رسم الخط ( لیپی) سے آپ مطمئن نہیں تھے ۔ آپ نے ’’ لیپی سدھار‘‘ کے لیے بہت سی تجاویز پیش کیں لیکن قدامت پرستوں نے ان کو رد کردیا اس لیے ہندی ’’ کی بورڈ‘‘ اب بھی بہت مشکل ہے چار جلدوں میں بچّن جی نے آپ بیتی لکھی جس پر انھیں دس لاکھ روپے انعام ملا جو بڑی رقم تھی۔

جب اندرکمار گجرال ماسکو میں ہندوستان کے سفیر تھے تو فیض صاحب بھی وہاں گئے ۔ فیض صاحب اندرکمار گجرال کے استاد بھی رہ چکے تھے ۔اتفاق کی بات کہ ہری ونش رائے بچّن بھی ماسکو میں تھے ۔گجرال صاحب نے بچّن جی کا تعارف یہ کہہ کر کیا ’’فیض ان سے ملیے یہ ہیں ہندی کے فیض احمد فیض۔‘‘ دونوں ایک دوسرے سے مل کر بہت خوش ہوئے ۔ جب ووڈکا اور کونیاک کے جام چلے تو بچّن جی پیچھے ہٹ گئے۔
فیض صاحب نے کہا ’’ بچن جی آپ تو مدھو شالا ( میخانہ) لیے پھرتے ہیں پھر یہ گریز؟‘‘
’’ بات یہ ہے ۔‘‘ بچن جی ہنس کر بولے ’’ میں خیام کی رباعیوں کے جام پی چکا ہوں ۔ اب اورکیا پیوں گا ۔‘‘

بچّن جی نے ستّر سے زیادہ کتابیں لکھیں ان میں دو درجن شاعری کے مجموعے ہیں۔ چار جلدوں میں آپ بیتی لکھی ۔ شیکسپیئر کے کئی ڈرامے ہندی میں ڈھالے ۔دیگر علمی و ادبی موضوعات پر بہت کچھ لکھا جن میں جواہر لال نہرو کی بائیوگرافی بھی شامل ہے ان کی مشہور ترین کتاب ’’مدھو شالا‘‘ رباعیوں کا مجموعہ ہے جو بہت مقبول ہوا ۔ اس طرح آپ ہندی کے عمر خیام بھی ہیں۔آپ نے آخری نظم اندراگاندھی کے قتل پر لکھی۔آپ کی ’’شرابی‘‘ شاعری پر لوگوں نے اعتراض کیا تو گاندھی جی نے کہا کہ شاعری میں سب چلتا ہے”۔۔۔ ہندی کے شاعر اور فلمی گیت نگار نیرج ان کے جگری دوست تھے۔ اور فلمی دنیا سے بچن صاحب نے ہی انھیں متعارف کرایا تھا۔

ایک زمانے میں جب اردو کے ممتاز شاعر فراق کورکھ پوری الہ آباد یونیورسٹی کے انگریزی کے شعبے کے سربراہ تھے، بچّن جی اسی شعبے میں انگریزی ادب کے پروفیسر رہے۔ اس زمانے میں ڈاکٹر دیو بھی اس شعبے سے منسلک تھے۔ اس زمانے میں ہر دنش بچن جے انھوں نے شیکسپیئر کے المیہ ڈراموں کا ہندی میں ترجمہ کیا تھا۔ ہندی شاعری میں ان کی طویل نظم ’مدھوشالہ‘ بہت مقبول ہے۔
1967  میں میں ہری ونش بچّن کو ہندی زبان کی ترویج و ترقی کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں بھارتی پارلیمان کے ایوانِ بالا کے لیے نامزد کئے گے۔۔
ہری ونش بچن کی آواز بہت اچھی تھی اور اس کو کویتائیں  پڑھنےکا سلیقہ آتا تھا۔ ان کا خیال تھا شاعری انھیں تنہائی کا شکار نہیں ہونے دیتی۔ مراد آباد کے ایک ہوٹل میں نہاتے ہوئے ان کے منہ سے یہ مصرعہ برآمد ہوا۔۔۔۔
۔۔۔”درونٹر کمل کلیوں کی پالی، پھولوں کا پیلا ” ۔۔۔۔
یہ مصرعہ ان کی مشہور نظم ” مدھو شالہ” کا حرف اول ثابت ہوئی اور یہ نظم ایک ایسی صورت میں خلق ہوئی جس میں  ہندی کی مروجہ بحروں اور دھنوں سے با لکل جد اگانہ طرز اظہار تخلیق ہوا۔ اس میں  عمر خیام کی رباعیات کی شعری فضا اور اس کے علامتی شعری نظام کا گہرا اثر ہے۔

ان کی کتاب مدھوشالہ ہندی شاعری کی سب سے زیادہ پڑھے جانے  والی کتاب مانی جاتی ہے۔ ہری ونش رائے کا تعلق کایستھ ذات سے تھا، اور کایستھ ہندوؤں میں پچھلی صدی کے ابتدائی دور تک بچوں کو اردو اور فارسی سکھانے کی روایت رہی ہے۔ لہذا ہری ونش صاحب نے بھی اپنے بچپن میں اردو اور فارسی کی تعلیم حاصل کی تھی۔ ہری ونش بچن کا کہنا تھا ” اردو کو ان کی والدہ نے ان سے روشناس کروایا۔ جب  ان کے گھر میں  ان کی با قاعدہ تعلیم شروع ہوئی تو اس تقریب میں ایک پرہت جی نے تختی پر” اوم گنیزیشائے نمو” لکھوایا اور ایک مولوی صاحب نے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم بھی لکھوایا۔ اور دیگر لوگوں کی طرح انہیں بھی عمر خیام کی رباعیات نے بہت متاثر کیا تھا۔ چنانچہ انہوں نے اس کی رباعیات کا ہندی میں ترجمہ بھی کیا، لیکن اس ترجمے کو زیادہ پذیرائی نہیں ملی۔ کچھ ہی عرصے بعد انہوں نے رباعیات کے ہی رنگ میں مدھوشالہ لکھی، جسے خواص و عوام نے خوب پسند کیا۔ میں نے ہری وشن رائے بچن کا ان کے ہاتھ سے اردو میں لکھا ہوا ایک پوسٹ کارڈ دیکھا ہے۔ جو انہوں  نے لاہور میں اپنے ایک دوست کو لکھا تھا  ۔ ان کے کچھ ناقدیں ان کو اوسط درجے کا شاعر کہتے ہیں ۔ جب میں ان کی شاعری کا تقابل اردو شعرا کے ساتھ کرتا تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ اردو کے عبد الحمید عدم ہیں۔

ان کی تخلیق مدھوشالہ (۱۹۳۵) چار چار مصرعوں کے ۱۳۴ بندوں پر مشتمل ایک طویل نظم ہے جس میں انہوں نے عمر خیام کا اتباع کرتے ہوئے رندانہ زبان میں زندگی کے حقائق اور اپنا فلسفہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ یہ عرض کرتا چلوں کہ چونکہ میں فارسی زبان و ادب اور عجمیت کا ڈسا ہوا ہوں، اس لیے میں اسے وہ ادبی درجہ تو نہیں دیتا جس سے یہ بھارت میں متصف ہے۔ لیکن اس کے باوجود یہ تخلیق ہندی زبان کی ایک نمائندہ تخلیق ہے جس کا مطالعہ جدید ہندی میں دلچسپی رکھنے والے ہر شخص کے لیے اہم ہے۔ ہری ونش بچن نے نے عمر خیام کی رباعیات کا انگریزی سے ہندی میں ترجمہ بھی کیا ہے۔ انھیں فارسی اور اردو بھی آتی تھی اس لیے انحیں ترجمی کرنے میں کسی قسم کی دقت محسوس نہیں ہوئی۔ اس کو ہندی میں عمر خیام کی رباعیات کا بہتریں ترجمہ کہا جاتا ہے۔

ہری ونش رائے بچن نے یش چوپڑہ کی فلم ” سلسلہ” {۱۹۸۱} میں ایک گیت لکھا تھا۔۔ جس کے بول یہ تھے۔ ” رنگ برسے بھیگے چنروالی۔۔۔ رنگ برسے” ۔۔۔۔ جو بہت مقبول ہوا تھا۔ یہ گانا ان کے صاحب زادے امیتابھ بچن پر فلم بند ہوا تھا۔
ان کا کہنا تھا “میں اس دھاگے میں نظم کے ہر بند کا نستعلیق میں متن مع ہندی الفاظ کی فرہنگ کے ساتھ ٹائپ کرتا جاؤں گا۔ امید ہے کہ ہندی زبان و ادب میں دلچسپی رکھنے والے حضرات اس سے لطف اندوز ہوں گے اور انہیں میری یہ کاوش پسند آئے گی۔ ”

” مدھو شالہ” کے  چند اشعار دیکھیں۔:
۔۔۔۔ چلنے ہی چلنے میں کتنا جیوں ہائے بتا دیا
دور ابھی ہے پر کہتا ہے پتھ تبلانے والا
سب سے بڑھوں  آگے کو ساہسن ہے نہ پھروں  پیچھے
کنکر تو { بے حسی، گرمگو، مہبوت}یہ موڈھ مجھ سے دور کھڑی ہے مدھو شالہ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہری ونش رائے بچن نے قومی شاعری کیا اور آزادی کی تحریک میں بھی فعال رہے۔ انھوں نے اپنی شاعری میں غلامی کی زنجیروں کو توڑنے کیے لیے ہندوستان عوام کو یہ پیغام دیا:
اہے ، ۔۔۔۔۔ نہیں پھڑپراتا جھندا وایوویگ سے
چنچل ہوا ہمیں بلاتی ہے، ماں بھارت
ہلا ۔۔۔۔۔ ہلا کے آنچل کو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ان کی ایک نظم ملاخطہ کریں:
میں یادوں کا
قصہ کھولوں تو،
کچھ دوست بہت
یاد آتے ہیں۔ ۔ ۔گزرے پل کو سوچوں
تو، کچھ دوست
بہت یاد آتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
جانے کون سی نگری میں،
آباد ہیں جا کر مدت سے۔ ۔ ۔ ۔
دیر رات تک جاگوں تو،
کچھ دوست
بہت یاد آتے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
باتیں تھیں پھولوں جیسی،
لہجے خوشبو جیسے تھے،
صحنِ چمن میں ٹہلوں تو،
کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں۔
زندگی بدل گئی،
نئے سرے میں ڈھل گئی،
کو نوکری سے فرصت نہیں۔ ۔ ۔
مجھ  کو دوستوں کی ضرورت نہیں۔ ۔ ۔ ۔
یار گم ہو گئے ہیں۔ ۔ ۔
“تو” سے “تم” اور “آپ” ہو گئے ہیں۔ ۔ ۔ ۔
گزرے پل کو سوچوں
تو، کچھ دوست بہت یاد آتے ہیں۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ دھیرے عمر کٹ جاتی ہے۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ یادوں کی پستک بن جاتی ہے،
۔ ۔ ۔ کسی کی یاد بہت تڑپاتی ہے۔ ۔ ۔
اور کبھی یادوں کے سہارے زندگی کٹ جاتی ہے۔ ۔ ۔
کناروں پہ ساگر کے خزانے نہیں آتے،
جیون میں دوست پرانے نہیں آتے۔ ۔ ۔
جی لو ان پَلوں کو ہنس کے دوست!
پھر لوٹ کے دوستی کے زمانے نہیں آتے۔ ۔ ۔ ۔ {“بہت یاد آتے ہیں “۔۔۔ ہری ونش رائے بچن}
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہری ونش رائے بچن کی تصانیف کی فہرست کچھ یوں بنتی ہے۔
شاعری مجموعے
تیرا ہار (1929}
مدھوشالا (1935)،
مدھوبالا (1936)،
مدھوکلش (1937)،
نشا نمنترن (1938)،
ایکانت سنگیت (1939)،
آکل انتر (1943)،
سترنگنی (1945)،
ہلاہل (1946)،
بنگال کا کاوی (1946)،
کھادی کے پھول (1948)،
سوت کی مالا (1948)،
ملن یامنی (1950)،
پرنی پترکا (1955)،
دھار کے ادھر ادھر (1957)،
آرتی اور انگارے (1958)،
بدھ اور ناچگھر (1958)،
تربھنگما (1961)،
چار خیمے چونسٹھ کھونٹے (1962)،
دو چٹانیں (1965)،
بہت دن بیتے (1967)،
کٹتی پرتماؤں کی آواز (1968)،
ابھرتے پرتمانوں کے روپ (1969)،
جال سمیٹا (1973)
آپ بیتی
کیا بھولوں کیا یاد کروں (1969)،
نیڑ کا نرمان پھر (1970)،
بسیرے سے دور (1977)،
بچن رچناولی کے نوں کھنڈ (1983)،
دشدوار سے سوپان تک {1985 }

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *