پنجاب کے ڈاکو کے نام ایک پیغام۔۔۔رمشا تبسم

ڈئیر پنجاب کے ڈاکو  پرویز الہی !
ہماری تربیت کی گئی  تھی کے بڑوں,چھوٹوں کو عزت سے مخاطب کرنا ہے مگر پاکستان کے واحد صادق اور امین, آکسفورڈ سے تعلیم یافتہ اور سب سے بڑھ کر بانوے کا ورلڈ کپ جیتنے والے معتبر وزیراعظم صاحب نے آپ کو پندرہ, سولہ سال ہر گلی,ہر کوچے میں پنجاب کے ڈاکو کہا اس لئے اب مجھے بھی صرف یہی یاد ہے کہ  آپ پنجاب کے ڈاکو ہیں۔عمران خان کے دل میں آپ کے لئے محبت جاگے صرف دس مہینے ہوئے ہیں اور چونکہ ہمارا کپتان آئے دن بات سے بدل جاتا ہے اس لئے ابھی ہمارے لئے آپ پنجاب کے ڈاکو ہی ہیں کیونکہ ہمارا کپتان کبھی بھی ضرورت کے تحت محبت کو نفرت اور نفرت کو محبت میں تبدیل کر لیتا ہے۔

چلیے! اب پیغام کی بات کرتے ہیں۔ گزشتہ دنوں آپ کا ایک بیان سننے کو ملا آپ کہہ رہے تھے “پنجاب میں مفت تعلیم کا نعرہ آپ کا تھا۔پنجاب میں بہترین تعلیمی نظام آپ نے نافذ کیا۔پنجاب کو معیاری سکول اور معیاری تعلیم آپ نے دی۔اور شہباز شریف نے آپ کے بہترین تعلیمی نظام کو تباہ کر دیا اور جو آپ نے اتنی محنت کی تھی وہ شہباز شریف نے برباد کر دی  ”
یہ بیان سن کر مجھے سمجھ نہیں آئی کہ  آپ کی معصومیت پر قہقہہ لگاؤں یا آپ کی چالاکی پر آنسو بہاؤں۔

ڈئیر پنجاب کے ڈاکو پرویز الہی صاحب, جس وقت آپ صرف اقتدار کے لالچ میں ایک ڈکٹیٹر کے قدموں میں بیٹھے ہوئے تھے۔اس وقت ملک تباہ حالی کا شکار تھا,عوام روزانہ دہشت گردی میں مر رہی تھی, غربت عروج پر تھی, ملک اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا,کاروبار ختم ہو چکے تھے اس وقت آپ  آخری دم تک ڈکٹیٹر   کے نا صرف ساتھ رہے بلکہ اتنی تباہ حالی کے باوجود بھی اس ڈکٹیٹر کو 2008 میں جتوانے کے لئے الیکشن کے دن پولنگ اسٹیشن پر بہترین لنگر کا انتظام کر کے بیٹھے ہوئے تھے۔

غربت عروج پر تھی لہذا لوگ اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوا سکتے تھے  آپ نے جب مفت تعلیم کا نعرہ لگایا تو پرائیویٹ سکول  کی سہیلیوں کے والدین نے انہیں گورنمنٹ سکول داخل کروا دیا۔اس وقت سہیلیوں سے جدائی برداشت نہیں ہو رہی تھی لہذا راقم نے  اپنے پرائیویٹ سکول کو چھوڑنے کافیصلہ کیا اور والدین سے ضد کی۔لہذا صبح سویرے والدہ کے ساتھ ایک کاپی لے کو سکول پہنچی تاکہ ٹیسٹ دے کر داخلہ لے سکوں۔

محترم پنجاب کے ڈاکو صاحب, سکول میں ٹیسٹ نام کی کوئی تعلیمی حرکت موجود نہیں تھی۔سکول کی محترمہ پرنسپل صاحبہ نے  انتہائی  ادب سے گزارش کی کہ  “ہمارے پاس عمارت ہے ہم چاہتے ہیں زیادہ سے  زیادہ بچے سکول میں پڑھ سکیں مگر ہمیں کوئی فنڈ ز  نہیں ملتے نا ہی حکومت کی توجہ ہے لہذا آپ سے عرض ہے  سکول کی عمارت کی تعمیر میں حصہ ڈالیں کچھ اینٹیں یا سیمنٹ کی بوریاں لیں دیں”
لہذا پرنسپل نے داخلے کے لئے آنے والے ہر بچے کے والدین سے یہی گزارش کی۔

یہ بات سن کر میرے معصوم والدین نے اس کونیکی سمجھا کہ   اس طرح سے سکول کی تعمیر میں حصہ ڈالنا بہت بڑی نیکی ہے لہذا دو بوری سیمنٹ  کی  بجائے چار بوری سیمنٹ دیا گیا۔
اور اﷲاﷲ  کر کے میں سکول داخل ہو گئی ۔سکول کا پہلا دن  تھا۔کلاس میں تقریباً    ٹوٹے ہوئے لوہے کے ڈیسک تھے۔ہر ڈیسک پر  پانچ بچوں کو  زبردستی بٹھایا جاتا  اور اس طرح کلاس میں کوئی سو کے قریب بچے بھیڑ بکریوں کی طرح بند کر دیئے گئے اور پنکھے جیسی  صرف ایک ہی چیز موجود تھی وہ بھی صرف ہلکا ہلکا حرکت کر کے بتا رہا تھا کہ  میں نشے میں ہوں۔پھر اس نشئی پنکھے کو دیکھتے دیکھتے آنکھیں پتھرا گئیں  ,گردن اکڑ گئی  ,مگر استانی صاحبہ کا کوئی علم نہیں کہ  کہاں ہیں۔آخر دو گھنٹے بعد استانی صاحبہ آئیں  میں نے کاپی سیدھی کی  کہ  اب انشا اللہ میں پڑھوں گی۔اتنی دیر میں پنکھے کا نشہ ٹوٹ گیا, بجلی غائب ہو گئی ,لہذا استانی نے حاضری کا رجسٹرڈ بند کیا اور بجلی کی غیر حاضری ہوتے ہی وہ خود بھی غیر حاضر ہو گئیں جاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ  اب آدھے گھنٹے بعد بریک ہے لہذا جو نان ٹکی وہ لائیں ہیں سارے بچے اسے خریدیں اور دوسری  ٹیچر سے کوئی چیز نہیں لے گا ۔معاف کیجئے گا, ٹیچر نہیں “استانی” ہوتا ہے یہ بھی اسی سکول میں بتایا گیا تھا کے استانی کہتے ہیں ٹیچر کہنا استانی کی توہین ہے لہذا ایک بار ٹیچر جی کہنے پر کلاس سے دو گھنٹے باہر کھڑا کر دیا گیا۔

مگر کہتے ہیں انسان مشاہدے سے سیکھتا ہے۔کلاس کے باہر کھڑے کھڑے اس دن بہت کچھ دیکھا اور سیکھا۔سامنے موجود میڈم کا کمرہ جس کے آگے  سے گزرنے پر ایک طالبہ کو نہ صرف تھپڑ پڑے بلکہ اسکو وہاں ہاتھ اوپر کر کے کافی دیر کھڑا کردیا گیا۔لہذا وہ راستے کو اسی دن سے دل و دماغ میں سے نکال دیا تھا اور طے کر لیا تھا  کہ  مرتے مر حائیں گے مگر بھول کر بھی اس راستے نہ آئیں گے۔پھر  سٹاف روم میں بیٹھی استانیوں کی سبزیاں, سلائی کڑھائی   بھی دیکھی۔جو پورا دن وہاں بیٹھ کر پڑھانے کی بجائے اپنی گھر داری کے کاموں میں مصروف رہتی اور کوئی پوچھنے والا نہیں تھا۔.
راقم کو گورنمنٹ  سکول کی پہلی پیاس بھی یاد ہے۔جب استانی صاحبہ سے کہا تھا مجھے پانی پینا ہے تو انہوں نے ہنس کر کہا کہ  یہاں پانی نہیں ہوتا گھر سے لایا کرو۔پھر جتنا وقت وہاں  گزرابھاری بستے کے ساتھ  تین لیٹر پانی بھی اٹھا کر لے جانا پڑتا تھا۔ اور سب سے  زیادہ ڈاکو سکول میں پانی پر حملہ آور ہوتے تھے۔

راقم کو یاد ہے صبح آٹھ بجے سے دوپہر ایک بجے تک کلاس میں کوئی استانی نہیں آتی تھی صرف مانیٹر بچوں اور استانی کے درمیان پیغام پہنچاتی تھی۔ اس وقت جب صبح سے مرغیوں کی طرح کلاس نما پنجرے میں بند بچے کوئی ایک آدھی بات اونچی آواز میں کر لیتے تو استانی صاحبہ کی آمد ہوتی تھی ۔جو آ کر سب کو گراؤنڈ میں کھڑا کردیا کرتیں تھیں۔
سکول میں واش روم,باتھ روم اور پینے یا ہاتھ دھونے کے پانی کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ استانی صاحبہ اور میڈم صاحبہ کے سٹاف روم میں البتہ پینے کے پانی کا کولر اور ہاتھ دھونے کے نلکے تھے۔جہاں اگر بچے چلے جاتے تو منہ پر تھپڑوں کی بارش لازم تھی۔

ہاں! وہ سیمنٹ کی بوریاں, اینٹیں اور جو پیسے بچوں کے والدین نے دیئے ان سے میڈم نے دو کمرے بنوا لئے تھے ایک سائنس لیب اور ایک کلاس روم۔سائنس لیب میں فرنیچر اور تجربات کی چیزیں  نہ ہونے کی وجہ  سے اس کو بھی کلاس روم بنا دیا گیا۔ لہذا وہاں کبھی نہ مینڈک کا آپریشن ہوا نہ ہی کوئی گیس ایجاد ہوئی البتہ آپ کی حکومت کے کئے ہوئے دعووں سے  نکلتی ہوئی ہوا صاف نظر آتی رہی۔  اکثر کلاس روم میں بیٹھنے کے  لئے بچے ٹاٹ گھر سے لاتے تھے۔
باہر گراؤنڈ میں دیواریں تھی ۔جہاں شائد کمرے بنوانے تھے۔وہاں  نہ سامنے کی دیوار تھی نہ پیچھے کی صرف ایک لائن میں کچھ فاصلے پر  دیواریں موجود تھی جن پر لوہے کی باریک چادریں ڈال کر چھت بنائی ہوئی  تھی۔سخت گرمی میں سورج کی تپش سے جب وہ چادریں گرم ہوتی تو نرسری, پریپ کے بچوں کو وہاں بے ہوش ہوتے اور تڑپتا ہوا راقم نے خود دیکھا ہے۔کیونکہ گرمی تھی لہذا استانی صاحبہ تشریف نہیں لاتی تھی وہ سٹاف روم میں کام منگوا کر چیک کرتیں تھیں۔

ڈیئر پنجاب کے ڈاکو انکل راقم نے کچھ عرصہ بعد ہی سکول سے توبہ کر لی۔اور طے کر لیا کہ  اب کوئی پرائیویٹ سکول داخلہ دے یا نہ دے راقم ان پڑھ  رہنا پسند کرے گی مگر گورنمنٹ سکول میں نہیں پڑھے گی۔
وقت گزرا آپ کی لاکھ کوششوں اور سازشوں کے باوجود  محترم نواز شریف اور مرحومہ بے نظیر  ملک واپس آئے اور آپ کی بھرپور جدو جہد  جو ڈکٹیٹر کو جتوانے کے لئے تھی اس کے باوجود  عوام نے  آپ کو مسترد کیااور پنجاب میں میاں محمد شہباز  شریف کو موقع دیا۔ جس نے نعرہ تو شاید  کوئی نہیں لگایا البتہ سکولوں کو بہتر کرنے  کی کوشش شروع کردی۔مفت کتابیں اور معیاری تعلیم کا آغاز  کیا۔راقم کو یاد ہے آپ  اور آپ کو ڈاکو کا خطاب دینے والے عمران خان نے اس اقدام کی مخالفت کی تھی اور کرپشن کے الزامات لگانے شروع کر دیئے تاکہ تعلیمی نظام کو نقصان پہنچا سکیں مگر اتنی سخت مخالفت کے باوجود بھی پنجاب کا تعلیمی نظام بہتر ہوتا گیا۔

راقم اُس وقت تک خود ایک استانی بن چکی تھی۔جس نے گورنمنٹ سکول کے بچوں کو  ٹیوشن پڑھانا شروع کیا۔  حیرانگی کی انتہا تھی کہ  ہر بچے کو نصاب مفت اور وقت پر ملتا تھا۔ کاپیاں اور کتابیں بچے سنبھال کر رکھتے تھے۔کلاس ورک اور ہوم ورک کا معیار بھی اچھا تھا۔امتحانات کا نظام بہتر تھا۔سکولوں کی عمارتیں بہترین ہو چکی تھیں۔اس وقت آنکھوں  میں آنسو آ گئے جب ایک طالبہ نفیسہ نے چیلنج کیا کہ  آپی آپ کبھی سکول آئیں آپ بھول جائیں گی کہ  پرائیویٹ سکول بھی کوئی چیز ہے۔نفیسہ کا کہنا تھا کہ  ہمیں گورنمنٹ سکول داخل کروایا گیا چار بہنوں کو کیونکہ والدین کے پاس پیسے نہیں تھے مگر اب مجھے فخر ہے کہ  انہوں نے صحیح فیصلہ کیا۔ کیونکہ پرائیویٹ سکول سے ز یادہ بہترین سکول ہمارا ہے. گورنمنٹ سکول  ہے,پڑھے لکھے استاد ہیں,ماحول اچھا ہے اور پرائمری اور مڈل کے امتحانات سے پہلے  تیاری کے لئے گورنمنٹ ہمیں ماڈل پیپرز  بھیجتی ہے جو کہ   بازار سے  تین سو کے ملتے ہیں اور ہمیں مفت ملتے ہیں۔اور مہینے میں ایک یا دو بار مختلف ٹیمیں آ کر  چیک کرتیں ہیں ٹیچرز کلاس میں نہ ہو یا کلاس میں گندگی ہو, بچوں کی کاپیاں گندی ہو ں یا کاپیوں پر تاریخ موجود نہ ہو, کام چیک نہ ہوا ہو ,تو ٹیچرز کو ڈانٹ پڑتی ہے۔ غریب بچوں کے لئے وظائف کا سلسلہ شروع کیا۔  لیپ ٹاپ  اسکیم بھی شروع کی گئی ۔جو کبھی لیپ ٹاپ نہیں خرید سکتے تھے ان کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ دیئے گئے۔سکولوں میں اعلی کارکردگی پر بچوں کو سولر پینل دیئے۔گورنمنٹ سکولوں کے بچوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے سکولوں کے درمیان مختلف مقابلوں کا انعقاد کیا گیا۔

ڈئیر پنجاب کے ڈاکو اور آپ کو ڈاکو کہنے والے  عمران خان صاحب ،اگر آپ لوگوں میں بہتر کام کرنے کی صلاحیت نہیں یا آپ نے کبھی کوئی کام ملک کے مفاد میں نہیں کیا تو عرض ہے اس ملک کو اپنا گھر سمجھتے ہوئے اس کو کم سے کم نقصان نہ پہنچائیں۔ کوشش کریں جس نے جو اچھا کام کیا ہے یا بنیاد رکھی ہے اسکو  مزید بہتر کریں اور اگر بہتر نہیں کر سکتے تو کم سے کم جیسے ہے ویسے ہی رہنے دیں اسے  مزید تباہ نہ کریں۔ تختیاں اتار کر اپنے نام کی تختی لگا کر صرف آپ کو سکون حاصل ہو گا جبکہ عوام ہر طرح سے آگاہی رکھتی ہے۔ اور جانتی ہے کون ملک کے حق میں بہتر تھا  اور کون ملک کو اب تباہ کر رہا ہے۔

عوام کو مشرف دور کی تباہ حالی بھی یاد ہے اور گزشتہ دور کی خوشحالی بھی۔لہذا جھوٹے دعوے اور نعرے  موجودہ حکومت کی نا اہلی نہیں چھپا سکتے ۔ اس لئے پنجاب کے ڈاکو انکل  راقم کے خاندان کے تمام بچے  گورنمنٹ سکولوں میں پڑھتے ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں۔ اس لئے راقم بہترین تعلیمی نظام کے لئےمیاں محمد شہباز  شریف کی شکر گزار ہے۔
آپ کے لئے بہت سی دعائیں پنجاب کے ڈاکو انکل اور امید ہے اب اگر عمران خان آنے والے پندرہ سال نہ  سہی صرف دو تین سال ہی آپ سے محبت نبھا دیں گے تو راقم سمیت تمام لوگ ڈاکو لفظ بھول جائیں گے۔
شکریہ
آپ کے دور کی تباہ حالی کا    شکار معصوم،
رمشا تبسم!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پنجاب کے ڈاکو کے نام ایک پیغام۔۔۔رمشا تبسم

  1. بسم اللہ الرحمن الرحیم
    اسلام علیکم!
    آپ کی تحریر نے مجھے میرا تعلیمی دور یاد کروا دیا ۔۔۔۔ سچ ہے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول ۔۔۔وہ جگہ جہاں اپنی زندگی کے 8 سال گزارے ۔۔۔کے جی سے آٹھویں تک اک صبر آزما ۔۔۔ تعلیمی دور ۔۔۔ پانی کی قلت ، استانی کی عدم دستیابی، ۔،۔۔۔ کلاس میں سوئی ہوئی استانی کی ٹانگیں دبانا ۔۔۔ پرنسپل کے آنے سے پہلے استانی جی کی اون سلائیوں کی تیز رفتاری ٹک ٹکی باندھ کر دیکھنا ۔۔۔ غرض وہ کہتے ہیں نا کہ۔۔۔۔ کہاں تک سنو گے کہاں تک سنا وں۔۔ ہزاروں ہی شکوے ہیں کیا کیا بتاوں۔۔۔ رمشا جی! آپ کی تحریر نے ماضی کی سیر کروا دی ۔۔۔ منتخب الفاظ میں آپ نے سکول کا جو نقشہ کھینچا ہے ۔۔۔ واقعی تعلیمی تباہ حالی کا یہی عالم تھا ۔۔۔ تحریر یقینا کڑواہٹ سے بھری ہے مگر سچ ہے ۔۔۔ آپ نے نہایت عمدگی سے اپنی تحریر کے ذریعے وہ آئینہ سامنے رکھا ہے جس میں سچائی دھڑلے سے ان کی مسخ شدہ تصویر دیکھا رہی ہے ۔۔۔
    رمشاجی! اللہ آپ کا اور ہم سب کا حامی وناصر رہے آمین

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *