انتظار کی نمی۔۔رابعہ احسن

اے سی اور بند کمروں سے دل گھبرانے لگا تو ڈھلتی شام میں کھڑکی کو پورا کھول کے پاس پڑے صوفے پہ بیٹھ کر باہر شور مچاتی ہوا کی آواز بے حد پُرسکون لگی ۔ یہ کھڑکی ، یہ صوفہ کسی لگژری سے کم نہیں میرے لئے ۔ ابھی دو دن پہلے رات کو تیز بارش ہورہی تھی تو میں نے تب بھی ایسے ہی پوری کھڑکی کھول دی اور اندھیرے میں ہوتی بارش کی تیز رم جھم سننے لگی ۔ مٹی کی خوشبو نے دن بھر کی تھکن کو زائل کردیا ۔ پردیس کی مٹی بھی شاید یہاں کے لوگوں کی طرح مصروف رہتی ہے اسے بھی پانی کے چھینٹوں سے خوشبو کشیدنے کا وقت نہیں ملتا۔۔

وقت سے بھاگنے والے لوگ چاہتے بھی تو یہی ہیں کہ وقت تیزی سے گزرجائے اور وہ خود کسی بھی وقت سے تیزی سے نکل جائیں ۔ اور یہی وہ نقطہ ہے جدھر وقت ٹھہرنے لگ جاتا ہے۔ کبھی کبھی کسی کتاب کے صفحے  میں ایسی روشنی ملتی ہے کہ اس لمحے سے باہر نکلنے کو دل ہی نہیں کرتا۔اور جب کوئی ناول جسے لاکھ جلدی  کرنے کے باوجود پورا کرنے میں چند سال لگ جائیں ۔ ہم ان تمام کرداروں کے ساتھ جینے لگ جائیں، ان فضاؤں میں سانس لے کر اپنے ہونے کو  محسوس کرنے لگ جائیں ۔پھر بالآخر ناول اختتام کے قریب پہنچ جائے ۔سارے کردار بوڑھے ہوچکے ہوں یا مرچکے ہوں تو ہم بھی ان کرداروں کے ساتھ کبھی بوڑھے ہونے لگتے ہیں اور کہیں کہیں تو دکھ اتنا بھرنے لگتا ہے کہ مرہی جاتے ہیں۔

ہم نہ صرف زندگی میں کئی بار جیتے ہیں بلکہ بہت بار مرنے کے باوجود پھر جی اٹھتے ہیں کہ انسان کی مردہ آنکھوں تک میں زندگی کی رمق آخری لمحوں تک چمکتی رہ جاتی ہے ۔ وقت کی تیز رفتاری سے اکثر دل چاہتا ہے کہ خالص قدرت کے قریب تر لمحے چرائے جائیں ۔ ایسے پل جن میں کوئی بناوٹ نہ ہو نہ کوئی تفصیل ۔۔بارش اور ہوا ہو اور کھلا آسماں! جہاں تک نظر جاسکے سرسبز پہاڑ وادیاں ہوں اور اسی سبزے سے بھرے پہاڑ۔ سکوت ، خاموشی کیونکہ قدرت کے رنگوں سے بھرے ایسے پراسرار مقامات پر صرف سکون کے متلاشی جاسکتے ہیں سو ایسی جگہوں پر شور کا کوئی دخل نہیں اسی لئے ہلکی سی آواز تک گونجنے لگتی ہے۔

دور ایستادہ کسی کچے گاؤں کی پگڈنڈیوں پر پوری آپ و تاب سے بُنا گیا کوئی افسانہ ، کوئی ناول ہو اور وہ لگن کہ اسے ختم کرنے سے پہلے یہاں سے ہلنا نہیں ہے چاہے جو ہوجائے ۔ پرانے دنوں میں لگتا تھا زندگی ایسے ہی بیتے گی ۔۔پر ایسا نہیں ہوا۔ وقت بھاگتا رہا اور زندگی ٹھہرگئی ۔
ظلم تو یہ ہوا کہ کسی آنکھ میں انتظار کی نمی ٹھہر گئی!

Avatar
رابعہ احسن
لکھے بنارہا نہیں جاتا سو لکھتی ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *