زندگی، - ٹیگ     ( صفحہ نمبر 2 )

وقت ایک سا نہیں رہتا /گُل رحمٰن

آج 24 فروری 2023 ہے، وہی24  فروری جو کیلنڈر کے پنّوں پرہر سال اُبھرتی ہے اور ورق پلٹتے ہی خاموشی سے قصّہ پارینہ بن جاتی ہے۔جیسےاُس کا گزرنا لازم و ملزوم ہو ۔تاریخ اہم ہو یانہ  ہو لیکن اس سے ←  مزید پڑھیے

خوف کے سائے سے زندگی کی مسکراہٹ تک/زبیر بشیر

سال 2020 سے ہم سب کی بہت سی تلخ یادیں وابستہ ہیں۔ دنیا کے تمام ممالک اور خطے سو برس میں پہلی بار سامنے آنے والی وبا کے سامنے بے بس نظر آرہے تھے۔ وائرس ایک ایسا ان دیکھا دشمن←  مزید پڑھیے

میرے پیارے پاپا/روشین عاقب

آج قلم اٹھایا ہے کچھ لکھنے بیٹھی ہوں تو کچھ سمجھ نہیں آ رہا کہ کہاں سے شروع کروں۔ جب سے آپ ہمیں چھوڑ کر  گئے ہیں، ذہن ماؤف ہے، ہر چیز اپنی جگہ سے ہل گئی ہے ،نہ زمین←  مزید پڑھیے

زندگی اور رشتے/ڈاکٹر شہزاد افضل

44سال گزرنے کے بعد اب احساس ہُواکہ کوشش تو کروں  اس بات کا سبب تلاش  کرنے کی کہ زندگی میں رشتوں کی ضرورت کیوں ہوتی ہے؟اور دوسرا سوال کہ رشتے اپنی اہمیت کیوں کھو دیتے ہیں ؟ دوسرے سوال کا←  مزید پڑھیے

اماں میں آ گیا/عاصم کلیار

زندگی کی لذتوں سے آشنا ایک خوبرو نوجوان نے نیم بیہوشی کے عالم میں سوچا وہ ایک روشن اور زندگی سے بھر پور صبح تھی۔ اور اب۔ ۔ برقعے کے اندر اپنی ہی قے کی بُو سے مجھے سانس لینے←  مزید پڑھیے

مہنگائی اور ہماری عادات/محمد اسد شاہ

عام آدمی کو اس بات سے کوئی سروکار نہیں کہ اقتدار کی باگ کس کے ہاتھ میں ہے اور سیاست کس کروٹ بیٹھتی ہے- اسے اپنا اور اپنے بچوں کا پیٹ پالنا ہے- اسے بجلی، گیس اور بڑے شہروں میں←  مزید پڑھیے

‘‘اہرامِ آرزو’’ (افسانوی مجموعہ) – زندگی کا دوہرا ظہور/پروفیسر عامرزرّیں

آصف عمران، عصرِ حاضر میں اسلوب وبیان، کہانی پن اور احساسِ تجمیت کی عمدہ نگارشات کے حامل ایک کہنہ مشق افسانہ نگار ہیں۔ ‘‘اہرامِ آرزو’’ آصف عمران کے افسانوں کو تیسرا مجموعہ ہے جس میں 13 خوب صورت افسانوں کو←  مزید پڑھیے

ایک کلِک زندگی بدل دیتا ہے /توصیف ملک

آپ نے کمپیوٹر کو آن یا آف ہوتے دیکھا ہے ؟ آن کرنے کے لیے سی پی یو کے ساتھ ایک بٹن لگا ہوتا ہے جسے ہلکا سا دبانے پر کمپیوٹر آن ہو جاتا ہے لیکن کیا صرف ایک بٹن←  مزید پڑھیے

اُٹھ باندھ کمر کیوں ڈرتا ہے/عاصمہ حسن

زندگی ایک مشکل ترین امتحان کی طرح ہے جس میں سوال نامہ ہر بار اور ہر ایک کے لئے مختلف ہوتا ہے ـ جہاں پریشانیاں ‘ مصائب’ دکھ ‘ تکالیف’ ناکامیاں اور کامیابیاں اس کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہیں←  مزید پڑھیے

دکھ سُکھ زندگی کا حصّہ ہیں/بلال احمد

انسانی وجود جتنا قدیم ہے دکھ اور سکھ بھی اتنے ہی قدیم ہیں،انسان اپنی پیدائش سے لے کر موت تک دکھ کے اس تپتے صحرا کو پار کرنے میں لگا رہتا ہے ،ساری زندگی دکھوں کے آگے پُل باندھتے گزار←  مزید پڑھیے

موت کی موت اور قیامت کا غم/احمد نعیم

کُن فیاکُن کے بعد سے میں بڑا پریشان تھا – جتنوں کو زندگی دی گئی تھی سارے مردار تھے ، سب کی آنکھیں بند تھیں، کان بند ،منہ بھی بند۔۔۔ ہاں مگر بڑے بڑے نتھنوں والی ناک زندہ تھیں، جو←  مزید پڑھیے

لائحہ عمل کہاں ہے؟/حسان عالمگیر عباسی

تبدیلی تبدیلی کی رَٹ تو سب لگاتے ہیں لیکن تبدیلی کے لیے لائحہ عمل کوئی نہیں دے رہا۔ یہ سیاست سے بالاتر بات ہو رہی ہے۔ سیاسی و مذہبی قیادت اور ان کی جماعتیں اور ان کے منشور بہت چھوٹی،←  مزید پڑھیے

اوقات سے اوقات تک /یوحنا جان

نہ جانے کس آنگن اس لفظ کی گردش میرے کانوں میں کھٹ کھٹ کرنے لگی، اور رات کی تاریکی میں بیدار کر ڈالا۔ اس بات کا اندزہ تب ہونے لگا جب اندھیرے میں اپنی حقیقت کو سمجھنے کے لیے تڑپ←  مزید پڑھیے

زندگی اور خودغرضی /ڈاکٹر مختیار ملغانی

زندگی کے مقاصد کو ایک طرف رکھتے ہوئے پہلے اس بات پہ غور کرنا ضروری ہے کہ زندگی کیا ہے؟ زندہ اور غیر زندہ میں کیا فرق ہے؟ یہ سوال بظاہر بہت سادہ اور آسان ہے لیکن گہرائی میں جا←  مزید پڑھیے

اس لمحے کے آگے پیچھے کچھ بھی نہیں/ڈاکٹر ستیہ پال آنند

ہے ارتفاق یا اقران یا اخوان الزماں کہ جس میں حاضر و موجود بھی ہیں زنگ آلود رواں دواں کو بھی دیکھیں تو ایسے لگتا ہے کہ منقضی ہے، فراموش کردہ، ما معنیٰ اگر یہی ہے ، “رواں”، “حالیہ” اے←  مزید پڑھیے

سیلاب کے بعد زندگی /تحریر-مظہر اقبال کھوکھر

ان کی زندگی تو پہلے ہی ایک آزمائش ہے ۔ کبھی اگر آپ کچے کے علاقے میں گئے ہوں تو آپ نے دیکھا ہوگا کہ غربت ، بے بسی کسمپرسی سے مرجھائے چہرے زندگی کی تلخیوں کا مقابلہ کرتے ہوۓ←  مزید پڑھیے

زندگی کے دور۔۔ظفر اقبال وٹو

وہ دونوں باپ بیٹا راستے میں ٹرین میں سوار ہوئے تھے۔ باپ کھڑکی کے ساتھ خالی سیٹ پر جاکر خاموشی سے بیٹھ گیا اور باہر دیکھنے لگا، جب کہ تین چار سال کا بچہ اس کے ساتھ والی سیٹ بیٹھ←  مزید پڑھیے

چھوٹا خاندان،زندگی آسان۔ ۔محمد ہاشم

زندگی جینا اور زندگی جھیلنا دو الگ اصطلاحات ہیں۔ رزق اللہ تعالیٰ جھگی میں رہنے والے بے گھر غریب کو بھی دیتا ہے اور بسا اوقات وہ ہم سے بہتر کھا کے سوتے ہیں،لیکن ان بیچاروں کی سوچ اپنے اور←  مزید پڑھیے

میں کون ہوں؟۔۔انعام رانا

یہ سوال دیگر نے دیگر اور مجھ سے ہی نہیں، خود بارہا میں نے خود اپنے آپ سے بھی پوچھا ہے۔ آپ جو  میری اس وال پہ آئے ہیں، خوش آمدید؛ شاید ہم مل کر ہی اس سوال کا جواب←  مزید پڑھیے

زندگی کا شکوہ۔۔ڈاکٹر شاہد ایم شاہد

زندگی بنی آدم کے لئے ایک سوال ہے ،نہ کوئی اس کا شروع اور نہ آخر ہے۔ بلکہ یہ نسل در نسل ایک بہاؤ ہے جو روزِ اوّل سے چلا  آرہا ہے اور جب تک دنیا قائم و دائم ہے←  مزید پڑھیے