پاکستان میں نئے صوبے بنانے کی بات ہر کچھ عرصہ بعد ایک نعرے کی صورت میں سامنے آتی ہےاور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ہر دفعہ یہ بعد مختلف پارٹی یا گروہ کی طرف سے کی جاتی ہے، مسائل سے نبرد آزما حکومت پر یہ سیاسی دباو کا ایک مروجہ طریقہ ہے۔ یہ وہی ملک ہے جہاں صوبوں کو یکجا کر کے ون یونٹ بنانے کا بالکل برعکس تجربہ بھی کیا چکا ہے جو یقینا غلط تجربہ تھا۔ ← مزید پڑھیے
یہ ایک وسیع ہال تھا جسے انگریز کے زمانے میں کوئلہ ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔ یہاں دیواروں پر رنگ کی تہہ در تہہ جمی پڑی تھی جسے ذرا سا کھرچنے پر کوئلے کی کالک حال کو← مزید پڑھیے
انسانی جذبات کو ایک دلچسپ پہلو سے دو گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے، جذبات کی ان دو میں سے کسی ایک قِسم کا اجتماعی اظہار معاشرے کی سمت کے تعین میں سب سے زیادہ پُر اثر واقع ہوا← مزید پڑھیے
میں نے فیس بک پر آج ایک نئی نظم پوسٹ کی ہے۔ اس پہ میرے ایک دوست نے کمنٹ کیا ہے کہ تم فیض احمد فیض کی طرح کی نظمیں لکھ رہے ہو۔ ساتھ اس نے دل بنا کر بھی← مزید پڑھیے
عالمی تعاون کے ساتھ ہونے والے بائیولوجی کے سب سے بڑے پراجیکٹ ہیومن جینوم پراجیکٹ نے اپنے نتائج 2001 میں شائع کئے۔ یہ جس قدر کامیاب تھا، اتنا ہی ناکام بھی۔ کامیاب اس لئے کہ اس سے ہمیں زندگی کی← مزید پڑھیے
اسّی اور نوے کی دہائی میں موبائل اور انٹرنیٹ سروسز نے عوام کی زندگی کو ابھی اپنی لپیٹ میں نہیں لیا تھا۔ فوٹو کاپی کا کاروبار اپنے عروج کے دن دیکھ رہاتھا۔ اس دور میں ہوش سنبھالے لوگ بخوبی ایسے← مزید پڑھیے
ہمیں ٹی وی کا پہلا دن بھی یاد ہے۔ جب پہلی بار ٹی وی آیا تو لوگوں کو اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آتا تھا۔ ہم چھوٹے سے تھے اور بہاولپور میں رہتے تھے۔ ٹی وی بنانے والی کمپنی نے← مزید پڑھیے
کلپنا لاجمی اور بھوپن ہزاریکا جنہوں نے بغیر شادی چالیس سال ایک ساتھ گزارے۔ فیمنسٹ فلم ڈائریکٹر کلپنا لاجمی جب 17 سال کی تھی تو ان کی ملاقات اپنے کالج میں آسام سے آئے ہوئے گلوکار بھپن ہزاریکا سے ہوئی← مزید پڑھیے
ناجانے کیوں میرا یہ احساس مجھے بار بار ڈستا رہتا ہے کہ اب میری حیات میں سرفرازی و کامرانی نہیں اور میں سب کچھ کھو بیٹھا ہوں ایسا لگتا ہے کہ میں اپنا سب کچھ قربان کر چکا ہوں اور← مزید پڑھیے
پاکستان ایسا ملک ہے، جہاں دوسری نعمتوں کے ساتھ ساتھ توانائی کے وسائل بھی وافر مقدار میں موجود ہیں۔مگر افسوس! کہ ہم خدا کی دیگر نعمتوں کی طرح اس نعمت کو بھی صحیح طریقے سے استعمال نہیں کر پا رہے۔توانائی← مزید پڑھیے
ہمارے وزیر اعظم صاحب جو پودوں کو پانی نہ ملنے پہ دکھی ہو جاتے تھے خاتون اول جو مذہبی طور پہ کتوں کو نحس سمجھتی تھیں لیکن ایک "کتے" کی آنکھ میں آنسو دے کہ اپنے مذہبی نکتہ نظر میں تبدیلی پیدا کر کے اسے گھر میں رکھنے پہ آمادہ ہو گئیں آج 3 بچوں کے کپڑوں پہ خون دیکھ کہ کتنی دکھی ہوئی ہوں گی۔← مزید پڑھیے
پہلا بوسہ! اس کو برسوں بیت گئے ہیں لیکن پھر بھی اس کے پہلے بوسے کی شیرینی اب تک اس کی یاد دلاتی ہے اس کے خواب دکھاتی ہے پیار! ہونٹ پر انکار ہے اور آنکھ میں اقرار ہے پیار← مزید پڑھیے
کئی دنوں سے چرچا تھا کہ منی بجٹ آنے والا ہے اپوزیشن چیلوں کی مانند بے چارے اسد عمر پر جھپٹنے اور نوچنے کو تیار بیٹھی تھی میڈیا نے بھی نیزے بھالے تیز کر کے میز پر سجا دئیے تھے← مزید پڑھیے
راجہ فاروق حیدر صاحب نے حکومت سنبھالی تو ان کے عظیم کارناموں میں آزادانہ پبلک سروس کمیشن کا قیام اور محکمہ تعلیم میں نان گزٹڈ سٹاف کے لیے این ٹی ایس کے ذریعے بھرتیاں کرنے کے فیصلے قابل ذکر تھے۔← مزید پڑھیے
وہ دونوں اپنے ہنستے بستے گھرانے کی تباہی کے بدلے انصاف مانگنے سربازار کھڑی ہیں۔ زندگی کا بوجھ اٹھائے وہ حاکم وقت سے انصاف کی بھیک مانگ مانگ کر تھک چکی ہیں۔ رات ماں سے لپٹ کر دونوں جس قدر ممکن ہوا جی بھر کر رو چکی ہیں۔ آنسو ہیں کہ خشک ہیں۔ زندگی اب ویسے بھی بے معنی ہے کہ ان کے محافظ منوں مٹی تلے دفنائے جا چکے ہیں۔ ماں کی پتھرائی آنکھیں اور معاشرے کی بے حسی اب انہیں احساس سے ماورا اقدام کی چٹان پر کھڑا کر چکے ہیں۔ ان کا احتجاج اب ایک تماشے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ شاید فیصلہ ہوچکا ہے تبھی تاخیری حربے آزمائے جارہے ہیں۔ مگر فیصلہ ان دونوں کے لیے ناقابل قبول ہے۔ شاید کوئی اور ہوتا تو رو دھو کر خاموش ہوجاتا لیکن ہر کوئی کہاں ان دونوں کی طرح ضدی ہوا کرتا ہے؟← مزید پڑھیے
کہانی انسان کی کمزوری ہے ،ہم بچپن سے بزرگوں سے کہانیاں سنتے جوان ہوتے ہیں اور پھر زمانے بھر کی کہانیاں سننے کا اشتیاق لیئے ہر دوسرے شخص کو ٹٹولتے ہیں ۔مانگنے والے کی اپنی مجبوریوں بھری کہانی اور دینے← مزید پڑھیے
اس بک ریویو سیریز میں فیروز ناطق صاحب کی تمام کتابو ں پر تبصرہ قارئیں کی نذر کیا جائے گا،یہ اسی سلسلے کی تیسری کڑی ہے۔ اِس کتاب کو اگر کھول کر پڑھا بھی نہ جائے صرف دیدار ہی کر← مزید پڑھیے
مذہب کی بنیاد پر کیسے بے وقوف بنایا جا سکتا ہے، اس کے لئے یہ تحریر پڑھیئے ۔۔۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ تحریر اگرچہ بھارت اور ہندو معاشرے بارے ہے مگر ہمیں اپنے مذہب میں بھی ایسے ” سائنس← مزید پڑھیے
پچھلے دو سال سے مسلسل ایک پینسٹھ سالہ پشتون بابا کے میسجز پر میسجز آرہے تھے۔کہ سندھ سانگھڑ میں ہم 25،000 پشتون آبادکاروں کو انگریز کے زمانے سے جو زمینیں الاٹ ہوئی ہیں۔اُس پر ہم انتہائی کسمپرسی کی حالت میں← مزید پڑھیے
کسی خطے، کسی ملک، کسی قوم، کسی نسل، کسی مذہب پر پیدا ہونا نہ تو ہماری چوائس میں شامل تھا اور نہ ہی اس میں ہماری کوئی فنکاری ہے لہذا اس کی بنیاد پر جھگڑوں کا حصہ بننا بالکل بے← مزید پڑھیے