آزادکشمیر میں این ٹی ایس سسٹم کے مضمرات۔۔۔ممتاز علی بخاری

راجہ فاروق حیدر صاحب نے حکومت سنبھالی تو ان کے عظیم کارناموں میں آزادانہ پبلک سروس کمیشن کا قیام اور محکمہ تعلیم میں نان گزٹڈ سٹاف کے لیے این ٹی ایس کے ذریعے بھرتیاں کرنے کے فیصلے قابل ذکر تھے۔
یاد رہے این ٹی ایس کے ذریعے ریکروٹمنٹ کرنے سے پہلے ہمارے ہاں رواج یہ تھا کہ ممبران اسمبلی کی فرمائشوں پر ڈی ای اوز اور دویژنل ڈائریکٹرز من مانی سے بھرتیاں کرتے تھے۔ سیاسی مداخلت کا یہ عالم تھا کہ پرائمری مدرسین کی بھرتیاں تو ایک طرف چپڑاسی تک کی بھرتی تک وزیران موصوف براہ راست مداخلت کرتے دکھائی دیتے تھے۔
این ٹی ایس کے ذریعے پانچ ہزار سے زائد تقرریاں کی گئیں۔ اس سارے عمل میں وزیر اعظم اور وزیر تعلیم کو نہ صرف اپوزیشن کی مخالفت کا سامنا تھا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ انہیں اپنی پارٹی کے امیدواران اسمبلی اور کابینہ کے لوگوں کی بھی شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ محکمہ تعلیم چونکہ کشمیر کا دوسرا بڑا ادارہ ہے۔ اس لیے اس میں اپنا اثر و رسوخ قائم کرنا ہر پارٹی اور سیاستدان کا ایک وطیرہ رہا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے سیاست دانوں نے تعلیمی اداروں کو سیاسی کیمپ بنا دیا۔ اب این ٹی ایس کے ذریعے میرٹ پر تقرریاں ہونے سے انہیں تکلیف تو ہونی تھی۔ انہوں نے این ٹی ایس سسٹم کے خلاف خوب پروپیگنڈا کیا، فاروق حیدر کو بار ہا بلیک میل کرنے کی کوششیں کی گئیں لیکن فاروق حیدر ڈٹا رہا۔
فاروق حیدرصاحب این ٹی ایس سسٹم کے نفاذ کو عوام میں اپنے کارنامے کے طور پر بتاتے ہیں۔ لیکن میرا سوال ان سے یہ ہے کہ اگر این ٹی ایس کا نفاذ ان کا کارنامہ ہے تو یہ سسٹم صرف محکمہ تعلیم تک کیوں محدود ہے؟ کیا فاروق حیدر صاحب صرف تعلیم کے وزیراعظم ہیں؟؟ کیا میرٹ پر تقرریاں صرف محکمہ تعلیم پر ہی ہونی چاہیے۔ باقی ریاست بھر میں جو انصاف کے جنازے اٹھ رہے ہیں ، ان کے حوالے سے اقدامات کرنا وزیر اعظم ریاست ہٰذا کی ذمہ داری نہیں؟
جب سے این ٹی ایس کا نفاذ ہوا ہے تب سے آئے روز کوئی نہ کوئی ایشو چل رہا ہے۔ پروپیگنڈا کرنے والے کچھ عناصر جنہیں اس سسٹم میں اپنی تباہی نظر آ رہی ہے ، وہ اس کو بدنام کرنے کی کوششوں مین لگے ہوئے ہیں۔ رہی سہی کسر انٹرویو پینل میں شامل ممبران پوری کر رہے ہیں۔ سیاست دانوں کی ایما پر یہ لوگ بھاگتے چور کی لنگوٹی ہی سہی کے مصداق انٹرویو کے نمبرات میں چکر کرتے ہیں۔ سفارشی حضرات کو دس کے دس نمبر اور دوسروں کو تین سے پانچ نمبر دے کر اپنی من چاہی میرٹ لسٹ بنائی جاتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو پھر بھی یہ نظام اُس پرانے نظام سے بہتر ہے جس میں نہ پیپرز کا کوئی پتا چلتا تھا اور نہ ہی کسی اور قسم کی شفافیت تھی۔ کئی بار تو پیپرز ہونے کے بعد “لاڈلے امیدواروں” کو سوالنامے گھر بجھوائے جاتے تھے جہاں وہ بستروں میں بیٹھ کر پیپرز حل کرتے تھے۔ این ٹی ایس اور قدیم طریقہ امتحانات کا فرق پچھلے عرصے میں محکمہ تعلیم میں کی گئی کلرکوں کی بھرتیوں سے بخوبی کیا جا سکتا ہے۔انٹرویو پینل کی زیادتیاں پچھلے سال کی ریکروٹمنٹ میں بھی سامنے آئیں لیکن نہ ہمارے وزیراعظم صاحب نے کچھ کیا اور نہ ہی وزیر تعلیم کوئی اقدام اٹھا سکے۔ اب کی بار بھی کچھ جگہوں سے یہ ایشو اٹھا تو اسے حل کرنے کے بجائے اسے دبانے کی کوششیں کی گئیں۔ بلوچ سے تعلق رکھنے والی متاثرہ لڑکی اور اس کے بزرگ چچا کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جب معاملہ سوشل میڈیا پر مشہور ہوا تو حکومت نے ایس ایچ او سیکٹیریٹ کا تبادلہ کر دیا ۔لڑکی کو ایگزیکٹو آرڈر کے تحت مطلوبہ پوسٹ پر تعیناتی کے احکامات جاری کردیے۔
اس سب کے ساتھ ساتھ این ٹی ایس سسٹم کے خلاف جو سازشی عناصر تھے ، وہ بھی سامنے آگئے۔ انہوں نے اب کی بار ایک نئے جوش و خروش سے اس سسٹم کے خاتمے کے لیے مہم شروع کر دی۔
شاید کہ وزیراعظم صاحب ان کے دباؤ میں آ جائیں اور جس طرح کی خبریں گردش کر رہی ہیں ان کے مطابق این ٹی ایس سسٹم کو ختم کر دیں تو رہے سہے انصاف کا بھی جنازہ نکل جائے گا۔ اور لوگوں کی امیدوں پر پانی پھر جائے گا۔
وزیر اعظم سے گزارش ہے کہ وہ این ٹی ایس کو ختم کرنے کے بجائے جہاں جہاں غلطیاں دکھائی دے رہی ہیں ان کو سدھاریں۔ اگر این ٹی ایس ختم ہو گیا تو اسمبلی ممبران کے رشتے دار اور چمچے ہی سیٹوں پر آئیں گے جیسے محکمہ تعلیم کے علاوہ باقی ڈپارٹمنٹس میں ہوتا ہے. سو اگر سر میں درد ہےتو میڈیسن لیں سر کاٹ کے نہ پھینکیں.خدارا اپنی آنے والی نسلوں پر رحم کریں ۔ایک اچھا اقدام اگر آپ نے اٹھایا ہے تو اس کو قائم رہنے دیں بلکہ اس کا دائرہ کار بڑھائیں۔

ممتاز علی بخاری
ممتاز علی بخاری
موصوف جامعہ کشمیر سے ارضیات میں ایم فل کر چکے ہیں۔ ادب سے خاصا شغف رکھتے ہیں۔ عرصہ دس سال سےطنز و مزاح، افسانہ نگاری اور کالم نگاری کرتےہیں۔ طنز و مزاح پر مشتمل کتاب خیالی پلاؤ جلد ہی شائع ہونے جا رہی ہے۔ گستاخانہ خاکوں کی سازش کو بے نقاب کرتی ایک تحقیقاتی کتاب" عصمت رسول پر حملے" شائع ہو چکی ہے۔ بچوں کے ادب سے بھی وابستہ رہے ہیں ۔ مختلف اوقات میں بچوں کے دو مجلے سحر اور چراغ بھی ان کے زیر ادارت شائع ہوئےہیں۔ آج کل ایک آن لائن میگزین رنگ برنگ کےچیف ایڈیٹر ہیں،

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *