ثقافت سے ہم آہنگی ضروری ہے۔۔۔۔قربِ عباس

کسی خطے، کسی ملک، کسی قوم، کسی نسل، کسی مذہب پر پیدا ہونا نہ تو ہماری چوائس میں شامل تھا اور نہ ہی اس میں ہماری کوئی فنکاری ہے لہذا اس کی بنیاد پر جھگڑوں کا حصہ بننا بالکل بے معنی ہے۔ کوئی بھی زبان کوئی بھی کلچر کسی کوشش کے تحت زندہ نہیں رکھا جا سکتا، یہ وقت کے ساتھ ساتھ evolve ہوتے ہیں، ارتقاء کے عمل سے گزرتے ہیں۔
زبانوں میں دوسری زبانوں کے الفاظ شامل ہوتے چلے جاتے اور ایک کلچر دوسرے کلچر کے اثرات لیتا ہے، کچھ پر اپنی چھاپ چھوڑ جاتا ہے۔ یہ ایک نارمل سا عمل ہے جو صدیوں سے چلا آ رہا ہے اور ہمیشہ چلتا رہے گا، اس کے لیے خود کو کسی مشکل میں ڈالنا احمقانہ سی بات معلوم ہوتی ہے۔
لیکن افسوسناک صورتِ حال یہ ہے کہ کچھ معاشروں کی ساخت ہی کچھ ایسی ہے کہ وہاں کے باسی ثقافت کو اپنی ملکیت ظاہر کر کے فخر محسوس کرتے ہیں۔ لسانی و ثقافتی سطح پر یہی تنازعات نفرت و تعصب کی جانب دھکیلتے ہیں اور زیادہ تر یہ انہی لوگوں کی عادت ہوا کرتی ہے جن بیچاروں کی اپنی شخصیت میں کچھ نہیں ہوتا وہ قوم، نسل، ذات، ملک، شہر، مذہب وغیرہ جیسے جعلی تفاخر کو سینے کا تمغہ بنا لیتے ہیں، اپنی شناخت انہی رخنوں میں تلاش کرتے ہیں۔
وہ لوگ بھی جو کسی دوسری جگہ ہجرت کرتے ہیں نہ اپنے سابقہ شہر کے رومانس سے نکل پاتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسری جگہ پر سالہا سال رہنے کے بعد بھی اس کو اپنا گھر تسلیم کرتے ہیں۔ گو کہ اپنے ملک، شہر، اپنی ثقافت سے دور بسنا مشکل ہوتا ہے، دوست یار رشتہ دار دور ہو جاتے ہیں، جس ثقافت کے تحت آپ کی پرورش ہوئی ہے ایک عرصہ کے بعد دوسری جگہ جا کر کچھ مشکلات تو ہوتی ہیں کہ وہاں کے معاملات کچھ الگ ہوتے ہیں لیکن سوچ یہ ہونی چاہیے کہ یہ پوری دنیا ہی آپ کا وطن ہے اور آپ جس کلچر میں جائیں اس طرح سے رچ بس جائیں کہ زندگی کے رنگوں سے استفادہ کر سکیں، دوسروں کے کلچر کا حصہ بنیں ان کو اپنے کلچر کے خوبصورت رنگوں سے متعارف کروائیں۔
یہاں ابھی تک معاملہ سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان کا چل رہا ہے۔
ایک دوسرے سے ان بنیادوں پر تعصب ہر دن کے ساتھ بڑھتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ یہ تو یہاں کے جھمیلے ہیں۔ ہمارے وہ لوگ جو بیرون ملک جا کر آباد ہوگئے ہیں انہیں الگ ہی مشکلات کا سامنا ہے کہ ہمہ وقت گھٹن کا شکار رہتے ہیں۔ خطرہ رہتا ہے کہ کہیں بچے وہاں کے ثقافتی رنگ میں نہ رنگے جائیں۔ الگ ہی کمیونٹی کا حصار بنا کر رہ رہے ہوتے ہیں اس دائرے سے باہر نکلنے کی کوشش ہی نہیں کرتے۔
آپ بچوں کو اپنی زبان، لباس، رہن سہن کے بارے میں ضرور بتائیں، اس کے بارے میں جاننا اچھی بات ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ جہاں پر رہ رہے ہیں وہاں کے کلچر کے ساتھ بھی ان کے مزاج کو ہم آہنگ ہونے دیں۔
نجانے کیوں ہم اس مختصر سی زندگی کو گورا کالا، مسلمان کافر، سندھی، بلوچی، پنجابی، پٹھان، راجپوت، آرائیں، سید، امتی جیسے جھگڑوں کی نذر کر دیتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *