راہِ روشن۔۔۔عبداللہ خان چنگیزی

ناجانے کیوں میرا یہ احساس مجھے بار بار ڈستا رہتا ہے کہ اب میری حیات میں سرفرازی و کامرانی نہیں اور میں سب کچھ کھو بیٹھا ہوں ایسا لگتا ہے کہ میں اپنا سب کچھ قربان کر چکا ہوں اور میں مسلسل ہار رہا ہوں لیکن کس سے کیا اپنی ذات سے یا اپنے ماحول سے یا پھر میرے اردگرد موجود دوسرے انسانوں سے کوئی جواب نہیں ملتا کوئی راہ نہیں ملتی کوئی شمع اپنی جوبن کی روشنی نہیں دیکھاتی تاکہ اس کی کرنوں میں مجھے کوئی راستہ نظر آئے جس پر چل کر میری ذات کو اپنا مقام مل جائے مگر اس رہنماو رہبر شمع کو روشن کون کرے گا کیا یونہی منزلیں مل جایا کرتی ہیں کیا میں اپنا وقار پا لوں گا؟
ہاں ضرور مگر کیسے میں تو اپنا جنون کھو بیٹھا ہوں میری وہ طاقت میرا ساتھ چھوڑ چکی ہے جو میرے لئے ہر راہ سے رکاوٹ کو توڑا کرتی تھی، ناجانے کیوں ایک خوف مجھے دیکھائی دیتا ہے اس زمانے کی نگاہوں میں، ہر ایک چہرہ خوفزدہ جیسے سب کو ایک روگ لگ گیا ہو کچھ نہ کچھ کھونے کا، ہم سب تو بظاہر ایک دوسرے کے قریب تر ہیں لیکن اصل میں صدیوں پر محیط فاصلوں میں گھیرے ہوئے ہیں ہم ایک دوسرے میں گھل مل تو جاتے ہیں لیکن کسی کا وہ خوف و وحشت دور نہیں کر پاتے جو ہم سب کی آنکھوں اور دل کے پنہاں خانوں میں ہوتا ہے، عجیب بےیقینی کا عالم ہے ماحول پر ایک دھواں سا چھایا ہے کسی کو دوسرے کی فکر نہیں ہر ایک کو اپنے خوف کی پڑی ہے، اور ہر پہلا شخص دوسرے کی بےیقینی میں اضافہ کرتا چلا آرہا ہے سب کی سوچوں پر ایک پرشکواہ مستقبل کو حاصل نہ کر پانے کا خوف مسلط ہے، ایک چھوٹی سی زندگی کی خاطر اتنی سخت مشقت؟

کیا اس انداز و طرزِ زندگی کی قیمت ادا کرنے کے لئے ہمیں اس خوف سے گزرنا ضروری ہے؟ ہر ایک کی صورت پر ایک آسیب کی پرچھائی ہے جیسے ان سب کی روح کی ڈوریاں ان کے آنے والے مستقبل کے شکنجے میں کس دی گئی ہوں اور وہ مستقبل اگر روشن نہ ہوا تو ان کی روح قفسِ بدن توڑ کر اڑ جائے گی، ذہن کے ان با کمال زاویوں پر خوف و ہیبت اور ناکامیوں کے اندھیروں کا راج چل رہا ہے جو ختم ہونے کا نام ہی نہیں لیتا، کیا اسی کو کہتے ہیں کہ زندگی کا دوسرا نام آزمائش ہے؟
اگر اتنی کڑی آزمائشوں سے ہم کو گزرنا ہے تو پھر یہ دل و دماغ کی قوتِ برداشت اس قدر لاغر کیوں؟ کیوں ہماری سوچ کی قوتیں مسائل و مشکلات کے پہاڑوں کو ریزہ ریزہ نہیں کر پاتی، کیوں ہم ان انجان خوف کو شکست دینے کے قابل نہیں جو ہمارے وجود کو دیمک کی طرح کھا رہی ہے، کیوں ہم ایک چھوٹی سی خواہش کو پورا کرنے کے اہل نہیں، کیا صرف موت تک ہی ہم زندگی کی کوشش کرتے رہیں گے بس اتنی سی زندگی کہ آئی اور ہم کو اس دشت و بیاباں میں ظالم مستقبل کے انتظار و جستجو کے وزنی آہنی ہتھوڑے کی ضربوں سے پاش پاش کرنے کے لئے چھوڑا گیا وہ بھی تن تنہا ایک محدود سی تحریک دے کر، ہم خواب دیکھتے ہیں لاتعداد اور پھر ان کی تکمیل کے لئے جستجو کرتے ہیں جن میں کچھ عین اس وقت ٹوٹ جاتے ہیں جب وہ تعبیر کے قریب تر ہو ایسا کیوں ہوتا ہے، ہماری ہر خواہش کی تکمیل کیوں نہیں ہوتی کیوں ہم اتنے مجبور و بے بس ہیں، پھر جب وہ خواب ٹوٹتے ہیں تو ایسا لگتا تھا بس زندگی یہیں تک تھی، اس سے آگے تو صرف کھائی ہے، ایک بھیانک کھائی، جس کی تہہ میں موت وحشیانہ رقص کرتی رہتی ہے.

حقیقت یہ ہے کہ زندگی ایک الجھی ہوئی ڈور کے مانند ہے، جتنا سلجھانے کی کوشش کرو مزید وہ الجھتی ہی چلی جاتی ہے، پڑھنا لکھنا، رشتے ناطے، مستقبل محبت، سب ان الجھی ہوئی ڈوروں کے سرے ہیں، کسی ایک سرے کو پکڑو تو دوسرے سرے چھوٹ جاتے ہیں، اور بسا اوقات سارے سرے ایک دوسرے میں یوں گڈ مڈ ہوجاتے ہیں کہ تلاش کرنا مشکل ہوجاتا ہے کہ ہم کس سرے کو پکڑ کر الجھی ہوئی ڈور کو سلجھائیں. ایسا صرف کچھ لوگوں کے ساتھ ہی نہیں ہوتا لاتعداد ہیں جن کی زندگی کی عبارت اسی انداز کے سیاہی سے رنگی ہوئی ہوتی ہے ان کے ذہنوں میں بھی یہی کچھ ابھرتا ہے جو اسے مستقبل کے خوفناک وجود سے ڈراتا رہتا ہے لیکن شاید ایسے حالات میں انسان اس ذات اقدسﷻ کی طرف رجوع نہیں کرتا جنہوں نے انسان کی پوری تقدیر اس کے پیدا ہونے سے پہلے تحریر فرمائی ہے.
پریشانیوں کے بادل چھٹ جایا کریں گے، خوشیوں کے پھول ایک بار پھر کھل اٹھیں گے، کوئی اپنے رب کی طرف پلٹ کر تو دیکھے، کوئی اپنا لو کائنات کے مالک ﷻ حقیقی سے لگا کر تو دیکھے اسے بخوبی معلوم ہوجائے گا کہ حقیقی سکون کس میں ہے، حقیقی خوشی کیسے ملے گی، جب چہار سو نا امیدوں کا سایہ پھیل جائے، مایوسیاں گھیرے میں لے لیں، اس وقت کامیابی وہی ہے کہ ناامید ہو کر بھی ناامیدی کا اس قدر شکار نہ ہوں کہ کوشش کرنا ہی چھوڑ دیں، زندگی تو جدوجہد سے عبارت ہی ہے، اصل تو یہ ہے کہ آدمی تھک کر نہ بیٹھے، بلکہ کوشش کرتا رہے یہاں تک کہ وہ اپنے ہر جائز مقصود و مراد کو حاصل کرلے.

عبداللہ خان چنگیزی
عبداللہ خان چنگیزی
ایک کمزور سا انسان، جو تلاشِ معاش کے دوران حادثاتی طور پر لکھنے لگا جو محسوس ہوا لفظوں کے حوالے کر دیا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *