کتاب، - ٹیگ

مکتوباتِ احمد ندیم قاسمی(تجزیہ اور فن)۔۔یوحنا جان

ادب کی تاریخ میں خط کو براہ راست ملاقات کا درجہ حاصل ہے اور اس اہمیت سے کوئی بھی انکار نہیں کرسکتا- اردو خطوط نویسی میں رجب علی سرور اور مرزا غالب ادبی اور لسانی لحاظ سے نیک ثابت ہوئے←  مزید پڑھیے

میرا شہر لاہور -یونس ادیب/تبصرہ-طاہر علی بندیشہ

ناصر کاظمی نے کہا تھا ؎شہرِ لاہور تیری رونقیں دائم آباد تیری گلیوں ی ہَوا کھینچ کے لائی مجھ کو  کسی اور کا جملہ ہے ؎دنیا دی گل ہور اے ، لاہور فیر وی لاہور اے یوں تو ہر مشہور←  مزید پڑھیے

یہ مردوں کا میدان ہے ،آپ حد سے تجاوز کررہی ہیں۔۔عامر حسینی

میں ناول پہ بات شروع کرنے سے پہلے ایک بات واضح کردوں کہ میں ادب کا ایک ایسا قاری ہوں جو ادب کو ایک تو حظ اٹھانے کے پڑھتا ہے اور دوسرا اس میں سماجی حقیقت نگاری کو ترجیح دیتا←  مزید پڑھیے

کتاب دوستی ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

قرونِ وسطی میں کتاب کو مقدس مانا جاتا تھا کہ اسے ہاتھ سے لکھا جاتا تھا۔ بعض اوقات کسی ایک کتاب کی تکمیل میں پوری زندگی صَرف ہو جایا کرتی تھی، گویا کہ کتاب کےاوراق پر سیاہی نہیں بلکہ زندگی←  مزید پڑھیے

اقبال اکادمی پاکستان۔۔آغر ؔندیم سحر

اقبال اکادمی کا قیام عمل میں آیا’آغاز سے 1960ء تک اس کا صدر دفتر کراچی میں وفاقی وزارتِ تعلیم کی زیر نگرانی رہا’11اگست 1960ء کو اس کا مرکزی دفتر دار الحکومت کراچی سے اسلام آباد منتقل کر دیا گیا←  مزید پڑھیے

آدھی بھوک اور پوری گالیاں۔۔آغر ؔندیم سحر

ہم ایک ایسے ماحول میں سانس لینے پر مجبور کر دیے گئے ہیں جس کا کبھی ہم نے سوچا بھی نہیں تھا’ہمیں ایسی بنجر تہذیب کا عادی بنا دیا گیا ہے جس کا ہمارے خواب سے کوئی سروکار نہیں۔ہم اس←  مزید پڑھیے

صادقہ نصیر: ایک مسیحا نفس افسانہ نگار ۔۔ ڈاکٹر خالد سہیل

صادقہ نصیر کے افسانے پڑھتا گیا مجھ پر یہ منکشف ہوتا گیا کہ صادقہ نصیر ایک افسانہ نگار ہی نہیں ایک ماہر نفسیات بھی ہیں جو بچوں اور عورتوں کے مسائل کے بارے میں ہمدرد دل اور حساس ذہن رکھتی ہیں۔←  مزید پڑھیے

بینا سے بصد احترام۔۔آغر ؔندیم سحر

بینا نے زندگی کی جمالیاتی قدروں کو بھی سمجھا ہے اور ثقافتی شناخت کے بیانیے کو بھی سمجھا اوراس پر لکھا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ ہماری دوست بینا گوئندی نے شرق و غرب کی تہذیبی و ثقافتی شکست و ریخت کو جس انداز میں سمجھا ہے←  مزید پڑھیے

مُلا صدرا کے فلسفے کو ترک کرنے کی ضرورت ۔۔ صدیق اکبر نقوی

مُلا صدرا اپنی ’اسفار‘کے مقدمے میں لکھتے ہیں کہ یہ مجھ پر الہام ہوئی ہے (فالھمنی)، اور جب یہ وحدت الوجود اور اصالتِ وجود کی بات کرتے ہیں تو وہاں بھی کہتے ہیں کہ یہ الہام ہوا ہے۔ ہیراکلتس سے لئے گئے حرکتِ جوہری کے تصور کو بھی اپنا مکاشفہ قرار دیتے ہیں←  مزید پڑھیے

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی؟۔۔نادیہ عنبر لودھی

یہ آخری صدی ہے کتابوں سے عشق کی؟۔۔نادیہ عنبر لودھی/پاکستان میں کئی اقسام کی کتابیں چھپتی ہیں۔ جن میں سے کچھ تو اس لئے مجبوراً پڑھی جاتی ہیں کہ یہ نصابی کتب ہیں لہذا ان کو پڑھنا مجبوری ہے۔ یہ خریدی جاتی ہیں کیونکہ خریدنا لازمی ہے←  مزید پڑھیے

مصوّرِ وقت۔۔مظہر حسین سیّد

مصوّرِ وقت۔۔مظہر حسین سیّد/کسی کتاب کی اشاعت میرے نزدیک ایک انسان کے جنم لینے کے مترادف ہے ۔ جس طرح ایک بچے کا جنم اپنے اندر لامتناہی امکانات لیے ہوئے ہوتا ہے اور یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ بچہ آگے چل کر کیا بنے گا←  مزید پڑھیے

ڈاکٹرسہیل کی سوانح حیات/تبصرہ:صادقہ نصیر

ڈاکٹرسہیل ایک ایسی قد آور شخصیت ہیں جن کی کسی تحریر ’ کتاب یا تخلیق پر اپنی رائے کا اظہار کرنا اسی طرح مہماتی کرشمہ ہے جس طرح ان کی تحریریں، کتب، اور دیگر تخلیقات بذات خود تخلیقی مہماتی کرشمے ہیں۔←  مزید پڑھیے

اس ماہ کی ڈاک۔۔آغرؔ ندیم سحر

آج کا کالم کچھ کتابوں سے سجاؤں گا’ایسی کتابیں جو رواں ماہ ڈاک سے  موصو ل ہوئیں ۔آج صرف تین کتابوں کا ذکر کروں گا’ایک سنجیدہ شعری مجموعہ اور دو مزاح نامے۔ ←  مزید پڑھیے

ناشروں کا ڈی این اے۔۔عامر حسینی

50 کتابوں کا ایک مصنف مجھے کل کہنے لگا کہ اُس نے تین ناشر بدلے مگر ایسے لگا نام مختلف تھے ڈی این اے ایک ہی تھا ۔ سب کتابوں کے مسودے قبضے میں آنے سے پہلے “جیسے تھے” کتابیں←  مزید پڑھیے

یا مُظہِرالاقبال۔۔کبیر خان

چند دِن اُدھر کا ذکر ہے، ہم نے لاہور کے سماگ سے اپنی بیگم کے سہاگ کو مردانہ وارکھینچ دھروکرلا جامشورو کی ریتلی ہوا میں پٹخا ہی تھا ، سانسیں ابھی تک بے قابو اور سماعتیں ہنوز بے ترتیب ہی←  مزید پڑھیے

کتاب ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

ایک استاد صاحب کا سنہری فرمان ہے کہ ٹھوس/ کاغذی کتاب گویا کہ ایک جسم رکھتی ہے جبکہ برقی کتاب اپنی ماہیت میں بے جسم ہے، اسی بنا پر مطالعہ ہمیشہ کاغذی کتاب کا کرنا چاہیے کہ جسم کی حرارت←  مزید پڑھیے

عورت ہو ں نا۔۔عارفہ شہزاد/ تبصرہ :رابعہ الرَبّاء

" عورت ہو ں نا۔۔۔" چند ما ہ قبل یہ کتا ب ملی ، لکھا تھا ‘‘ پیاری رابعہ کے لئے،، ۔ دیکھ کر ایک لمحہ کو خاموشی میرے اندر طو اف کر نے لگی ۔ خو د کلامی سی ہو ئی‘‘ عارفہ سے مجھے کم از کم یہ امید نہیں تھی۔ جس عارفہ کو میں جا نتی تھی ، وہ تو ایسی نہیں تھی۔  ←  مزید پڑھیے

یک سنگھے- ہاروکی مورا کامی/تبصرہ:ربیعہ سلیم مرزا

جو ہم سوچتے ہیں،یا لکھتے ہیں، وہ انہی خیالوں کی کاپی پیسٹنگ ہے جو اس سے پہلے سوچے جاچکے ہیں ۔ المیے اور خوشیاں ہر خطے کے سماجی رحجان کی وجہ سے مختلف تو ہو سکتے ہیں،مگر لکھنے والوں کے←  مزید پڑھیے

کتاب اسلامی شخصیت(جلد:دوم)۔۔رعنا خان رانا

وہ جو امن سے نوازا گیا/ تحفظ عطا کیا گیا (المُسْتَأْمِن) “مُسْتَأْمِن” وہ کہلاتا ہے جو سلامتی (امن) کا متلاشی ہے۔ یہ ایسا شخص ہے جوکسی دوسرے وطن یا دیارمیں سلامتی کے ساتھ داخل ہوتا ہے یعنی وہ جو دیار←  مزید پڑھیے

لایموت: ایک خود نوشت۔۔راشد شاز/مبصر:محمد ارشد

پروفیسر راشد  شاز کا شمار  ان روایت شکن مصنفین میں ہوتا ہے جو مشہور و مقبول ہیں  اور  متنازع و مطعون بھی۔ انہیں عام ڈگر پر چلنا قطعاً پسند نہیں۔ اپنی خود نوشت لایموت لکھتے ہوئے بھی شاز صاحب نے←  مزید پڑھیے