محبت، - ٹیگ

غزل۔۔رؤف الحسن

خیال میں صورت ِیار بھی نہیں اور دل کو تیرا انتظار بھی نہیں اک میری نگاہ ہے نگاہِ اداس اک جلوؤں کا تیرے شمار بھی نہیں وہ چاہ ہی نہیں اور ہو بھی تو اب ترے چاہنے پہ مجھے اعتبار←  مزید پڑھیے

محبت کی نفسیات(قسط2)۔۔عارف انیس

یہ جو محبت ہے! بس ،دو تین سو برس پہلے کی بات ہے! محبت پر بات شروع ہوئی ہے تو جھیل میں پہلا پتھر پھینکتے ہیں۔ محبت کی باقی اقسام پر بھی بات ہوگی مگر پہلے “رومانوی محبت” سے نبٹتے←  مزید پڑھیے

سُوکھے گلاب (اختصاریہ)۔۔شاہد محمود

سوکھے گلاب ۔۔۔ آنکھیں نم کرنے کو کافی ہوتے ۔۔۔۔ سپائن انجری کی وجہ سے وہیل چیئر پر ہوں تو کہیں آ جا نہیں سکتا تو بیگم کسی دن پارک واک کے لئے گئیں تو واپسی پر میرے لئے گلاب←  مزید پڑھیے

واماندگئِ شوق تراشے ہے پناہیں۔۔عاصم کلیار

عمرِ رفتہ کے اوراق پلٹنے کی زندگی نے کبھی مہلت ہی نہیں دی، خود سے ہمکلام ہونے کی کبھی فرصت ملی بھی تو ہمسفروں سے بچھڑ جانے کا خوف،راستہ بھٹکنے کا اندیشہ،بغیر زادِ راہ کے اَن دیکھی منزلوں کے سفر←  مزید پڑھیے

خدا اور محبت۔۔محمد نوید عزیز

انابیہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنا تفصیلی جائزہ لے رہی تھی۔ کانوں میں پرل کے ٹاپس پہنے، کلائی میں نازک سا سلور بریسلٹ  ، سلک کا ہلکے پنک کلر کا ڈوپٹہ اوڑھا جو کہ پھسل کر دوبارہ اس کے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط28)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ایک ڈر پوک دبّو اور سہمے سہمے چہرے والی بیوی کی خواہش کبھی کبھار اُس کے سینے میں اُس وقت مچلتی تھی جب طاہرہ زندہ تھی اور کلب میں برج کھیلتے۔پینے پلانے یا اپنی کسی گرل فرینڈکے ساتھ کسی ہوٹل←  مزید پڑھیے

محبت کو کس انسان کی تلاش رہتی ہے؟۔۔میر افضل خان طوری

یہ وہ سوال ہے جس کے جواب کی  ہر انسان کو جستجو رہتی  ہے۔ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کیلئے ہمیں اپنے آپ سے کچھ سوالات کرنے ہوں گے۔ ہمیں اپنی ذات کا تجزیہ کرنا ہوگا۔ ہمیں خود سے پوچھنا←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط26)۔۔۔سلمیٰ اعوان

رحمان کے دونوں بچے چھٹیاں گذارنے گھر آرہے تھے۔رات کو کھانا کھاتے ہوئے اُس نے کہا۔ ”بی ہومز کی پرنسپل کا خط آج آفس آیا تھا۔بچے درگا پُوجا کی چھٹیاں گذارنے کل دو بجے آرہے ہیں۔لیکن ایک مسئلہ درمیان میں←  مزید پڑھیے

ایک پرانا خط کھولا انجانے میں ۔۔اسماء مغل

کچھ روز سے خاموشی شام و سحر کا احاطہ کیے ہوئے ہے،اور اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگا لو کہ تم سے بھی کچھ کہنے کو لفظ میسر نہ آئے۔تم روبرو رہے،اور میں تمہیں دیکھتی رہی۔اس خاموشی←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط21)۔۔۔سلمیٰ اعوان

ماں کوئی گھنٹہ بھر سے وقفے وقفے سے اُسے آوازیں دئیے جا رہی تھی۔ ”اُٹھ نا پُتر۔ تیرے انتظار میں کب سے بیٹھی ہوں تو ناشتہ کرے تو کسی اور کام میں لگوں۔ ابھی مجھے ہانڈی لینے بازار بھی جانا←  مزید پڑھیے

محبت ایک ‘ اور عنوان ہزاروں۔۔عاصمہ حسن

محبت پر بہت کچھ لکھا گیا ‘ شاعری کی گئی لیکن سب نے اس کو اپنے لفظوں میں بیان کیا اپنی سوچ کے مطابق ‘ یا اپنے تجربے کی بنیاد پر لیکن آج تک اس کی کوئی مفصل تعریف بیان←  مزید پڑھیے

لاک ڈاؤن کے دنوں کی محبت ۔۔ڈاکٹر حبیب الرحمن

کہنے لگی کورونا سے پہلے بھی میری محبت ہجر کے رنگوں سے رنگی ہوئی تھی۔۔۔ ہجر کے بھی رنگ ہوتے ہیں بھلا۔۔۔۔میں اس کے ماتھے کو چومتی ہوئی لٹ کو دیکھتے ہوئے بولا ہوتے ہیں۔وہ اپنا ہاتھ ٹھوڑی کے نیچے←  مزید پڑھیے

وہ کہتا،مفتی بڑھاپا لاہور میں گزاریں گے۔۔اسد مفتی

کسی شخص کے بارے میں یہ کہہ دینا کہ وہ مر گیا ہے،بے حد آسان بات ہے،لیکن ایک یار،فنکار،اور عظیم انسان کے بارے میں اُس کی موت کا یقین کوئی آسان مرحلہ نہیں،بیتے ماہ و سال کی لوح پر سعید←  مزید پڑھیے

جو چلا گیا مجھے چھوڑ کے۔۔محمد اقبال دیوان

(مہمان تحریر) وضاحت: ہم نے یہ کہانی انسٹاگرام پر# quarantinestories @humansofnyکے ہیش ٹیگ کے سائے تلے انگریزی میں پڑھی۔ ایک کیفیت میں اسے لکھا سو بقول جگرمرادآبادی ع عشق کی داستان ہے پیارے میرا نام کیا ہے اس کی چنتا←  مزید پڑھیے

احمد شمیم کی وجہء شہرت۔۔ساغر جاوید

آزادی کے ان ساٹھ برسوں میں شاعری پر جو باتیں ہوئی ہیں ان میں جس نظم کو ادبی مباحث میں سب سے زیادہ  جگہ ملی، اس کے لکھنے والے ترقی پسند نظم نگار تھے اس کی واضح وجہ یہ بھی←  مزید پڑھیے

محبت شیشے سی۔۔رمشا تبسم

پاؤں تک لمبے کالے فراک میں آہستہ سے چلتی ہوئی وہ کھڑکی کے پاس رُک کر چاند کو  دیکھنے لگی۔چاند کی روشنی میں اسکے چہرے پر پڑی انتظار کی لکیریں واضح تھیں۔اسکے چہرے پر بکھری زلفیں ہوا سے لہرا رہی←  مزید پڑھیے

محبت۔۔محمد اسلم خان کھچی

سیاست پہ لکھتے لکھتے ایک تھکن کا سا احساس ہونے لگا ہے۔۔۔ وہی روز  کی فرسٹریشن ،وہی روز کی لعن طعن۔ سوچا کوئی اور موضوع تلاش کیا جائے۔ بہت سوچ بچار کے ایک ایسا موضوع تلاش کیا ہے جو میری←  مزید پڑھیے

ایک میٹر کے سمندر۔۔ حبیب شیخ

چاروں اطراف ہُو کا عالم تھا۔ صبح کاذب کے اندھیرے اور کہر میں سب چھپا ہوا تھا۔ شلوار قمیض میں ملبوس عدنان کمبل میں ٹھٹھرتا ہوا ،کچھ ٹھوکریں کھا کر ایک جگہ پہنچ کر رک گیا۔ “مجھے معاف کر دو۔←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط3)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اب ایسی بھی کوئی بات نہ تھی کہ وہ اپنی اِس گھبراہٹ اور بے چینی کو جویوں بیٹھے بٹھائے تپ ملیریا کی طرح یکدم اُس پر چڑھ دوڑی تھی کے پس منظر سے ناواقف تھا۔ ٹھنڈے پانی سے لبالب بھرے←  مزید پڑھیے

گھروندا ریت کا(قسط2)۔۔۔سلمیٰ اعوان

اپنے گھر کے بیرونی تھڑے پر بیٹھا اور وہاں محفلیں سجاتا اب وہ اچھا نہیں لگتا تھا۔ ایک تو اُس نے تاڑ جتنا قد نکال لیا تھا۔ دوسرے اب وہ کوئی ارمنی ٹولہ ہائی  سکول کے چوتھے پانچویں درجے میں←  مزید پڑھیے