خدا، - ٹیگ

ہو رہا ہے جہانِ نو پیدا ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی

جس دور سے ہمارے اجداد نے اپنی کہانیاں اور رودادِ زندگی کے خاکے غاروں کی دیواروں اور پتھروں پر بنانے شروع کئے، گویا کہ وقت کی سوئی کے ناکے سے تہذیب و فن کا دھاگہ گزارنے کی سعی کر رہے←  مزید پڑھیے

آفات ارض و سماء: خداؤں کی کارستانیاں اور انسانی کمالات۔۔قیصر عباس فاطمی

قدرت کے حسین اور دلچسپ مناظر میں کچھ واقعات جو کبھی کبھار رونما ہوں، یا جو عام طور پرانسانوں کے لیے منفی نتائج کا سبب بنیں، اور انسان ان کی علت کو جاننے میں علمی طور پر ناکام ہو جائے،←  مزید پڑھیے

سائنس اور خدا۔ اندھی تقلید اور انسانی ریوڑ۔۔علیم احمد

سائنسی رجحان رکھنے والے مذہبی طبقے کا خیال ہے کہ سائنس کا مطالعہ آپ کو وجودِ باری تعالیٰ کے عقلی ثبوت دیتا ہے اور نتیجتاً آپ کا ایمان پختہ ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب الحاد پرست طبقہ ٹھیک اسی سائنسی←  مزید پڑھیے

شکایت، شکوہ، صبر و شکر اور صرف ایک خدا۔۔حسان عالمگیر عباسی

جب کسی کو ہیرو بنانا ہو تو غلطیاں تصور میں نہیں لائی جاتیں اور جب کسی کو برہنہ کرنا ہو تو اچھائیاں افادیت کھو بیٹھتی ہیں۔ ہر ایک کی اپنی دنیا ہے, کسی کی چھوٹی ہے اور کئیوں کی آسائشیں←  مزید پڑھیے

یہ ایلچی گری لفظوں کی۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

یہ ایلچی گری لفظوں کی (ایک) یہ ایلچی گری مجھ سے نہیں ہوتی، مولا یہ ایلچی گری لفظوں کی جلتی مشعل سی میں کتنے برسوں سے اس کو اٹھائے پھرتا ہوں شروع ِ عمر سے اب تک بلند و بالا←  مزید پڑھیے

مجھے پڑھنے والوں کی آنکھیں سلامت رہیں۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

دعا بارگاہ حقیقی میں ہے یہ مری شاعری پڑھنے والوں کی آنکھیں سلامت رہیں تا کہ پڑھتے رہیں و ہ ! سبھی پڑھنے والوں کے شوق وتجسس کی خاطر مری طبع ِ تخلیق اُن کے لیےموتیوں کی یہ لڑیاں پروتی←  مزید پڑھیے

خدا اور محبت۔۔محمد نوید عزیز

انابیہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنا تفصیلی جائزہ لے رہی تھی۔ کانوں میں پرل کے ٹاپس پہنے، کلائی میں نازک سا سلور بریسلٹ  ، سلک کا ہلکے پنک کلر کا ڈوپٹہ اوڑھا جو کہ پھسل کر دوبارہ اس کے←  مزید پڑھیے

خدا اور انسان۔۔سانول عباسی

خدا ہے یا نہیں اس کے حق میں ان گنت دلائل دئے جا سکتے ہیں اور اُن دئے گئے دلائل کا اسی شدومد کے ساتھ رد بھی کیا جا سکتا ہے یعنی جتنے دلائل ہیں ان سے کہیں زیادہ رد←  مزید پڑھیے

آیا صوفیہ۔۔عائشہ احمد

استنبول ، ترکی کا سابقہ گرجا گھر اور موجودہ مسجد آیا صوفیہ یعنی (حکمت خداوندی) مشرقی آرتھوڈوکس کا سابقہ گرجا گھر ہے جسے 1453 میں فتح قسطنطنیہ کے بعد عثمانی ترکوں نے مسجد میں تبدیل کر دیا تھا۔ سن 1935←  مزید پڑھیے

تمہیں خدا پر بھروسہ نہیں۔۔حبیب شیخ

نیلے شلوار قمیض میں ملبوس درمیانے قد اور موٹے خد و خال کا حامل امجد کافی عرصے سے موقع کی تلاش میں عتیق صدیقی کی طرف دیکھ رہا تھا لیکن وہ اخبار پڑھنے میں گم  تھا۔ ’کیا بات ہے امجد؟ ←  مزید پڑھیے

اب صنم بھی ایمان خراب کرنے لگے۔۔ذیشان نور خلجی

یہی کوئی بائیس پچیس کے سن میں ہوگا۔ اصل نام تو جانے کیا تھا، یار لوگ اسے بھولا کہتے تھے لیکن باتیں وہ بڑی سیانی کیا کرتا تھا۔ بھولا چونکہ پیدائشی مسلمان تھا اور رہتا بھی دار الاسلام میں تھا←  مزید پڑھیے

سکون :کائنات کا اَزلی اصول۔۔شکیل طلعت

سکون ! کائنات کا ایسا بھید ہے جو عام ذہنوں پر منکشف نہیں ہوتا۔ اسے پانے کے لئے انسان نے کیا کیا نہیں کھوجا، مذہب ایجاد کیا کہ سکون پاسکے، مراقبہ ، یوگا، سائنسی تراکیب ، ادویات ، سب سکون←  مزید پڑھیے

نقصان۔۔مختار پارس

بڑا نقصان ہو گیا۔ خدا نے وقت کی قسم کھا کر احساس دلایا مگر ہم سیلِ رواں کو روک نہ سکے۔ آبِ رواں پر سوار ملاحوں کا بہتے پانیوں پر اختیار نہیں۔ زمانے کی رفتار کو روکنا تو ممکن نہیں←  مزید پڑھیے

” رب” کو کسی بھی طرح راضی کریں۔۔۔جمال خان

حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک دن جنگل میں جارہے تھے ،انہوں نے ایک چرواہے کی آواز  سنی،وہ کہہ رہا تھا،”اے میرے جان سے پیارے خدا،تو کہاں ہے؟۔۔میرے پاس آ،میں تیرے سر میں کنگھی کروں،جوئیں نکالوں،تیرا لباس میلا ہوگیا ہے،اُسے دھوؤں،تیرے←  مزید پڑھیے

یقین ۔۔مختار پارس

مذہب تو محبت، زہد، ہدایت اور بنیاد کا مخفف ہے۔ مذہب کا فلسفہ نہ سمجھنے والا بت پرست بن جاتا ہے۔ بت پرست کی سب سے بڑی نشانی یہ ہے کہ وہ خدا سے زیادہ خود کو دیکھتا ہے۔ وہ←  مزید پڑھیے

کیا خدا قرنطینہ میں ہے؟۔۔انعام رانا

گزشتہ سال بالآخر وہ ہو گیا کہ جس سے ساری عمر میں بچتا رہا تھا۔ بچپن سے ماں نے سمجھایا ہوا تھا کہ تجھے چکن پاکس (لاکڑا کاکڑا) نہیں نکلا، سو ہمیشہ احتیاط کرنا اور میں کرتا رہا، مگر پھر←  مزید پڑھیے

نگاہ۔۔مختار پارس

نہ خواب میرے،نہ حقیقتیں۔۔ مگر دونوں کا دیکھنا فرض ۔ خواب نہ دیکھیں تو سراب تک دکھائی نہیں دیتا اورحقیقت سے آنکھیں چرائیں تو وقت کا سیلاب رہنے نہیں دیتا ۔ نہ سوال کی کوئی حیثیت ہے اور نہ جواب←  مزید پڑھیے

خواجہ سرا کا خط بنام خدا۔۔۔اُسامہ ریاض

اے رحیم مولا ! تارکول کی سڑکوں پر ننگے پاؤں چلتے ہوئے وحشی اپنی اکڑی ہوئی گردنوں کو لیے مجھ پر جھپٹنے کو تیار کھڑے ہیں اور میں ان کے بیچ زندگی کی تہمت اپنے ناتواں کندھوں پر اُٹھائے تیرے←  مزید پڑھیے

سماجی نوحہ۔۔سانول عباسی

خدایا تیری دنیا میں کسی انسان کی وقعت نہیں کوئی عجب وحشت سی چھائی ہے پَڑھے لکھّوں کی کثرت ہے فقط انساں  نما تو ہیں مگر انسانیت سے دور ہیں سارے بہت سی ڈگریوں کا بوجھ لادے اپنے کاندھوں پر←  مزید پڑھیے