مجھے تقریبا ً ہر دوسرے ہفتے موٹروے کا سفر کرنا ہوتا ہے‘کبھی آبائی شہر ماں کی قدم بوسی کے لیے حاضری دینی ہوتی ہے اور کبھی مشاعروں اور تقریبات کے سلسلے میں کسی نہ کسی دوست کا بلاوا آ جاتا← مزید پڑھیے
امریکہ میں مقامی آبادی نووارد آبادکاروں کا مقابلہ نہیں کر سکی۔ ہندوستان یا مشرقِ وسطٰی کے برعکس یہاں پر بڑے سوشل سٹرکچر اور طاقتور حکمران نہیں تھے۔ صدیوں جاری رہنے والی جنگ میں بحرِ اوقیانوس کے پار سے آنے والے← مزید پڑھیے
وہ میرے نزدیک بہترین شرابی ہے ،لیکن اس کے ساتھ مصیبت یہ ہے کہ جب وہ پی لیتا تو سارا ماحول اس کے خلاف ہوجاتا ہے۔ حالانکہ اس دن موسم صاف تھا مگر جیسے ہی وہ پی کے نکلا تو← مزید پڑھیے
بادل کے اک ٹکرے نے سورج کو ڈھانپ لیا تھا۔ میرے سامنے کھڑے دیو ہیکل سٹیل کے ڈھانچے سے تانبا اتر چکا تھا۔ جہاں میں کھڑا تھا میرے بالکل ساتھ “ٹرمینل A1” کا سائن بورڈ لگا تھا۔ سورج گہنایا گیا← مزید پڑھیے
یہ چند سال قبل کا واقعہ ہے۔ میں دفتر سے واپسی پر رشید کی فروٹ شاپ پر رُکا ،جہاں رشید حسب ِمعمول چوکس کھڑا فروٹ فروخت کر رہا تھا۔ اکثر و بیشتر رشید سے فروٹ خریدنے کی وجہ سے ایک← مزید پڑھیے
امریکہ سے آنے والا ایک بحری جہاز 1785 کے موسمِ سرما میں لیورپول کی بندرگاہ پر لنگرانداز ہوا۔ ہزاروں جہاز آتے رہے تھے۔ چاول، تمباکو، لکڑی، فر، انڈگو وغیرہ امریکہ سے درآمد ہوتے رہے تھے۔ لیکن اس بحری جہاز میں← مزید پڑھیے
لوگوں سے محبت کرنے میں اور انکی ذات کا عادی ہونے میں بہت فرق ہے۔ جب آپ محبت کرتے ہیں یہ اتنا نقصان دہ نہیں ہے جتنا عادی ہونا ہے۔ عادی ہونا ایک علت ہے ۔ اور علت ہمیشہ آپکو← مزید پڑھیے
افغان میڈیا کے مطابق ہر روز قریب تین سے چار سو ‘پاکستانی جنگجو’ افغان آرمی کے ہاتھوں مارے جا رہے ہیں۔ مگر (دکھائے نہیں جاتے) ، یہ حقیقت ہے کہ مختلف اوقات میں پاکستان سے لوگ افغانستان گئے ہوں گے← مزید پڑھیے
نوٹ: یہ سلسلہٴ مضامین پروفیسر ڈینس ہرمن کے مقالے کا اردو ترجمہ ہے جو اقساط کی شکل میں پیش کیا جاۓ گا۔اصلی نسخے اور حوالہ جات کو دیکھنے کیلئے اس لنک کو کلک کریں: Akhund Khurasani and the Iranian Constitutional← مزید پڑھیے
بدھو کے نام سے معروف یہ مقبرہ شالامار باغ کے قریب اور انجینئرنگ یونیورسٹی کے بالمقابل واقع ہے۔ لاہور کے بیشتر مقابر کی طرح یہ مقبرہ بھی متنازع ہے۔ عموماً یہ مقبرہ بدھو سے منسوب کیا جاتا ہے۔ اس حوالے← مزید پڑھیے
یہ مہوٹہ موہڑہ کا جنگل نما سنسان و ویران علاقہ تھا۔جنگلی جانور بہت بے چین تھے۔ درندے خوفزدہ تھے اور وحشی حیوان سراسیمگی کے عالم میں تھے۔ ایک ہُو کا عالم تھا۔۔۔جنگل کے پورے نظام پر سکوت و ہیبت طاری← مزید پڑھیے
کچھ لوگ اتنے ماہر ہوتے ہیں کہ ایک جھوٹ پر پوری عمارت تعمیر کر دیتے ہیں اور ہم پاکستانی معصوم عوام ذہانت کو استعمال کرنے کا تکّلف تک نہیں کرتے، کہیں غلطی سےاسکا زنگ اتر ہی نہ جائے۔ اور با← مزید پڑھیے
ویسے تو پاکستان کے نظام ِ انصاف بارے تنقید بچپن سے سنتے آ رہے ہیں لیکن جب بھی کوئی دل دہلا دینے والا جرم وقوع پذیر ہوتا ہے، تو اس تنقید میں شدت آ جاتی ہے۔ چند دن تک مین← مزید پڑھیے
انسان نے ہمیشہ روپے سے محبت کی اور بے حساب کی ،لیکن روپے نے انسان سے کبھی محبت نہیں کی۔ ۔اس یکطرفہ محبت میں روپیہ ہمیشہ جیتا اور انسان ہمیشہ ہارا۔ پھر بھی روپے ہی کو چاہتا رہا،کیونکہ اسکے ناقص← مزید پڑھیے
ہندوستان، افریقہ، اناطولیہ سے زیادہ پرکشش علاقے جنوبی امریکہ اور جزائر غرب الہند تھے۔ یہاں کی زمین کپاس اگانے کے لئے موافق تھی۔ یہاں کے سینکڑوں جاگیرداروں نے کپاس اگانا شروع کر دی۔ بارباڈوس میں چیونٹیوں نے یہاں کی روایتی← مزید پڑھیے
دنیا نے جوں جوں ترقی کی ہے ویسے ہی سہولیات کے ساتھ ساتھ مسائل بھی بڑھے ہیں، ایک زمانہ تھا جب نوجوانوں کو ذہنی اور جسمانی میچور ہونے میں وقت لگتا تھا، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی، معلومات کا فقدان اس← مزید پڑھیے
سوال : نئے قاری کی پیدائش تک غزل کی موجودہ سائیکی اور گائیکی پر اکتفا نہیں کرنا پڑے گا ۔؟ آنند: جواب: نئے قاری کی پیدائش ؟قاری، سامع، نقاد (نقاد بھی تو محولہ اولیں گروپ سے ہی اُبھرتے ہیں )ہم← مزید پڑھیے
“کپاس کو غلامی کے ادارے کے بغیر اگانے کی کوششیں بڑی حد تک ناکام رہی ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ انسان لباس پہن سکیں تو مجھے کوئی ایسی صورت نظر نہیں آتی کہ غلامی کو ختم کیا جا سکے”۔← مزید پڑھیے
ہر سال جب ہمارے تقریباً بارہ سو ممبران سینٹ،قومی وصوبائی اسمبلی کے آثاثہ جات کی تفصیلات الیکشن کمیشن کے زریعے یا پھر ایف بی آر ڈرایکٹری جو کہ عموما ًسالوں بعد ہی چھپتی ہے کہ ذریعے منظر عام پر آتی← مزید پڑھیے
دیکھنے اور سننے میں ہم چھوٹے تو نہیں مگر شمار بڑوں میں بھی نہیں ہوتے۔گو کہ زندگی کی پینتیس بہاریں (اوسط پاکستانی عمر کے دو حصے) ہم دیکھ چکے اور وقت کے ساتھ ساتھ عقل کی سیڑھیاں چڑھ گئے مگر← مزید پڑھیے