پروفیسر رضوانہ انجم کی تحاریر

بار ِوفا۔۔پروفیسر رضوانہ انجم

مہرو نے زبیر احمد کی بریل پر پھسلتی سانولی انگلیوں کو دلچسپی سے دیکھا۔وہ تیس نابینا بچوں کو لائبریری کے پیریڈ میں بریل سے کہانی پڑھ کر سنا رہا تھا۔درمیانے سائز کے کمرے میں اسکی مردانہ آواز کا اتار چڑھاؤ،جملوں←  مزید پڑھیے

جنت کے مکین–پروفیسر رضوانہ انجم

پہاڑوں کے سینے پر سر سبز روئیدگی  حیات بن کر سانس لے رہی تھی۔ڈھلانوں پر دھان کے کھیت کچے چاول کی خوشبو سے مہک رہے تھے۔مون سون ہوائیں سیاہ مدھ بھرے بادلوں کے بوجھ سے وادیوں میں دھیرے دھیرے اُتر←  مزید پڑھیے

نیگیٹو مارکیٹنگ۔۔پروفیسر رضوانہ انجم

ایم اے اکنامکس پارٹ ون میں بیس لڑکیاں اور پندرہ لڑکے تھے۔ان میں سے پندرہ کے پندرہ لڑکوں اور اٹھارہ لڑکیوں کو بوجوہ سر ارسلان سخت ناپسند تھے۔دو لڑکیاں مائرہ اور زارا اس سے متاثر تھیں لیکن بقیہ کلاس فیلوز←  مزید پڑھیے

سرخ گلاباں دے موسم وچ پھلاں دے رنگ کالے؟۔۔پروفیسر رضوانہ انجم

سرخ گلاباں دے موسم وچ پھلاں دے رنگ کالے۔۔۔پھلاں دے رنگ کالے؟ مارچ۔۔۔۔موسم بہار،پھولوں کے کھلنے اور درختوں کے بارآور ہونے کا موسم،تخلیق کا موسم،خالق کی حسین مصوری کی نمائش کا موسم۔۔۔۔ عورت بھی تو تخلیق کار ہے،خالق ہے۔حسن کا←  مزید پڑھیے

فیس بک پر کی جانے والی محبت اور شادیاں ایک نفسیاتی اور سماجی تجزیہ ۔۔پروفیسر رضوانہ انجم

فیس بک ابلاغ اور سماجی واقفیت کا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جس سے کروڑوں لوگ وابستہ ہیں۔اس پلیٹ فارم نے جہاں مختلف قومیتوں،مذاہب،مکاتب فکر اور مفکرین کو نزدیک لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہاں بیشمار نفسیاتی←  مزید پڑھیے

وفا کی تصویرو۔۔پروفیسر رضوانہ انجم

میرے ارمانوں کا لہو تھا اے وطن تیری مٹی کو رنگا جس نے حنا بن کر ,سوچتی ہوں کیسے ہوتے ہیں یہ فولادی انسان جو اپنی جوانی کے رنگین دنوں اور حسین راتوں کو،اپنے مہکتے ہوئے جذبوں کو،بے ترتیب ہوتی←  مزید پڑھیے