• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فیس بک پر کی جانے والی محبت اور شادیاں ایک نفسیاتی اور سماجی تجزیہ ۔۔پروفیسر رضوانہ انجم

فیس بک پر کی جانے والی محبت اور شادیاں ایک نفسیاتی اور سماجی تجزیہ ۔۔پروفیسر رضوانہ انجم

فیس بک ابلاغ اور سماجی واقفیت کا ایک بہت بڑا پلیٹ فارم ہے جس سے کروڑوں لوگ وابستہ ہیں۔اس پلیٹ فارم نے جہاں مختلف قومیتوں،مذاہب،مکاتب فکر اور مفکرین کو نزدیک لانے میں اہم کردار ادا کیا ہے وہاں بیشمار نفسیاتی و سماجی مسائل اور اخلاقی گراوٹوں کو بھی جنم دیا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں جہاں ابھی بھی لڑکی اور لڑکے کے درمیان کھلم کھلا محبت کو پسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا جاتا وہاں فیس بک نے کم عمر،ناپختہ،ذہنی ابتری اور نا آسودگی کا شکار لڑکے اور لڑکیوں کو ایک ایسی مصنوعی اور خفیہ دنیا کا راستہ دکھا دیا ہے جہاں وہ ناصرف صنفِ مخالف تک رسائی پا سکتے ہیں بلکہ جذباتی گھٹن سے با آسانی نجات حاصل کر سکتے ہیں۔

tripako tours pakistan

گزشتہ کچھ عرصے سے فیس بک اور دیگر ذرائع ابلاغ پر ایک نعرے کو بے حد پروموٹ کیا جارہاہے اور وہ ہے “زنا نہیں نکاح”۔۔یہ نعرہ بظاہر بے حد منطقی ہے لیکن اس میں سب سے بڑا ابہام یہ ہے کہ نکاح کے لیے لڑکے اور لڑکی کی عمر کا کوئی تعین نہیں کیا گیا، لہذا سولہ سال سے بیس سال تک کے لڑکے لڑکیاں بھی اس نعرے پر ایمان لائے بیٹھے ہیں۔مجھے اس نعرے میں نکاح پر بالکل اعتراض نہیں ہے بشرطیکہ  لڑکا اور لڑکی شادی شدہ زندگی کے تقاضوں اور ذمہ داریوں کو خود پورا کرنے کے قابل ہوں اور والدین پر بوجھ نہ بنیں۔ہمارے دین میں واضح ہدایت موجود ہے کہ جو لوگ شادی کی عمر کو پہنچیں لیکن کسی بھی وجہ سے ان کی شادی نہ ہو پارہی ہو تو وہ اپنے نفس کو تھام کر رکھیں،یہ اجازت کہیں نہیں ہے کہ لڑکی یا لڑکا کورٹ شپ کے ذریعے از خود رشتہ ڈھونڈتے پھریں, ادھر ادھر منہ ماری کریں اور پھرماں باپ سے شادی کی ضد لگا کر بیٹھ جائیں۔

ستم بالائے ستم میڈیا اور فیس بک نے ان کم عمر شادی شدہ جوڑوں کی محبت،افئیر اور شادی کو چسکے لے لیکر پروموٹ کیا،انکے انٹرویو دکھائے گئے،ایسے ایسے شرمناک سوال پوچھے گئے کہ یہ سب کیسے ،کب اور کیونکر ہوا؟؟کس نے پہلے اظہار محبت کیا؟لڑکے نے پروپوز کیسے کیا؟دونوں نے گھر والوں کو کیسے راضی کیا؟؟وغیرہ وغیرہ۔زمانہ طالب علمی میں عشق فرمانے کے بعد بضد ہو کر شادی کرنے والے ان جوڑوں کی عمریں 18 تا 25 سال تھیں اور ان میں لڑکیاں لڑکوں سے 2 تا 7 برس بڑی تھیں۔

اگر ایسی شادیاں روایت بن گئیں تو ہمارے بچوں کی اکثریت میٹرک اور ایف۔اے کے امتحان کی تیاری کرنے کی بجائے “نکاح”کی  تیاری کرتی نظر آئے گی۔کیا زنا سے بچنے کا یہی طریقہ سوجھا ہے ہماری نوجوان نسل کو؟؟کیا ضبط نفس ناقابلِ عمل ہوگیا ہے ہمارے نوجوانوں کے لیے؟؟یہ خون کا قصور ہے یا تربیت کا؟؟یا دونوں کا؟؟

میں یہاں ان شادیوں کے ایک اور نفسیاتی پہلو کی نشاندھی کرنا چاہتی ہوں اور وہ یہ کہ ان میں لڑکیوں کی عمر لڑکوں سے 2 تا 7 سال زیادہ تھی۔یعنی “کم عمر لڑکوں اور ان سے کئی سال بڑی عمر کی لڑکیوں”کے درمیان افئیر اور شادیاں زیادہ پروان چڑھ رہی ہیں۔ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ آئیے اسکا نفسیاتی اور سماجی تجزیہ کریں۔۔

لڑکیاں لڑکوں کی نسبت جلد بلوغت کو پہنچتی ہیں،کم عمری سے صنف مخالف کی کشش کو محسوس کرتی ہیں۔لبھانے،چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش لڑکی میں لڑکے کی نسبت کہیں زیادہ ہوتی ہے۔با الفاظ دیگر لڑکیاں ان معاملوں میں لڑکوں سے زیادہ “زیرک” ہوتی ہیں۔لڑکی ہو یا لڑکا جب وہ ہارمونل،طبعی اور جذباتی تبدیلیوں سے گزر رہے ہوتے ہیں اسوقت انھیں اپنے والدین اور دیگر گھر والوں کی بھرپور توجہ،محبت اور دوستی کی ضرورت ہوتی ہے۔جو اس نازک دور میں انھیں اخلاقی طور پر مضبوط رکھتی ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ والدین کی اکثریت بچوں کی جذباتی ضروریات کو نہ سمجھتی ہے اور نہ اہمیت دیتی ہے ۔ لڑکوں کو اس دور میں والدین اور خصوصاً والد کی دوستی،کمپنی،ڈائیلاگ اور رہنمائی کی بےحد ضرورت ہوتی ہے۔اگر انھیں یہ محبت اور توجہ حاصل نہ ہو،ماں باپ کے درمیان ناچاقی ہو،گھر کے ماحول میں تناؤ ہو،بات بے بات لڑکے کی عزت نفس مجروح کی جاتی ہو تو وہ ذہنی دباؤ اور جذباتی تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ایسا لڑکا پھر گھر سے باہر کسی غمخوار،دوست بلکہ محبوبہ کو تلاش کرتا ہے جو اسکی جذباتی ضروریات پوری کر سکے۔اس دوران اگر اسکا ٹاکرا ایسی لڑکی سے ہو جائے جو اس سے عمر میں چند سال بڑی ہو،لڑکے کے حالات، جذباتی کیفیت اور ضرورت کو تاڑ گئی ہو اور خود بھی ناصرف جذباتی دور سے گزر رہی ہو بلکہ ضرورت رشتہ کا اشتہار بھی ہو تو پھر لڑکے کا جذباتی استحصال اور اسے محبت کے جال میں پھانسنا اسکے لیے بالکل آسان ہوتا ہے۔ایک کم عمر لڑکے کے لیے یہ تمیز کرنا بہت مشکل ہوتا ہے کہ اس سے محبت کی جارہی ہے یا اسے مستقبل کے لیے شکار کے طور پر پھانسا جارہا ہے؟

یہاں سوال اٹھتا ہے کہ 24 تا 30 سالہ لڑکیاں خواہ وہ کم تعلیم یافتہ ہوں یا زیادہ تعلیم یافتہ محبت اور پھر شادی کے لیےخود سے کئی برس چھوٹے لڑکے کا انتخاب کیوں کرتی ہیں؟

وہ خود سے دس سال بڑے،میچور اور برسر روزگار مرد پر محبت کا جال کیوں نہیں پھینکتیں؟؟

انھیں ایک میچور مرد سے محبت کیوں نہیں ہو جاتی؟؟

جواب بالکل سادہ ہے۔ایک پختہ عمر مرد کے مقابلے میں ایک کم عمر اور ناتجربہ کار لڑکے کو محبت کا جھانسا دینا آسان ہوتاہے۔ایک گھاگ اور تجربہ کار مرد ان جیسی کئی لڑکیوں کو آزما چکا ہوتا ہے اور ان کی چلتر بازیوں اور مکروں  کو بہت اچھی طرح سمجھتا ہے جبکہ ایک کم عمر لڑکا جذباتی،بھروسہ کرنے والا اور محبت کے تجربے سے ناواقف ہوتا ہے۔اسکے لیے یہ بات انتہائی متاثر کن ہوتی ہے کہ کوئی لڑکی فلمی انداز میں اس سے شدید محبت کرنے لگی ہے۔وہ لڑکا جسے گھر میں ابھی تک بچہ سمجھا جاتا ہو،بات بے بات جسے ڈانٹا ڈپٹا جاتا ہو،جسکی بات اور رائے کی کوئی اہمیت نہ ہو،جسے اپنی پسند کے کام کرنے کا حق بھی حاصل نہ ہو اسے یکدم کوئی لڑکی محبوب کا درجہ دے دے،اسے ایک فرمانبردار بیوی کی طرح نام لیے بغیر مخاطب کرے،اسکے غصے اور ناراضگی کو بھی مصلحتاً ہنس ہنس کر سہہ جائے،اسے رو رو کر یقین دلائے کہ وہ اس سے شدید محبت کرتی ہے،بخار کی کیفیت میں اسکا نام بے اختیار ہو ہو کر پکارتی ہے،اپنے لیے آنے والے اچھے اچھے رشتے لڑکے کی محبت کی خاطر ریجیکٹ کر چکی ہے تو کم مائیگی اور احساس کمتری میں مبتلا مریض محبت لڑکا بھاگ کر کہاں جاسکتا ہے؟لڑکی کا جال اتنا پکا ہوتا ہے کہ وہ چھوٹا سا لڑکا اسے نہ توڑ سکتا ہے اور نہ توڑنا چاہتا ہے۔وہ اس فلمی محبت سے دستبردار ہونے کا سوچ بھی نہیں سکتا کیونکہ پھر وہی گھر کا قید خانہ ہوگا،والدین کی ڈانٹ پھٹکار ہوگی اور جذباتی تنہائی ہوگی۔۔۔ تو کون ہیرو پھر سے زیرو ہونا چاہے گا؟؟

مجھے بہت افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کی ناقدری،اچھے رشتوں کے نہ ملنے،شکل صورت،ذات پات اور سٹیٹس کم ہونے پر لڑکیوں کی تذلیل اور بار بار لڑکے والوں کے ہاتھوں ریجیکشن کی وجہ سے لڑکیاں لڑکوں سے کہیں زیادہ گھاگ،فلرٹ اور خرانٹ ہو گئی ہیں۔ وہ محبت برائے محبت کی بجائے محبت برائے اچھا رشتہ اور اچھا مستقبل کی قائل ہیں۔لہذا جہاں، جب اور جیسے ہی کوئی عمدہ شکار دستیاب ہو۔۔

ناصرف لڑکیاں بلکہ انکے والدین کی بھی پوری کوشش ہوتی ہے کہ بچ کے جانے نہ پائے۔مختصر فیملی،لڑکے کا صاحب جائیداد ہونا اور اپنی پسند کے لیے گھر والوں کی مخالفت مول لینے کا حوصلہ رکھنا اچھے “شکار” کی چنیدہ خصوصیات ہیں۔عمر،تعلیم اور ذات پات کی پھر کوئی اہمیت نہیں ہوتی۔

ایک بیس بائیس سالہ محبت میں مبتلا لڑکا ان “سیاستوں” سے واقف ہی نہیں ہوتا نہ اسے یہ ادراک ہوتا ہے کہ رشتوں کے بازار میں اسکی کیا اہمیت ہے؟اور اسے الو بنانے والی لڑکی نے اسکے لیے اچھے رشتے ریجیکٹ نہیں کیے بلکہ یا تو کوئی ڈھنگ کا رشتہ اسے ملا ہی نہیں اور جو آئے وہ لڑکی کو ریجیکٹ کر کے چلتے بنے۔لڑکی کے لیے اگر متمول گھرانوں کے ڈاکٹر،انجنئیر،پروفیسرز یا بزنس مین کے رشتے آرہے ہوتے تو محبوبہ از خود لڑکے پر لعنت بھیج چکی ہوتی۔

ان حقائق کا ثبوت یہ ہے کہ میڈیا نے جن کم عمر جوڑوں کی شادی کو پروموٹ کیا ان میں لڑکے ناصرف کم عمر اور خوش شکل تھے بلکہ کھاتے پیتے متمول گھرانوں سے تعلق رکھتے تھے۔
میرا سوال یہ ہے کہ۔۔۔۔

ان میں سے کسی بھی لڑکی کو کسی بدصورت،غریب،معزور اور کمتر خاندان کے لڑکے سے محبت کیوں نہیں ہوئی؟

کسی بھی لڑکی نے محبت کے ہاتھوں مجبور ہو کر کسی پسماندہ،معزور اور غریب لڑکے سے شادی کرکے نئی داستان محبت کیوں رقم نہیں کی؟؟؟

یہ کیسی محبت ہے جو باقائدہ ناپ تول کر اور حساب کتاب لگا کر کی جاتی ہے؟؟؟؟

وجہ صاف ظاہر ہے کہ یہ لڑکیاں محبت کی آڑ میں اچھے رشتوں کا شکار کھیلتی ہیں۔ان کی لسٹ پر کوئی ایک نہیں کئی شکار ہوتے ہیں جن میں سے بہترین کا انتخاب کر کے بقیہ محبت کے ماروں کو یہ مختلف بہانوں سے ہری جھنڈی دکھا دیتی ہیں۔شکار ہونے والے لڑکے کے والدین بےبسی سے ہاتھ ملتے رہ جاتے ہیں لیکن لڑکے کی ضد اور لڑکی کے پکے جال کے سامنے ان کی ایک نہیں چلتی۔

میرے ایک بہت قریبی عزیز ناصرف پشتوں سے بڑے جاگیردار ہیں بلکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باعث اعلیٰ عہدوں پر بھی فائز رہے ہیں۔انکے دو ہی بیٹے ہیں۔بڑے بیٹے کو بڑے کروفر سے لاہور وکالت پڑھنے بھیجا گیا۔گھر،ڈرائیور،گاڑی اور خانساماں کا انتظام کیا گیا۔لڑکے کا لاہور میں خطیر رقم کے ساتھ اکاؤنٹ کھلوایا گیا۔لڑکا بمشکل بائیس سال کا تھا۔پہلی مرتبہ گھر سے دور اکیلا رہنے آیا تھا۔کم گو اور شرمیلا تھا۔ماں باپ کی آپس میں بنتی نہیں تھی۔ماں کا زیادہ وقت مصلے پر اور باپ کا ٹورز میں گزرتا تھا۔چھوٹا بھائی اپنی دنیا میں مست تھا۔لڑکا شدید تنہائی کا شکار تھا۔شریف والدین کی اولاد تھا لہذا کسی بری لت میں مبتلا نہیں تھا۔کوئی گرل فرینڈ نہیں تھی۔ماں کے علاوہ کسی عورت کا تصور ذہن میں نہیں تھا۔لاہور آمد پر بدقسمتی سے جس پہلی لڑکی سے ٹاکرہ ہوا وہ “Husband hunter “تھی۔

لڑکی واجبی شکل صورت کی تھی اور عمر میں لڑکے سے 6 سال بڑی تھی۔رشتے کی تلاش میں تھی اور کئی جگہ ناکام کوششیں کر چکی تھی۔جاگیردار کا بڑا،خوش شکل،شریف،شرمیلا اور جذباتی تنہائی کا شکار لڑکا اسے تر نوالہ لگا لہذا لڑکی ہاتھ دھو کر اسکے پیچھے پڑ گئی۔رونا دھونا،قسمیں وعدے،خود کشی کی دھمکیاں،سبھی کچھ آزمایا۔لڑکے پر اس حد تک جذباتی دباؤ ڈالا کہ والدین کی مرضی کے بغیر اور انکی شدید ناراضگی کے باوجود لڑکے نے لڑکی سے کورٹ میرج کرلی۔جب لڑکے کے اکاؤنٹ میں پیسہ ختم ہونے لگا اور دونوں ایک بچے کے والدین بن گئے تو خرانٹ لڑکی اور اسکے والدین نے لڑکے کو اپنے والدین سے معافی مانگنے کا مشورہ دیا۔لڑکے کے والد تو شاید ساری زندگی معاف نہ کرتے لیکن محبت کی ماری ماں نے منت سماجت کر کے والد کو رضامند کر لیا۔یوں سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خرانٹ بہو خاندانی حویلی میں آ بیٹھی۔کچھ عرصے بعد اگلے پلان پر عملدرآمد شروع ہوا اور لڑکے نے بیوی کے اکسانے پر جائیداد میں حصے کا مطالبہ کر دیا۔اس مطالبے کی وجہ یہ بتائی گئی کہ لڑکا بیرون ملک جا کر سیٹل ہونا چاہتا ہے اور خود کچھ بن کر دکھانا چاہتا ہے۔والدین نے لاکھ سمجھایا کہ تمہیں باہر جاکر قسمت آزمانے کی کیا ضرورت ہے؟پوری جاگیر تمہاری ہے۔لیکن لڑکی نے پھر محبت میں اندھے لڑکے کو سبق پڑھایا کہ،”ایسی جاگیر کا کیا فائدہ جسکی ملکیت کے انتظار میں ہم بوڑھے ہو جائیں،لہذا جو لینا ہے ابھی مانگو”۔۔

شدید رسہ کشی اور بدمزگی کے بعد والد اس بات پر رضامند ہوئے کہ بیرون ملک سیٹل کروانے کے اخراجات وہ برداشت کریں گے لیکن اسکے علاؤہ لڑکے کو کچھ نہیں ملے گا۔لڑکا نہایت خود غرضی کا مظاہرہ کرتے ہوے بیرون ملک جا بسا۔بڑے اور لاڈلے بیٹے کی نافرمانی کی بدولت والد کو پہلے ہارٹ اٹیک اور پھر بائی پاس کا سامنا کرنا پڑا لیکن برخوردار پلٹ کر نہیں آئے۔تاحال باہر مقیم ہیں۔وہاں جا کر باپ کے پیسے پر پلنے والے ولی عہد بہادر کچھ بھی بن کر نہ دکھا سکے۔جو پیسہ پاکستان سے لائے تھے وہ برباد کیا،سنا ہے آجکل چھوٹی موٹی نوکریاں کر کے بیوی بچے پال رہے ہیں۔مال ختم اور محبت ختم کا دور شروع ہوچکا ہے اور جلد طلاق کی نوبت آنے والی ہے۔

یہاں پھر ایک سوال اٹھتا ہے کہ ان حالات و واقعات کا اصل ذمہ دار کون ہے؟؟؟
لڑکا؟لڑکی؟یا والدین؟
میرا ذاتی خیال ہے کے تینوں فریق ہی ذمہ دار ہیں۔

لڑکے کا قصور یہ تھا کہ والدین سے لیکر عزیز واقارب اور دوست احباب تک ہر پرخلوص شخص نے اسے سمجھانے کی کوشش کی کہ لوئر مڈل کلاس کی یہ معمولی شکل و صورت کی اور عمر میں چھے سال بڑی لڑکی تم سے محبت کا ڈھونگ رچا کر اپنا مستقبل محفوظ کرنا چاہتی ہے۔لیکن لڑکے کے سر پر عشق کا جو بھوت سوار تھا وہ کسی دلیل سے نہ اترا۔لعنت ہے ایسے عقل وشعور پر جس نے چند ماہ کی مکر و فریب اور ہوس بھری محبت کی خاطر والدین کی بائیس سالہ بے غرض و بے لوث محبت کا جنازہ نکال دیا۔میرا یقین ہے کہ جو مرد ماں سے محبت نہیں کرسکتا،اسکی عزت نہیں کر سکتا۔۔۔وہ دنیا کی کسی عورت سے محبت نہیں کر سکتا۔اور جو مرد ایک غیر عورت کے مکر و فریب کو نہ سمجھ سکے اسے اپنی عقل اور مردانگی دونوں پر فاتحہ پڑھ لینی چاہیے۔
والدین کا قصور یہ تھا کہ انھوں نے بیٹے کو سب کچھ دیا بجز دوستی،محبت اور اعتماد کے۔وہ اپنی ذاتی رنجشوں میں یہ کیوں بھول گئے کہ انکے کشیدہ تعلقات کا بچے کے ذہن پر کسقدر منفی اثر ہوگا؟جو بچے گھروں میں بھر پور توجہ،محبت اور عزت نہیں پاتے پھر وہ انھیں گھر سے باہر غیروں میں تلاش کرتے ہیں۔۔۔اور یہ غیروں کی ثوابدید پر ہوتا ہے کہ وہ انھیں نوازتے ہیں یا لوٹتے ہیں۔سدھارتے ہیں یا گمراہ کرتے ہیں۔

سب سے زیادہ قصوروار لڑکی تھی جو محبت کی آڑ میں کسی کے بیٹے کا شکار کھیل رہی تھی۔جس نے اپنے فائدے کے لیے ایک خاندان کو ذہنی اور جذباتی اذیت سے گزارا۔ایک عورت کی سب سے بڑی کم ظرفی یہ ہوتی ہے کہ وہ کسی مرد کی کمزوریوں کا فایدہ اٹھا کر اسکا جذباتی استحصال کرے۔کسی کم عمر لڑکے کو اپنی پر فریب باتوں اداؤں اور محبت کے کھیل سے اس حد تک جذباتی دباؤ کا شکار کر دینا کہ وہ اپنے والدین کے سامنے خم ٹھونک کر کھڑا ہوجائے،پورے خاندان کا ذہنی سکون برباد کر دے۔۔۔ناقابل معافی گناہ ہے۔ جس معاشرے میں عورت “بے غیرت” ہو جائے اسے تباہی سے کوئی نہیں بچا سکتا۔

میری نوجوان نسل کے لڑکوں اور لڑکیوں سے گزارش ہے کہ خود اپنے ماں باپ نہ بنیں،جزبوں اور نفس کو بے لگام نہ چھوڑیں،اپنی تربیت کریں۔اپنی زندگی کے فیصلے اپنے بڑوں کو کرنے دیں۔انشااللہ دنیا و آخرت میں کامیاب ہونگے.

میرا والدین کے لیے بھی پرخلوص مشورہ ہے کہ اولاد کو زندگی کی آسائشیں اور پیسہ دے کر بے فکر نہ ہو جائیں۔زندگی کے ہر دور میں بچوں کو آپکی محبت،توجہ اور رہنمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔انھیں اپنی ذات اور دل سے نزدیک رکھیں۔انکے گہرے دوست بنیں،انکو سنیں اور سمجھیں۔غیروں کے ہاتھ میں اپنے بچوں کی شخصیت کا ریموٹ کنٹرول مت جانے دیں ورنہ ہمیشہ کے لیے انھیں کھو دیں گے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *