بلوغت اور نوجوان نسل کے مسائل۔۔نادر بلوچ

دنیا نے جوں جوں ترقی کی ہے ویسے ہی سہولیات کے ساتھ ساتھ مسائل بھی بڑھے ہیں، ایک زمانہ تھا جب نوجوانوں کو ذہنی اور جسمانی میچور ہونے میں وقت لگتا تھا، انٹرنیٹ کی عدم دستیابی، معلومات کا فقدان اس زمانے میں ایک لحاظ سے کسی نعمت سے کم نہیں تھا، زیادہ تر نوجوان پڑھائی اور پریکٹیکل گیمز میں زیادہ حصہ لیتے تھے، یوں ان کی ذہنی اور جسمانی ترقی برابر ہوتی تھی۔ سیکس کیا ہے؟، میاں بیوی کا ریلیشن کیا ہوتا ہے؟، نوجوانوں کو بہت بعد میں پتہ چلتا تھا، لڑکوں اور لڑکیوں میں تعلق آسانی سے قائم نہیں ہوتا تھا، اسی لیے جنسی تعلق کے حوالے سے ذہنی و جسمانی میچورٹی لیول قائم ہونے میں وقت لگتا تھا، پھر انٹرنیٹ کی ترقی، فیس بک، یوٹیوب، انسٹا گرام، ٹوئٹر جیسی ایپس، اینڈرائیڈ موبائل کی بھرمار اور انٹرنیٹ کی ہر فرد تک آسانی سے دستیابی نے جہاں معلومات تک رسائی میں ترقی دی ہے، وہیں نوجوانوں میں ذہنی و جسمانی میچورٹی قبل از وقت شرع ہو چکی ہے اور یوں ایک نئی مشکل کھڑی ہو گئی ہے۔ مختلف نیٹ ورکس کی جانب سے کال پیکجز کی بھرمار اور پھر واٹس ایپ پر فری کالز نے تباہی مچا دی ہے، فیس بک پر فرینڈ ریکسویسٹ بھیجنے سے لیکر میسجنگ کے تبادلے تک گھنٹوں نہیں منٹس لگتے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل فیصل آباد کے ایک نوجوان نے رابطہ کیا اور اپنی مشکل کچھ یوں بتائی کہ اس کے پانچ بھائی ہیں اور وہ چوتھے نمبر پر ہے، ابھی بڑے بھائی کی شادی ہونا باقی ہے جبکہ میں شادی کی عمر میں داخل ہو چکا ہوں، فیس بک، یوٹیوب پر ویڈیو دیکھ کر پاگل ہو جاتا ہوں، رات بھر نیند نہیں آتی، دیوار سے ٹکریں مارنے کو دل کرتا ہے، نوبت “ہاتھ سے”زندگی برباد کرنے تک پہنچ چکی ہے، اگر ایسا نہ کروں تو دن نہیں گزرتا، میں ایک بڑی مشکل سے دوچار ہوں، خدارا میری رہنمائی کریں میں کیا کروں؟۔ اس نوجوان نے بےباکی کے ساتھ اپنی مشکل بتا کر مجھے ہلاکر رکھ دیا، سچ بات یہ ہے کہ اس دور میں ہر نوجوان موبائل فون استعمال کرتا ہے، رات کو بستر پر موبائل ساتھ ہوتا ہے، انٹرنیٹ کی فراوانی نے سب کچھ آسان کردیا ہے، اوپر سے انڈین ویب سیریز نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے، آئے روز سیکس کے نئے طریقے، لڑکی لڑکے میں جسمانی تعلق کیسے قائم ہوتا ہے؟، ایسی واہیات سیریز کے موضوعات ہیں جو نئی نسل کو تباہ کر رہے ہیں، آن لائن پیسے کمانے کے چکر میں تمام حدیں پار کر دی گئی ہیں، کچھ خواتین بھی اخلاق باختگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے یوٹیوب چینلز پر عجیب و غریب قسم کے موضوعات چھیڑ کر صرف پیسے کمانے کے چکر میں اخلاقی دیوالیہ پن کا خوب مظاہرہ کر رہی ہیں۔ جبکہ کم عمری میں بچوں کا موبائل فون استعمال کرنا، والدین کا بچوں کو گیمز کے نام پر   موبائل فون دینا اور پھر کسی چیک اینڈ بیلنس کا نہ ہونا بھی مشکلات کو بڑھا رہا ہے۔

tripako tours pakistan

دوسری جانب والدین اپنے بچوں کی بروقت شادیاں کرنے کے بھی مخالف ہیں، ہر والد کی خواہش ہے کہ اس کی بیٹی یا بیٹا پہلے تعلیم مکمل کرے، اپنے پاؤں  پر کھڑا ہو، بزنس یا جاب حاصل کرے اور پھر اچھا اسٹیٹس  حاصل کرنے کے بعد شادی کرے ،جو کہ  اب  ایک رواج بن جکا ہے۔ جبکہ مذہبی طبقہ انٹرنیٹ اور جدید مسائل کا حل پیش کرنے کے بجائے اس پریشر کو فتوے سے روکنے پر مُصر ہے، حتیٰ  کہ   علما کرام اور دینی شخصیات ان مسائل بارے سوچنا  تک گوارا نہیں کرتیں ، جبکہ دوسری جانب نوجوان نسل مشکلات کی دلدل میں دھنستی جا رہی ہے، جنسی میلاپ اور تسکین حاصل کرنا انسان کی جبلت میں شامل ہے۔ سیکس کرنا انسان کی سرشت میں شامل ہے، اللہ نے ہر انسان میں جنسی تسکین کی پیاس رکھی ہے، جسے بجھانے کیلئے اگر جائز طریقے  مسدود کیے جائیں گے تو یقیناً نئی نسل اس پیاس کو بجھانے کیلئے ناجائز طریقوں کو  ہی اختیار کرے گی  ۔

Advertisements
merkit.pk

زینب قتل کیس ہو، نور مقدم کا معاملہ، اسلام آباد میں لڑکے لڑکی پر تشدد جیسے مسائل، ان سب کے پیچھے مذکورہ عوامل کافرما ہیں، ایک مشکل یہ بھی ہے کہ اس معاشرے میں نکاح مشکل اور زنا آسان ہو گیا ہے، کئی علاقوں میں حق مہر کی مد میں بیس سے تیس لاکھ روپے دینا ایک اسٹیٹس سمبل بنا دیا گیا ہے اور اب تو باقاعدہ ڈیمانڈ کی جاتی ہے، اب اگر ایک نوجوان جو زندگی کی شروعات کرنا چاہتا ہے، جس نے ابھی اپنا مستقبل بنانا ہے اسے شروع میں ہی جکڑ کر رکھ دیں گے تو وہ شادی کس عمر میں جاکر کرے گا؟۔ کئی ایسے احباب کو جانتا ہوں جنہوں نے پینتیس برس کی عمر میں جاکر شادی کی۔ جبکہ اس جدید دور میں نوجوان چودہ سے پندرہ سال میں ارلی میچور ہو جاتا ہے، ایسے میں اس کی مشکلات کا حل تلاش کرنا اور شادی کے بندھن کو آسان بنانے کیلئے والدین اور مذہبی طبقات کو کردار ادا کرنا ہوگا، صرف فحاشی عریانی کا راگ الاپنے سے اس سیلاب کا راستہ نہیں روکا جا سکتا۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply