• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • انکار حدیث : ماضی اور حال کے تناظر میں۔۔۔۔عبدالرحمن عالمگیر کلکتوی

انکار حدیث : ماضی اور حال کے تناظر میں۔۔۔۔عبدالرحمن عالمگیر کلکتوی

خوارج و معتزلہ کے وجود سے پیشتر پوری امت اسلامیہ احادیث نبویہ ﷺ کو حجت شرعی اور وحی غیر متلو مانتی تھی لیکن خوارج نے اپنے موقف کے مخالف احادیث کا انکار کیا پھر انہیں حکومت کی سرپرستی حاصل ہو گئی جو ان کے خیا لات کی ترویج و اشاعت میں ممد و معاون ثابت ہوئی،مرور زمانہ کے ساتھ ان کا نام و نشان مٹ گیا تھااور ان کے نشیمن خاکستر ہو گئے تھے۔ البتہ ان کا بویا ہوا بیج لمحہ بہ لمحہ، نوع بہ نوع صورت میں دنیا کے مختلف علاقوں میں تن آور درخت بن کر ابھرتا رہا، جس کے آثار آج بھی مختلف فرقوں میں دیکھے جا سکتے ہیں۔

تیرہویں صدی ہجری میں ان کے جلے ہوئے نشیمن کی آگ کی چنگاریاں دوبارہ بر صغیر ہند و پاک میں بھڑکنی شروع ہو گئیں۔ اس کو ہوا دینے والے پہلے شخص سر سید احمد خان اور ان کے ہم نوا مولوی چراغ علی تھے، انہوں نے نیچر اور فلسفیانہ خیالات کی تائید میں چند احادیث کی من چاہی تاویل کر کے انکار سنت کا دروازہ وا کیا، پھر ان کے بعد احمد الدین امرتسری ، عبداللہ چکڑالوی اور غلام احمد پرویز نے احادیث کو قصۂ پارینہ اور غیر مستند تاریخ کہہ کر بچی کچی کسر پوری کر دی، آج اسی تاریخ کو نئے انداز میں جاوید احمد غامدی اور راشد شاز وغیرہ دہرا رہے ہیں۔

جب یورپ کے صنعتی میدان میں بے پناہ کامیابیوں سے دنیا چکا چوند رہ گئی،تو اس کا اثر بر صغیر پر بھی نمایاں ہونے لگا،لوگ ان کی تہذیب و ثقافت اور نصاب تعلیم کے اسیر ہو گئے پھر ان کی نقالی کو باعث فخر تصور کرنے لگے پس دھیرے دھیرے اس راستے سے مسلمانوں کے یہاں مستشرقین کے خیالات در آئے، اور ان کے ملبوسات پہن کر اترانے لگے،جو اعتراضات انہوں نے احادیث پر کیے تھے، انہیں اعتراضات کو مسلم شناخت رکھنے والے چند نام نہاد دانشوران دہرانے لگے۔نماز، روزہ وغیرہ کو فرسودہ رسم و رواج قرار دے دیا، برقعہ کو عورت کی حق تلفی ثابت کرنے کے لیے جی جان کا زور لگا دیا اور داڑھی کو عریبک  کلچر کہہ کر ٹھکرا دیا۔

جس طرح علمائے کرام نے اس فتنہ کی  روک تھام میں سیکڑوں کتب لکھ کر ان کی ریشہ دوانیوں کو واشگاف کیا، مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمہ اللہ نے ’’دلیل الفرقان‘‘ اور اسماعیل سلفی رحمہ اللہ نے ’’حجت حدیث اور سنت : قرآن کے آئینہ میں‘‘ وغیرہ کتب لکھ کر اس فتنہ کو دبایا تھا۔بعینہ آج ضرورت ہے کہ منکرین عصر کا رد زمینی سطح پر موجودہ دور کے وسائل کے ذریعہ عالمی پیمانہ پر کیا جائے۔

عبد الرحمن عالمگیر کلکتوی
عبد الرحمن عالمگیر کلکتوی
ایک ادنی سا طالب علم جو تجربہ کار لوگوں کے درمیان رہ کر کچھ سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *