ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 228 )

کامیابی خراج مانگتی ہے

ہر عظیم عمل ایک قیمت رکھتا ہے ہر کارنامہ انسان سے خراج مانگتا ہے. جتنی بڑی کامیابی ہو گی، اور جتنا عظیم معرکہ سر کیا گیا ہو گا اس کے پیچھے اتنی ہی بڑی قربانی ہو گی. ہم دوسروں کی←  مزید پڑھیے

خوابوں کو زنجیر کردو

خوابوں کو زنجیر کردو ثمینہ رشید کچھ تصویریں ایسی ہوتیں ہیں کہ ان کو الفاظ میں بیان کرنے کا سوچیں تو ہاتھ لرز جاتے ہیں۔قلم کی سیاہی ساتھ چھوڑ جاتی ہے۔ درد لفظوں میں ڈھالنا آسان کام نہیں۔ اس تحریر←  مزید پڑھیے

مکالمہ اور ویلنٹائن ڈے

مکالمہ اور ویلنٹائن ڈے اس بات پر دو رائے نہیں کہ دانش کی نمو مکالمہ کے فضا میں ہی ممکن ہے. دانش اور فکری ارتقاء کا محرک جب علمی مکالمہ بنتا ہے. تو فریقین میں ہر ایک کے سامنے کچھ←  مزید پڑھیے

دو مائکرو فکشن

1. شناخت کی موت ………………… اسے دن کہیے یا رات, بارہ بج کر ایک منٹ پر شناختی کارڈ کے محکمہ میں کام کرنے والے سابق افسر زیڈ کی موت ہو گئی. اسے قتل کیا گیا, اس نے خود کشی کی←  مزید پڑھیے

“ہماری ارتقا اور محبت”

کل کی ہی بات ہے کہ میں تنہا بیٹھا ہوا تھا اور ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ آواز آئی “سچی اوئے”ہاں ناسچی ، کیا میں بھی اب تجھ سے جھوٹ بولوں گا ، کوئی←  مزید پڑھیے

جانے خدا

جانے خدا منصور مانی وہ جو گرا دی تم نے! وہ طوبی گھر تھی خدا کا چھ سال کی عبادت کو کس طرح پامال تم نے کیا؟ جانے خدا ! میں بہت کچھ نہیں جانتی تھی، جان بھی کیسے سکتی←  مزید پڑھیے

شہد سے میٹھا

شہد سے میٹھا۔ سہیل اکبر کروٹانہ پاکستان ائیرفورس سے تعلق رکھنے والے محمد ابراھیم میرے تاریخی دورہء اسکردو 2005 کی دریافت ھیں۔۔ ھری پور ھزارہ کا رھنے والا ابراھیم چھوٹے خالص شہد سے بھی زیادہ میٹھا ھے۔۔ ھم دونوں پاک←  مزید پڑھیے

قلندر رقص فرما ہے

قلندر رقص فرما ہے کلامِ لعل شہباز قلندر ( سید عثمان مروندی) منظوم ترجمہ : مشتاق علی شان نجانے کیوں میں آخر یوں دمِ دیدار رقصاں ہوں مگر اس ذوق پرنازاں میں پیشِ یار رقصاں ہوں تو ہردم زمزمہ خواں←  مزید پڑھیے

تین مائکرو کہانیاں

1. روسی ادب کی مختصر ترین تاریخ ……… میں نے پرانی دستاویزات کھنگالی ہیں اور میرے باپ سے بھی سنا ہے کہ میرے پردادا ایک معزز روسی جاگیردار تھے. میرے والد صاحب ہندوستانی ہیں. میں لاطینی امریکی ہوں. میرے والد←  مزید پڑھیے

راجہ گدھ

اوئل جوانی تھی، ‘راجہ گدھ’ کا بہت شہرہ سن رکھا تھا، ایک دن ہمت کر کے ناول اٹھایا اورپڑھنا شروع کر دیا۔ اس کے علامتی ابواب بڑے تاثر سے پڑھنے شروع کیے کہ پتا نہیں علم و حکمت کے کیا←  مزید پڑھیے

سانپ کا منکا۔۔۔ثنااللہ احسن

اس دنیا میں بے شمار ایسی اشیا اور مقامات ہیں جن پر ایک اسرار کا پردہ پڑا ہوا ہے۔ اس اسرار کے پیچھے دراصل ان اشیا تک دسترس رکھنے والوں کی چالبازی اور عیاری کو زیادہ دخل ہے کہ ایسے←  مزید پڑھیے

خدا کی مرضی

100 لفظوں کی کہانی ہمارے یہاں ایک دفعہ بہت بڑا دہشت گردی کا واقعہ ہوا۔ ہم ہاتھ پر ہاتھ رکھ نہیں بیٹھے، سدِباب کے لئیے اقدامات کئیے۔ اس کے بعد ,،آج تک ہمارے ملک میں کوئی ایسا دہشت گردی کا←  مزید پڑھیے

راجہ گدھ اور منطق۔۔۔ فاروق سلہریا

نوے کی دہائی میں بطور طالب علم جب میں پنجاب یونیورسٹی لاہور پہنچا تو دو کتابوں کا چرچا تھا۔ ہم جیسے بگڑے تگڑے راجہ انور کی ‘جھوٹے روپ کے درشن’ کا پرچار کرتے۔ یہ خوبصورت کتاب راجہ انور کے ان←  مزید پڑھیے

رنڈی

رنڈی کچی آبادی اور گندے جوہڑ میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ جوہڑ میں کیڑے مکوڑے پلتے ہیں اور کچی آبادی میں انسان۔ ہاں ایک بات دونوں میں مشترک ہوتی ہے کہ دونوں اپنے حقوق سے←  مزید پڑھیے

کیپٹن مبین زیدی شہید کی بیٹی کے نام

کیپٹن مبین زیدی شہید کی بیٹی کے نام (اور ہر بہادر کی بیٹی کے نام) میری بیٹی میں سمجھ سکتا ہوں تری آنکھوں میں فقط دکھ ہی نہیں خوف بھی ہے آتے ہوے لمحوں کا تفکر پیشانی پہ عیاں ہے،←  مزید پڑھیے

اِحیائے ثقافتِ اسلامی کی تحریک

دعوت و تبلیغ کا کام اپنے حقیقی معنوں میں حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے سے شروع ہوتا ہے۔ جتنی انسانی آبادی اُن کی حیات تک موجود رہی وہ اُس سب کے باپ اور مربی تو تھے←  مزید پڑھیے

مرزا غالب کی ۱۴۶ ویں برسی

اسداللہ خان المعروف مرزا غالب کی 146 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔ مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ اور والد کا نام عبداللہ بیگ تھا۔ آپ 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔ غالب بچپن ہی میں←  مزید پڑھیے

ویلنٹائنز ڈے! (نظم)

گھنیرے برگد کی چھاؤں میں اک سڑک کنارے رکھی ہوئی بنچ پر نجانے وہ کن خیالوں میں گم تھی بیٹھی کہ ایک جھونکا ہوا کا آکر گرا گیا اس کے اجلے دامن پر اک کلی جو تھی ادھ کِھلی پھر←  مزید پڑھیے

ویلنٹائن ڈے، ہم اور بسنت

ویلنٹائن ڈے، ہم اور بسنت انعام رانا پچھلے بیس سال اور پھر بالخصوص پچھلے دس سال میں ٹیکنالوجی نے دنیا کی بُنت بدل ڈالی ہے۔ نیشن سٹیٹ کا تصور کمزور ہوا، ریاست کے ساتھ ساتھ عوام کا ایک دوسرے سے←  مزید پڑھیے

این میری شمل،گوئٹے انسٹیٹوٹ اور جرمن زبان (تیسری قسط)

این میری شمل،گوئٹے انسٹیٹوٹ اور جرمن زبان (تیسری قسط) احمد رضوان سیالکوٹ کا ایک اکہرے بدن والا لمڈا جواپنی طوطا ناک اور عقابی نگاہ کی وجہ سے سب کی آنکھ میں کھٹکتا تھا۔ مردہ چمڑے کا بیوپار ، زندہ چمڑے←  مزید پڑھیے