مرزا غالب کی ۱۴۶ ویں برسی

اسداللہ خان المعروف مرزا غالب کی 146 ویں برسی آج منائی جارہی ہے۔

مرزا غالب کا نام اسد اللہ بیگ اور والد کا نام عبداللہ بیگ تھا۔ آپ 27 دسمبر 1797 کو آگرہ میں پیدا ہوئے۔

غالب بچپن ہی میں یتیم ہوگئے تھے، ان کی پرورش ان کے چچا مرزا نصر اللہ بیگ نے کی لیکن 8 سال کی عمر میں ان کے چچا بھی فوت ہوگئے۔

نواب احمد بخش خاں نے مرزا کے خاندان کا انگریزوں سے وظیفہ مقرر کرا دیا، 1810 میں 13 سال کی عمر میں ان کی شادی نواب احمد بخش کے چھوٹے بھائی مرزا الہٰی بخش خاں معروف کی بیٹی امراء بیگم سے ہو گئی، شادی کے بعد انہوں نے اپنے آبائی وطن کو خیر باد کہہ کر دہلی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

شادی کے بعد مرزا کے اخراجات بڑھ گئے اور مقروض ہو گئے، اس دوران انہیں مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑاور قرض کا بوجھ مزید بڑھنے لگا۔ آخر مالی پریشانیوں سے مجبور ہو کر غالب نے قلعہ کی ملازمت اختیار کر لی۔

شروع میں وہ فارسی اور مشکل اردو زبان میں شاعری کرتے تھے اور اس زمانے میں اسد ان کا تخلص تھا تاہم معاصرین کے طعنوں کے بعد انھوں نے اپنی شاعری کا رخ بدلا اور اسے ایسی آسان زبان، تخیل اور فلسفیانہ انداز میں ڈھالا کہ کوئی اور شاعر ان کے مدمقابل نظر نہیں آتا۔

مثال کے طور پر:

ہوس کو ہے نشاطِ کارکیا،
نہ ہو مرنا تو جینے کا مزہ کیا

نقشِ فریادی ہے کس کی شوخی تحریر کا، کاغذی ہے پیرہن ہر پیکر تصویر کا

1850 میں بہادر شاہ ظفر نے مرزا غالب کو نجم الدولہ دبیر الملک نظام جنگ کا خطاب عطا فرمایا اور خاندان تیموری کی تاریخ لکھنے پر مامور کر دیا اور 50 روپے ماہوار وظیفہ مقرر ہوا، جنگ آزادی 1857 کے بعد مرزا کی سرکاری پنشن بھی بند ہوگئی۔

چنانچہ انقلاب 1857 کے بعد مرزا نے نواب یوسف علی خاں والی رامپور کو امداد کے لیے خط لکھا انہوں نے 100 روپے ماہوار وظیفہ مقرر کر دیا جو مرزا کو تادمِ حیات ملتا رہا، مرزا غالب کی زندگی نے حالات کے بدلتے رنگوں کواپنانے سے انکار کردیا۔

15 فروری 1869 کو مرزا اسد اللہ بیگ کی روح اس جہان فانی سے کوچ کرگئی اور پیچھے چھوڑ گئی شاعری کی صورت میں ان کی یادیں۔

میر تقی میر سے لے کر غالب کے دور تک جتنے شعراء بھی گزرے ہیں ان کی مہارت اور استادی کسی ایک فن کی مرہونِ منت ہے۔

میر غزلوں کے خدائے سخن ہیں۔ سودا قصائد اور ہجونگاری کے مردِ میدان ہیں۔

میر حسن مثنوی میں امتیازی حیثیت کے مالک ہیں لیکن غالب کا فن حدود و رسوم سے بلند اور شاعری کے اعلیٰ ترین معیار کا ترجمان ہے۔

تصوف کی بات کریں تو غالب کہتے ہیں:

یہ مسائل تصوف یہ تیرا بیان غالب

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

عشق کا رنگ ہو تو ان کے دیکھے سو چہرے پہ آجاتی ہے رونق، وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے”۔

المیہ شاعری تو ہر شاعر کی جان ہوتی ہے تو غالب کیسے پیچھے رہ سکتے ہیں مگر اس میں ان کی حقیقت پسندی اسے ایک نئے رنگ میں ڈھال دیتی ہے:

ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے

بہت نکلے میرے ارمان لیکن پھر بھی کم نکلے

انہیں انسانی نفسیات کا گہرا شعور تھا جس کی مثال یہ شعر ہے:

ہوچکیں غالب بلائیں سب تمام

ایک مرگ ناگہانی اور ہے

طویل مضامین کو مختصر الفاظ میں بیان کرنا ہی غالب کی شاعری کا کمال ہے، جیسے:

ملنا اگر نہیں آساں تو سہل ہے

دشوار تو یہ ہے کہ دشوار بھی نہیں

روزمرہ زبان سے بھی ان کے اشعار میں نکھار پیدا ہوا:

ہم نے مانا کہ تغافل نہ کروگے لیکن

خاک ہوجائیں گے ہم تم کو خبر ہونے تک

انہیں عظمت انسانی کا بہت پاس تھا جب ہی تو کہتے تھے:

بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آسان ہونا

آدمی کو بھی میسر نہیں انسان ہونا

شوخی و ظرافت میں بھی وہ کسی سے پیچھے نہیں تھے:

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن

دل کے بہلانے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

وہ ایک طرح کے شاعرِ آخرالزماں ہیں جن پر ہزار ہا سال کی اردو اور فارسی شاعری کا خاتمہ ہوا، بقول ان کے اپنے الفاظ میں:

ہیں دنیا میں سخن ور اور بہت اچھے

کہتے ہیں کہ غالب کا انداز بیاں اور

Avatar
محمد اسامہ خان
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *