ویلنٹائن ڈے، ہم اور بسنت

SHOPPING
SHOPPING

ویلنٹائن ڈے، ہم اور بسنت
انعام رانا

پچھلے بیس سال اور پھر بالخصوص پچھلے دس سال میں ٹیکنالوجی نے دنیا کی بُنت بدل ڈالی ہے۔ نیشن سٹیٹ کا تصور کمزور ہوا، ریاست کے ساتھ ساتھ عوام کا ایک دوسرے سے رابطہ بڑھا، دنیا غلط یا صحیح گلوبلائزیشن کا شکار بنی اور دنیا وہ نہ رہی جو ہمارے بچپن تک کے تصورات اور کتابوں میں تھی۔

اسی بدلتی دنیا میں مختلف ثقافتیں بھی ایک دوسرے سے قریب تر ہوئیں۔ ایک دوسرے کی روایات، تہواروں اور مختلف ثقافتی مظاہر کو سمجھا گیا اور کچھ کو تو اپنا بھی لیا گیا۔ آج شاید ہی کسی قوم کی ثقافت کے بارے میں یہ دعوی کیا جا سکے کہ وہ خالص رہ گئی ہے۔ کچھ ثقافتی تہوار ایسے بھی تھے جنھیں عالمی پزیرائی ملی۔ فادرز ڈے، مدرز ڈے، ٹیچرز ڈے ایک مثال ہیں۔ بلکہ اکثر ملکوں میں کرسمس بھی اب مذہبی سے زیادہ فقط ثقافتی تہوار ہی رہ چکا ہے۔ ان ہی میں سے ایک ویلٹائن ڈے یا محبت کا دن بھی ہے۔

ویلنٹائن ڈے کیوں منایا گیا اور سینٹ ویلنٹائن کون تھا اس سے بہت سی روایات اور داستانیں منسوب ہیں۔ سینٹ ویلنٹائنس آف روما 497 مسیح میں روم کے ایک پادری تھے جو مار دئیے گئے۔ ایک عرصہ تک چرچ اس دن کو “سینٹ ویلنٹائنس کی دعوت ” کے نام سے مناتا رہا۔ مگر 1969 میں یہ دن یہ کہ کر ختم کر دیا گیا کہ اس نام کے سینٹ کا کوئی مصدقہ ریکارڈ نہیں۔ اگرچہ اینجلیکن اور آرتھوڈوکس چرچ اب بھی اس دن کو مناتا ہے اور آخر الذکر چودہ فروری نہیں بلکہ چھ جولائی کو مناتا ہے۔ دلچسپ طور پہ ویلنٹائن اور محبت کے اظہار کی کوئی روایت چودھویں صدی تک نہیں ملتی۔ سب سے پہلے اسکا تذکرہ مشہور شاعر جیفری چوسر نے سن 1382 میں اپنی نظم “پارلیمنٹ آف فاولز” میں کیا۔ اسکے بعد اسکا تذکرہ فرنچ اور انگلش کی مختلف نظموں میں ہوتا رہا۔ مگر اسے ایک عوامی تہوار کی صورت کہیں انسویں صدی میں آ کر ملی جب اپنے محبوب کو پھول دینے کا رواج پڑا۔ سو روم کے ایک پادری سے وابستہ روایت کو ایک شاعر نے اپنے تخیل کی پرواز دی اور کچھ صدیوں میں یہ ایک عوامی تہوار بن گیا۔ اس کا مذہب سے کوئی تعلق ہو بھی فقط اتنا ہی جتنا خسرو کی اپنے مرشد کے فراق میں لکھی نظم کو اسلام سے ہو سکتا ہے۔

ثقافتوں کے ملاپ میں جو تہوار تیزی سے مقبول ہوئے، ان میں سب سے مقبول ویلنٹائنز ڈے ہی ہے۔ اور اسکی وجہ اس سے منسوب وہ جذبہ ہے جو کسی ایک قوم یا ثقافت کا نہیں ہے۔ ہمارے ہاں اس دن کی شدید مخالفت غیر مذہبی، غیر تہذیبی اور غیر ملکی کہ کر کی جاتی ہے۔ اور شاید ہر ملک میں ایک طبقہ، کسی نہ کسی ایسے تہوار کا مخالف ہوتا ہے، جو اپنی ثقافت کے مٹنے کے خوف کا شکار رہتا ہے۔ انگلینڈ میں کئی گورے “ہیلوئین” اور “بلیک فرائڈے” کو امریکی تہوار کہ کر اسکی شدید مخالفت کرتے ہیں۔ مگر جو تہوار عوامی قبولیت اختیار کر لیں انکی مخالفت اٹھتی موج کے آگے بند باندھنے کے مترادف ہوتا ہے۔

ہمارے خطے میں نہ محبت نئی ہے، نہ اسکے اظہار سے وابستہ تہوار۔ ہماری شاعری عشق کی داستانوں سے بھری ہے۔ بیساکھی کے میلے اور کسی بزرگ کے عرس کے دن محبوب سے ملاقات کی روایات بھی ہمارے ادب میں تب سے ہیں جب یہ “مغربی عیسائی تہوار” ہمارے ہاں نہ آیا تھا۔ مغرب اپنے جذبات کو بیان کرنے کا عادی ہے۔ شادی ہو یا جنازہ، تقریر کر کے جذبات کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اسی طور یہ تہوار فقط جذبات کے اظہار کا ایک طریقہ ہے۔ اس سے وابستہ کمرشل ازم اور بدتمیزی کو منہا کر دیا جائے تو پھول دے کر “آئی لو یو” کہنا فقط انسانی جذبے کا اظہار ہے جو ہم آگے پیچھے بھی کرتے ہی رہتے ہیں۔ راہ چلتی لڑکیوں کو زبردستی پھول نہ پکڑائے جائیں، پھول نہ لینے والی پر الزام نہ لگائے جائیں تو شاید اس تہوار سے کسی کو بھی پریشانی نہ ہو۔ ویسے بھی جس نے پھول لینا ہی ہے، وہ چودہ کے بجائے پندرہ کو لے کر اپنے جذبات کی تسکین کر لے گا/گی۔ پابندیاں نہ پھولوں کو روک پاتی ہیں نہ ان سے وابستہ جذبات کو۔

SHOPPING

اگر عالمی طور پر قبول کیے گئے تہواروں کو دیکھیں تو ان میں ایک چیز مشترک ہے۔ یہ کسی ایک مذہب یا قومی روایت سے وابستہ نہیں ہیں بلکہ فقط محبت اور خوشی کے اظہار کا ذریعہ ہیں۔ شاید اسی لیے یہ تہوار ہر ایک ثقافت میں جگہ پا جاتے ہیں۔ انکو مغربی یا عیسائی نہیں بلکہ انسانی تہوار کے بور پر دیکھیے۔ اور اگر آپکے پاس بھی ایسا کوئی تہوار ہے تو پیش کیجیے، دنیا منتظر ہے۔
ہمارا ایک ایسا ہی تہوار بسنت تھا۔ مگر اب تو سنا ہے میرے لاہور میں پتنگ اڑانے پر بھی فوجداری دفعہ لگتی ہے۔
(نشر مکرر)

SHOPPING
SALE OFFER

Avatar
انعام رانا
انعام رانا کو خواب دیکھنے کی عادت اور مکالمہ انعام کے خواب کی تعبیر ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *