اِحیائے ثقافتِ اسلامی کی تحریک

دعوت و تبلیغ کا کام اپنے حقیقی معنوں میں حضرت آدم علیہ السلام کے دنیا میں تشریف لانے سے شروع ہوتا ہے۔ جتنی انسانی آبادی اُن کی حیات تک موجود رہی وہ اُس سب کے باپ اور مربی تو تھے ہی، اُن کے نبی اور رسول بھی تھے۔ اپنی اولاد اور اپنی اِس امت کو خالقِ کائنات کا تعارف کرانا، اُس کی مرضیات پر چلنے یعنی اطاعت و عبادت پر آمادہ کرنا، زخارفِ دنیا میں الجھ کر راہ گم کر دینے کے بجائے آخرت کو مطمحِ نظر بنائے رکھنے پر لانا، وغیرہ، سب امور اُن کے فرائضِ منصبی تھے۔ اِن فرائض کو ایک نبی اور ایک باپ کی حیثیت سے ادا کرتے کرتے وہ اپنے اللہ کے حضور حاضر ہوگئے۔

اللہ رب العزت نے حضرت آدم علیہ السلام کی اولاد میں سے جن لوگوں کو نبوت اور رسالت جیسے عالی منصب کے لیے انتخاب کیا اُن کی زندگیوں میں یہ دونوں خصوصیات کچھ ایسی واضح اور تواَم نظر آتی ہیں کہ گویا اُن کی فطرتِ ثانی ہوں، یعنی باپ والی شفقت کے ساتھ امت کے مرد و زن کو اِطاعتِ خالق پر آمادہ کرنا۔ جتنے بھی نبی دنیا میں تشریف لائے وہ اللہ کی حدود کو پھلانگنے والے مجرموں اور اللہ کی اطاعت کے نشے میں مدہوش بندوں، دونوں طرح کے آدمیوں کے لیے یکساں محبت اور شفقت کا پرتو ہوتے تھے۔

حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے آخری نبی بناکر دنیا میں بھیجا اور اُن کی بعثت کے بعد نبوت اور رسالت کا دروازہ قیامت تک کے لیے بند کر دیا۔ دنیا میں آنے والے پہلے نبی سے لے کر آخری نبی تک سب انبیا ایک ہی مقصد لے کر آئے، یعنی مخلوق کو خالق سے جوڑنا۔ اِس مقصد کے پورا کرنے کے لیے نبی مخلوق میں سے کسی سے بھی کسی نفع کا طالب یا متمنی نہیں ہوتا بلکہ اپنی جان پر جھیل کر یہ کام کرتا ہے۔ ہر نبی و رسول نے دعوت و تبلیغ کا کام کرتے ہوئے یہ اعلان کیا کہ وہ اپنا اجر سوائے اللہ کے اور کسی سے نہیں چاہتا۔ اِنْ اَجْرِیَ اِلَّا علیٰ رَبِ العٰلَمین سب نبیوں کی اجتماعی آواز ہے جسے قرآنِ پاک نے محفوظ کیا ہے۔ اللہ کے علاوہ کسی سے اجر کا طالب نہ ہونا تبلیغِ دین کے کام کی اصالت کا معیار ہے۔ جس طرح کوئی باپ اپنی اولاد کے لیے نفع رسانی کی کوئی بھی کوشش کسی مالی یا دنیاوی منفعت کی حرص یا امید میں نہیں کرتا بلکہ خالصتًا باپ ہونے کی ذمہ داری کو محسوس کرتے ہوئے اور شفقتِ پدری کی وجہ سے کرتا ہے اُسی طرح نبی بھی ہر ہر امتی کو جنت کے دروازے پر لا کھڑا کرنے کے کام کی مشقت اپنی ذمہ داری اور امت کے لیے بے کراں، بے تعصب اور بے میل شفقت کی وجہ سے اُٹھاتا ہے۔ بندوں کا بندوں میں نبی سے زیادہ بے غرض پرسانِ حال کوئی نہیں ہوتا۔ کوئی ہو بھی نہیں سکتا۔ نبی اگر کسی امتی پر حد جاری کرتا ہے یا مثلًا کبھی تلوار اُٹھاتا ہے تو بھی اُس نیت سے جس سے ایک باپ اپنی اولاد کے جسم میں پیدا ہوجا نے والے ناسور پر نشتر لگاتا ہے۔

یہ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی اِسی شفقت اور محبت کا نتیجہ تھا اور اپنوں پرایوں ہر ایک کو دنیا و آخرت کی بھلائیوں اور کامرانیوں کا حقدار بنانے پر مصر اور تُلا ہونا، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سبھی ساتھی، رضوان اللہ علیہم اجمعین، آپ پر دل و جان سے فدا تھے اور ’’میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں‘‘ کے خیرمقدمی الفاظ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور تخاطب کرتے تھے۔ اِس شفقت اور محبت کا امت میں ظہور یوں ہوا کہ صحابہ رضی اللہ عنہم اپنی جان کو اپنے مسلمان بھائی کے مقابلے میں ہلکا جانتے تھے۔ دنیا کا فائدہ درپیش ہوتا تو خود کو پیچھے کرلیتے اور دین کے لیے مشقت کا کام سامنے آتا تو خود کو آگے کرتے۔ کہیں نام آوری یا ناموری کا موقع بنتا تو منھ پر کپڑا ڈال لیتے اور کہیں جان دینے کا موقع بنتا تو آگے آگے ہوتے۔ زندگی کی آخری سانس تک اور قبر کے گڑھے میں اُترتے تک اپنے بھائیوں پر ایثار کرتے۔ اُن میں کا دکاندار اپنے گاہک کو خود دوسرے دکاندار کی دکان پر بھیج دیتا تھا کہ اُس کی بھی بِکری ہو جائے۔ یوں ایک ایسا ماحول وجود میں آگیا تھا جس میں ہر ایک کا جان و مال محفوظ تھا۔ ہر ایک کا کاروبار ترقی بھی پا رہا تھا۔ کوئی شخص بے کار اور بے گھر نہ تھا۔ حتٰی کہ دور دور تک زکوٰۃ کا مستحق کوئی نہ ملتا تھا۔ اور یہ دنیاوی آسائش و ترقی صرف آنکھ بند ہونے تک کے زمانے کے لیے نہیں تھی بلکہ اُخروی درجات کی ترقی کا ضمیمہ بھی تھی اور یہ لوگ جو مدتِ مدید سے غیر مہذب، بے حیثیت اور بے وقعت تھے، دیکھتے ہی دیکھتے جہاں گیر و جہاں دار اور جہاں بان و جہاں آرا ہوگئے۔ یہ سب اِس لیے ہوا کہ ایمان سازی سے مملو افراد سازی کی ایک مسلسل محنت کی وجہ سے اِن لوگوں میں ایمان جیسی بے مثال قوت، اعمال جیسا کارگر ہتھیار اور حیا جیسا یکدانہ جوہر وجود میں آچکا تھا۔

محبت، شفقت، اِکرام اور رحم کاری کے یہ مظاہر مسلمانوں میں صرف اپنے دینی بھائیوں کے لیے مخصوص نہیں رہے تھے بلکہ تمام مخلوق اِن سے منتفع ہو رہی تھی اور غیرمسلموں سے معاملت حتٰی کہ جانوروں سے سلوک تک میں یہ اثرات نفوذ کیے ہوئے تھے۔ حضورِ پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سالہا سالی اور بے وقوف مشقت مدینۂ منورہ اور تمام فرماں روِ اسلام کے اندر اِس ماحول اور اِس ثقافت کو وجود میں لانے کا سبب بنی تھی جس میں تحفیظِ مراتب یعنی بڑے چھوٹے کا لحاظ ملاحظہ، حقوقِ انسانی کی پاسداری اور تمام مخلوق سے اللہ کے حکم کے مطابق اور موافق سلوک کرنا ہی فخر و مباہات کا باعث تھا نہ کہ دنیا کی چیزوں اور عہدوں کا کسی کی ذات میں جمع ہوجانا یا کرلیا جانا۔ امتِ مسلمہ کی حیثیت قدر و قیمت سے ہے نہ کہ قد و قامت سے۔

تہذیب کے فریب کا انسان تھا شکار
ریگِ عرب نے کھولی حقیقت سراب کی

لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ یہ سب برکات ضمنًا حاصل ہوئی تھیں۔ روٹی، کپڑا، مکان، ملازمتوں، ترقیاتی منصوبوں اور بڑے منصوبوں Mega Projects کا اعلان کسی نبی نے نہیں کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کبھی یہ اعلان نہیں کیا کہ مجھے لوگوں کی معاشی صورتِ حال یا معیارِ زندگی بہتر کرنے کے لیے مبعوث کیا گیا ہے یا میری بعثت کا مقصد امن و امان کی صورتِ حال کی بہترائی ہے۔ یہ تمام لذائذ جن کے حاصل کرنے کے لیے آج پوری دنیا میں دوڑ لگی ہوئی ہے اور جن کے حصول کے لیے سب سے زیادہ خرچ کیا جا رہا ہے، اللہ کا انعام ہیں۔ انعام صرف اُسے ملتا ہے جس سے انعام دینے والا راضی ہو۔ قرنِ اوّل کے مسلمانوں کو یہ انعامات اِس لیے ملے کہ وہ دین اور اشاعتِ دین کو اوڑھے ہوئے اور اپنی زندگیوں میں پہلے نمبر پر رکھے ہوئے تھے اور بقیہ ضروریات کو ثانوی درجہ دیتے تھے۔ آج مسلمان نے اپنی زندگی کی ترجیحات تلپٹ کردی ہیں اور ثانوی درجہ والی چیزیں پہلے درجے پر لے آیا ہے۔ یوں اللہ ناراض ہوگیا ہے؛ اور وہ سب انعامات ملنا بند ہوگئے ہیں جو پہلے ملا کرتے تھے۔ دنیا میں امن و آشتی، راحت، شجاعت، غیرت، ایمان، حیا اور اِس قبیل کی ساری برکات کا اترنا بند ہوگیا ہے۔ غیرمسلموں کو تو امن و آشتی جیسی چیزیں ملی ہی مسلمانوں کی وجہ سے تھیں۔ جب خود اُن پر ہی یہ انعامات بند ہوگئے ہیں تو اُن کے طفیلیوں کو یہ کیسے ملیں؟

بحیثیتِ امت مسلمان آج اپنا مقصد بھول چکے ہیں۔ افسوس پر افسوس اِس بات کا ہے کہ امت یہ بھولنا بھی بھول چکی ہے۔ یوں منزل کھو بیٹھنے کے احساس سے تہی ایک انبوہِ مرد و زن ہے جو بے مقصد سرگرداں ہے۔ ہر چمکتی چیز اور ہر نئی آواز کی طرف اندھا دھند لپک جانا اِن پر ختم ہے۔ ایک طرف سے دھتکار پڑتی ہے تو یہ دوسری طرف رخ کرلیتے ہیں۔ وہاں سے جوتا پڑتا ہے تو کسی تیسری طرف کو ہولیتے ہیں۔ جب وہاں سے بھی نچوڑ لیے جاتے ہیں تو کسی چوتھی طرف ڈَھئی دے دیتے ہیں۔ اور جب وہاں اچھی طرح اوقات خراب کرا چکتے ہیں تو اپنے ڈھیٹ پن کے ہاتھوں مجبور ہوکر پھر سے پہلی طرف ہی کو مڑ آتے ہیں کہ شاید ہماری کوئی ضرورت پیدا ہوگئی ہو۔ سجدہ گاہیں ختم ہوجاتی ہیں لیکن در در جبہہ سائی کے عادی اِن یاتریوں کی یاتایات ختم نہیں ہوتی۔ جس امت کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک قبلے کی طرف منھ کرکے نماز پڑھتا چھوڑ کر گئے تھے، کم قسمتی سے آج دنیا میں ہر سَمت اپنا قبلہ رکھتی ہے: کہیں منھ کرکے نیت باندھ کر مال مانگتی ہے، کہیں اسبابِ حفاظت و صحت کے حصول کے لیے سجدہ ریز ہے، کہیں نظامِ تعلیم کی عطا کے لیے منزل انداز ہے، اور کہیں محض تعلقات اُستوار رکھنے کے لیے ناک سے لکیریں کھینچ رہی ہے۔ لامقصدیت امت کا سب سے بڑا بحران اور سانحہ ہے۔ اُن اسلاف کا نام لیوا یہ مسلمان جو دورانِ جنگ میں دشمن کی فوج کے سپہ سالار کو اپنی چھاؤنی میں لاکر طبی امداد دینے جیسی انسانیت کا مظاہرہ کرگئے ہیں، دنیا کی محبت اور موت سے کراہیت کی وجہ سے چند ٹکوں کے عوض، بلکہ اکثر اپنے ہی وسائل سے، اپنے مسلمان بھائیوں کو ذبح کرا دینے اور مسلمان ممالک کا تیا پانچا کرا دینے کے ہیٹھے پن تک آگیا ہے۔ امت کی ایسی مت ماری گئی ہے کہ یہ اپنے صیاد کو اپنا ہمدرد سمجھے ہوئے ہے: وہ اِسے مرغیوں کی طرح پالتا ہے، اور یہ یہ سمجھتی ہے کہ اُسے چوگا اپنے ذاتی فائدے کے لیے دیا جا رہا ہے۔ ملکوں ملکوں کشکول بجاتے پھرنے اور دنیا زادگی کی نحوست نے مسلمان سے اُس کی مسلمانیت کا جوہر اور پہچان چھین لی ہے۔

مایا کے جادو نے گیان کے لکھشن بندھن توڑے
جوگی جی سے مالا چھوٹی، سادھو سے لنگوٹ

وحی و تنزیل کا سلسلہ بند ہونے کے بعد جوں جوں حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانے سے بُعد ہوتا گیا، بحیثیتِ امت اعمالِ دعوتِ دین کو مقصد کے درجے میں رکھ کر کرنے میں تدریجًا کمی ہوتی گئی۔ ہر دور میں دین کا فکر رکھنے والے اسلاف اِس انحطاط کو دور کرنے کی سعی فرماتے رہے ہیں اور اُن کی محنتوں کے شان دار، دور رس اثرات مرتسم بھی ہوتے رہے ہیں۔ ماضیِ قریب یعنی تیرھویں اور چودھویں صدی ہجری میں بھی کئی لوگوں اور جماعتوں نے امت کو مقصد پر لانے کی کوششیں کی ہیں۔ مدارِس، مساجد، اشاعتِ کتب اور اپنے اپنے دور کے تمام آلاتِ نشر و اشاعت کو استعمال کرتے ہوئے دین کے پھیلانے کی فکر کرنا، راہ بھٹکی ہوئی امت کا غم کھانا اور اصلاحِ احوال کی فکر کرنا اللہ نے کئیوں کو نصیب کیا۔ کچھ راستہ چلنے کے بعد یہ حقیقت آشکارا ہوئی کہ اِبطال اور انکار یا مناظرہ کی بجائے— یا اپنے ظن و تخمین یا اپنی خواہشات کو کسی من پسند یا مطلوب سانچے میں ڈھال کر اُس کا نام اشاعتِ دین رکھ دینے کی بجائے— دین کو خالص شکل میں پیش کرنا اور اُس پر لوگوں کو چلنے پر آمادہ کرنا ہی اصل ہے کیونکہ دین صرف دین ہی کی محنت سے آئے گا؛ اور یہ کہ کسی بات کا صرف پہنچا دینا کافی نہیں ہوتا بلکہ لوگوں کو اُس پر لے آنا زیادہ نفع مند ہوتا ہے۔ اِن غمخوار مصلحینِ کرام پر یہ بھی کھلا کہ لوگوں کو ایک طرزِ زندگی سے دوسرے طرزِ زندگی پر لے آنے میں اُن کے ماحول کا بدلنا، خواہ عارضی طور پر سہی، بنیادی شرط ہوتا ہے۔

آج جب کہ مشغولیت سب سے بڑا عذاب ہے اور وقت کسی کے پاس نہیں، اللہ نے امت پر رحم کیا اور حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ پر دین کے زندہ کرنے کی محنت اور امت کو مقصد پر لانے کا کام ایسے انداز میں کرنے کا ڈھنگ کھولا جو اپنی بُنت، ڈھب اور شباہت میں اصلِ اوّل سے قریب ترین بھی ہو اور امت کا بلاتخصیص ہر طبقہ انتہائی قلیل وقت میں دین کی مبادیات کا ضروری علم، تجربے کے ساتھ حاصل کرسکے۔ ماحول میں چونکہ دینداری بہت کم ہے اِس لیے ایک آدمی محنت و ریاضت سے خواہ دین کے کیسے ہی بلند مقامات کو پا چکا ہو، کے لیے کچھ وقت کے بعد اپنے سب مشاغل کو ملتوی کرکے خالص دین کے ماحول میں کچھ وقت گزارنا ضروری ہو جاتا ہے۔ سلامتیِ قلب اور تطہیرِ فکر و نظر کا یہ مقصد جس کی ضرورت سے کوئی مسلمان بے نیاز نہیں رہ سکتا، پہلے خانقاہوں سے بتمام و کمال حاصل ہو جاتا تھا لیکن آج کی مصروف زندگی اور اِس پر مستزاد بے انتہا معاشی دبا کی وجہ سے کاروبارِ حیات کو تج کر دنیا سے یکسو ہو جانا اور ایک بڑی مدت تک کسی اللہ والے کی جوتیاں سیدھی کرکے دین والی زندگی کو سیکھنا امت کے بڑے طبقے کے لیے اب ممکن نہیں رہا۔ جب دین کی طلب اور اعمال کا ذوق و شوق ہی باقی نہ رہا ہو، اللہ کی جناب میں حضوری کا احساس ہی مرگیا یا کم سے کم مضمحل ہوگیا ہو، اور سنن و مستحبات تو الگ رہے، فرائض بھی بوجھ محسوس ہونے لگے ہوں تو خانقاہوں میں کون جائے؟ یہی وجہ ہوئی کہ آج کے مصروف زمانے میں تبلیغی جماعت کے عرف سے موسوم اِس چلتی پھرتی خانقاہ کو اللہ پاک نے قبولِ عام عطا فرمایا جس میں دین کے مبادیات ہی کا نہیں بلکہ جس میں ہزاروں لاکھوں مشغول افراد انفرادی و اجتماعی زندگی کے بے شمار پہلوؤں کے ضروری آداب اور اپنے دنیوی شغل کو دینی ترتیب پر چلانے کا ڈھنگ بھی بہت ہی کم وقت اور انتہائی کم خرچ میں ہاتھ کے ہاتھ سیکھ لیتے ہیں— بلکہ صرف سیکھ ہی نہیں لیتے بلکہ دوسروں کو یہ سب کچھ سکھانا بھی سیکھ لیتے ہیں اور دوسروں کو یہ سب کچھ سکھانے والا بھی بنا دیتے ہیں۔ تبلیغ کے ’’چھے نمبر‘‘ تعلیم و تعلم کی اِس ترتیب کی مہان بنیاد ہیں۔ اِس کام کے ذریعے ہرہر فردِ امت کو مومن، مصلِّی، عالم، ذاکر، خلیق، مخلص اور داعی بنانے کی محنت کی جا رہی ہے۔

یہ بات عام ہے کہ امت کے لیے درد اور کڑھن کی جو غیرمعمولی کیفیت اللہ پاک نے مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ کو ودیعت کی تھی، اُس میں وہ اپنے معاصرین میں ممتاز تھے۔ امت کے مذہبی جذبات و میلانات اور سرمایۂ درد کو جس طرح شیطان کے حوالے کیا جا رہا تھا اور صلاحیتوں اور مالی وسائل کو جس بے دردی سے بے جگہ اور عارضی، اور بیشتر دنیاوی، مقاصد کے حصول کے لیے جھونکا اور جھونکوایا جا رہا تھا، اللہ نے حضرت مولاناؒ پر اِسے روشن کردیا تھا۔ کہیں ابنائے زمانہ کی جھپیٹ میں آکر دوسروں کی دنیا بنانے کے لیے اپنی آخرت برباد کرنے والے مسلمانوں اور کہیں دین فروش یا سادہ خیال اصحابِ کلاہ و دستار کے ہاتھوں لُٹنے پُٹنے والے مسلمانوں کی حالتِ زار اور اِس کے نتیجے میں دنیا و آخرت کی بربادی کے اِس ادراک نے اُن کو وہ بے آرامی نصیب فرما دی تھی جو دینِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہوش دار اور راہ دان مقتداؤں کا جوہرِ اصلی رہی ہے— دین کے مٹنے کے غم کی شدت سے ہونے والی وہ بے آرامی جو نیندیں اُڑا دیا کرتی ہے۔ وہ یہ دعا کیا کرتے تھے کہ اے اللہ وہ گناہ جس کی وجہ سے اِس امت کی قسمت ہی بدل گئی، وہ گناہ جہاں ہوا، جس سے ہوا، ہم اُس کی معافی مانگتے ہیں۔ یا اللہ یہ گناہ، یہ جرمِ عظیم معاف فرما دے۔

دعوتِ دین کی تجدید کا کام جو اللہ پاک نے مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ سے لیا اور جو اِس وقت بحمداللہ پوری امتِ مسلمہ میں جاری ہے، ایک کثیر المقاصد کام ہے، اور اِسی وجہ سے کثیر الجہت ہے۔ دراصل اُس اسلامی ثقافت کا اِحیا حضرت مولاناؒ کا مقصدِ وحید ہے جس نے قرونِ اوّل کے اُن لوگوں کو جو ایک وقت میں انسانیت کے نام پر دھبہ تھے، ایک خاص ماحول میں رکھے جانے اور ایک خاص انداز سے تربیت دیے جانے کی برکت سے ستاروں کو نشانِ راہ دکھانے والا بنا دیا۔ اِس ماحول اور اِس اندازِ تربیت کے اجزائے ترکیبی یعنی اصولوں کو پالینے اور پھر اِن کو قرآن و سنت کی روشنی میں طریقِ انبیا علیہم السلام اور نہجِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر تعلیم و تربیت کے ذریعے امت میں دوبارہ جاری کردینے کی پیہم کوشش میں اُنھوں نے اپنی زندگی کھپا دی۔ یوں امت سازی یعنی امت کو صحیح الفاظ اور مفہوم میں امت بنانے کا کام دعوت و تبلیغ کا مقصد ہے۔ اِس میں کلام نہیں کہ مساجد و مدارس وغیرہ شعائراللہ ہیں لیکن ذرا سا غور کیجیے تو معلوم ہوگا کہ مسلمان ہی بذاتِ خود اللہ کا سب بڑا شعیرہ ہے۔ اِسی لیے تو رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ کعبہ کی حرمت سے ایک عام مسلمان کی جان قیمتی ہے۔ دین کی طلب سے خالی، اللہ سے غافل اور روٹھے ہوئے مسلمان کو اللہ کے سامنے جھکا دینا اور اللہ سے دوستی کرلینے پر آمادہ کرنا، مسلمان کا سب سے بڑا اِکرام ہے۔ اِسی طرح ایک کافر جو اپنی کم قسمتی سے یا اسلام کی حقیقی، عملی تصویر سامنے نہ ہونے کے باعث ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن بننے کی راہ پر سرپٹ دوڑ رہا ہے، کے جی میں تلاشِ حق کے شعلے کو روشن کرنا اور پھر اِس شعلے کو ہوا دینا، منت و زاری سے اور سمجھا بجھا کر اسلام کی نعمت سے بہرہ مند کر دینا— اولادِ آدمؑ میں کے ہر غیرمسلم انسان کا بنیادی انسانی حق basic human right ہے۔ قیامت کے دن انسانوں کے حقوق پورا کرنے کے بارے میں سوال ہوگا۔ دعوت و تبلیغ کی محنت سے امت کے اندر یہ احساسِ ذمہ داری پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہر مسلمان بحیثیتِ فردِ امتِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کا سفارت کار ہے اور دنیا بھر کے انسانوں کے حقوق کی ادائیگی کے سلسلے میں فعّال کردار ادا کرنے پر مامور اور اِس ضمن میں اپنی ذاتی اعانت اور دین کے اجتماعی کاموں میں اپنا حصہ ڈالنے کی بابت اللہ کو جوابدہ ہے۔

الحمدللہ تبلیغ کی اِس محنت کی برکت سے دینی جماعتوں میں ایک دوسرے کی ضرورت اور خوبیوں کے اعتراف، اختلافِ آراء و تعبیرات رکھتے ہوئے ساتھ مل کر چلنے اور برداشت کا کلچر پیدا ہوا۔ تبلیغی کام کسی کے مقابلے میں نہیں ہے اور نہ کسی کے مقابلے پر۔ یہ نبیوں والا کام ہے۔ ساری دنیا کے مسلمانوں کا ایک مسلک پر جمع ہونا ممکن نہیں، البتہ دین سب کا مشترک ہے۔ نبوت کے ماتھے کا جھومر امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام جو ایک وقت میں ازالۂ منکر کا نقیب ہوتا تھا اور جو ہماری کم قسمتی سے کہیں اشاعتِ مسلک کا نمائندہ اور کہیں محض اظہارِ منکر بن کر رہ گیا تھا، بحمداللہ اپنے اصولی، روایتی قرآنی و حدیثی معنوں میں زندہ ہوا اور دینی جماعتیں اپنی شناخت برقرار رکھتے ہوئے اور اپنا مسلکی خانہ بدلے بغیر اشاعتِ مسلک اور وقتی ضرورتوں اور ضرورتِ حادثہ کی پیدا کردہ خودبافتہ ترتیبوں پر چلنے کے ساتھ ساتھ دین کی اجتماعی فکر پر جمع ہونے لگیں۔ اجتماعیت اور نقل و حرکت وہ بنیاد تھی جس پر اِس امت کا ’’امت پنا‘‘ اُستوار تھا۔ یہ بنیاد آج کمزور پڑگئی ہے۔ کلمہ و نماز کو لے کر، علمِ الٰہی اور ذکرِ الٰہی کے ساتھ، اپنا حق معاف کرتے اور اللہ کی مخلوق کا حق ادا کرتے ہوئے، اللہ کو راضی کرنے کی نیت سے گلی در گلی، محلہ در محلہ اور گاؤں در گاؤں جماعتوں کا یہ پھرنا پھرانا بحمداللہ اِسی بنیاد کو بھر رہا اور مضبوط کر رہا ہے۔

حضرت مولانا محمد الیاس رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے کام میں کسی گروہ، مسلک یا فرقے کے لیے نہیں بلکہ ہر مسلمان کے لیے، نِری اُس کی مسلمانی کی وجہ سے، راستہ کھلا رکھا اور بطریقِ تعدیہ اپنے ساتھیوں میں ہر مسلمان کو دل کی گہرائیوں سے اپنے سے بہتر جاننے کی کمیاب خوبی پیدا کی— ایسے گرے پڑے مسلمان سے بھی جس میں ننانوے وجوہِ کفر جمع ہوں اور صرف ایک وجہِ اسلام ہو۔ یوں مختلف خانوں میں بٹے ہوئے اور ذات، برادری اور زبان کے کھونٹوں سے بندھے، رسوم و رواج اور پیشوں کے کولھوؤں میں پِلتے اور خود کو علاقوں اور ملکوں کے دڑبوں میں بند سمجھنے والے مسلمانوں کو صرف اور محض مسلمان ہونے کی وجہ سے ایک جگہ پر اِکٹھا ہونا نصیب ہوا۔ اِس اکٹھا ہونے اور مجالَست سے بہیمیت دور ہوئی اور اسلامیت سرسبز ہوئی، عمومی بیداری پیدا ہوئی اور جگہ جگہ دین پر بہار آنا نظر آنے لگا۔ دنیا بھر کے مسلمان ایک دوسرے کی زبان سمجھنے لگے۔ اسلام کی ثقافت جس کے رنگ پھیکے پڑگئے تھے اور جو بسا حالات دوسری ثقافتوں میں رَل مل کر اپنی ایکیت اور وضاحت تک کھو بیٹھی تھی، ایک بار پھر پنپنے لگی۔ اور یوں دنیا بھر میں گھروں کے اندر اسلامی معاشرت اور محلّوں میں اسلامی کلچر زندہ ہوا۔

دعوت و تبلیغ میں لگنے والوں کے چارٹر میں پوری دنیا میں پورے دین کو زندہ کرنا— صرف پھیلانا نہیں— پہلے نمبر پر ہے۔ ہماری تاریخ کے تابناک ترین ادوار یعنی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیاتِ طیبہ اور بعد ازاں دورِصحابہؓ میں یہ کام ہر مسلمان مقصد کے درجے میں کیا کرتا تھا۔ آج پوری دنیا میں پورے دین کو زندہ کرنے کی آواز لگانے والے اور راہِ خدا میں ذلیل ہونے کی عزت کو حاصل کرنے کے متلاشی یہ واحد لوگ ہیں جو اللہ کے راستے میں اپنی جان، مال، وقت اور صلاحیتوں کے ساتھ نکلتے اور اللہ کی توفیق سے پوری دنیا کے مسلمانوں کو جگا رہے، اُنھیں اُن کی حیثیت پہچنوا رہے، اُنھیں اُن کا کام و مقصد یاد دِلا رہے اور مقصد پر واپس کھینچ لانے کے لیے اللہ کی زمین کی وسعتوں کے تمام معلوم گوشوں میں دیوانہ وار پھر رہے ہیں۔

مومن کے جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے

تبلیغی اجتماعات بھی اِسی سلسلے ہوتے ہیں کہ امت اپنے کام کو پہچانے، اپنی حیثیت پہچانے اور اپنے کام پر واپس آجائے۔ سروں کا گننا، سیاست گردی، کرسیوں اور کرسی داروں کی ہوا خواہی، وغیرہ، کا یہاں گزر نہیں۔ تبلیغی اجتماع کی کامیابی کا معیار یہ ہوتا ہے کہ کتنے لوگ دیر اور دور کے لیے اللہ کے راستے میں نقد نکلے۔ اجتماعِ حجِ بیت اللہ کے بعد یہ واحد فورم ہے جہاں ہر مشرب، طبقے، زبان، نسل اور علاقے کے مسلمان جمع ہوتے ہیں اور اپنی آتشِ مسلمانی کو ہوا دیتے ہیں۔ اللہ پاک مجھے، آپ کو اور تمام دنیا کے مسلمانوں کو اِس عالی کام میں لگنے کی توفیق دے اور قبول فرمالے۔ یہ کام قابلیت کا نہیں، قبولیت کا ہے۔ اور یہ مبارَک کام سراسر عمل ہے، باتیں نہیں۔ دعا ہے کہ اللہ اِس نقل و حرکت اور اجتماعیت کی حفاظت فرمائے، قربانی اور صفات میں مزید آگے بڑھنے والا بنائے اور تمام عالم میں دین کی سرسبزی اور شادابی کو سر کی آنکھوں سے دیکھنا نصیب فرمائے۔ آمین۔
٭٭٭

حافظ صفوان محمد
حافظ صفوان محمد
مصنف، ادیب، لغت نویس

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *