احمد رضوان کی تحاریر
احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

قائد اعظم کا دورہ کینیڈا۔۔۔۔احمد رضوان

بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح برصغیر پاک و ہند کے ان چند ممتاز ترین اسٹیٹسمین میں سے ایک تھے جنہوں نے تاریخ کا دھارا تبدیل کرنے میں بھرپورکردار ادا کیا۔جدوجہدِ آزادی میں محمدعلی جناح کا کردار تاریخ کے←  مزید پڑھیے

وکیل بابو فرام لندن۔۔۔۔احمد رضوان

کوئی پوچھے تو  کیا بتاؤں کہ ملکہ کے دیس میں، وکیل کے بھیس میں ایک ایسا انسان چھپا بیٹھا ہے جو اپنی ذات میں انجمن ہے (انجمن سلطان راہی والی نہیں نہ ہی انجمنِ منجن و پھکی فروش )۔بچپن کے←  مزید پڑھیے

سرکتی جائے ہے سرقے کی نقاب آہستہ آہستہ۔۔۔احمد رضوان

سچ ہی کہا ہے بزرگوں نے کہ عوامی دانش سے بھرپور محاورے یوں ہی وجود میں نہیں آتے۔ان کے پیچھے صدیوں کا تجربہ اور عوامی مشاہدات کا نچوڑ شامل ہوتا ہے ۔محاورہ یوں ہے کہ “چور چوری سے جائے ہیرا←  مزید پڑھیے

قصہ ایک ٹویٹ کا۔۔۔۔احمد رضوان

آج محترمہ شہلا رضا صاحبہ کا ایک ٹویٹ نگاہوں سے گذرا تو ماضی کی کتاب کے کئی صفحات خود بخود کھل گئے اور یادوں کے چراغ جل اٹھے۔یادش بخیر چار اپریل انیس سو اناسی کو راقم سات سال کا تھا۔اپریل←  مزید پڑھیے

تم کیسے مسیحا ہو؟۔۔۔احمد رضوان

کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ دو دہائیاں پہلے بھی کم و بیش ایسا ہی تھا اور اس سے پہلے بھی شائد ۔کبھی کبھی لگتا ہے ہم ترقی معکوس کر رہے ہیں ۔معاملات بہتری کی بجائے ابتری کی طرف گامزن ہیں←  مزید پڑھیے

کرنل ضیا شہزاد اور “ٹارگٹ ٹارگٹ ٹارگٹ”۔۔۔۔۔احمد رضوان

عنوان دیکھ کر چونکیے گا مت کہ کرنل ضیا شہزاد کا ٹارگٹ کیا ہے؟عرض کردوں کہ موصوف نہ تو ٹارگٹ کلنگ پر یقین رکھتے ہیں اور نہ ہی ٹارگٹ کے پورا ہونے پر نعرہ مستانہ لگانا شروع کردیتے ہیں “ٹارگٹ←  مزید پڑھیے

جامِ جمَ۔۔۔۔۔۔۔احمد رضوان

تحریر مذکور میں جس جام جم کی بات ہورہی ہے اس کا دور و نزدیک سے بھی کوئی تعلق یا واسطہ بادشاہ جمشید کے جامِ جم سے نہیں ہے ۔جمشید کا ساغرجم تھا جس کے مقابلے میں مرزا نوشہ کو←  مزید پڑھیے

جائے گی گلشن تلک اس گل کی آمد کی خبر ۔۔ روبینہ فیصل کی سالگرہ پر۔۔۔۔۔۔احمد رضوان

آپ یقین نہیں کریں گے کہ مارچ 2016 سے قبل میں ان کی صورت تو کجا نام آشنا تک نہ تھا۔کینیڈا میں 2005 سے رہائش پذیر ہونے کے باوجود کسی قسم کے ادبی گروہ اور انبوہ میں نہ تو کسی←  مزید پڑھیے

باسکٹ بال: قصہ ربع صدی کا۔۔۔احمد رضوان

ربع صدی قبل جب آتش جوان تھا تو خون پسینہ کھیل کے میدان میں بہانے کا شوقین تھا ۔کھیلوں سے رغبت بچپن میں ہی ایسی پیدا ہوگئی تھی کہ اسکول میں بریک کے دوران اور بعد از چھٹی گراؤنڈ میں←  مزید پڑھیے

نیوزی لینڈ : کرکٹ کا دہشت گرد ملک…احمد رضوان

یادش بخیر بچپن میں پی ٹی وی پر ایک اشتہار چلا کرتا تھا جو اشتہار شور و غوغا تو نہیں ہوتا تھا مگر ایک عجیب الخلقت جانور کو بوٹ پالش کے ساتھ جوڑ کر دکھایا جاتا تھا کہ کیوی ایک←  مزید پڑھیے

ایسا ضروری تو نہیں۔۔۔۔احمد رضوان

“شاعری جز ویست از پیغمبری ” مگر یار لوگوں نے اس سے مراد “پیغام بری” لے لیا۔ “چٹھی ذرا سیاں جی کے نام لکھ دو، حال میرے دل کا تمام لکھ دو”۔پہلے اس نامہ بری کے لیے کبوتروں کا،چبوتروں کا←  مزید پڑھیے

روبینہ فیصل کا انٹرویو۔۔۔۔احمد رضوان

روبینہ فیصل کینیڈا میں مقیم معروف ادیبہ اور نوائے وقت کی کالم نگار ہیں۔تین کتابوں کی مصنفہ ہیں اور دو کتابیں زیر طبع ہیں۔ لکھنے پڑھنے کے ساتھ ساتھ ٹی وی ٹاک شوز کی اینکر پرسن ہیں اور کم و←  مزید پڑھیے

گلاب لمحے۔۔۔بک ریویو۔۔احمد رضوان

گلاب لمحے کی تقریب رونمائی میں پڑھا گیا محترم و معظم صاحب صدر، گرامی قدر اراکین ادبی گروپ رائٹ ناؤ(Write Now) ،معزز خواتین و حضرات السلام علیکم آپ سب کی آمد اور اس محفل کو چار چاند لگانے کا خصوصی←  مزید پڑھیے

مدیرِ مجہول، ڈاکٹر ڈھنکنا اور ڈان کیہوتے۔۔۔احمد رضوان

یہ ان قرنوں کی بات ہے جب پاکستان میں ٹی وی بلیک اینڈ وائٹ اور بیوی بلیک، وائٹ یاگندمی ہر رنگ میں دستیاب ہوتی تھی، بھلے پیا من بھائے نہ بھائےمگر گھر والوں کو پسند آجائے۔گھر گھر اس ایڈیٹ باکس←  مزید پڑھیے

یہ سفر ایک سال کا۔۔۔ احمد رضوان

اگلے زمانوں میں قرن ہا قرن انسان صرف ہتھیار کی زبان سمجھتا تھا اور اسی کے زور پر اپنے فیصلے منوانے کا عادی تھا اور بڑے فخر سے خود کو شمشیر ابن شمشیر کہلواتا تھا۔مجھے تو ایسے سپوتوں کی بارآوری←  مزید پڑھیے

گارڈنر کلب اور ڈیانا کاٹج

گارڈنر کلب اور ڈیانا کاٹج مرزا غالب عرصہ ہوا فرما گئے تھےـ ،ایسا بھی کوئی ہے سب اچھا کہیں جسے ۔ کوئی ایسا محبت کرنے والا انسان جس کی محبت رنگ،نسل،ذات پات سے بالاتر ہوکر صرف انسانیت سے ہو،خال خال←  مزید پڑھیے

راجہ جی کے دربار میں

راجہ جی کے دربار میں (ایک طویل مضمون سے تحریف اور تخفیف شدہ اقتباس) یادش بخیر، اسی کی دہائی کا اختتام تھا جب کا یہ قصہ بیان کر رہا ہوں۔ویسے تو یہ زلف تراشی و آرائشِ گیسو کا سیلون تھا←  مزید پڑھیے

پطرس ۔۔ایک عبقری

انیسویں صدی کئی اہم واقعات کے اندراج کے ساتھ اپنے اختتام کی طرف گامزن تھی۔1898میں برٹش راج، چین سے ہانگ کانگ کو سوسالہ پٹے پر لے رہا تھا، امریکا بہادر ابھی نیٹ پریکٹس کرنے کی خاطر اسپین کے زیر تسلط←  مزید پڑھیے

پارے سے آبپارے تک

جو ں جوں گرمی کا موسم اپنے جوبن کی طرف جا رہا ہے اور پارہ چڑھائی کا سفر طےکر رہا ہے، ساتھ ساتھ لوگوں کا مزاج بھی گرم اور پارہ چڑھ رہا ہے۔سیاسی درجہ حرارت بھی اتار چڑھاؤ کا شکار←  مزید پڑھیے

ایک شام فلم انڈسٹری کے نام

پاکستان کلب آف کینیڈا کے زیر اہتمام فلم انڈسٹری کے ساتھ گزاری گئی اس شام میں رنگ و نور کی ایک کہکشاں تھی ۔نامور سماجی اور فلمی ہستیوں سے مزین اس شام کو یادگار بنانے کا سہرا سب کے ہر←  مزید پڑھیے