جامِ جمَ۔۔۔۔۔۔۔احمد رضوان

تحریر مذکور میں جس جام جم کی بات ہورہی ہے اس کا دور و نزدیک سے بھی کوئی تعلق یا واسطہ بادشاہ جمشید کے جامِ جم سے نہیں ہے ۔جمشید کا ساغرجم تھا جس کے مقابلے میں مرزا نوشہ کو جام سفال ذیادہ پیارا تھا۔
اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیا
ساغر جم سے مرا جام سفال اچھا ہے
جمشید اپنے “جام جہاں نما” یا جام جم کوزرا گھماتا تھا اور بیٹھے بٹھائے (نئی نسل کو سمجھانے کے لئے بغرض مثال) “گوگل ارتھ” کا حظ اٹھا لیا کرتا تھا ۔اسی بادشاہ نے انگور کی بیٹی کا عرق کشید کرنے کا طریقہ بھی دریافت کیا تھا۔ اسی لئے جمشید “تینوں پین گے نصیباں والے نشے دیے بند بوتلے” گا گا کر جام پہ جام لنڈھاتا تھا. خاکسار بقدر ہمت اوست فقط لسی پی کے(PKفلم کےہیرو مافک ) ٹن ہونے پر قانع ہوکر کسی کا کانا ہونے سے محفوظ رہتا ہے ۔مضمون ہذا والا جامِ جَم اصل میں جنم(جمن) دن کی مناسبت سے یاران خوش خصال و کمال کےلئے تجویز کیا گیا ہے کہ “ہوئے جم کے ہم جو رسوا”۔
جولائی کا مہینہ بھی کیا غضب کا مہینہ ہے ۔آغاز اس کا آگ برساتے سورج کی تپش سے ہوتا ہے ۔ جولائی کا پہلا حصہ دیسی مہینے ہاڑ پر مشتمل ہوتا ہے اور باقی ماندہ ساون پر۔ جولائی کا ساون والا عرصہ بادلوں کی سورج سےآنکھ مچولی اور ہمجولی کی چولی کا پینگ پر ہچکولے دیکھتے، آموں کو کھاتےاور پکوان تلتے گزرتا ہے ۔حبس دوام اور طعام کا خاص اہتمام ہوتا ہے ۔جولائی سیاراتی تقسیم میں بھی دو حصوں پر مشتمل ہے ۔بیس تاریخ تک والوں کا نشان کینسر ہے اور اس کے بعد والوں کا برج اسد جس کا انتخابی معذرت بعد از خرابی بسیار نشان شیر ہے۔
جولیس سیزر عظیم رومن بادشاہ جس نے جولین کیلنڈر کا اجراء کیا اور اسے خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے جولائی کا مہینہ اس سے منسوب کیا گیا۔ سیزر رومن دیو مالائی داستانوں کا ایک ایسا شجیع بادشاہ تھا جو قلوپطرہ کے فسوں خیز حسن ،مارک انطونیت اور بروٹس جیسے درباریوں کیوجہ سے تاریخ کے پنوں میں امر ہوگیا ۔ جولائی ہمیں بھی پیارا ہے کہ ہمارا جنم دن اسی ماہ کی 26 تاریخ کو پڑتا ہے۔ تاریخ انتخاب اور طریقہ پیدائش میں ہماری ذاتی کوشش یا دخل اندازی کا کسی قسم کا ہاتھ نہ ہے۔سب منشائےکاتب تقدیر اور والدین کی احتیاطی تدابیر نہ اختیار کرنے کا نتیجہ تھا۔

یونہی خیال آیا زرا چھبیس جولائی کو پیدا ہونے والے بطل ہائے جلیلیہ کا نام تو کھنگالوں کہ آخر کون کون ہمارا مصاحب ہے ۔گوگل بابا نے جو نتائج دکھائے ان کے مطابق بہت سارےنامی گرامی بادشاہوں سے لے کر معروف ادباء جیسے برنارڈشا،ہکسلے،ابن عربی،ابن صفی کا نام پایا۔موسیقار اعظم موزارٹ سے لے کر ماہر نفسیات دان کارل یونگ ۔گویا نامیوں کی کہکشاں تھی جس میں اس فقیر کا اضافہ ہوا ۔اس سے سنیہ فخر سے تن کر چوڑا ہوگیا ۔قریب تھا نفسِ آوارہ کا غبارہ پھول کر پھٹ جاتا ،یکایک اس کی ساری ہوا ایک زورداری صدر کے نام پر پڑ کر نکل گئی اور دل مسوس کر رہ گیا ۔
آمدم بر سر مطلب ،وہ احباب جنھوں نے اس دن کی مناسبت سے مبارکبادی ،تہنیتی پیغامات بھیجے ،اپنی دعاؤں میں یاد رکھا ،ان سب کی محبتوں کا قرض دار ہوں اور جو دوست کسی بنا پر اس سعادت عظیم سے محروم رہ گئے ،ذرا بھی مایوس نہ ہوں ،کوئی ایسی بڑی بات نہیں ۔بڑے بڑے لوگوں پر یہ پیمبری وقت آ جاتا ہے ۔آپ سب کے لیے خوشخبری ہےکہ آپ کو ایک اور موقع دیا جائے گا ان شاء اللہ ۔تفصیل اس اجمال کی یوں ہے کہ ہم سال میں دو بار سالگرہ مناتے ہیں (گرچہ کیک ایک ہی کاٹتے ہیں جولائی میں) ۔ایک پیدائش والے دن کے حساب سے نسلی اور اصلی جبکہ دوسری سرکاری سکول میں داخلے کے فارم میں درج تاریخ کے حساب سے۔ہمارے ایک انکل نے جو ہمارا اور اپنے بیٹے کا داخلہ کروانے گئے تھے۔ ہمارا مسیر (ویسا ہی جیسے عماد بزدار کا وزیر اعلی ہے )ہمارا ہم عمر تھا ۔ ہماری درست تاریخ پیدایش معلوم نہ ہونے کی وجہ سےانکل نےاٹکل پچو سے کام لیتے ہوئے اپنے بیٹے کی تاریخ پیدائش کے قریب والی تاریخ درج کرادی۔یہ تو خیر دو کزنز کے بیچ کا معاملہ تھا اس لئے کوئی خاص شور یا نوٹس نہیں لیا گیا۔ اسی سے ملتا جلتا قصہ میرے دو قریبی رشتہ دار سگے بھائیوں کی عمروں کا تفاوت سرکاری کاغذات میں صرف 2 ماہ کا نکلا تو شور پڑ گیا کہ مانا سائینس نے کافی ترقی کر لی ہے مگر اتنی بھی ترقی نہیں کی کہ وقفہ بہت ضروری ہے کے اشتہار کی یوں کھلم کھلا ِکھلی اڑائی جائے۔
معاملہ شائد دبا رہتا کہ دونوں دو مختلف کلاسوں میں پڑھتے تھے اور ایک سال کا جینوئن فرق رکھتے تھے، مگر جب ایک نے یورپ اور دوسرے نے شمالی امریکا منتقل ہونے کی ٹھانی تو فارم بھرتے ہوئے ساری فیملی کی تاریخ پیدائش کا اندراج کیا تو اس حسین مگرسنگین غلطی کا احساس ہوا اور پھر اس غلطان کا بھگتان کرنے کے لیے جو جو پاپڑ بیلنے پڑے ،وہ تفصیل ایک الگ مضمون کی متقاضی ہے ۔
جنم دن منانے کا رواج ہماری بچپن کی یادوں میں کہیں بھی دور دور تک نہیں ہے۔بچپن میں جب کبھی جنم دن آتا تھا تو ذیادہ سے ذیادہ چند روپے وار کر صدقہ کردیے جاتے تھے ۔ اس بدعت صبیحی جسے سالگرہ کہتے ہیں کا آغاز ۹۰ کی دہائی کے آخری سالوں میں یاد پڑتا ہے چھوٹے بہن بھائیوں اور والدین کے اصرار پر منانا شروع کیامگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی جیسے آج کی فیس بکی جنریشن سالگرہ مناتی ہے ۔ آخر میں ایک مختصر نثری نظم ذرا منہ کا ذا ئقہ بدلنے کے لیے۔

Advertisements
merkit.pk
tripako tours pakistan

عمر عزیز کا ایک اور سال گذر گیا
خبر بھی نہ ہوئی کہ
کدھر سے آیا اور کدھر گیا
دے گیا یادوں کی اک پوٹلی
کہ سکے جس میں ہیں
۔خوش وقتی کے
نقدی یہ سنبھال کر رکھوں کہاں؟
لٹا ہی دوں اس مآل کو
آجائے کسی کے لبوں پر ایک نوخیز مسکان
مدھ بھری اکھیوں سے چھلک جائے
اک کھنکھناتا جام
لائے مسرتوں کا پیام
جولائی2019,26

  • merkit.pk
  • merkit.pk

احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 4 تبصرے برائے تحریر ”جامِ جمَ۔۔۔۔۔۔۔احمد رضوان

  1. واہ مزہ آگیا ۔۔۔۔۔
    جولائی میں ایک اہم شخصیت مس کر گئے ہو ۔۔۔۔ بلکہ دو ۔۔ شام اور روبی ۔۔۔
    مجھے جولائی کا مہینہ بڑا پسند ہے اپنی برتھ ڈے کی وجہ سے lol لیکن تمھارے سے ملتا جلتا دکھ میرا بھی ہے ابو نے میڑک کر فارمز میں 20 جولائی کی بجائے 20اپریل لکھوا دیا تھا جو آج تک ویسے ہی چل رہا ہے ۔۔۔
    میری گاڑی کی نمبر پلیٹ پر بھی وہی چل رہا ہے جو میری بڑی بہن کی برتھ ڈے ہے ۔۔ گو سن ٹھیک ہے تاریخ بھی بس مہینہ میں گڑبڑ ۔۔۔ شکر ہے ہمارے والدین ان پرانے وقتوں کے والدین سے بہتر ہیں جنہوں نے بچوں کی پیدائش کو ایسے یاد رکھا ہوتا تھا وڈا منڈا تب پیدا ہوا جب پنڈ میں سیلاب آیا ہوا تھا یا بارشیں دبا کے ہو رہی تھیں یا لُو چل رہی تھی یا زوروں کی آندھی آئی ہو ہی تھی ۔۔۔۔۔۔ جولائی کا مہینہ زندہ باد ۔۔۔

Leave a Reply