قصہ ایک ٹویٹ کا۔۔۔۔احمد رضوان

آج محترمہ شہلا رضا صاحبہ کا ایک ٹویٹ نگاہوں سے گذرا تو ماضی کی کتاب کے کئی صفحات خود بخود کھل گئے اور یادوں کے چراغ جل اٹھے۔یادش بخیر چار اپریل انیس سو اناسی کو راقم سات سال کا تھا۔اپریل کی وہ صبح حافظے پر آج بھی نقش ہے ۔اس دن سورج نکلا تو تھا مگر پشیمان پشیمان سا۔فجر کی نماز کے بعد صحن میں ریڈیو کے گرد سب گھیرا ڈالے بیٹھے تھے ،سات بجے کی خبروں کا بڑی شدت سے انتظار تھا ۔بدھ کا دن تھا اور اسکول سے چھٹی تھی۔امتحانات کے بعد رزلٹ سنایا جاچکا تھا مگر اس وقت کے حاکم نے ایک اور نتیجہ ابھی سنانا تھا۔ ٹھیک سات بجے ریڈیو پر خبر نشر ہوئی کہ آج صبح صبح راولپنڈی میں میں ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دے دی گئی ہے ۔ شہر میں اس وقت کرفیو لگا ہوا تھا۔ کسی کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں تھی۔ایک عجیب طرح کی مردنی اور ویرانی سی ہر طرف محسوس ہو رہی تھی اور دہشت کاعالم تھا۔ یہ خبر آج تک حافظے میں اپنے پورے سیاق و سباق کے ساتھ اسی طرح موجود ہے اور اس خبر نے پاکستان کی سیاست کے آنے والے مہ و سال میں کون کون سے اثرات چھوڑے وہ اظہر من الشمس ہے۔ میں یہ بات یہاں بتاتا چلوں کہ میرا تعلق کبھی بھی پیپلزپارٹی یا ان کے ہمدردان کے طور پر نہیں رہا اور آج بھی ناقد ہوں۔ اس وقت جو والدین کی سوچ وہی آپ کی ہوتی تھی۔ بعد میں جب تاریخ کھنگالنا شروع کی تو بہت ساری چیزیں واضح ہوئیں۔ خیر بھٹو کا عدالتی قتل اور اس کے مضمرات آج کی اس تحریر کا موضوع بحث نہیں بلکہ اس ٹویٹ کا ایک تجزیہ مقصود ہے۔

اس ٹویٹ میں ایک ایسا ٹوئسٹ ہے جو بڑے بڑوں کو حیران اور پریشان تو کرےگا ساتھ ساتھ ہماری سیاسی، علمی ،تحقیقی اور معلومات عامہ پر بھی ایک بڑا سوال ہے۔ بہت سے دوستوں کا یہ خیال ہے کہ اس ٹویٹ میں انہوں نے عمران خان کے والد کو نشانہ بنایا ہے۔اکرام اللہ خاں نیازی اگر واپڈا ملازم (تصدیق ابھی نہیں )تھے تو ان کا بھٹو کیس سے کیا لینا دینا؟ بھٹو کی برسی پر محترمہ شہلا رضا صاحبہ کی ٹویٹ کو نرم سے نرم الفاظ میں قابل مذمت سمجھا جانا چائیے ۔ایک تو الفاظ کا نامناسب استعمال اور دوسرا ایک لیڈر کی برسی پر اپنا غم و غصہ کہیں اور نکالنا۔ عمران خان کے والد یا ان کی مبینہ کرپشن بھٹو کی پھانسی میں کیا کردار تھا؟ اس ٹویٹ کے سیاق و سباق کوکس طرح آپ ان پر منطبق کرسکتے ہیں؟ وہ تو کبھی سیاست میں رہے ہی نہیں ؟ کیا ہم اسی طرح ذولفقار علی بھٹو سے اعزا کی بابت سوال اٹھا سکتے ہیں ؟ جو سیاست کے میدان کے کھلاڑی ہیں ان کی بات کی جاتی تو ذیادہ بہتر موازنہ ہوسکتا تھا۔ اگر جنرل ضیا کی بات کی جاتی تو قابل فہم تھی ۔میری ناقص رائے میں اس کئے گئے ٹویٹ میں جس افسر کی طرف نشاندہی کی گئی ہے وہ کوئی اور ہے؟ دوستوں کی یادداشت کو تازہ کرنے کے لئے اس ممکنہ افسر کے بارے میں اپنی گزارشات پیش کرتا ہوں جن کی طرف ہوسکتا ہے محترمہ شہلا رضا صاحبہ نے اشارہ کیا ہے۔ پتہ چلتا ہے کہ لوگ نہ تو اس ٹویٹ میں جس مذکورہ شخص کی طرف نشاندہی کی گئی ہے اس کے بارے میں کوئی معلومات رکھتے ہیں نہ ان کے بارے جانتے ہیں ۔ محترمہ شہلا رضا یا تو پوری طرح حالات کی خبر نہیں رکھتیں یا تجاہل عارفانہ سے کام لے کر ایک تیر سے کئی شکار کرنے کی کوششوں میں ہیں اور کھل کر نام لینے سے بھی ڈرتی ہیں ۔ اس ٹویٹ سے ممکنہ طور پر وہ کئی لوگوں کو نشانہ بنانا چاہ رہی ہیں

جنرل (ریٹائرڈ) زاہد علی اکبر حیات ہیں۔جنرل صاحب آرمی کی انجینئرنگ کور سے تعلق رکھتے تھے .کہوٹہ پلانٹ کے لئے جگہ کا انتخاب اور تعمیر میں ان کا کردار تھا۔ جنرل ضیاءالحق کے کافی قریب سمجھے جاتے تھے دونوں کا پیدائشی ضلع جالندھر ہے۔ زاہد علی اکبر مختلف عہدوں پر فائز رہے۔بھٹو کی پھانسی سے ایک سال قبل ان کو بریگیڈئیر سے ترقی دے کر ٹو اسٹار جنرل بنایا گیا تھا۔بعد میں لیفٹینٹ جنرل کے عہدے پر ترقی پاگئے تھے کور کمانڈر بھی رہے۔ 1984- 1989 تک واپڈا کے چئیرمین کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ پی سی بی کے چیئرمین بھی رہے ۔ان کے دور میں ہی پاکستان 1992 میں ورلڈ کپ جیتا تھا۔ یہ جنرل زاہد علی اکبر عمران خان کے کزن ہیں .ریٹائرمنٹ کے بعد ان پر آمدنی سے زائد اثاثہ جات بنانے پر نیب نے ان پرکیس بنایا تھا۔ چونکہ یہ اس وقت ملک سے باہر تھے اور برٹش نیشنل تھے اس لئے ریڈ وارنٹ جاری کرکے انٹرپول کے ذریعہ ان کی گرفتاری عمل میں لائی گئی تھی، بعد میں یہ نیب سے پلی بارگین کرکے بیس کروڑ جرمانہ ادا کرکے پوتر ہوگئے تھے۔کافی عرصہ قبل جنرل زاہد علی اکبر کا انٹرویو پڑھا تھا جس میں انہوں نے بھٹو کی لاش اپنی نگرانی میں راولپنڈی سے لاڑکانہ منتقل کرنے کے بارے بتایا تھا۔ پھانسی کی صبح بھٹو کی لاش کڑی نگرانی میں یہ گڑھی خدا بخش ، لاڑکانہ لے کر گئے تھے اور دفن کرایا تھا۔ جنرل صاحب نے اسی انٹرویو میں اپنااور محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ کا واقعہ بھی بیان کیا تھا ۔ حافظے کے زور پر اسے بھی پیش کرتا ہوں۔

انیس سو اٹھاسی میں جب محترمہ بینظیر بھٹو ایک طیارے کے فضا میں پھٹنے کے بعد برسراقتدار آئیں تو لوگوں کا خیال تھا کہ اب بے نظیر صاحبہ چن چن کر ان لوگوں سے انتقام لیں گی جو ان کے والد کے عدالتی قتل میں ملوث یا شامل تھے یا انہوں نے کوئی کردار نبھایا تھا۔ جنرل زاہد علی اکبر اس وقت چیئرمین واپڈا کی پوزیشن پر پر فائز تھے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو سے بحیثیت چیئرمین واپڈا کے ملاقات ہوئی تو محترمہ نے ان سے کہا کہ مجھے یاد ہے کہ آپ میرے والد کی لاش لے کر گڑھی خدابخش گئےتھے۔ جنرل زاہد علی اکبر نے محترمہ سے کہا کہ میں اپنے فرائض انجام دے رہا تھا میری کوئی ذاتی پرخاش نہیں تھی اور نہ ہی میرا کوئی ذاتی فیصلہ تھا۔ مجھے اوپر سے جو حکم آیا میں نے اس کی تعمیل کی تھی۔ محترمہ نے ان کے اس استدلال کو مان لیا تھا اور ان کو چئیرمین کے عہدے پر برقرار رکھا تھا۔ 1989 میں اپنی ڈیپوٹیشن کے پانچ سال پورے کے بعد وہ واپس اپنی کور میں چلے گئے تھے۔ جنرل صاحب زندہ ہیں ،ان سے اس کی تصدیق کی جاسکتی ہے۔

احمد رضوان
احمد رضوان
تیشے بغیر مر نہ سکا کوہکن اسد سرگشتہ خمار رسوم قیود تھا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 3 تبصرے برائے تحریر ”قصہ ایک ٹویٹ کا۔۔۔۔احمد رضوان

  1. بہت سے دوستوں نے اس ٹویٹ بارے پوچھا ہے تو کچھ باتیں عرض کرتا ہوں

    پیپلزپارٹی کے لوگوں کے نزدیک جناب زاہد علی اکبر ضیا الحق کے قریب ترین ساتھی تھے وہ ان کے جرائم کے اہم ساتھی تھے صرف ڈیوٹی نہیں نبھا رہے تھے
    ان کا بھٹو کے قتل میں اہم کردار تھا وہ ضیا کے اہم ترین اور قابل اعتماد ترین لوگوں میں سے ایک تھے
    جالندھری تعلق بھی اس کی ایک اہم وجہ تھی

    دوسرا لاش کو دفنانے وقت جو موصوف کا رویہ تھا وہ صرف کسی ڈیوٹی کو سر انجام دینے کے لیے نہیں تھا بلکہ اس نفرت کا غماز تھا جو موصوف کو بھٹو سے تھی
    تیسرا بی بی بے نظیر اگر زاہد علی اکبر کو ہٹا نہ سکی تو اس کا سبب یہ تھا کہ ان کو صرف ایک بہت ہی محدود عرصے کے لیے ایسی حکومت ملی تھی جس میں ان کو بہت سے فیصلوں کا اختیار نہیں دیا گیا تھا وگرنہ زاہد علی اکبر سمیت حساس اداروں کے ان تمام لوگوں کو سویلین عہدوں سے الگ کر دیا جاتا جو انھیں ضیاء صاحب نے اپنی حمایت حاصل کرنے کے لیے عطا کئے تھے
    یہ انتقام کا تقاضا نہیں تھا بلکہ سول حکومت کی رٹ کے لیے ضروری تھا مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کو یہ اختیار نہیں دیا گیا
    پیپلزپارٹی کے لوگوں کو زاہد علی اکبر سے جو نفرت ہے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے ان کے نزدیک موصوف جہنم رسید ہی ہوگا جیسے ان کے نزدیک بھٹو لوگوں کے بارے میں تصور ہوگا
    صرف ٹویٹ میں غلطی یہ ہے کہ محترمہ شہلا رضا کو یہ علم نہیں کہ موصوف ابھی تک اسی دنیا میں تشریف فرما ہیں
    یہ

  2. مجھے معلوم نہیں کہ یہ شہلا کس چڑیا کا نام ہےکہ دن بھر بیسوں ایسے چَوَل نامے پڑھنے کو ملتے ہیں۔ اب کس بات پر کڑہیں اور کس پر ہنسیں!آپ کی ہمت کی داد دیتا ہوں کہ تاریخ کی درستی کے لیے قدم اٹھایا۔بی بی کے بعد تو پیپلز پارٹی کے جیالوں نے بھی علموں’’ بس کریں اور یار‘‘کے لفظی معانی سے آگے بڑھنے کی کوشش نہیں۔ اب تو تمام سیاسی پارٹیاں شدت پسند فرقوں کی شکل اختیار کرچکی ہے۔ استدلال کی قدر تو چنے کی دال سےبھی کم ہو گئی ہے ۔اکثر ایک معصومانہ سوال سننے کو ملتا ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ کیا ہے؟ اب ایک مسئلہ ہو تو اُس رونا روئیں؟ جہاں ہر نوماہ بعد ایک ہٹا کٹا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہو وہاں کسی نومولود مسئلے کا نام رکھنا بھی ایک مسئلہ بن جاتا ہے۔ان دنوں تو جس دن کوئی مسئلہ پیدا نہ ہومجھے تشویش شروع ہو جاتی ہے۔ایک بار رات کے گیارہ سے اوپر ہو جانے پر مایوس ہو کر بستر پر جانے کی سوچتے ہوئےجمائیاں لے رہا تھا کہ اچانک وزیرِ اعظم سکرین پر نمودار ہوگئے ! بات پاکستان سے سب سے بڑے مسئلے کی ہو رہی اور پہنچی کہاں؟ تان جہاں ٹوٹی ہے وہیں سے پکڑیں۔ مسائل کو نہ پکڑیں مسائل کی ماں کو پکڑیںاور اُس کے خصم کو خصی کریں۔ لیکن پھر ماں درمیاں آجاتی ہے۔ ہمیں یہی سکھایا گیا ہے کہ ماں کے قدموں تلے جنت ہوتی ہے۔۔۔خواہ وہ دوزخی بچے جنتی رہے!اس سوال پر تو مولوی منقیٰ بھی نمکولیاں نگلنے لگا تھا! ان ہٹے کٹے مسائل کی فوج کے آگے اب دانش بے چاری کیا کرے؟کاش سقراط اپنی انا کے دیو کو گلیلیو کی طرح قابو میں رکھ لیتا اور خود ہیرو بننے کی بہ جائے در پردہ ہیرو در ہیرو بنانے کا کام جاری رکھتاتو شاید گلیلیو کو بھی معافی نہ مانگنی پڑتی۔ بھٹو صاحب بھی ہیرو تو بن گئے لیکن ہیروز کی جنریشن نہ تیار کر سکے!ہائے تاریخ کی بے رحمی اور انسان کی کج فہمی! کس کس کا رونا روئیں۔

    1. محترم علی محمد فرشی صاحب، آپ کا یہ بلیغ تبصرہ میرے لئے ایک اعزاز سے کم نہیں ۔سمجھئے محنت وصول ہوگئی۔ سلامت رہئے ۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *