عرفان شہزاد کی تحاریر
Avatar
عرفان شہزاد
میں اپنی ذاتی ذندگی میں بہت ایڈونچر پسند ہوں۔ تبلیغی جماعت، مولوی حضرات، پروفیسر حضرات، ان سب کے ساتھ کام کیا ہے۔ حفظ کی کلاس پڑھائی ہے، کالجوں میں انگلش پڑھائی ہے۔ یونیورسٹیوں کے سیمنارز میں اردو انگریزی میں تحقیقی مقالات پڑھے ہیں۔ ایم اے اسلامیات اور ایم اے انگریزی کیے۔ پھر اسلامیات میں پی ایچ ڈی کی۔ اب صرف دو چیزیں ہی اصلا پڑھتا ہوں قرآن اور سماج۔ زمانہ طالب علمی میں صلح جو ہونے کے باوجود کلاس کے ہر بد معاش لڑکے سے میری لڑائی ہو ہی جاتی تھی کیونکہ بدمعاشی میں ایک حد سے زیادہ برداشت نہیں کر سکتا تھا۔ یہی حالت نوکری کے دوران بھی رہی۔ میں نے رومانویت سے حقیقت کا سفر بہت تکلیف سے طے کیا ہے۔ اپنے آئیڈیل اور ہیرو کے تصور کے ساتھ زندگی گزارنا بہت مسحور کن اورپھر وہ وقت آیا کہ شخصیات کے سہارے ایک ایک کر کے چھوٹتے چلے گئے۔پھر میں، میں بن گیا۔

غامدی صاحب اور ریاست کے نظریے کی بحث۔۔عرفان شہزاد

ریاست کا کوئی مذہب اور نظریہ نہیں ہوتا، افراد کا ہوتا ہے۔ جاوید احمد غامدی صاحب کے سیاسی موقف کا یہ بنیادی مقدمہ ہے۔ راقم کے علم میں نہیں کہ کسی ایک جگہ بھی ان کی طرف سے یہ کہا←  مزید پڑھیے

اپنی شخصیت کی تلاش میں گم ہونے والے ہمارے بچے۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد

سب سے احمق والدین وہ ہوتے ہیں جو دوسرے بچوں سے اپنے بچوں کا مقابلہ اور موازنہ کرتے اور اپنے بچے کو دوسرے بچوں کے نمونے کی تقلید اور پیروی کرنے کا کہتے ہیں۔ ہر بچے کا اپنا ہنر اپنی←  مزید پڑھیے

انگریز نے برصغیر کو غلامی سے آزاد کیا۔۔۔۔۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد

اگر انگریزوں کا دور برصغیر کے ہندو مسلم کے لیے غلامی کا دور تھا تو پھر وہ اس دور میں غلام رہے جب بیرون سے عربوں اور وسط ایشائی مسلم حملہ آوروں نے یہاں قبضے کیے۔ مغل بھی غیر ملکی←  مزید پڑھیے

وسائل کی کمی کے شکار والدین اپنے بچوں کے مجرم ہیں۔۔۔ ڈاکٹر عرفان شہزاد

جب وسائل کی کمی کے شکار والدین اپنی مرضی سے پیدا کیے ہوئے اپنے بچوں کی پرورش میں مشقتیں اٹھاتے ہیں، تکلیفیں جھیلتے  ہیں تو درحقیقت ان کے محروم الوسائل بچے ان سے زیادہ اذیتیں برداشت کرتے ہیں۔ والدین نے←  مزید پڑھیے

ہندو مسلم دشمنی کی کہانی یا تقسیم کی شعوری کوشش۔۔۔۔ڈاکٹر عرفان شہزاد

یہ نظریہ کہ ہندوستان میں ہندو، مسلمانوں کے ساتھ اس لیے ٹھیک رہے کہ حکومت مسلمانوں کی تھی، تاریخی تناظر میں ایک غلط مفروضہ ہے۔ ہندوستان پر مسلمانوں کے حملوں سے بہت پہلے سے مسلمان عرب تاجر یہاں آباد ہوئے۔←  مزید پڑھیے

میشا شفیع کا مذاق کیوں اڑایا گیا؟ ڈاکٹر عرفان شہزاد

میشا شفیع کا مذاق کیوں اڑایا گیا؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میشا شفیع کا علی ظفر پر الزام سچ ہے یا جھوٹ اس سے قطع نظر، ہمارے مردوں نے اس پر جو رسپانس دیا ہے اس سے ہمارے سماجی رویوں کی عکاسی ہوتی←  مزید پڑھیے

انسانی جان کی حرمت کا پاس ۔۔۔ڈاکٹر عرفان شہزاد

انسانی جان کی حرمت کا پاس، حقیقت ہے کہ ہمارے سماج سمیت دنیا بھر بلک تاریخ کے کسی دور میں بھی صحیح معنوں میں کہیں نہیں پایا  جاتا۔ خدا کا ارشاد کہ جس نے ناحق ایک انسان کو قتل کیا،←  مزید پڑھیے

عسکریت پسندی کا جہادی بیانیہ کہاں اور کیسے تشکیل پاتا ہے؟

آج مذھبی عسکریت پسندی کے ‘ناجائز بچے’ کو کوئی اپنے نام سے منسوب کرنے کو تیار نہیں، لیکن اس پر ایسا بھی وقت گزرا ہے کہ جب اسے گود لینے کے لیے اہل مدارس میں مسابقت برپا تھی۔ یہ 80←  مزید پڑھیے

آزادی اور تقسیم کی کہانی اشراف کی زبانی

قومیت اور مذھبیت کی بنیاد پر آزادی اور تقسیم کا مطالبہ ہمیشہ اشرافیہ یعنی ایلیٹ کلاس کا ایجنڈا رہا ہے، جسے عوام پر مسلط کیا جاتا ہے اور پھر عوام اسے اپنا ایجنڈا سمجھ لیتے ہیں۔ جمہوریت کے دور سے←  مزید پڑھیے

راجہ گدھ

اوئل جوانی تھی، ‘راجہ گدھ’ کا بہت شہرہ سن رکھا تھا، ایک دن ہمت کر کے ناول اٹھایا اورپڑھنا شروع کر دیا۔ اس کے علامتی ابواب بڑے تاثر سے پڑھنے شروع کیے کہ پتا نہیں علم و حکمت کے کیا←  مزید پڑھیے

اجتہادات اور شریعت خداوندی کے بیان میں یکساں اصطلاحات کا غلط استعمال

انسانی اجتہادات اور شریعت خداوندی کے بیان میں یکساں اصطلاحات کا غلط استعمال ڈاکٹر عرفان شہزاد انسانی اجتہادات اور بیانِ شریعت میں یکساں اصطلاحات کا استعمال خدا پر جھوٹ باندھنے کے مترادف ہے۔ فتویکی زبان میں فروعی مسائل (یعنی وہ←  مزید پڑھیے

اعتدال اور میانہ روی کا فروغ، تعلیمی اداروں کا کردار اور عملی تجاویز

نومبر، 2016 کو آئی آڑ ڈی، اسلام آباد میں کانفرنس بعنوان ‘اعتدال اور میانہ روی کے فروغ میں تعلیمی اداروں کا کردار اور عملی تجاویز’ منعقد ہوئی، جس میں مختلف مکاتبِ فکر اور مدارس کی نمائندہ شخصیات، صحافی اور تھنک←  مزید پڑھیے

کانفرنس: “پنجاب میں انتہا پسندی کے خلاف جوابی بیانیہ” کا احوال

کانفرنس: “پنجاب میں انتہا پسندی کے خلاف جوابی بیانیہ کا احوال” 19 اور 20 اکتوبر، 2016 کو تنظیم، ہوم نیٹ پاکستان، کی جانب سے انتہا پسندی کے بیانیے خلاف جوابی بیانیہ کے زیرِ عنوان منعقدہ کانفرنس بمقام ایواری ہوٹل، لاہور،←  مزید پڑھیے