رنڈی

رنڈی

کچی آبادی اور گندے جوہڑ میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا سوائے اس کے کہ جوہڑ میں کیڑے مکوڑے پلتے ہیں اور کچی آبادی میں انسان۔ ہاں ایک بات دونوں میں مشترک ہوتی ہے کہ دونوں اپنے حقوق سے بے خبر ہوتے ہیں، کیڑے قانون فطرت کے مطابق اور انسان سماجی جبر کے تحت۔

وہ بھی اسی کچی آبادی کی پیداوار تھی مگر شکل و صورت سے ڈیفنس والے حسد کرتے تھے. شادی کے بعد شوہر نے اوپر تلے چار بچے پیدا کروائے اور اپنا منہ لیکر قبر میں جا گھسا. دو دن تک تو محلے والے کھانا دیتے رہے مگر آخر کب تک اپنا پیٹ کاٹ کر ان کو کھانے میں شراکت دار بناتے، سو وہ بھی بند ہوگیا. دکاندار کا ادھار جب ایک مہینہ سے زیادہ ہوگیا تو اس نے ادھار سے ہاتھ کھینچ لیا مگر تیسرا ہاتھ بڑھانے کی کوشش ضرور کی۔ ایک پرزور نہ کرنے کے بعد وہ سہمی ہوئی جب گھر کے آنگن میں آئی تو بچوں کے بھوک سے اترے ہوئے چہرے اس سے دیکھے نہیں گئے۔ لہذا چادر اوڑھ کر محلے کی مسجد کے پیش امام مولوی عبادالدین کے ہاں چلی گئی تاکہ کچھ مدد لے سکے۔ مگر وہ بھی اس لیکچر کے سوا کچھ بھی نہیں دے سکے کہ وہ انکی دوسری منکوحہ بن جائے.

محلے کی ایک آنٹی تھی جو کسی گارمنٹ فیکٹری میں ملازمت کرتی تھی اور سب حالات سے واقف بھی تھی۔ سو اگلے دن وہ بھی اسی آنٹی کے ساتھ گارمنٹ فیکٹری چلی گئی جو بارہ گھنٹے کام کرا کے سو روپے دیتے تھے. گھر کا کچن چلنے لگا اور بچے اب بھوک سے بلبلاتے نہیں تھے۔ فیکٹری کے اندر ایک لڑکی پروین سے اس کی گاڑھی چھننے لگی تو ایک دن اس نے بتایا کہ وہ پارٹ ٹائم دھندا بھی کرتی ہے. روزینہ کا منہ حیرت سے کھل گیا۔ مگر پروین نے بتایا کہ اسکے ساتھ بھی وہی ہوا ہے جو روزینہ کیساتھ ہوا اور مجبوراََ اسے یہ سب کرنا پڑتا ہے کہ سو روپے روٹی تو دے دیتے ہیں، بچوں کی فیس نہیں دے سکتے۔ اسے ایک رات کی جسم کی مزدوری کے عوض اتنا مل جاتا ہے کہ بچے سکول بھی جا سکتے ہیں اور کلفٹن کی جھولوں کی عیاشی بھی کرسکتے ہیں۔
آخر ایک دن پروین نے روزینہ کو بھی منا ہی لیا، کیونکہ سو روپے روزینہ کے بچوں کو روٹی تو دیتے تھے مگر کرایہ وقت پر ادا نہیں کروا پاتے تھے، اور اب بچوں کی عمر سکول جانے کی ہو گئی تھی۔ کچھ حالات بہتر ہوئے مگر اب بھی روز شام کو نکلتے اسے یوں ہی لگتا کہ جان نکل رہی ہے۔ دیکھنے والے بھی قیامت کی نظر رکھتے ہیں۔ اک شام جب وہ بن ٹھن کر شام کے ملگجےاندھیرے میں پروین کیساتھ نکلنے لگی تو مولوی عبادالدین نے زہر آلود ہنسی کیساتھ اسے رنڈی بولا.
شام کے اندھیرے میں جب وہ شارع فیصل کے کسی ویران اور تاریک گوشے میں کھڑی ہوجاتی تو گاہک کو اسکا نقاب سے چھلکتا چکاچوند حسن تول مول سے بے پرواہ کردیتا تھا. وہ محلے میں رنڈی مشہور ہوگئی، مگر گھر میں نئی واشنگ مشین, ٹی وی اور بچوں کے کھلونے آنے شروع ہوگئے۔ یہ سب دیکھ کر غریب محلے کی کچھ عورتیں سنجیدگی سے رنڈی ہونے کی افادیت پر غور کرنے لگتیں مگر پھر توبہ استغفار کرنے لگتیں کہ مولوی عبادالدین نے جمعہ کے خطبے میں فرمایا تھا کہ بدکار عورتیں جہنم میں جلیں گی……….

آبادی میں پانی کا شدید بحران تھا لہذا واٹر ٹینکرز کا آنا جانا معمول تھا. ایک دن مولوی عبادالدین کا چھوٹا بیٹا ایک ٹینکر کے پچھلے پہیوں میں آگیا اور اپنی ٹانگیں گنوا بیٹھا۔ محلے کے کمپاؤنڈر نے انھیں جناح ہسپتال بھیجا مگر جناح والوں نے جب بتایا کہ اس کا آپریشن آغاخان کے علاوہ کہیں اور نہیں ہوسکتا تو مولوی عبادالدین کی حالت دیدنی تھی.

آغا خان کے کاؤنٹر پر جب اسے دو لاکھ جمع کرنے کیلئے کہا گیا تو وہ بھاگا بھاگا اپنے محلے واپس آیا کہ پیسوں کا بندوبست کر لے۔ جب محلے کے کونسلر صاب نے بھی معذرت کرلی تو مولوی عباد اپنی ہی مسجد کے لاؤڈ اسپیکر سے رو رو کر پیسوں کا چندہ مانگنے لگا..مگر شام تک دس ہزار بھی اکھٹے نہیں ہوسکے. مرے ہوئے قدموں سے جب اس نے گھر کا دروازہ پار کیا تو بیوی نے اسکی آنکھوں کے بجھتے دیئے دیکھ کر ایک چیخ ماری اور بیہوش ہوگئی.

اچانک گھر کا دروازہ کھلا اور کوئی اندر آیا تو مولوی عبادالدین نے خالی نظروں سے رنڈی کو دیکھا اور اس کے ہونٹ کپکپا کر بند ہوگئے۔ رنڈی نے اگے بڑھ کر دو لاکھ اس کے پیروں میں رکھے اور چپ چاپ گھر سے نکل گئی۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 2 تبصرے برائے تحریر ”رنڈی

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *