ادب نامہ    ( صفحہ نمبر 206 )

جرنیلی سڑک۔ابنِ فاضل/قسط3

گوجرانوالہ سے نکلتے ہی یوں لگتا ہے جیسے اجمیر شریف میں داخل ہو رہے ہوں ۔ یا پھر جیسے مسلمانوں کا ویٹی کن سٹی ہو۔ سفید ریش بزرگان دین کی یہ قد آدم تصاویر سڑک کے دونوں اطراف ۔ ایک←  مزید پڑھیے

یادوں کے جھروکے سے۔ عصمت طاہرہ

سہیل گجر کی کسی پوسٹ پر یاسر باجوہ نے مجھے عصمت صوفی لکھا تو مجھے اپنے بچپن کا واقعہ یادآ گیا۔۔۔ میں نے علی پور سیداں ضلع سیالکوٹ تحصیل ناروال کے پرائمری سکول میں کچی پکی سے لے کر درجہ←  مزید پڑھیے

تصوف کی حقیقت،(قسط3)۔۔سائرہ ممتاز

اللہ رب العزت نے حدیث قدسی میں ارشاد فرمایا : ” میں ایک مخفی خزانہ تھا میں نے چاہا کہ پہچانا جاؤں اس لیے مخلوق کی تخلیق فرمائی.” اولیاء کرام اس آیت کی مختلف تفاسیر بتاتے ہیں. اس سے پہلے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیو سائی،قسط2۔۔۔ جاوید خان

سورج پہاڑوں کی اوٹ سے مسلسل تیرتا ہوا اُوپر آ رہا تھا۔ پرل پہ دھلی ہوئی صبح کااُجالا پھیل چکا تھا۔طاہر صاحب کو ہم نے راستے سے اُٹھانا تھا۔قافلہ یاراں کے اس آٹھویں راہی کو اُترائی کے اک موڑ سے←  مزید پڑھیے

مائے نی میں کِنوں آکھاں۔راجہ محمد احسان/ قسط 7

ماں ساڑھی کا تحفہ اور میری پہلی تنخواہ پا کر بہت خوش ہوئی ۔ مجھے گلے سے لگایا اور میرے سر پر شفقت سے بوسہ دیا۔ اس دن ما ں سے ایسا پیار پا کر مجھے یوں محسوس ہوا کہ←  مزید پڑھیے

ہمارا خاندانی سیکورٹی گارڈ۔افشاں بنگش

یہ کیسا انوکھا لاڈلا سیکورٹی گارڈ ہےکہ اس کےاخراجات پورےکرنےکےلیےہم نےاپنےبچوں کےپاؤں کےجوتےاور ماں کےکانوں کی بالیاں تک بیچ ڈالی ہیں،مگر جیسےہی ہم اس کی رائے سے متصادم کوئی بات کرتے ہیں یہ اپنی بندوق کا رخ ہماری جانب کر←  مزید پڑھیے

چھری مار کا جوابی خط ۔سید عارف مصطفیٰ

معروف چھری مار کا یہ مبینہ خط ایک مظلوم شوہر کے نام ہے جو اس نے چھری مار کو ناظم آباد سے لکھا تھا کہ جناب کبھی آپ کا ادھر بھی گزر ہوجائے تو میری بگڑی بھی بن جائے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔←  مزید پڑھیے

اسد ملتانی کی ادبی خدمات۔اسلم ملک

جہاں تک کام چلتا ہو غذا سے وہاں تک چاہیے بچنا دوا سے اگرمعدے میں ہو تیرے گرانی تو جھٹ پی سونف یا ادرک کا پانی گر خوں کم بنے بلغم زیادہ تو کھا گاجر، چنے، شلغم زیادہ! ’’ آسان←  مزید پڑھیے

نمکین چائے۔ ۔۔ شہزاد حنیف سجاول

آج اتوار ہے اور میں گھر کی دوسری منزل پر ٹیرس میں بیٹھا سامنے وادی میں بادلوں کی آنکھ مچولی دیکھ رہا ہوں۔ بارش ابھی ابھی رکی ہے چھت کے کھپریلوں سے بارش کا پانی بوند بوند ٹپک رہا ہے۔۔←  مزید پڑھیے

کھڑکی کے اُس پار۔۔۔ہمایوں اسحاق

ہو سکتا ہے آپ بہت غریب ہوں مگر آپ کی شکل شہر کے سب سے امیر آدمی سے ملتی ہو۔۔۔۔ اغوا کار آپ کو امیر آدمی سمجھ کے شہر کے گرد و غبار ، شور و بے سکونی سے دور←  مزید پڑھیے

یادوں کے جگنو۔رفعت علوی/سفرنامہ۔حصہ اول

طلسم خواب زلیخا و دام بردہ فروش ہزار طرح کے قصے سفر میں ہوتے ہیں! ٹھک ٹھک ۔۔۔۔۔ ٹھک ٹھک۔۔۔۔۔۔۔شاید کوئی دروازے پر دستک دے رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ ہوا ہوگی میں۔ ۔ نے نیند کی مدھوشی میں سوچا باہر چھاجوں پانی←  مزید پڑھیے

بیل گاڑی کے مقابلے۔رانا اورنگزیب

بیل اور کسان کا جنموں کا ساتھ ہے۔انسانی تاریخ میں بیل اور گائے کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے اور اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ یونان ، مصر ، نینوا اور بابل اور سندھ کی←  مزید پڑھیے

تصوف کی حقیقت۔حصہ دوئم/سائرہ ممتاز

تاریخ اسلام شاہد ہے کہ جس شد و مد، جوش و خروش سے اہل تصوف نے شریعت پر عمل کیا ہے اس کے عشر عشیر پر بھی علمائے ظواہر عمل نہیں کر سکے. حضرت جنید بغدادی رحمت اللہ علیہ کے←  مزید پڑھیے

لڑکپن کا عشق۔یاد نمبر65/منصور مانی

لڑکپن کا عشق،یاد نمبر 65 میں چوبرجی کے چار میناروں کے سامنے ساکت کھڑا تھا،  ابھی  آگہی  کا در  وا ہونے میں سترہ برس کی مسافت  حائل تھی!میرے سامنے  تیسرے مینار  کی اوٹ میں  ایک آدمی  بیٹھا ہو اتھا جس←  مزید پڑھیے

کتھا چار جنموں کی۔۔ قسط 5۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند

میں گورڈن کالج راولپنڈی میں منشی تلوک چند مرحوم سے ملنے کے لیے ایک مذہبی فریضے کی طرح جانے لگاَ میں ہر دوسرے تیسرے دن، اسی وقت جب وہ لان میں کرسی پر بیٹھے ہوئے اخبار پڑھ رہے ہوتے۔ مجھے←  مزید پڑھیے

سنیے ! نثری مزاح کی بیوہ کو اب کئی خصم درکار ہیں۔سید عارف مصطفیٰ

 کسی فرد کو ہنسانے کے لیے شاید چار ہی طریقے ہیں ۔کوئی ایسا پر لطف واقعہ یا لطیفہ سنایا جائے کہ ہنسی مال مسروقہ کی طرح برآمد ہوجائے یا کچھ ایسی شگفتہ تحریر خواہ نظم میں یا نثر میں لکھی←  مزید پڑھیے

ٹارگٹ ،ٹارگٹ ،ٹارگٹ ۔کرنل ضیا شہزاد/قسط13

بجلی کے تار اور ایمنگ سرکل! سکول آف آرٹلری سے کورس کر کے واپس یونٹ میں پہنچے تو ہمیں گن پوزیشن آفیسر تعینات کیا گیا۔ اکتوبر کا مہینہ آتے ہی یونٹ تین مہینے کے لیے موسم سرما کی جنگی مشقوں←  مزید پڑھیے

جرنیلی سڑک۔ابنِ فاضل/قسط2

لاہور کے بعد گوجرانوالہ اگلا قابل دید و ذکر شہر ہے جرنیلی سڑک پر۔ اسے پہلوانوں کا شہر بھی کہتے ہیں ۔ اس کے باسی بسیار خوری میں یکتا ہیں۔ ساری دنیا میں اپنی خوش خوراکی کی وجہ سے جانے←  مزید پڑھیے

تلسی کے پتے۔مريم مجيد

نواب فیروز کی آنکھ آج پھر ایک مخصوص وقت پر اچٹ گئی تھی۔۔۔شمع دان میں ہلکی سی لو پھڑپھڑا رہی تھی۔۔انہوں نے گہری سانس لیتے ہوئے لو بڑھائی اور بستر کے برابر میز پر دھری گھڑی پر وقت دیکھا۔۔”رات کے←  مزید پڑھیے

چلے تھے دیوسائی۔جاوید خان

خُوبصورت پگڈنڈیوں ،ڈھلوانوں پہ بسے گاؤں ،جہاں سارے گھر کبھی کچے تھے میں نے شعور سنبھالا۔میرے کچے گھر کے سامنے سیبوں کا گھنا باغ تھا۔بہار میں سیبوں پہ پھول آتے تو بھنورے  ،شہد کی مکھیاں اِن پہ لپک آتیں ۔کچے←  مزید پڑھیے