بیل گاڑی کے مقابلے۔رانا اورنگزیب

بیل اور کسان کا جنموں کا ساتھ ہے۔انسانی تاریخ میں بیل اور گائے کو بہت اہمیت حاصل رہی ہے اور اس کی ضرورت اور اہمیت سے انکار ممکن نہیں ۔ یونان ، مصر ، نینوا اور بابل اور سندھ کی موہنجو داڑو تہذیبوں میں اس کا بہت ذکر موجود ہے ، مگر ہم یہاں صرف پنجاب میں ہونے والی بیل دوڑ کی بات کریں گے۔

کسان کے لی اس کے جانور بہت اہمیت کے حامل ہوتے ہیں بیل سے پرانے وقتوں میں ہل جوتنے کا کام لیا جاتا تھا۔گڑ بنانے کے لیے گنا پیلنے والے بیلنے کو بھی بیل ہی کھینچتا رہا۔گاؤں میں سرسوں اور دوسری تیل والی اجناس سے تیل نکالنے کا کام بھی بیل ہی کرتا تھا اسی سے کولہو کے بیل والا محاورہ ایجاد ہوا۔باربرداری کے لیے بھی جب سے پہیہ ایجاد ہوا سب سے زیادہ بیل ہی کام آیا۔اب تو ٹائر اور بال بیرنگ والی ریڑھیاں چلتی ہیں، پہلے لکڑی کے پہیے والی گڈ یا گَڈا استعمال ہوتا تھا جس میں دو بیل جوتے جاتے تھے۔گڈے پر بیٹھے کسان کے محسوسات تقریباً کسی تخت پر بیٹھے بادشاہ سے کیا ہی کم ہوتے ہوں گے۔اچھا گڈا اور سوہنے بیل پنجاب کے کسان کی شان ہوتے تھے۔پہلے کسان اپنے اپنے بیل ہل میں جوتے ہوۓ ایک ہی کھیت میں جمع ہوتے اور وہاں ہل چلانے کی مہارت پرکھی جاتی۔بیل کو بیٹوں جیسا پیار دھیان اور خلوص دیا جاتا۔

انسان جس حال میں بھی ہو جس ماحول میں بھی ہو اپنی دلچسپی کے نت نئے کھیل ایجاد کرتا رہتا ہے۔ایسا ہی ایک کھیل بیل گاڑی کی دوڑ ہے۔اس کی درست تاریخ پر تو تاریخ بھی خاموش ہے، ہندوؤں کے مذہبی تہوار سری رام نوامی میں بیل گاڑی بھی دکھائی جاتی ہے جس پر رام سوار ہوتے ہیں ۔واللہ اعلم یہ تصوراتی بات ہے یا واقعی شری رام بیل گاڑی کا استعمال کرتے رہے مگر پنجاب میں یہ سالہا سال سے رائج ہے۔دوڑ کے لی بالکل ہلکی گاڑی بنائی جاتی ہے۔جس میں پہیے لکڑی کے استعمال ہوتے ہیں۔اور گاڑی کی مضبوطی اور وزن کم رکھنے کے لی بانس استعمال ہوتا ہے۔اچھی نسل کے بچھڑے حاصل کیے جاتے ہیں ان کو سبز چارا کم اور دودھ گھی چنے بنولے اور گندم وغیرہ کا دلیہ زیاده کھلایا جاتا ہے۔پھر ان بچھڑوں کو گاڑی میں جوت کے چلنا سکھایا جاتا ہے۔بچھڑوں کی تولیے سے روزانہ مالش کی جاتی ہے جس سے ان کے جسم سے بال اتر جاتے اور کھال چمکنے لگتی ہے۔ان کے لیے بہت ہی بہترین کپڑے اور کمبل سے لحاف تیار کیے جاتے ہیں۔گاؤں میں کسی ایک گھر کے پاس دوڑنے والا اچھا بیل ہو تو سارے گاؤں کا فخر ہوتا ہے۔

بیل دوڑ یوں تو سارے ہی پنجاب کا شوق ہے مگر مختلف اضلاع میں اس کی شکلیں اور شرطیں اصول و ضوابط مختلف ہوتے ہیں۔بیل کی نسلیں بھی مختلف ہوتی ہیں۔چکوال اور اٹک کی طرف دھنی نسل کے بیل دوڑاۓ جاتے ہیں مگر وہ گاڑی میں نہیں بلکہ ایک ٹوکری بیلوں کے پیچھے باندھ کے دوڑاۓ جاتے ہیں جھنگ اور راوی کے علاقے میں بیل کو گھرلے میں دوڑایا جاتا ہے۔کہیں آٹا پیسنے والے خراس میں بیل کی تیزی ناپی جاتی ہے تو کہیں چارا کترنے والے گیئر میں۔بھارتی پنجاب کے اضلاع امرتسر انبالہ اور کئی ریاستوں وغیرہ میں بیل گاڑی کی دوڑ ہوتی ہے۔جبکہ پاکستان میں ضلع فیصل آباد ٹوبہ ٹیک سنگھ وہاڑی میں دو بیلوں والی گاڑی دوڑائی جاتی ہے جبکہ خانیوال ملتان کے علاقوں میں ایک بیل والی گاڑی کے مقابلے ہوتے ہیں۔ٹوبہ ٹیک سنگھ میں کئی میدان ہیں جن میں شورکوٹ کے پاس چٹیانہ پیر محل میں غوثیہ چوک اور رجانہ ٹوبہ روڈ پر پچاس چک والے میدانوں میں بڑے مقابلے ہوتے ہیں۔سارے پنجاب سے لوگ اپنے اپنے بیل لے کر میدان کا رخ کرتے ہیں۔مقابلوں کے لیے خوب جوڑ توڑ کیا جاتا ہے۔کیونکہ زیادہ تر لوگوں کے پاس ایک ایک بیل ہی ہے تو اپنے بیل کے لیے ہم پلہ بیل تلاش کرنا پھر اس کو جوڑی بناکے لے جانا بھی ایک بہت ہی دلچسپ سیاست ہے۔

مشہور بیل والوں کے رشتہ دار تعلق والے دوست احباب تلاش کیے جاتے ہیں بڑی بڑی سفارشیں اور دباؤ ڈلوایا جاتا ہے۔اور جب کوئی اچھی جوڑی تیار ہوکے میدان میں پہنچتی ہے تو دور دور سے لوگ صرف چند سیکنڈ کی دوڑ دیکھنے آتے ہیں۔اگر کوئی نیا بیل کسی مقابلے میں اچھے اور مشہور بیل کو ہرا دے تو راتوں رات چند ہزار کا بیل لاکھوں میں پہنچ جاتا ہے۔شوقین حضرات ہاتھ میں نوٹ لیے مالک کے گھر پہنچتے ہیں اور منہ مانگی نہیں بلکہ تصور سے بھی زیادہ قیمت کی پیشکش کی جاتی ہے۔جو ضرورت مند ہوں وہ نوٹ دیکھتے ہی دعاؤں کے ساتھ بیل خریدار کے حوالے کردیتے ہیں جبکہ جو لوگ سمجھدار ہیں وہ لاکھوں روپیہ بھی ٹھکرا دیتے ہیں۔کیونکہ عزت اور شہرت کا متبادل پیسہ کبھی نہیں ہوسکتا۔بیل دوڑ جو خالصتاً غریب کسان کا شوق تھا وہ بھی اب پیسے والوں کے نام ونمود کا ذریعہ بن چکا ہے بہت پیسے والے لوگ اس کھیل پر بھی اپنی اجاره داری قائم کرچکے ہیں۔اپنی تمام خرابیوں کے باوجود جانور پالنے والے کسانوں کے لیے بیل دوڑ آج بھی منافع بخش کھیل ہے کہ وہ اچھی نسل کی گاۓ رکھ کے اس کے بچھڑے مہنگے داموں بیچ سکتے ہیں۔

بیل گاڑی کسی بھی کھیل سے زیادہ خطرناک کھیل ہے۔بیل گاڑی دوڑانے والے کو سوار کہا جاتا ہے۔یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے شوق کی خاطر سوار بنے۔سوار وہ واحد شخص ہوتا ہے جو بیل کے بعد گاڑی کو ہرا سکتا ہے یا جتا سکتا ہے۔اچھے سوار چند ہی ہوتے ہیں۔کچھ سوار اپنے مخصوص لوگوں کے بیل ہی دوڑاتے ہیں۔موٹرسائیکل پر ون ویلنگ یا رسے پر کرتب دکھانے سے بھی زیاده جان جوکھوں میں ڈالنے والا کام بیل گاڑی کی سواری ہوتی ہے۔ایک ہاتھ سے دو منہ زور جانوروں کو قابو میں رکھتے ہوۓ دوسرے ہاتھ سے ان کی پٹائی کرنا اور چھوٹی سی گاڑی پر اپنا توازن برقرار رکھتے ہوۓ بیلوں کو سیدھے چلانا انتہائی توجہ طلب اور مہارت کی بلندیوں کا متقاضی کام ہے۔کئی بار دائیں بائیں دوڑتے بیل اپنی لائن چھوڑ کے دوسری گاڑی کے سامنے آ جاتے ہیں یا گاڑی سے ٹکرا جاتے ہیں۔کئی بار اپنے ہی بیل اپنی لائن چیرتے ہوۓ کسی کھیت یا خطرناک رستے پر جا نکلتے ہیں اچھا سوار کبھی بیلوں کو لاوارث نہیں چھوڑتا بلکہ اپنی ہر ممکن کوشش سے بیلوں کو تصادم سے بچانے کی کوشش کرتا ہے۔اپنی تمام تر خستہ حالی خطرناکی اور مہنگائی کے باوجود بیل دوڑ ایک بہت ہی اچھی روایت اور صحت مند تفریح ہے۔

کسانوں میں جانوروں کی قدرو قیمت اجاگر کرتا یہ کھیل بھی حکومت کی عدم دلچسپی مجرمانہ غفلت اور غیر ذمہ دارانہ رویے کی وجہ سے معدومی کے خطرے سے دوچار ہے۔دوسری طرف کسان بھی اتنے باشعور نہیں ہیں اس کھیل کے لیے کوئی آواز اٹھاتے۔لوک ورثہ کے نام سے جاری پروگرامز میں بیل گاڑی کی تصویر ضرور ہوتی ہے مگر اس کے بچاؤ کے لیے کوئی عملی قدم کسی نے نہیں اٹھایا۔میڈیا کو ایسے کھیلوں سے کوئی سروکار نہیں ہوتا جہاں سے نہ اشتہارات ملیں نہ مراعات۔پنجاب کی ثقافت کے نام پر ناچ گانا عریانی فحاشی دکھا دکھا کے نئی نسل کو بے غیرتی اور بے حمیتی کا درس دینے والا میڈیا صحافی اور قلم فروش دانشور پنجاب کی اصل ثقافت کو نظر انداز کرتے ہوۓ کس کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں؟

پنجاب کی ثقافت مہمان نوازی ہے بھائی چارہ ہے۔جانور پالنا کبڈی کھیلنا ایک دوسرے کی عزت کرنا اپنے ملک قوم اور دین کی خاطر جان دینا یہی پنجاب کی ثقافت ہے جس پر جانتے بوجھتے پردہ ڈالا جا رہا ہے اور ناچ گانے بھنگڑے ثقافت کے نام پر پھیلاۓ جارہے ہیں۔دوسرے ممالک میں جو ثقافتی طائفے بھیجے جاتے ہیں ان میں بھی ڈھول چمٹے باجے گاجے ناچنے گانے والے ہی بھیجے جاتے ہیں ۔۔۔ستر سال میں کسی سفیر کو، اتاشی کو، مندوب کو باہر سوال نہیں پوچھا گیا کہ پنجاب میں ڈھول چمٹے بجانے والے ناچنے گانے والے ہی بستے ہیں؟

رانا اورنگزیب
رانا اورنگزیب
اک عام آدمی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *